🔹 اسلامی حکومت کا قیام
دوستو! حضرت عیسیٰ کے بارے میں اپنے سابقہ آرٹیکل میں بیان کر چکا ہوں آج میں ذکر کرنے جا رہا ہوں کہ جب حضرت عیسیٰ اپنے نزول اور دجال کو قتل کرنے کے بعد جب مومنوں کے امور و معاملات کو درست فرمالیں گے تو کچھ ضروری کام سرانجام دیں گے۔
اس حدیث کے مطابق حضرت عیسیٰ کے دور حکومت کی اہم خصوصیات:
- اسلامی حکومت کا قیام: لوگوں کو شریعت محمدی کے تابع کرنا اور منحرف مذاہب کا خاتمہ کرنا وغیرہ۔
- اللہ کے کلمہ کو بلند کرنا: یہود و نصاریٰ کی دعوت کو باطل قرار دینا اور جزیہ کو ختم کرنا۔ جزیہ ایک ٹیکس ہے جو مسلم ممالک میں رہنے والے اہل کتاب سے ان کی حفاظت اور ان کے لئے پیش کی گئی سہولتوں کے عوض وصول کیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی عدل وانصاف پر مبنی ٹیکس ہے۔
- حضرت عیسیٰ جب نزول فرمائیں گے اور لوگوں کے درمیان حکومت کریں گے تو وہ اسلام کے سوا ہرگز کوئی دوسرا دین قبول نہیں کریں گے۔
🔹 عدل و سلامتی کا پھیلنا
وہ بلاشبہ نازل ہوں گے، جب انھیں دیکھو تو پہچان لینا کہ وہ درمیانے قد اور سرخ سفیدی مائل رنگ کے ہوں گے۔ ان کے اوپر ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے ہوں گے۔ ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے معلوم ہوں گے مگر ان کا سر گیلا نہ ہوگا۔ وہ صلیب کے ٹکڑے کر دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے۔
🔹 خوشحالی اور امن کا عام ہونا
- قریش کی حکمرانی کا ہمیشہ کے لئے ختم ہو جانا۔
- بکریوں اور اونٹوں کی زکوۃ نہیں لی جائے گی۔
- آپس کی دشمنی اور بغض اٹھا لیا جائے گا۔
- ہر ایک ڈنگ والے جانور کا ڈنگ نکال دیا جائے گا۔
- زمین امن وسلامتی سے اس طرح بھر جائے گی جس طرح برتن پانی سے بھرا ہوتا ہے۔
- سب لوگ ایک ہی کلمے پر متفق ہوں گے اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی جائے گی۔
- جنگ وجدل ختم ہو جائے گا۔
- آپس کے بغض کو ختم کرنا: حسد اور کینہ دلوں سے مٹا دیا جائے گا۔
- حضرت عیسیٰ کی آمد کے بعد زندگی گزارنے والوں کو مبارک ہو۔
- آسمان کو بارش برسانے اور زمین کو نباتات اگانے کی عام اجازت دے دی جائے گی حتی کہ آپ کسی صاف پتھر پر بھی کوئی بیج ڈال دیں گے تو وہ بھی اگ آئے گا۔
- آدمی شیر کے پاس سے گزرے گا تو وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
🔹 حضرت عیسیٰ کی شخصیت اور احکام
حضرت عیسیٰ کا آخری زمانے میں تشریف لانا بنیادی طور پر اہل یہود کے اس دعوے کا رد کرنا بھی ہے کہ ہم نے عیسیٰ کو قتل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جھوٹ کو واضح کر دیا ہے۔ یہود نے انھیں قتل نہیں کیا بلکہ وہ یہودیوں کو اور ان کے آقا دجال کو قتل کریں گے۔
حضرت عیسیٰ ہی ہیں جنھوں نے اپنی قوم کو آپﷺ کی خوشخبری دی تھی۔
📖 تفاسیر کی روشنی میں حضرت عیسیٰ کا دور
تفسیر ابن کثیر
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: "حضرت عیسیٰ کا نزول قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ وہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے۔ ان کا دور امن و خوشحالی کا دور ہوگا۔"
امام ابن کثیر کے مطابق حضرت عیسیٰ کا دور حکومت عدل و انصاف، امن و خوشحالی اور شرعی احکام کے نفاذ کا دور ہوگا۔ یہ دور قیامت سے پہلے انسانیت کے لیے ایک بشارت ہوگا۔
تفسیر القرطبی
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ جب نزول فرمائیں گے تو وہ شریعت محمدی کے مطابق حکم کریں گے۔ وہ دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔"
امام قرطبی نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت عیسیٰ شریعت محمدی کے مطابق حکومت کریں گے، نہ کہ کوئی نئی شریعت لے کر آئیں گے۔
تفسیر الجلالین
تفسیر جلالین میں ہے: "حضرت عیسیٰ کے نزول کے بعد تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے اور صرف اسلام باقی رہے گا۔ یہ اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے ایک عظیم رحمت ہوگی۔"
یہ تفسیر اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کے دور میں صرف اسلام ہی غالب دین ہوگا اور تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے۔
