🌅 تعارف
خبردار! یہ ایک اہم پیغام ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تین نشانیاں ظاہر ہو جائیں گی تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لاچکا ہو یا اپنے ایمان میں کچھ بھلائی کے کام نہ کر چکا ہو۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا ظاہر ہونا اور زمین سے جانور کا نکلنا"۔
دوستو! یہ بات تو طے ہے کہ قیامت آنی ہے لیکن کب آنی اس کا اندازہ اللہ رب العزت کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ سورج روز مشرق سے طلوع ہوتا ہے کیونکہ یہ اللہ پاک کا حکم ہے پھر یہ قرب قیامت اللہ ہی کے حکم سے مغرب سے طلوع ہوگا۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں: "کیا وہ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا آپ کا رب آئے، یا آپ کے رب کی بعض نشانیاں آئیں؟ جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا، یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا۔ کہہ دیجیے: تم انتظار کرو بے شک ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں۔"
اللہ رب العزت نے جب سے سورج کو پیدا فرمایا وہ ہمیشہ مشرق سے طلوع ہوتا آیا ہے۔ پھر وہ دن دور نہیں جب لوگ ایک دن سورج کے مشرق سے طلوع ہونے کا انتظار کر رہے ہوں گے اور وہ مغرب سے طلوع ہوگا اسے کے طلوع ہوتے ہی توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
🌞 سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
اس وقت توبہ کا دروازہ بند کرنے کی حکمت یہ ہو سکتی ہے جیسے قرآن میں فرعون کے بارے میں بتایا گیا کہ ساری زندگی اس نے سرکشی اور رب ہونے کا دعویٰ کیا لیکن جب عذاب الہی نے آ دبوچا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں۔ اس وقت ایمان لانا اس کی جان نہ بچا سکا اور وہ قیامت تک عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔
ایک طویل حدیث میں آپ ﷺ نے کچھ بیان فرمایا: "اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے، پس جب وہ طلوع ہو جائے گا اور سارے لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے مگر اس وقت کسی بھی ایسے شخص کا ایمان اسے فائدہ نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لاچکا ہوگا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی کا کام نہ کیا ہوگا۔"
ایک اور روایت میں کچھ یوں رہنمائی فرمائی: "کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا: یہ سورج چلتا ہے حتیٰ کہ عرش کے نیچے اپنے مستقر میں پہنچ جاتا ہے، پھر یہ سجدے میں گرپڑتا ہے اور اسی حال میں رہتا ہے حتی کہ اس سے کہا جاتا ہے: اٹھو اور جہاں سے تم آئے ہو وہیں لوٹ جاؤ۔ وہ لوٹتا ہے اور اپنے معمول کے مطلع سے طلوع ہو جاتا ہے، پھر دن بھر چلتے چلتے عرش کے نیچے اپنے مستقر میں جا پہنچتا ہے اور سجدے میں گر پڑتا ہے۔ وہ اسی حال میں رہتا ہے حتی کہ اس سے کہا جاتا ہے: اٹھو اور جہاں سے تم آئے ہو وہیں لوٹ جاؤ۔ وہ لوٹتا ہے اور اپنے معمول کے مطلع سے طلوع ہو جاتا ہے۔ ایک روز وہ چلے گا، لوگ اس میں کوئی نئی چیز نہیں دیکھیں گے حتی کہ وہ عرش الہیٰ کے نیچے اپنے ٹھہرنے کی جگہ پہنچے گا اور اس سے کہا جائے گا، اٹھو اور آج مغرب سے جا کر طلوع ہو جاؤ، چنانچہ وہ صبح کے وقت مغرب سے طلوع ہو گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کب ہو گا؟ یہ اس وقت ہوگا جب کسی ایسے شخص کو ایمان فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا یا جس نے اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے۔"
🚪 توبہ کا دروازہ بند ہونا
ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "سب سے پہلے جو نشانی ظاہر ہو گی وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت دابہ کا لوگوں کے لئے نکلنا ہے۔ ان میں سے جو بھی پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے فوراً بعد ظاہر ہو جائے گی۔"
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے لوگوں حکم فرمایا: "چھ چیزوں کے واقع ہونے سے پہلے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرلو، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، یا دھوئیں کا ظاہر ہونا، یا دجال کا ظاہر ہونا، یا خروج دابہ، یا تم میں سے کسی کا خاص وقت (موت) آجانا، یا سب کے لئے واقع ہونے والا معاملہ (قیامت) کا قائم ہو جانا۔"
