محترم قارئین کرام! میں نے اپنے پچھلے دو ٹاپکس "5 ایسے کون سے واقعات پیش آئیں گے؟ فتنہ دجال سے قبل" اور "مصائبِ دجال (حصہ اول)" میں کوشش کی ہے کہ معلومات کچھ ترتیب سے آپ تک شئیر کر سکوں۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو ہر وہ خبر بتلا دی جس میں امت کی بھلائی مقصود ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ہر ایک شر کی بھی آگاہی بہت ہی واضح انداز میں لوگوں تک پہنچایا تاکہ قیامت تک آنے والا کوئی بھی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ مجھ تک یہ بات نہیں پہنچی۔
آپ ﷺ نے امت کو دجال کے فتنے سے خوف دلایا، وہیں آپ ﷺ نے دجال کی شکل و صورت اور جسمانی خدوخال بھی امت کو واضح انداز میں بیان فرمایا۔
٭ اس کا قد چھوٹا ہوگا اور پنڈلیوں کے درمیان دوری ہونے کے باعث اس کی چال عیب دار ہوگی۔
٭ اس کے بال نرم اور سیدھے نہ ہوں گے (یعنی گھنگریالے ہوں گے)۔
٭ اس کے بال گھنے ہوں گے۔
٭ بجھی ہوئی آنکھ، پھولے ہوئے انگور کی مانند، یعنی وہ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا۔
٭ سفید رنگ والا۔
٭ چوڑی پیشانی والا۔
٭ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا "ک، ف، ر" اس کو ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن اچھی طرح پڑھ لے گا۔
٭ وہ لاولد ہو گا، اس کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوگی۔
٭ دجال کی جو نشانیاں بیان ہوئی ہیں، ان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ایک پست قد، مضبوط جسم والا اور بڑے سروالا شخص ہوگا، اس کی دونوں آنکھیں عیب دار ہوں گی۔ دائیں آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی، جبکہ بائیں آنکھ پر چمڑا آیا ہوا ہو گا۔ بال اس کے گھنے اور گھنگریالے ہوں گے اور جلد کا رنگ سفید ہوگا، اس کی دونوں پنڈلیوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوگا۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان "ک، ف، ر" لکھا ہوگا۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ "دجال مشرق میں ایک ایسی جگہ سے نکلے گا جسے خراسان (ایران کا ایک بڑا صوبہ ہے) کہا جائے گا اور اس کی پیروی ایسے لوگ کریں گے جن کے چہرے منڈھی ہوئی ڈھالوں (گول مٹول چہروں والے) کی طرح ہوں گے"۔
نبی کریم ﷺ نے دجال کے بارے میں کچھ ان الفاظ کے ساتھ فرمایا: "وہ شام اور عراق کے درمیان ایک مقام سے ظاہر ہوگا"۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک کہ عیسائی اعماق یا دابق (دابق بستی ملک شام (سوریا) کے شہر حلب میں واقع ہے۔ ترکی کی حدود صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس بستی کے درمیان سے نہر قویق گزرتی ہے۔ اسی جگہ وہ عظیم خوں ریز لڑائی ہو گی جس کا علامات قیامت میں ذکر آیا ہے) کے مقام پر پڑاؤ نہ ڈالیں۔ عیسائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ سے مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ ہوگا جو اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگ ہوں گے۔ جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوں گے تو عیسائی کہیں گے: تم لوگ ذرا ہٹ جاؤ۔ پہلے ہمیں ان لوگوں سے لڑائی کر لینے دو جو ہم میں سے گرفتار ہو گئے تھے۔ (اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین پہلے بھی متعدد لڑائیاں ہو چکی ہوں گی۔ جن میں مسلمان فتح یاب ہوئے تھے، عیسائیوں کو قیدی بنا لیا گیا تھا جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور اب اسلامی لشکر میں شامل ہو کر عیسائیوں سے جہاد کرنے کے لیے آئے ہوئے ہوں گے) مگر مسلمان کہیں گے: نہیں، اللہ کی قسم! ہم اپنے ان بھائیوں سے کبھی الگ نہ ہوں گے۔ لڑائی شروع ہوگی تو مسلم لشکر کا ایک تہائی حصہ میدان جنگ سے فرار ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کبھی ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا، اس لشکر کے ایک تہائی لوگ جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائیں گے یہ لوگ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہداء ہوں گے۔ باقی ایک تہائی لشکر لڑائی میں فتح حاصل کرے گا۔ یہ لوگ کبھی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے اور یہی لوگ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے۔ جب وہ اپنی تلواریں زیتون کے درختوں سے لٹکا کر مالِ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے تو شیطان ان کے درمیان آ کر آواز لگائے گا کہ لوگو! تمھارے بعد مسیح دجال تمھارے گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔ (اس سے شیطان کا مقصد انھیں گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا کرنا ہوگا) لشکر اسلام کے فوجی وہاں سے نکلیں گے (اور وہ دجال کی طرف متوجہ ہوں گے) شیطان کی یہ خبر تو باطل ہوگی مگر جب وہ شام میں پہنچیں گے تو واقعی مسیح دجال کا ظہور ہو چکا ہوگا"۔
ایک موقع پر اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آج میں نے تمھیں مسجد میں کیوں جمع کیا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! میں نے تم لوگوں کو کسی رغبت دلانے یا ڈرانے کے لیے جمع نہیں کیا بلکہ میں نے تمھیں اس لیے بلایا ہے کہ (تمھیں ایک اہم واقعہ بتلاؤں کہ) تمیم داری جو کہ نصرانی تھے میرے ہاں آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرکے مسلمان ہو گئے۔ انھوں نے مجھے ایک واقعہ سنایا ہے جو میری ان احادیث کے موافق ہے جو میں تم لوگوں سے مسیح دجال کے بارے میں بیان کرتا رہا ہوں۔ تمیم داری نے مجھے بتایا کہ وہ قبیلہ بنو لخم اور بنو جذام کے تیس لوگوں کے ہمراہ بحری جہاز میں محو سفر تھے کہ پانی کی بھپری ہوئی موجوں نے ان کے جہاز کو راستے سے بھٹکا دیا۔ وہ ایک ماہ تک سمندر میں بھٹکنے کے بعد ایک جزیرے کے قریب جا نکلے اور غروب آفتاب کے وقت جہاز کو جزیرے کے قریب لے گئے۔ پھر چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرے تک پہنچے اور پھر اس میں داخل ہو گئے۔ وہاں انھیں گھنے اور موٹے بالوں والا ایک جانور دکھائی دیا۔ بالوں کی کثرت کے باعث پتہ نہ چلتا تھا کہ اس کی اگلی سائیڈ کون سی ہے اور پچھلی جانب کون سی ہے۔ انھوں نے تعجب سے کہا: تیرا ستیاناس! تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا: میں جسّاسہ ہوں۔
انھوں نے کہا: جساسہ کیا ہوتی ہے؟ اس نے کہا: تم لوگ اس شخص کے پاس جاؤ جو الگ تھلگ ایک دور جگہ میں رہتا ہے وہ تمھارے بارے میں جاننے کا بہت خواہشمند ہے۔
اس جسّاسہ نے جب اپنا نام لیا تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ یہ (جسّاسہ) کہیں کوئی شیطان نہ ہو۔ ہم جلد ی سے اس خانقاہ کی طرف چل پڑے۔ جب ہم اس میں داخل ہوئے تو ہم نے ایک عظیم الجثہ انسان دیکھا جو بہت مضبوطی سے بندھا ہوا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے بندھے ہوئے تھے اور گھٹنوں سے ٹخنوں تک وہ لوہے کی زنجیروں سے جکڑا ہوا تھا۔ ہم نے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو! تو کون ہے؟
