اسلام ایک توحید پر مبنی دین ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی قسم کی شرکت کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ بدعت (ایسی نئی رسم جو دین میں شامل نہ ہو) اور شرک (اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا) جیسے اعمال دین کی روح کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان میں سے ایک بدعت، جو معاشرے میں رائج ہو چکی ہے، قبروں پر دھاگے باندھنا ہے۔ ذیل میں اس عمل کی تفصیل، اس کے تاریخی پس منظر، اور اس پر مختلف مسالک اور مذاہب کے نقطۂ نظر کو بیان کیا گیا ہے۔
قبروں پر دھاگے باندھنا ایک ایسا عمل ہے جس میں لوگ مختلف رنگوں کے دھاگے، کپڑے یا چوڑیاں بزرگوں کے مزارات یا قبروں پر باندھ دیتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان سے برکت حاصل ہو، ان کی حاجات پوری ہوں یا مشکلات دور ہوں۔ اس عمل میں قبروں یا اولیاء اللہ کے مزارات پر ان کے وسیلے سے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔
تاریخی پس منظر
قبروں پر دھاگے باندھنے کی روایت تاریخی طور پر مختلف ثقافتوں اور مذاہب میں موجود رہی ہے۔ یونان، روم، اور برصغیر کی روایات میں بھی مقدس مقامات پر نذریں چڑھانا اور خاص علامتیں باندھنا دیکھا گیا ہے۔ اسلامی دنیا میں یہ عمل زیادہ تر صوفیاء کرام اور بعض اولیاء کے مزارات کے ساتھ منسلک ہوا۔ اس کا آغاز برصغیر پاک و ہند میں خاص طور پر مغل دور میں نظر آتا ہے، جہاں مختلف مذہبی عقائد اور رسوم ایک دوسرے سے متاثر ہوئے۔
برصغیر میں اس روایت کو فروغ دینے میں ہندو مذہب کے اثرات نے اہم کردار ادا کیا۔ ہندوؤں میں درختوں، پانی کے ذرائع اور مخصوص مقامات پر دھاگے باندھنے کا رواج پایا جاتا ہے۔ جب مسلمانوں نے ان علاقوں میں قدم جمائے تو ان روایات نے مسلم ثقافت میں بھی جگہ پا لی، اور آج کل بعض مسلمان بھی قبروں پر دھاگے باندھ کر برکت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں توحید
اسلامی تعلیمات میں توحید یعنی اللہ کی وحدانیت بنیادی اصول ہے۔ اس پر قرآن میں واضح ارشادات ہیں: "بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش دے، اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا، تو اس نے بہت بڑا گناہ کیا۔" (سورہ النساء: 48)
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: "اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔" (سورہ الجن: 18)
مزارات پر دھاگے باندھ کر برکت طلب کرنا، اس بات کا اظہار ہے کہ ان مزارات میں خدا کے علاوہ بھی کوئی طاقت موجود ہے جو ہماری دعاؤں کو قبول کر سکتی ہے۔ یہ عمل توحید میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے اور شرک کی ایک شکل سمجھا جاتا ہے۔
خبردار! قبروں پر دھاگے باندھنا، ان سے برکت طلب کرنا، اور ان کو وسیلہ بنانا شرک ہے۔ اللہ کے سوا کسی سے مدد مانگنا جائز نہیں ہے۔
دیگر مذاہب میں روایات
عیسائیت: مسیحیت میں بھی کچھ لوگ مقدس مقامات پر مختلف اشیاء باندھ کر برکت حاصل کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بعض چرچوں میں شمع جلانا یا کسی مقدس مقام پر کچھ باندھنا ایک عام بات ہے۔
یہودیت: یہودیوں میں "ویشنگ وال" (دیوار گریہ) پر کاغذ پر دعائیں لکھ کر رکھنے کا رواج ہے۔
ہندوازم: ہندو مذہب میں مخصوص درختوں یا مقامات پر دھاگے باندھ کر منتیں مانگنے کا رواج پایا جاتا ہے۔
بدھ مت اور جین مت: ان مذاہب میں بھی مختلف اشیاء یا دھاگے باندھ کر عبادت گاہوں پر منتیں مانگی جاتی ہیں۔
