غفلت میں چھپے 50 گناہ 10 - بلاعذر بھیک مانگنا

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں دسواں گناہ بلاعذر بھیک مانگنا ہے۔ اس سے پہلے چھے آرٹیکل جو میں تفصیل سے شیئر کر چکا ہوں، ان میں سے حقارت سے کسی پر ہنسنا، دھوکا دینا، چغلی کرنا، بدگمانی کرنا، طعنہ دینا، کسی کے عیب تلاش کرنا، تہمت لگانا، تکبر کرنا، بھوکوں اور ننگوں کی حیثیت کے مطابق مدد نہ کرنا شامل ہیں۔

اسلام میں انسانی وقار، محنت اور خودداری کی بہت قدر کی گئی ہے۔ اس لیے بلاعذر بھیک مانگنے کو اسلام نے نہایت ناپسند کیا ہے۔ معاشرے میں ایسے افراد کو جو محنت کر سکتے ہیں، ان پر بھیک مانگنے کی سخت ممانعت ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ان کے وقار کو مجروح کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ایک منفی رویہ کو فروغ دیتا ہے۔

بلاعذر بھیک مانگنا اس عمل کو کہا جاتا ہے جب کوئی شخص بغیر کسی جائز ضرورت کے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور اپنی ضروریات یا خواہشات پوری کرنے کے لیے سوال کرے۔ اسلام میں، ضرورت مندوں کی مدد کرنے پر زور دیا گیا ہے، لیکن یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ جو شخص جسمانی اور ذہنی طور پر کام کرنے کے قابل ہے، اسے محنت کر کے اپنی روزی کمانی چاہیے نہ کہ دوسروں پر بوجھ بننا۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خودداری اور محنت کی اہمیت پر زور دیا ہے: "اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔" یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ انسان کو محنت کرنی چاہیے اور اسے اپنی کوششوں کے مطابق ہی اجر ملے گا۔

اسلام میں بھیک مانگنے والوں پر سخت وعید

اسلام میں بھیک مانگنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔ جو لوگ بلا ضرورت بھیک مانگتے ہیں، ان کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر کوئی گوشت باقی نہیں پائیں گے۔ بھیک مانگنے کو صرف اس صورت میں جائز قرار دیا گیا ہے جب کوئی شخص انتہائی ضرورت مند ہو اور اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ ہو۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص لوگوں سے ان کا مال سوال کرے بغیر کسی ضرورت کے، تو وہ جہنم کی آگ مانگتا ہے، چاہے تھوڑا مانگے یا زیادہ۔" یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ بلاعذر بھیک مانگنا کس قدر مکروہ عمل ہے اور اس کا انجام دنیا و آخرت میں برا ہے۔

بھیک مانگنا ایک مکروہ عمل

اسلام میں بھیک مانگنا ناپسندیدہ اور مکروہ عمل ہے، کیونکہ یہ انسان کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے اور معاشرتی اقدار کو کمزور کرتا ہے۔ جو لوگ جسمانی طور پر کام کرنے کے قابل ہیں، ان کے لیے بھیک مانگنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی محنت سے روزی کمائیں اور خودداری کے ساتھ زندگی بسر کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔" یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ دینے والا شخص، لینے والے سے زیادہ بہتر ہے اور انسان کو ہمیشہ خودداری کے ساتھ اپنی روزی کمانی چاہیے۔

موجودہ دور میں بھیک مانگنا ایک فیشن

آج کے دور میں بھیک مانگنا بعض افراد کے لیے ایک فیشن بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی محنت کے بجائے آسان راستہ اپنانے کو ترجیح دیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ان کے لیے ایک عادت بن چکی ہے۔ یہ لوگ اپنی حقیقی ضرورتوں کے بجائے دنیاوی خواہشات کے لیے بھیک مانگتے ہیں۔ ان کے لیے بھیک مانگنا ایک پیشہ بن چکا ہے اور معاشرتی نظام میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔

