تعارف
اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی عبادت کا قبول ہونا کئی شرائط پر منحصر ہے۔ محض ظاہری حرکات و سکنات، رکوع و سجود ہی کافی نہیں ہیں بلکہ نیت کا خلوص، دل کی کیفیت اور زندگی کے دیگر معاملات میں تقویٰ بھی ضروری ہے۔
احادیث مبارکہ میں ایسے تین لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی عبادت، چاہے وہ کتنی ہی لمبی یا خوبصورت کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنی عبادت کے بارے میں سوچیں اور ان گناہوں سے بچیں جو ہماری عبادت کو قبولیت سے محروم کر دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن اس عبادت کو قبول ہونے کے لیے کچھ شرائط ہیں۔ ان شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان اپنے معاملات کو اللہ کے احکامات کے مطابق رکھے۔ جو لوگ ان احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔
وہ شخص جو قطع رحمی کرے
قطع رحمی یعنی رشتہ داروں سے تعلقات توڑنا یا ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا اسلام میں سخت گناہ ہے۔
ایک شخص اگر دن رات عبادت کرے، لمبی لمبی نمازیں پڑھے، لیکن اپنے والدین، بہن بھائیوں یا دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ناروا سلوک کرے، ان کے حقوق ادا نہ کرے یا ان سے تعلق توڑے، تو اس کی ساری عبادت اس کے گناہوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہے۔ اللہ کی رحمت سے دوری اس کی عبادت کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے تعلق جوڑے رکھے۔" قطع رحمی کرنے والے کا نہ صرف یہ کہ عبادت قبول نہیں ہوتی، بلکہ اس پر اللہ کی لعنت بھی ہوتی ہے۔
وہ عورت جو ناشکری ہو
شوہر کی ناشکری کرنے والی عورت کی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی۔
ایک عورت اگر بہت عبادت گزار ہو، روزے رکھتی ہو، نمازیں پڑھتی ہو، لیکن اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کرتی ہو، اس کی نافرمانی کرتی ہو یا اس کی محنت اور مشقت کی قدر نہ کرتی ہو، تو اس کی عبادت کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔ شوہر کی خدمت اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا عورت کے لیے بہت بڑی عبادت ہے۔
اسلام میں شوہر کا عورت پر بہت بڑا حق ہے۔ شوہر کی نافرمانی کرنا یا اس کی ناشکری کرنا عورت کے لیے ایک بڑا گناہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بہترین عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کو خوش رکھے اور اس کی نافرمانی نہ کرے۔"
وہ شخص جو سود خور ہو
سود کھانا اسلام میں سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سود خوروں کے خلاف اعلانِ جنگ فرمایا ہے۔
ایک شخص اگر مسجد کا امام ہو، قرآن کا حافظ ہو، لیکن سود کے کاروبار میں ملوث ہو، تو اس کی تمام تر عبادتیں، اس کی تلاوت، اس کے سجدے اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوں گے۔ سود کی آلودگی اس کی ہر نیکی کو باطل کر دیتی ہے۔
سود کی مذمت صرف قرآن میں ہی نہیں بلکہ تمام آسمانی مذاہب میں کی گئی ہے۔ سود ایک ایسا گناہ ہے جو پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔ سود کی وجہ سے غریب اور امیر کے درمیان فرق بڑھتا ہے اور معاشی عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔
خلاصہ اور نتیجہ
اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف ظاہری عبادت کا حکم ہی نہیں دیا، بلکہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
- قطع رحمی کرنے والے کی عبادت قبول نہیں۔
- ناشکری عورت کی عبادت قبول نہیں۔
- سود خور کی عبادت قبول نہیں۔
ہمیں اپنی عبادتوں کو ان گناہوں کی آلودگی سے پاک رکھنا چاہیے۔ حقیقی عبادت وہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرے اور اس کی زندگی میں اخلاق و کردار کی اصلاح کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان تینوں گناہوں سے بچنے اور اپنی عبادتوں کو قبولیت کے قابل بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اس مضمون میں ہم نے تین لوگوں کا ذکر کیا جن کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ ہم نے قطع رحمی کرنے والے، ناشکری عورت اور سود خور کی عبادت کی عدم قبولیت کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیل سے بات کی۔
امید ہے کہ یہ مضمون پڑھ کر آپ کو ان گناہوں کی سنگینی کا ادراک ہوگا اور آپ اپنی زندگی میں ان سے بچیں گے۔ یاد رکھیں کہ عبادت کی قبولیت کا دارومدار نیت اور اعمال کی درستگی پر ہے۔