دوستو! حضرت عیسیٰ کے بارے میں اپنے سابقہ آرٹیکل میں بیان کر چکا ہوں آج میں ذکر کرنے جا رہا ہوں کہ جب حضرت عیسیٰ اپنے نزول اور دجال کو قتل کرنے کے بعد جب مومنوں کے امور و معاملات کو درست فرمالیں گے تو کچھ ضروری کام سرانجام دیں گے۔ ارشاد نبویﷺ کے مطابق "اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے تمھارے درمیان عیسیٰ عادل حکمران بن کر نزول فرمائیں، وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے (اسے کسی کافر سے قبول نہیں کریں گے)"۔

اس حدیث کے مطابق:

ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کی دو جماعتیں ایسی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے بچا لیا ہے ایک وہ جماعت ہے جو ہندوستان پر حملہ کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو حضرت عیسیٰ کے ساتھ ہوگی"۔

حضرت عیسیٰ کا آخری زمانے میں تشریف لانا بنیادی طور پر اہل یہود کے اس دعوے کا رد کرنا بھی ہے کہ ہم نے عیسیٰ کو قتل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جھوٹ کو واضح کر دیا ہے۔ یہود نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ وہ یہودیوں کو اور ان کے آقا دجال کو قتل کریں گے۔

ایک روایت جو میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: "میں عیسیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں"۔ (ایک اندازے کے مطابق آپﷺ اور حضرت عیسیٰ کے درمیان ساڑھے چھ سو سال کا وقفہ ہے۔)

حضرت عیسیٰ ہی ہیں جنھوں نے اپنی قوم کو آپﷺ کی خوشخبری دی تھی۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ "جب عیسیٰ ابن مریم تشریف لائیں گے، وہ خنزیر کو قتل کردیں گے، صلیب کو توڑ دیں گے اور اس وقت دعوت صرف ایک اللہ کی ہوگی۔ تب تم رسول اللہ ﷺ کی طرف سے انھیں سلام کہنا، میں جو بیان کروں گا وہ اس کی تصدیق کریں گے"۔

سبحان اللہ! اسی طرح ایک اور روایت میں ارشاد فرمایا: "مجھے امید ہے کہ اگر مجھے لمبی عمر ملے تو میں عیسیٰ ابن مریم سے ملاقات کروں لیکن اگر مجھے جلد موت آجائے تو تم میں سے جو بھی عیسیٰ ابن مریم سے ملاقات کرے وہ انھیں میری طرف سے سلام کہے"۔

ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے عیسیٰ ابن مریم ضرور حج روحاء کے مقام سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے یا پھر ان دونوں کو ایک ساتھ ادا کریں گے۔" یعنی ان کا احرام یا تو حج تمتع کا ہوگا، یعنی پہلے عمرہ کر کے احرام کھول دیں گے اور حج کے لئے دوبارہ احرام باندھیں گے، یا پھر حج قران کریں گے یعنی ایک ہی احرام سے عمرہ اور حج ادا کریں گے۔

اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ وہ ہمارے گناہ مٹا دے اور ہمیں طریقہ محمدی ﷺ کو اختیار کرنے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