ہوم پیج واپس (اسلامی تعلیمات)

تین لوگ جن کی عبادت قبول نہیں

تین لوگ جن کی عبادت قبول نہیں

اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی عبادت کا قبول ہونا کئی شرائط پر منحصر ہے۔ محض ظاہری حرکات و سکنات، رکوع و سجود ہی کافی نہیں ہیں بلکہ نیت کا خلوص، دل کی کیفیت اور زندگی کے دیگر معاملات میں تقویٰ بھی ضروری ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے تین لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی عبادت، چاہے وہ کتنی ہی لمبی یا خوبصورت کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنی عبادت کے بارے میں سوچیں۔

1. وہ شخص جو قطع رحمی کرے

قطع رحمی یعنی رشتہ داروں سے تعلقات توڑنا یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا اسلام میں سخت گناہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"رحم (رشتہ داری) کا نام عرش سے ملا ہوا ہے، وہ کہتی ہے: جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے گا، اور جس نے مجھے توڑا اللہ اسے توڑے گا۔" (بخاری و مسلم)

ایک اور حدیث میں ہے:

"قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" (بخاری و مسلم)

ایک شخص اگر دن رات عبادت کرے، لمبی لمبی نمازیں پڑھے، لیکن اپنے والدین، بہن بھائیوں یا دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ناروا سلوک کرے، ان کے حقوق ادا نہ کرے یا ان سے تعلق توڑے، تو اس کی ساری عبادت اس کے گناہوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہے۔ اللہ کی رحمت سے دوری اس کی عبادت کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

2. وہ عورت جو ناشکرا ہو

شوہر کی ناشکری کرنے والی عورت کی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔" (ترمذی، حسن)

ایک اور حدیث میں ہے:

"جس عورت کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنت میں داخل ہوگی۔" (ابن ماجہ)

ایک عورت اگر بہت عبادت گزار ہو، روزے رکھتی ہو، نمازیں پڑھتی ہو، لیکن اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کرتی ہو، اس کی نافرمانی کرتی ہو یا اس کی محنت اور مشقت کی قدر نہ کرتی ہو، تو اس کی عبادت کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔ شوہر کی خدمت اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا عورت کے لیے بہت بڑی عبادت ہے۔

3. وہ شخص جو سود خور ہو

سود کھانا اسلام میں سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سود خوروں کے خلاف اعلانِ جنگ فرمایا ہے۔

"جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ (قیامت کے دن) اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا: خرید و فروخت بھی تو سود جیسی ہے۔ حالانکہ اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔" (البقرہ: 275)

ایک اور آیت میں فرمایا:

"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود تم پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔" (البقرہ: 278)

ایک شخص اگر مسجد کا امام ہو، قرآن کا حافظ ہو، لیکن سود کے کاروبار میں ملوث ہو، تو اس کی تمام تر عبادتیں، اس کی تلاوت، اس کے سجدے اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوں گے۔ سود کی آلودگی اس کی ہر نیکی کو باطل کر دیتی ہے۔

خلاصہ

اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف ظاہری عبادت کا حکم ہی نہیں دیا، بلکہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

  1. قطع رحمی کرنے والے کی عبادت قبول نہیں۔
  2. ناشکرا عورت کی عبادت قبول نہیں۔
  3. سود خور کی عبادت قبول نہیں۔

ہمیں اپنی عبادتوں کو ان گناہوں کی آلودگی سے پاک رکھنا چاہیے۔ حقیقی عبادت وہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرے اور اس کی زندگی میں اخلاق و کردار کی اصلاح کرے۔

آئیے ہم اپنی عبادتوں کو صرف ظاہری حرکات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے دلوں کو صاف کریں، اپنے تعلقات درست کریں اور اپنے معاملات کو حلال و حرام کے مطابق ڈھالیں۔ تب ہی ہماری عبادتیں اللہ کے ہاں مقبول ہوں گی۔

ہوم پیج واپس (اسلامی تعلیمات)