مصائب دجال (حصہ اول)
محترم قارئین کرام! میں نے اپنے پچھلے ٹاپک "5 ایسے کون سے واقعات پیش آئیں گے؟ فتنہ دجال سے قبل" میں ذکر کیا تھا ان واقعات کا جو دجال اکبر کے ظہور ہونے سے پہلے واقع ہوں گے۔ آج میں ذکر کروں گا غائب دجال ہے کیا؟ اور اس کا انتظار کیوں کیا جا رہا ہے؟ وہ کون ہے؟ کہاں ہے اس وقت؟ قرآن میں اس کا ذکر کیوں نہیں ہے؟ اس کی علامات کیا ہوں گی؟ وغیرہ وغیرہ۔ دجال خود تو ایک بڑا فتنہ ہے ہی لیکن اس کے ساتھ دیگر فتنے بھی ظاہر ہوتے چلے جائیں گے۔
قیامت کی دس بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ظہور دجال ہے جو کہ امت محمدیہ میں ظاہر ہونا ہے۔ یہودی اپنی اس مہم کو پورا کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں، کبھی کرونا کی شکل میں موجود، تو کبھی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے موبائل ایپلیکشنز کے ذریعے پیسوں کا لالچ دے کر معاشرے میں بدعنوانی، بے حیائی، فحاشی کو پھیلانے میں سازشی لبادہ اوڑھے نظر آتے ہیں، کبھی بے گناہ اور نہتے مسلمانوں پر ظلم کرنے میں تو کبھی مسجد اقصیٰ کو گرانے کے در پہ ہیں کیونکہ اس جگہ انہوں نے اپنے تھرڈ ٹیمپل بنانا ہے تاکہ دجال کی آمد کی تیاری کی جائے۔ وہ لوگ اس قدر کام کرنے میں مصروف عمل ہیں اور ایک ہم ہیں کہ سر سے جو تک نہیں رینگتی۔ جس امت پر یہ فتنہ آنا ہے اس کو ذرہ بھی پروا نہیں ہے، وہ اسی طرح خواب غفلت میں ہے۔
حضرت نوح ﷺ سے لے کر آپ ﷺ تک جتنے بھی انبیاء کرام آئے انہوں نے اپنی امت کو اس فتنہ سے ڈرایا۔ دجال کا فتنہ بلاشبہ عظیم ترین فتنہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں اس فتنے کا بہت خوف تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں ہر نماز کے آخر میں دجال کے اس عظیم فتنے سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔
یاد رکھیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ "دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک کہ لوگ اس کے ذکر تک سے غافل نہ ہو جائیں اور یہاں تک کہ خطیب منبروں پر اس کا ذکر کرنا چھوڑ دیں گے"۔ آج کتنی آسانی سے ہمیں اپنے مقصد سے دور کیا جا رہا ہے اور خود اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے کام جاری کیے ہوئے ہیں۔ آج ہمارے نصاب میں دجال کا نام بہت کم رہ گیا ہے، آنے والی نسل اس کے نام سے بھی واقف نہیں ہوگی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ وہ (قیامت) قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو:" آپ نے ذکر فرمایا:
- دھواں
- دجال
- خروج دابہ
- سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
- حضرت عیسیٰ کا نزول
- خروج یاجوج و ماجوج
- تین جگہ زمین کے دھنسنے کے واقعات (یعنی مشرق میں زمین کا دھنس جانا، مغرب میں زمین کا دھنس جانا اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنس جانا)
سب سے آخر میں جو علامت ظاہر ہوگی وہ یمن کی طرف سے نکلنے والی ایک آگ ہوگی جو لوگوں کو میدان حشر کی طرف لے جائے گی"۔
دجال اولاد آدم میں سے ایک شخص ہو گا۔ جسے اللہ تعالیٰ کچھ ایسی طاقتیں دے گا جو اس کے علاوہ پوری کائنات میں کسی انسان کو حاصل نہیں ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کی آزمائش و امتحان کے لیے اسے یہ طاقتیں عطا فرمائیں گے۔ آپ ﷺ نے ہمیں متنبہ کیا ہے کہ ہم اس کی گمراہیوں کو ہرگز اختیار نہ کریں، آپ ﷺ نے ہمیں اس کی جسمانی خدوخال اور اخلاقی علامات سے بھی آگاہ فرمایا ہے۔
دجال کے بارے میں علم رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایمان کے دیگر تقاضے پورے کرنا ہے یا یوں کہیں کہ کسی چیز کے بارے میں جان لینا زیادہ ضروری ہوتا ہے بہ نسبت اس کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی جائے۔
