تین لوگ جن کی عبادت قبول نہیں - اسلامی تعلیمات

تعارف

خبردار! عبادت کا قبول ہونا محض ظاہری حرکات و سکنات، رکوع و سجود ہی کافی نہیں بلکہ نیت کا خلوص، دل کی کیفیت اور زندگی کے دیگر معاملات میں تقویٰ بھی ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی عبادت کا قبول ہونا کئی شرائط پر منحصر ہے۔ محض ظاہری حرکات و سکنات، رکوع و سجود ہی کافی نہیں ہیں بلکہ نیت کا خلوص، دل کی کیفیت اور زندگی کے دیگر معاملات میں تقویٰ بھی ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "رحم (رشتہ داری) کا نام عرش سے ملا ہوا ہے، وہ کہتی ہے: جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے گا، اور جس نے مجھے توڑا اللہ اسے توڑے گا۔" (بخاری و مسلم)

احادیث مبارکہ میں ایسے تین لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی عبادت، چاہے وہ کتنی ہی لمبی یا خوبصورت کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنی عبادت کے بارے میں سوچیں اور ان گناہوں سے بچیں جو ہماری عبادت کو قبولیت سے محروم کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن اس عبادت کو قبول ہونے کے لیے کچھ شرائط ہیں۔ ان شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان اپنے معاملات کو اللہ کے احکامات کے مطابق رکھے۔ جو لوگ ان احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔

وہ شخص جو قطع رحمی کرے

قطع رحمی یعنی رشتہ داروں سے تعلقات توڑنا یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا اسلام میں سخت گناہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "رحم (رشتہ داری) کا نام عرش سے ملا ہوا ہے، وہ کہتی ہے: جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے گا، اور جس نے مجھے توڑا اللہ اسے توڑے گا۔" (بخاری و مسلم)
"قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" (بخاری و مسلم)

ایک شخص اگر دن رات عبادت کرے، لمبی لمبی نمازیں پڑھے، لیکن اپنے والدین، بہن بھائیوں یا دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ناروا سلوک کرے، ان کے حقوق ادا نہ کرے یا ان سے تعلق توڑے، تو اس کی ساری عبادت اس کے گناہوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہے۔ اللہ کی رحمت سے دوری اس کی عبادت کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے تعلق جوڑے رکھے۔" قطع رحمی کرنے والے کا نہ صرف یہ کہ عبادت قبول نہیں ہوتی، بلکہ اس پر اللہ کی لعنت بھی ہوتی ہے۔

رشتہ داروں سے تعلق جوڑے رکھنا اللہ کی رحمت کا ذریعہ ہے۔ جو شخص اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھتا ہے، اللہ اس کی روزی میں برکت ڈالتا ہے اور اس کی عمر میں اضافہ کرتا ہے۔

وہ عورت جو ناشکری ہو

شوہر کی ناشکری کرنے والی عورت کی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔" (ترمذی، حسن)
"جس عورت کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنت میں داخل ہوگی۔" (ابن ماجہ)

ایک عورت اگر بہت عبادت گزار ہو، روزے رکھتی ہو، نمازیں پڑھتی ہو، لیکن اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کرتی ہو، اس کی نافرمانی کرتی ہو یا اس کی محنت اور مشقت کی قدر نہ کرتی ہو، تو اس کی عبادت کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔ شوہر کی خدمت اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا عورت کے لیے بہت بڑی عبادت ہے۔

اسلام میں شوہر کا عورت پر بہت بڑا حق ہے۔ شوہر کی نافرمانی کرنا یا اس کی ناشکری کرنا عورت کے لیے ایک بڑا گناہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بہترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کو خوش رکھے اور اس کی نافرمانی نہ کرے۔"

ایک عورت اگر اپنے شوہر کے حقوق ادا نہیں کرتی تو اس کی تمام عبادات ضائع ہو جاتی ہیں۔ شوہر کی خوشنودی حاصل کرنا عورت کے لیے جنت کی کلید ہے۔

وہ شخص جو سود خور ہو

سود کھانا اسلام میں سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سود خوروں کے خلاف اعلانِ جنگ فرمایا ہے۔

"جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ (قیامت کے دن) اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا: خرید و فروخت بھی تو سود جیسی ہے۔ حالانکہ اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔" (البقرہ: 275)
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود تم پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔" (البقرہ: 278)

ایک شخص اگر مسجد کا امام ہو، قرآن کا حافظ ہو، لیکن سود کے کاروبار میں ملوث ہو، تو اس کی تمام تر عبادتیں، اس کی تلاوت، اس کے سجدے اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوں گے۔ سود کی آلودگی اس کی ہر نیکی کو باطل کر دیتی ہے۔

سود کی مذمت صرف قرآن میں ہی نہیں بلکہ تمام آسمانی مذاہب میں کی گئی ہے۔ سود ایک ایسا گناہ ہے جو پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔ سود کی وجہ سے غریب اور امیر کے درمیان فرق بڑھتا ہے اور معاشی عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔

سود خور کی عبادت قبول نہیں ہوتی، چاہے وہ کتنی ہی عبادت کرے۔ سود کی ایک قلیل مقدار بھی انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے اور اس کی تمام نیکیوں کو برباد کر دیتی ہے۔

خلاصہ اور نتیجہ

اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف ظاہری عبادت کا حکم ہی نہیں دیا، بلکہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

  • قطع رحمی کرنے والے کی عبادت قبول نہیں۔
  • ناشکری عورت کی عبادت قبول نہیں۔
  • سود خور کی عبادت قبول نہیں۔

ہمیں اپنی عبادتوں کو ان گناہوں کی آلودگی سے پاک رکھنا چاہیے۔ حقیقی عبادت وہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرے اور اس کی زندگی میں اخلاق و کردار کی اصلاح کرے۔

آئیے ہم اپنی عبادتوں کو صرف ظاہری حرکات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے دلوں کو صاف کریں، اپنے تعلقات درست کریں اور اپنے معاملات کو حلال و حرام کے مطابق ڈھالیں۔ تب ہی ہماری عبادتیں اللہ کے ہاں مقبول ہوں گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان تینوں گناہوں سے بچنے اور اپنی عبادتوں کو قبولیت کے قابل بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

دعا ہے کہ اللہ ہمیں اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے، شوہر کی ناشکری سے بچنے اور سود سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری عبادتوں کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنی رحمت سے نوازے۔ آمین۔

اس مضمون میں ہم نے تین لوگوں کا ذکر کیا جن کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ ہم نے قطع رحمی کرنے والے، ناشکری عورت اور سود خور کی عبادت کی عدم قبولیت کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیل سے بات کی۔

امید ہے کہ یہ مضمون پڑھ کر آپ کو ان گناہوں کی سنگینی کا ادراک ہوگا اور آپ اپنی زندگی میں ان سے بچیں گے۔ یاد رکھیں کہ عبادت کی قبولیت کا دارومدار نیت اور اعمال کی درستگی پر ہے۔

عبادت قبول نہ ہونے والے لوگ قطع رحمی ناشکری عورت سود خور اسلامی تعلیمات گناہ کبیرہ قرآن و حدیث