بلاعذر بھیک مانگنا: حقداروں کا حق کھانا

جو لوگ بلاعذر بھیک مانگتے ہیں، وہ دراصل ان افراد کا حق کھا رہے ہیں جو واقعی ضرورت مند ہیں اور اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگ معاشرے کے اصل حقداروں کو ان کے حق سے محروم کر رہے ہیں، کیونکہ جب غیر ضروری افراد مدد مانگتے ہیں، تو حقیقی ضرورت مندوں تک وہ مدد نہیں پہنچ پاتی۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ضرورت نہ ہونے کے باوجود سوال کرے، قیامت کے دن اس کا چہرہ خراشوں سے بھرا ہوا ہوگا۔" یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ بلا ضرورت سوال کرنے والا شخص قیامت کے دن رسوا ہوگا اور اس کا عمل دنیا و آخرت میں نقصان کا باعث بنے گا۔

عدل و انصاف کا فقدان

بلاعذر بھیک مانگنے کا ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ یہ عمل معاشرے میں عدل و انصاف کے فقدان کا سبب بنتا ہے۔ جب لوگ اپنی محنت کے بجائے بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں، تو معاشرتی انصاف کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ محنت کرنے والے افراد کو ان کی محنت کا صلہ نہیں ملتا، جبکہ بے محنت لوگ بھیک کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اس سے معاشرتی توازن خراب ہوتا ہے اور انصاف کا نظام متاثر ہوتا ہے۔

مہنگائی کے عوض زنا کی کثرت

موجودہ دور میں مہنگائی کی وجہ سے بہت سے افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے بہت سی اخلاقی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ ان میں سے ایک برائی زنا کی کثرت ہے۔ جب لوگ اپنی ضروریات پوری نہیں کر پاتے، تو وہ غلط راستوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اپنی اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہیں۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بیشک یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے۔" یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زنا ایک سنگین گناہ ہے اور اسے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

موجودہ حاکموں وقت کی عیاشیاں اور بلاعذر بھیک مانگنا

موجودہ دور میں اکثر حکمران اپنی عیاشیوں میں مشغول ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ نہیں دیتے۔ عوام غربت اور مہنگائی سے پریشان ہے جبکہ حکمران اپنی عیش و عشرت میں مگن ہیں۔ یہ رویہ عوام کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بھیک مانگنے کی طرف مائل ہو جائیں کیونکہ ان کے پاس روزگار کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔

اس گناہ کو معمولی سمجھنا

بہت سے لوگ بلاعذر بھیک مانگنے کو ایک معمولی گناہ سمجھتے ہیں اور اس کی سنگینی کا احساس نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک عام سی بات ہے اور اس کا کوئی خاص نقصان نہیں ہے۔ لیکن اسلام میں اسے ایک سنگین گناہ قرار دیا گیا ہے اور اس کا انجام دنیا و آخرت دونوں میں برا ہے۔

ہم کیسے اقدامات کرنے چاہئیں؟

بلاعذر بھیک مانگنے سے بچنے کے لیے ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:

محنت کریں: ہر شخص کو اپنی روزی کمانے کے لیے محنت کرنی چاہیے اور دوسروں پر بوجھ نہیں بننا چاہیے۔

ضرورت مندوں کی مدد کریں: حقیقی ضرورت مند افراد کی مدد کریں تاکہ وہ بھیک مانگنے پر مجبور نہ ہوں۔

تعلیم اور ہنر سکھائیں: معاشرے کے غریب افراد کو تعلیم اور ہنر فراہم کریں تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔

حکومتی اصلاحات: حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کریں اور روزگار کے مواقع فراہم کریں تاکہ بھیک مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔

بلاعذر بھیک مانگنا ایک سنگین گناہ ہے جو نہ صرف انسان کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے بلکہ معاشرتی نظام کو بھی بگاڑ دیتا ہے۔ اسلام میں محنت کی عظمت اور بھیک مانگنے کی مذمت کی گئی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی محنت سے روزی کمائیں، حقیقی ضرورت مند کی مدد اپنی جائز اور حلال کمائی سے کریں تاکہ گناہ کی بجائے اللہ رب العزت کے ہاں اس کا اجر پائیں۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