اس نے کہا: تم لوگ میرے بارے میں جاننے میں کامیاب ہو گئے! پہلے تم بتاؤ کہ تم کون ہو؟ ہم نے کہا: ہم عرب ہیں۔ ہم ایک بحری جہاز میں سوار تھے کہ سمندر کی طوفانی بھپری لہروں نے ہمیں دربدر کر دیا، بالآخر ہمیں اس جزیرے میں پہنچا دیا۔ ہم ایک کشتی میں بیٹھ کر یہاں تک پہنچے ہیں۔ یہاں ہمیں وہ جانور ملا جس کے جسم پر بے حد بال ہیں اس کی اگلی اور پچھلی جانب میں تمیز کرنا مشکل ہے۔ ہم نے اس سے پوچھا: تیرے لیے تباہی و بربادی ہو! تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں جسّاسہ ہوں۔ ہم نے کہا: جساسہ کون ہے؟
اس نے کہا: تم لوگ اس بڑے محل کی خانقاہ میں جاؤ۔ وہاں جو شخص ہے وہ تمھاری خبر کا بہت شائق ہے۔ ہم تیزی سے تمھاری جانب آئے ہیں۔ ہم اس جانور سے بھی خائف ہیں کہ کہیں وہ کوئی شیطان ہی نہ ہو۔
اس نے کہا: مجھے بیسان کے کھجوروں کے باغات کے بارے میں کچھ بتلاؤ۔ (بیسان فلسطین کے شہروں میں سے ایک شہر ہے جو نہر جالوت کے جنوب مغرب میں واقع ہے) ہم نے کہا: تم اس شہر کی کس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: مجھے یہ بتاؤ! کیا اس کے درخت پھل دے رہے ہیں؟ ہم نے کہا: دیتے ہیں۔ اس نے کہا: قریب ہے کہ اس کے درخت پھل دینا بند کر دیں گے۔
اس نے کہا: مجھے بحیرہ طبریہ کے بارے میں بتاؤ؟ ہم نے کہا: تم اس کی کس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس میں پانی موجود ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں بہت پانی ہے۔ اس نے کہا: عنقریب اس کا پانی ختم ہو جائے گا۔
اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتلاؤ؟ (یہ اردن اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔ زغر اردن میں بحیرہ مردار کے کنارے پر واقع ایک بستی ہے) انھوں نے کہا: تم اس کی کسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس چشمے میں پانی موجود ہے۔ اور کیا اس کے باشندے اس پانی سے کاشت کاری کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس چشمے میں بہت پانی ہے اور اس کے باشندے اس سے کاشت کاری بھی کرتے ہیں؟
اس نے کہا: مجھے یہ بتاؤ کہ ان پڑھوں (امیین) کے نبی کا کیا حال ہے؟ انھوں نے کہا: وہ مکہ سے ہجرت کر چکے ہیں اور مدینہ میں قیام پذیر ہیں۔ اس نے کہا: کیا عربوں نے اس سے لڑائی کی ہے؟ ہم نے کہا: ہاں! کی ہے۔ اس نے کہا: پھر نتیجہ کیا رہا؟ ہم نے اسے خبر دی کہ وہ اردگرد کے تمام عربوں پر غالب آ گئے ہیں اور ان سب نے ان کی اطاعت قبول کر لی ہے۔ اس نے کہا: کیا یہ سب ہو چکا ہے؟ ہم نے کہا: بالکل۔
اس نے کہا: یہی ان کے لیے بہتر ہے کہ اس (نبی) کی اطاعت کر لیں۔ اب میں تمھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں مسیح (دجال) ہوں۔ عنقریب مجھے کسی وقت خروج کا اذن مل جائے گا۔ میں نکلوں گا اور ساری زمین کے ہر شہر کا چالیس روز میں چکر لگا لوں گا سوائے مکہ اور مدینہ کے کیونکہ یہ دو شہر مجھ پر حرام کر دیے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی شہر میں بھی اگر میں داخل ہونے کی کوشش کروں گا تو میرا سامنا ایک فرشتے سے ہوگا جو ننگی تلوار سونت کر میری راہ میں کھڑا ہوگا۔ وہ مجھے ان شہروں میں داخل ہونے سے روک دے گا۔ مکہ اور مدینہ کے تمام راستوں اور شاہراہوں پر بھی فرشتے متعین ہوں گے۔ جو اس کی حفاظت کریں گے۔