ظلمت و گمراہی میں توبۃ النصوح کے مواقع اور امام مہدی کی آمد کے سلسلے میں حصہ چہارم میں امام مہدی کی وفات کے بعد پیش آنے والے حالات کا ذکر کیا گیا ہے۔ امام مہدی، جو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی ہیں، ان کی آمد کے بعد دنیا میں حق اور عدل کا نظام قائم ہو گا اور گمراہی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تاہم، ان کی وفات کے بعد انسانیت پر ایک نیا دور شروع ہو گا جس میں لوگ دوبارہ گمراہی کا شکار ہو جائیں گے۔ امام مہدی کی رہنمائی اور حق کی تبلیغ کے بغیر، لوگ شیطان کے بہکاوے میں آ کر دوبارہ برائیوں کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ ان کی غیر موجودگی میں، معاشرتی اور دینی بگاڑ کا آغاز ہو گا اور انسانوں کا ضمیر خاموش ہو جائے گا۔
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ کا فرمان ہے: "عیسیٰ ابن مریم آسمان سے جب نازل ہوں گے تو مسلمانوں کے امیر (امام مہدی) ان سے کہیں گے کہ تشریف لائیے اور نماز کی امامت کروائیے۔ وہ معذرت کریں گے اور فرمائیں گے: اس امت کی امامت اس امت کے لوگوں ہی کو زیبا ہے۔ یہ اس امت پر اللہ کا احسان اور فضل ہے۔"
اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ دجال امام مہدی کے زمانے میں ظاہر ہو گا۔ پھر جب حضرت عیسیٰ اسے قتل کرنے کے لیے نازل ہوں گے تو امام مہدی ہی مسلمانوں کے قائد ہوں گے، چنانچہ خود حضرت عیسیٰ اور بقیہ تمام مومن بھی امام مہدی کی امامت میں نماز ادا کریں گے۔ ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: "جس امام کی اقتداء میں حضرت عیسیٰ نماز ادا کریں گے وہ ہم میں سے ہو گا۔" یہاں امام مہدی نماز پڑھائیں گے اور مقتدیوں میں حضرت عیسیٰ بھی شامل ہوں گے۔
ایک اور مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا: "دنیا اس وقت تک ختم نہ ہو گی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عربوں کا حکمران نہ بن جائے۔ اس کا نام میرے نام جیسا ہو گا۔"
امام مہدی عام مسلمانوں کا بادشاہ ہو گا چاہے وہ عرب ہوں یا عجم لیکن اس حدیث میں عربوں کا خصوصی ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کی حکومت کا آغاز عربوں سے ہو گا۔ وہ مکہ اور مدینہ میں ظاہر ہو گا۔ وہاں کے عرب اس کی اتباع کریں اور پھر دیگر تمام مسلمان بھی اس کی اتباع کر لیں گے۔ اس اعتبار سے ہر ایسے مسلم کو عربی کہا جا سکتا ہے جو قرآن کی تلاوت کرتا اور عربی زبان جانتا ہو۔
امام مہدی کے بارے میں چند اہم احادیث:
آپ ﷺ نے فرمایا: "قریب ہے کہ عراق والوں کو غلہ اور نقدی آنا بند ہو جائیں۔ ہم نے پوچھا یہ کیسے ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ پابندی عجم کی طرف سے ہو گی، وہ انھیں اس سے محروم کر دیں گے۔" (اہل عراق کے ماپنے کا پیمانہ ہے جیسے ہمارے کلواور ٹن ہیں۔ درہم "چاندی کا وہ سکہ جو زمانہ قدیم سے رائج تھا۔ عجم کے لفظ کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جو غیر عربی ہوں خواہ وہ عربی بولتے ہوں یا نہ بولتے ہوں) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "قریب ہے کہ شام والوں کے پاس دینار اور غلہ آنا بند ہو جائیں۔ ہم نے سوال کیا: یہ کیسے ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'یہ رومیوں کی جانب سے ہو گا۔'" (دینار "سونے کا ایک سکہ (اہل شام کے ناپنے کا پیمانہ ہے، پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کے آخری زمانے میں ایک خلیفہ ایسا ہو گا جو جھولیاں بھر بھر کر گنے بغیر لوگوں کو مال دے گا۔" اس حدیث میں خلیفہ امام مہدی ہی ہیں جن میں ان کا نام لے کر وضاحت کی گئی ہے، چونکہ ان کے عہد میں اموال غنیمت اور فتوحات کی کثرت ہو گی۔ وہ بے پناہ سخی ہوں گے اور لوگوں پر ہر قسم کی بھلائیاں نچھاور کریں گے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق ام عائشہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ایک رات سو رہے تھے کہ نیند میں آپ کے بدن مبارک میں کچھ حرکت کی۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! آج آپ نیند کے عالم میں کچھ ایسا کیے ہیں جو پہلے نہیں کیا کرتے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں نے ایک عجیب معاملہ دیکھا۔ میری امت کے کچھ لوگ کعبہ کی طرف بڑھ رہے تھے، وہ قریش کے ایک شخص کو مارنا چاہتے تھے۔ جو کعبہ میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ جب وہ ایک کھلے صحراء میں تھے تو ان سب کو دھنسا دیا گیا۔ یعنی زمین پھٹ گئی اور اس نے انھیں اپنے پیٹ میں نگل لیا۔" ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! راستے میں تو ہر قسم کے لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، ان میں جان بوجھ کر شامل ہونے والے، مجبور کر کے لائے جانے والے اور مسافر سب ہوں گے لیکن یہ سب لوگ ایک ہی دفعہ ہلاک کر دیئے جائیں گے، البتہ روزِ قیامت ہر ایک کو اللہ رب العزت اس کی نیت کے مطابق اٹھائے گا۔"