اسلامی نقطہ نظر
اسلام میں قبروں اور مزارات پر کسی قسم کی شرکیہ یا بدعتی رسومات کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس بارے میں سخت تنبیہ فرمائی ہے: "تم سے پہلی قومیں قبروں کو عبادت گاہ بنا کر ہلاک ہوئیں، لہٰذا قبروں کو سجدہ گاہ نہ بناؤ، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔" (صحیح مسلم)
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "اللہ کی لعنت ہو ان یہودیوں اور عیسائیوں پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اسلام میں قبروں کی زیارت جائز ہے، لیکن اس کا مقصد عبرت حاصل کرنا اور آخرت کو یاد رکھنا ہے، نہ کہ کسی بزرگ سے برکت حاصل کرنا یا اسے وسیلہ بنانا۔
مسالک کا موقف
احمدیہ: اس جماعت میں عموماً قبروں پر دھاگے باندھنے کا تصور نہیں پایا جاتا۔
دیوبندی: دیوبندی علما کے نزدیک یہ عمل سراسر بدعت ہے اور اس کی مذمت کی جاتی ہے۔
بریلوی: بریلوی مسلک میں بعض افراد اس عمل کو جائز سمجھتے ہیں، خصوصاً اگر اس سے کسی بزرگ کی نسبت ہو۔ تاہم علماء کا موقف ہے کہ توحید کے خلاف کوئی عمل نہیں ہونا چاہیے۔
اہل تشیع: اہل تشیع میں بھی کچھ لوگ مزارات پر اس عمل کو جائز سمجھتے ہیں، جبکہ بعض علما اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
اہل حدیث: اہل حدیث علما اس عمل کو شدید بدعت اور شرک قرار دیتے ہیں اور اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔
ندوی اور جماعت اسلامی: دونوں کے نزدیک یہ عمل بدعت ہے اور اسلامی توحید کے خلاف ہے۔
ائمہ کرام کی آراء
ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل) سمیت اکثر علماء نے قبروں پر کسی قسم کے شرکیہ عمل کی مخالفت کی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ: ان کے نزدیک قبروں پر کسی بھی غیر ضروری عمل کو سختی سے ترک کرنا چاہیے، اور توحید کو نقصان پہنچانے والی ہر چیز ممنوعہ ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ: ان کے نزدیک قبروں پر کوئی بھی ایسا عمل جو شرک کی طرف لے جائے، حرام ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ: انہوں نے بھی قبروں پر کسی بھی قسم کی بدعت کی مخالفت کی ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ: ان کا موقف بھی یہ ہے کہ قبروں پر شرکیہ رسومات سے بچنا چاہیے۔
احتیاطی تدابیر
1. تعلیمات اسلام: قرآن و سنت کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا سب سے اہم ہے۔
2. شرک سے اجتناب: شرک سے بچنے کے لیے توحید کا درس سمجھنا اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دینا ضروری ہے۔
3. علماء کی رہنمائی: علماء کرام سے راہنمائی حاصل کریں اور ان کے بیانات کو سنیں جو اس عمل کی مذمت کرتے ہیں۔
4. اللہ سے براہ راست تعلق: ہر دعا اور مشکل کا حل اللہ کی ذات میں ہے۔ "ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔" (سورہ الفاتحہ)
خلاصہ
قبروں پر دھاگے باندھنے جیسی بدعات اسلام کی روح کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان خرافات سے بچ کر دین کی اصل تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اللہ کی توحید اور اس کی عبادت خالص رہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کو قرآن و سنت کے مطابق رکھیں اور کسی بھی ایسے عمل سے بچیں جو شرک یا بدعت کی طرف لے جائے۔ اللہ سے براہ راست دعا کریں اور کسی کو اس کا وسیلہ نہ بنائیں۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