دجال کو دجال اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا کام دھوکہ دہی، مکاری و عیاری اور دجل وفریب کرنا، حیلے بازی سے کام لینا، حقائق چھپانا اور بڑے جھوٹے دعوے کرنا ہوگا۔ دجل بہت بڑے جھوٹ کو کہا جاتا ہے، وہ بہت دجل وفریب سے کام لینے والا، بہت جھوٹ بولنے والا اور بہت بڑا متکبر ہو گا۔
دجال کو مسیح اس لیے کہا گیا کہ اس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، وہ کانا ہو گا اور ایک آنکھ سے دیکھ سکے گا۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اس کا نام مسیح اس لیے رکھا گیا کہ وہ ساری زمین میں گھومے اور چلے پھرے گا۔ دجال اپنے دجل اور فریب سے لوگوں پر یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ رب العالمین ہے۔ وہ لوگوں سے اپنی ذات پر ایمان لانے کا حکم دے گا۔ آقا ﷺ نے فرمایا: "بے شک دجال کانا ہے اور یاد رکھو! تمھارا رب کانا نہیں ہے"۔
دجال کے پاس اللہ رب العزت کی طرف سے دی گئی کچھ طاقتیں ہوں گی جن کی مدد سے وہ لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرے گا۔
یوں تو اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں کئی چھوٹی اور بڑی علامات کا ذکر فرمایا ہے۔ مثلاً "قیامت بہت قریب آ پہنچی اور چاند شق ہوگیا" اسی طرح پھر فرمایا: "یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے"۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دجال کا نام لے کر وضاحت سے قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں فرمایا، اس کے ذکر نہ کرنے میں اللہ کی کونسی حکمت چھپی ہے وہ اللہ کی ذات ہی بہتر جانتی ہے۔
اہل علم اس کے بارے میں کچھ اشارات بیان فرماتے ہیں:
- اس آیت مبارکہ میں اہل علم کہتے ہیں کہ دجال کا اشارہ موجود ہے: "جس روز تمھارے پروردگار کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا، اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا"۔ اس کا اشارہ اس حدیث میں ملتا ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: "جب تین چیزیں ظاہر ہو جائیں گی تو کسی ایسے شخص کا ایمان ہرگز اسے فائدہ نہ دے گا جو پہلے سے ایمان دار نہ ہوگا: دجال کا نکلنا، خروج دابہ، اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا"۔
- اہل علم کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ ابن مریم ﷺ کے نزول کی طرف اشارہ موجود ہے: جیسے فرمایا گیا: "اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا شخص نہیں ہو گا مگر ان (عیسیٰ) کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا"۔ دوسری جگہ پھر ارشاد فرماتے ہیں: "اور وہ (عیسیٰ) قیامت کی ایک نشانی ہیں تو (اے لوگو!) اس قیامت میں تم ہرگز شک نہ کرو"۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ ﷺ ہی دجال کا خاتمہ (موجودہ مقام لُد پر) کریں گے۔ اس لیے حضرت عیسیٰ ﷺ کے نزول کے ساتھ ساتھ دجال کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
ارشاد نبوی ﷺ فرمایا: "آدم ﷺ کی تخلیق سے لے کر قیام قیامت تک دجال سے بڑی کوئی مخلوق نہیں" اور ایک روایت کے مطابق: "دجال سے بڑی کوئی مصیبت نہیں"۔
رسول اللہ ﷺ ایک روز لوگوں سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے شایان شان حمد وثنا بیان فرمائی اور پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: "میں تمھیں اس سے ڈرا رہا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے لیکن میں تمھیں ایک ایسی بات بتا رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی: وہ ایک آنکھ سے کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ تو ہرگز ایسا نہیں ہے"۔
ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: "دجال کے سوا دیگر فتنوں کا مجھے تمھارے بارے میں زیادہ خوف ہے۔ دجال اگر میری موجودگی میں آگیا تو میں دلیل کے ساتھ مقابلہ کرکے تم سب کی طرف سے اس پر غالب آجاؤں گا۔ اور اگر وہ میری عدم موجودگی میں آیا تو ہر شخص دلیل کے ساتھ اس پر غالب آنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ میری جگہ ہر مسلم کا خود دفاع کرے گا"۔