ایک اور مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا: "قیامت کے قائم ہونے تک میری امت میں ایک گروہ حق کے لیے لڑائی کرتا رہے گا اور دشمن پر غالب رہے گا۔ پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر (مہدی) کہے گا۔ تشریف لائیے اور نماز میں ہماری امامت فرمائیے۔ عیسیٰ فرمائیں گے؛ نہیں! تمھارے بعض، بعض کے لیے امراء ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ عزت بخشی ہے۔" (اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کو یہ عزت عطا فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم اس امت کے ایک فرد کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے۔) عیسیٰ ابن مریم کے امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مہدی عیسیٰ سے افضل ہیں۔ یاد رہے! آپ ﷺ نے بھی اپنے آخری دنوں بیماری کی حالت میں حضرت ابو بکر صدیق کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف کی امامت میں بھی ایک دفعہ آپ ﷺ نے نماز ادا فرمائی تھی۔ عیسیٰ ابن مریم اس لیے مہدی کے پیچھے نماز ادا کریں گے تاکہ وہ تمام لوگوں پر واضح کر دیں کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے متبع بن کر تشریف لائے ہیں اور نہیں کسی شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے۔ بعد میں مہدی عیسیٰ کی اقتداء کریں گے اور ان کے لشکر کے ایک سپاہی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ کام اس وقت تک ختم نہ ہو گا جب تک ان میں بارہ خلیفے نہ ہو گزریں۔ جابر کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے کوئی بات فرمائی جو میں نہ سن سکا۔ میں نے والد صاحب سے پوچھا آپ ﷺ کیا فرما رہے تھے؟ انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: 'سب خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔'" علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ امت میں بارہ عادل خلفاء ضرور ہوں گے مگر خیال رہے کہ اس سے مراد شیعہ کے بارہ امام ہرگز نہیں ہیں، اس لیے کہ ان اماموں میں سے اکثریت کو کبھی حکومت میں آنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ یہ تمام خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔ حکمران ہوں گے اور عادل ہوں گے۔" ایک اور مقام پر مزید وضاحت فرمائی: "ایک خلیفہ کی موت کے وقت امت میں اختلاف پیدا ہو گا۔ اس موقع پر ایک شخص مدینہ سے (فتنے کے ڈر سے) بھاگ کر مکہ مکرمہ پہنچے گا۔ مکہ کے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے وہ اسے گھر سے نکلنے کو کہیں گے مگر وہ (امارت کو) ناپسند کرے گا۔ لوگ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی بیعت کر لیں گے۔ اس کے خلاف لڑنے کے لیے اہل شام کی طرف سے ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ وہ لشکر جب مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک صحرا میں ہو گا تو اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ جب لوگ لشکر کا یہ حشر دیکھیں گے تو شام کے اولیائے کرام اور عبادت گزار لوگ اور عراق کے منتخب اور نیک لوگ اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی بیعت کر لیں گے۔ پھر قریش میں سے ایک شخص جو بنو کلب والوں کا بھانجا ہو گا (مہدی کے خلاف) اٹھے گا۔ وہ مہدی کے حامیوں کی طرف ایک لشکر ارسال کرے گا مگر مہدی کے ساتھی اس پر غالب آ جائیں گے۔ یہ بنو کلب کا لشگر ہو گا جو شخص بھی بنو کلب کے اموال غنیمت کی تقسیم کے وقت حاضر نہ ہو گا، وہ خسارے میں رہے گا۔ وہ (مہدی) مال تقسیم کرے گا اور لوگوں کے ساتھ اپنے نبی ﷺ کی سنت سے مطابق معاملہ کرے گا۔ اس دوران اسلام زمین میں مضبوطی اور استقرار حاصل کر لے گا۔ اس کی حکومت سات برسر رہے گی۔ پھر وہ وفات پا جائے گا اور مسلمان اس کی نمازِ جنازہ ادا کریں گے اور ایک روایت کے مطابق وہ نو برس کرے گا۔"
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