🔹 دجال کے پیروکاروں کا تعارف
محترم قارئین کرام! فتنہ دجال کی ہولناکیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے خود اس فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ اور جب آپ ﷺ دجال کا ذکر صحابہ کرام کے سامنے فرماتے تو خوف کے آثار ان کے چہروں پر عیاں ہوتے۔ صحابہ کو جو بات پریشانی میں مبتلا کرتی وہ تھی دجال کی جعلسازی، دھوکہ دہی اور فریب دینا وغیرہ۔
فتنوں کے اس کالے دور میں جہاں جھوٹ اور فریب کے بادل چھائے ہوں گے، حقائق چھپا کر دجل اور فریب کی دنیا بسائی جائے گی۔ لوگوں کے ایمانوں کو پرکھنے کا وقت ہوگا، حق اور باطل الگ نظر آ رہے ہوں گے۔ لوگوں کے ایمان پل میں ماشہ اور پل میں تولہ لڑکھڑاتے ہوئے ہوں گے۔
ایسے میں دجال کے منتظر لوگ بھی منظرعام پر ہوں گے۔ اس وقت پتہ چلے گا کہ رحمن کے بندے کون ہیں اور شیطان کے بندے کون ہیں۔ رحمن کے بندے تو پہاڑوں اور غاروں میں اپنے ایمان کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔ کیونکہ اس دجل اور فریب کی دنیا میں ان کا اس طرح چھپ جانا ہی بہتر ہوگا۔
🔹 عورتوں کی اکثریت
اس حدیث میں اکثریت عورتوں کی طرف ذکر کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم کہ وہ عورتیں یہودی ہوں گی جو دجال سے جا ملیں گی یا کافر ہوں گی، زانی ہوں گی، مشرک ہوں گی، لبرل ہوں گی، عیسائی، سکھ، ہندو یا بالکل گمراہ ہوں گی جو دین اسلام کی تعلیمات فراموش کر چکی ہوں گی۔ غرض یہ کہ وہ جو بھی ہوں گی ایک کثیر تعداد میں دجال کے حق میں لبیک کہیں گی۔
اس حدیث کے مطابق ایران کے جن شہروں کا ذکر کیا گیا ہے یا آگے بتایا گیا ہے وہ بیشتر علاقے یہودیوں کے ہیں۔ واللہ اعلم کہ ان علاقوں سے دوسرے مذاہب عالم کے ماننے والے بھی دجال کے لشکر میں جا ملیں گے، کیونکہ ان علاقوں میں زرتشت، پارسی، بدھ مت بھی موجود ہیں۔
🔹 یہود اور دجال
اس حدیث کے مطابق اہل عرب کے لیے ہلاکت تو پہلے سے ہی موجود ہے۔ اہل عرب کی عیاشی اور بے پناہ دولت کی ریل پیل سے کون واقف نہیں۔ سرزمین عرب میں ہلاکت کے وہ سارے سامان تیار کیے جا رہے ہیں جن کی پیشن گوئیاں مختلف احادیث کی صورت میں پہلے آ چکی ہے۔
یہودیوں کی مذہبی رسومات میں کچھ خاص دعائیں اور خاص نمازیں بھی ہیں جن میں وہ مسیح دجال سے ظاہر ہونے کی التجائیں کرتے ہیں۔ انھوں نے "عیدفصح" (یہودیوں کے نزدیک یہ دن یوم نجات کے طور پر بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا ہے) کی رات کو خاص دعاؤں کے لیے مختص کیا ہوا ہے۔
🔹 نتیجہ اور عبرت
اس مشن میں اہل یہود تو پوری طرح سے تیار ہیں لیکن اہل مسلم خواب غفلت میں ہیں۔ وقت کے تیز رفتار سوئیاں، سورج کے طلوع اور غروب ہونے کی حرکات، رات اور دن کے تیزی سے تبدیل ہونے اور دیگر سینکڑوں علامات جن کو ہم دیکھ تو رہے ہیں لیکن نیند میں غافل ہیں۔ سب اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہو رہی ہیں۔