دوستو! فتنوں کے اس تیز دور میں نیک اعمال کے لئے وقت نکالیں۔ وقت گزر گیا تو پھر صرف خواہش ہی رہ جائے گی کہ کاش کچھ کر لیا ہوتا۔
⏳ قیامت کی قریب آمد
"قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ دو آدمیوں نے اپنا کپڑا پھیلایا ہوگا، وہ خرید وفروخت نہ کر سکیں گے اور نہ اس کپڑے کو لپیٹ سکیں گے کہ قیامت برپا ہو جائے گی۔ ایک شخص اپنے جانور کا دودھ دوہ کر لے جا رہا ہو گا اور وہ اسے استعمال نہ کر سکے گا کہ قیامت آجائے گی۔ ایک شخص اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا اور وہ اس میں اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاسکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور ایک شخص نے لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہوگا وہ اسے کھا نہیں سکے گا کہ قیامت رونما ہو جائے گی۔"
📖 قرآن مجید کے ارشادات
سورۃ یٰسٓ میں سورج کا بیان
سورۃ یٰسٓ (آیت 38-40):
"اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا ہے، یہ زبردست اور جاننے والے کا مقرر کیا ہوا انداز ہے۔ اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں یہاں تک کہ وہ پرانی شاخ کی طرح لوٹ آتا ہے۔ نہ سورج کے لیے زیب دیتا ہے کہ چاند کو پا لے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے، اور سب ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔"
اللہ رب العزت نے سورج اور چاند کو ایک منظم نظام میں باندھ رکھا ہے۔ یہ آیات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سورج ایک مقررہ مدار میں چل رہا ہے اور ایک دن اللہ کے حکم سے یہ نظام بدل جائے گا۔
سورۃ الانعام میں توبہ کا دروازہ
سورۃ الانعام (آیت 158):
"کیا وہ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں، یا آپ کا رب آئے، یا آپ کے رب کی بعض نشانیاں آئیں؟ جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا، یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا۔"
یہ وہ آیت ہے جو سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے واقعے کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔ جب یہ نشانی ظاہر ہوگی تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان اسے فائدہ نہ دے گا۔
سورۃ الشمس میں سورج کی قسم
سورۃ الشمس (آیت 1-6):
"قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی، اور چاند کی جب اس کے پیچھے آتا ہے، اور دن کی جب اسے روشن کرتا ہے، اور رات کی جب اسے ڈھانپ لیتی ہے، اور آسمان کی اور اس کی بنانے کی، اور زمین کی اور اس کے بچھانے کی۔"
اللہ تعالیٰ نے سورج کی قسم کھائی ہے جو اس کی عظمت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ جب یہی سورج اللہ کے حکم سے مغرب سے طلوع ہوگا تو یہ قیامت قریب آنے کی سب سے بڑی نشانی ہوگی۔
سورۃ التکویر میں قیامت کا منظر
سورۃ التکویر (آیت 1-6):
"جب سورج لپیٹ دیا جائے گا، اور جب ستارے بکھر جائیں گے، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے، اور جب اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی، اور جب وحشی جانور اکٹھے کر دیئے جائیں گے، اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے۔"
قیامت کے دن سورج کی حالت بدل جائے گی۔ یہ وہ منظر ہے جس سے ہر انسان کو ڈرنا چاہیے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرنی چاہیے۔
سورۃ القیامہ میں ہولناکیاں
سورۃ القیامہ (آیت 6-15):
"وہ پوچھتا ہے کہ قیامت کب آئے گی؟ جب آنکھیں پتھرا جائیں گی، اور چاند بے نور ہو جائے گا، اور سورج اور چاند جمع کر دیئے جائیں گے۔"
یہ آیات اس دن کی ہولناکی کو بیان کرتی ہیں جب سورج اور چاند کو جمع کر دیا جائے گا۔ یہ وہ وقت ہوگا جب ہر انسان اپنے اعمال کا حساب دے گا۔
📚 کتب احادیث کے فرامین
صحیح بخاری کی روایات
صحیح بخاری (حدیث نمبر 3199):
"سورج چلتا ہے حتیٰ کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے: اٹھو اور جہاں سے تم آئے ہو وہیں لوٹ جاؤ۔ ایک روز اس سے کہا جائے گا: اٹھو اور آج مغرب سے جا کر طلوع ہو جاؤ۔"
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے سورج کی حقیقت اور اس کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ سورج کی عبادت نہیں بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہے۔ جب اسے حکم ہوگا تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 4635):