📚 قرآن و احادیث کے فرامین
قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ کو قیامت کی نشانی قرار دیا ہے۔ ان کا نزول قیامت قریب آنے کی علامت ہے۔
اس آیت کے مطابق تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گے اور وہ صحیح دین اسلام کو قبول کریں گے۔
احادیث نبوی ﷺ میں حضرت عیسیٰ کا دور
صحیح بخاری (حدیث نمبر 3448):
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے اور عادل حکمران بن کر حکومت کریں گے۔ وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے۔"
یہ حدیث حضرت عیسیٰ کے دور حکومت کی اہم خصوصیات بیان کرتی ہے۔ وہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں گے اور تمام بدعات کو ختم کریں گے۔
صحیح مسلم (حدیث نمبر 2937):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عیسیٰ ابن مریم نازل نہ ہو جائیں۔ وہ دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔'
اس حدیث سے واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نزول قیامت سے پہلے ہوگا اور وہ دجال کو ہلاک کریں گے۔
🕌 ائمہ اربعہ کے احکامات
امام ابو حنیفہ کا موقف
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ کا نزول حق ہے۔ وہ شریعت محمدی کے مطابق حکم کریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ ان کا دور عدل و انصاف کا دور ہوگا۔"
امام ابو حنیفہ حضرت عیسیٰ کے نزول کو حق قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ شریعت محمدی کے مطابق حکم کریں گے۔
امام مالک کا بیان
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ جب نازل ہوں گے تو وہ اسلام کے سوا کسی اور دین کو قبول نہیں کریں گے۔ وہ تمام بدعات کو ختم کر دیں گے اور لوگوں کو صحیح راستے پر لائیں گے۔"
امام مالک نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت عیسیٰ صرف اسلام کو قبول کریں گے اور تمام بدعات کو ختم کر دیں گے۔
امام شافعی کا موقف
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ کا دور حکومت امن و خوشحالی کا دور ہوگا۔ ان کے زمانے میں زمین اپنی برکتیں نکالے گی اور لوگوں کو بہت زیادہ مال و دولت ملے گی۔"
امام شافعی نے حضرت عیسیٰ کے دور کو امن و خوشحالی کا دور قرار دیا ہے۔
امام احمد بن حنبل کا بیان
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حضرت عیسیٰ کا نزول قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ وہ دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ان کا دور چالیس سال تک رہے گا۔"
ائمہ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ کا نزول حق ہے، وہ دجال کو قتل کریں گے، اور ان کا دور عدل و انصاف، امن و خوشحالی کا دور ہوگا۔
🤔 غور و فکر کے پہلو
کیا ہم حضرت عیسیٰ کے دور کے لیے تیار ہیں؟
حضرت عیسیٰ کا دور عدل و انصاف، امن و خوشحالی کا دور ہوگا۔ کیا ہم اس دور کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اپنے دلوں سے کینہ، حسد اور بغض کو نکال چکے ہیں؟
حضرت عیسیٰ کے نزول سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
حضرت عیسیٰ کا نزول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ جب انسانیت اپنی انتہا پر پہنچ جاتی ہے تو اللہ اپنے بندوں کی مدد کے لیے کوئی نہ کوئی ذریعہ بھیج دیتا ہے۔
ہمیں حضرت عیسیٰ کے دور کے لیے کیسے تیار ہونا چاہیے؟
- ایمان کو مضبوط کریں: اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کو مضبوط کریں۔
- نیک اعمال کریں: زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کریں تاکہ حضرت عیسیٰ کے دور میں ان کا ثواب مل سکے۔
- بدعات سے بچیں: ہر قسم کی بدعت سے بچیں اور سنت کی پیروی کریں۔
- دعا کریں: اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں حضرت عیسیٰ کے دور میں شامل فرمائے۔
- دجال کے فتنے سے بچیں: دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے سورۃ الکہف کی تلاوت کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عیسیٰ کے دور کو پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس دور میں نیک اعمال کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!