"سب سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، اور دوسری نشانی دابہ کا نکلنا ہے۔"
اس حدیث میں سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کو سب سے پہلی بڑی نشانی قرار دیا گیا ہے جو قیامت کے قریب آنے کی خبر دیتی ہے۔
صحیح مسلم کی روایات
صحیح مسلم (حدیث نمبر 157):
"تین چیزیں جب ظاہر ہوں گی تو کسی کا ایمان اسے فائدہ نہ دے گا: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا ظہور، اور دابہ کا نکلنا۔"
یہ تینوں نشانیاں قیامت کی بڑی نشانیاں ہیں۔ جب یہ ظاہر ہوں گی تو توبہ کا دروازہ بند ہو چکا ہوگا۔
صحیح مسلم (حدیث نمبر 2945):
"قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ دو آدمیوں نے اپنا کپڑا پھیلایا ہوگا، وہ خرید و فروخت نہ کر سکیں گے، اور ایک شخص اپنے جانور کا دودھ دوہ کر لے جا رہا ہوگا اور وہ اسے استعمال نہ کر سکے گا۔"
یہ حدیث قیامت کی اچانک آمد کو بیان کرتی ہے۔ لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوں گے اور اچانک قیامت آ جائے گی۔
سنن ترمذی کی روایت
سنن ترمذی:
"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھ چیزوں کے واقع ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دھوئیں کا ظاہر ہونا، دجال کا ظاہر ہونا، دابہ کا نکلنا، تم میں سے کسی کا مر جانا، اور قیامت کا قائم ہو جانا۔"
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ہمیں نیک اعمال میں جلدی کرنے کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ یہ نشانیاں کبھی بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ان احادیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہر وقت اپنے اعمال کا حساب رکھنا چاہیے اور توبہ میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
🕌 ائمہ کرام کے احکامات
امام ابن کثیر کا بیان
امام ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: "سورج کا مغرب سے طلوع ہونا قیامت کی سب سے بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آئے گا تو توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان اور توبہ کا وقت محدود ہے۔"
امام النووی کا موقف
امام النووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا کا نظام بدلنے والا ہے۔ یہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آخرت کی طرف بلائے گا۔"
شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا بیان
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ واقعہ محض ایک فلکیاتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک عظیم ایمانی امتحان ہے۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو ہر شخص ایمان لائے گا لیکن وہ ایمان قبول نہیں ہوگا۔"
مفسرین کا اتفاق
تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ اس کے بعد توبہ کا کوئی دروازہ نہیں رہے گا۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرے۔
💀 قیامت کی ہولناکیاں
سورۃ الحج کا بیان
سورۃ الحج (آیت 1-2):
"اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے تو ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلائے ہوئے بچے کو بھول جائے گی، اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی۔"
قیامت کا زلزلہ اتنا ہولناک ہوگا کہ مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی۔ یہ اس دن کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
سورۃ الانفطار میں منظر
سورۃ الانفطار (آیت 1-5):
"جب آسمان پھٹ جائے گا، اور جب ستارے بکھر جائیں گے، اور جب سمندر بہہ جائیں گے، تو ہر جان کو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔"
اس دن آسمان پھٹ جائیں گے، ستارے بکھر جائیں گے اور سمندر بہہ جائیں گے۔ ہر انسان اپنے اعمال کا حساب دیکھ لے گا۔
سورۃ الانشقاق کا بیان
سورۃ الانشقاق (آیت 1-6):
"جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کا حکم مان لے گا، اور زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے اسے باہر نکال دے گی۔"
زمین اپنے اندر موجود تمام چیزوں کو باہر نکال دے گی اور انسان اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہو جائے گا۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد
"قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تم اپنے رب کو نہ دیکھ لو گے۔ اور تم اس دن اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جیسے اس مہینے کی چودھویں رات کو چاند دیکھتے ہو۔"
یہ حدیث اس دن کی بشارت بھی ہے کہ مومن اپنے رب کو دیکھیں گے لیکن اس سے پہلے انہیں سخت امتحانات سے گزرنا ہوگا۔
ان ہولناکیوں سے بچنے کا واحد راستہ اللہ کی طرف رجوع کرنا اور نیک اعمال کرنا ہے۔
🔬 جدید سائنس کے احکامات
سورج کی گردش کا سائنسی اصول
جدید سائنس بتاتی ہے کہ سورج اپنے محور پر گھومتا ہے اور پوری کہکشاں میں گردش کر رہا ہے۔ وہ سائنسدان جو پہلے سورج کو ساکن سمجھتے تھے، اب انہوں نے سورج کی حرکت کو تسلیم کر لیا ہے۔
قرآن مجید میں 1400 سال پہلے سورج کی حرکت کا ذکر کیا گیا تھا جسے جدید سائنس نے اب دریافت کیا ہے۔ یہ قرآن کے معجزات میں سے ایک ہے۔
سورج کی روشنی کا سفر
سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں تقریباً 8 منٹ لگتے ہیں۔ لیکن جب اللہ کا حکم ہوگا تو یہ فاصلہ ختم ہو جائے گا اور سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔
زمین کا گھومنے کا نظام
زمین اپنے محور پر گھومتی ہے جس کی وجہ سے سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب سے غروب ہوتا ہے۔ لیکن جب اللہ کا حکم ہوگا تو یہ نظام بدل جائے گا اور سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔
سائنس نے ابھی تک اس نظام کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں بتایا ہے کیونکہ یہ اللہ کا طے شدہ نظام ہے۔ لیکن اللہ جب چاہے گا اس نظام کو بدل سکتا ہے۔
سورج کی عمر کا سائنسی تخمینہ
سائنسدان بتاتے ہیں کہ سورج کی عمر تقریباً 4.6 بلین سال ہے اور اس کی زندگی مزید 5 بلین سال تک ہوگی۔ لیکن اللہ جب چاہے گا سورج کو ختم کر سکتا ہے یا اس کی سمت بدل سکتا ہے۔
یہ تمام سائنسی حقائق اللہ کی قدرت اور اس کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ جب چاہے اپنے نظام میں تبدیلی لا سکتا ہے۔
سائنس کے مقابلے میں اللہ کی قدرت لا محدود ہے۔ وہ سورج کو جیسے چاہے حرکت دے سکتا ہے۔
🤔 غور و فکر کے پہلو
کیا ہم تیار ہیں؟
سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا واقعہ کسی بھی وقت پیش آ سکتا ہے۔ کیا ہم اس دن کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم نے اپنے اعمال کی اصلاح کر لی ہے؟
توبہ میں جلدی کیوں ضروری ہے؟
وقت بہت قیمتی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کل ہوگا یا نہیں۔ اس لیے آج ہی توبہ کر لیں اور نیک اعمال شروع کر دیں۔
فرعون نے جب عذاب دیکھا تو ایمان لایا لیکن اس کا ایمان قبول نہ ہوا۔ ہمیں اس سے سبق لینا چاہیے کہ توبہ میں دیر نہ کریں۔
نیک اعمال کی اہمیت
- نماز کی پابندی کریں
- قرآن کی تلاوت کریں
- ذکر و اذکار کا معمول بنائیں
- دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں
- حلال کمائی کریں
- لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں
آخرت کی تیاری کیسے کریں؟
اللہ رب العزت ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں اپنی زندگی کو آخرت کے لیے بہتر بنانا چاہیے۔
🤲 اختتامی پیغام
اللہ پاک ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب پر رحم فرمائے۔ ہمیں سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے اپنے اعمال کی اصلاح کر لینی چاہیے۔ آمین۔
دوستو! یہ واقعہ جتنا ہولناک ہے اتنا ہی عبرتناک بھی ہے۔ ہمیں اس سے سبق لینا چاہیے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانا چاہیے۔ وقت گزر رہا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کب ہماری موت آ جائے یا قیامت قائم ہو جائے۔
قرآن اور حدیث کی تعلیمات ہمیں ہدایت دیتی ہیں کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق بنائیں۔ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ہوشیار رہو! دنیا میں ایسے مت ہو جاؤ جیسے تم ہمیشہ رہو گے۔ اپنی آخرت کو سنوارو کیونکہ وہی تمہارا اصل گھر ہے۔"
ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اللہ سے توبہ کریں۔ اللہ بہت رحم فرمانے والا ہے اور وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے۔ لیکن جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو پھر توبہ کا کوئی دروازہ نہیں ہوگا۔
آج ہی اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں۔ آج ہی توبہ کریں۔ آج ہی نیک اعمال شروع کریں۔ کیونکہ کل کا کوئی بھروسہ نہیں۔