غفلت میں چھپے 50 گناہ 8- تکبر کرنا

تکبر کرنا ایک سنگین گناہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں تکبر کی حقیقت، اس کے معاشرتی اثرات اور بچاؤ کے طریقے جانیں۔

8 منٹ پڑھیں 0 مشاہدات 9 اگست 2026 تعلیمات اسلامی

تعارف

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں آٹھواں گناہ تکبر کرنا ہے۔ اس سے پہلے چھے آرٹیکل جو میں تفصیل سے شیئر کر چکا ہوں، ان میں سے حقارت سے کسی پر ہنسنا، دھوکا دینا، چغلی کرنا، بدگمانی کرنا، طعنہ دینا، کسی کے عیب تلاش کرنا، تہمت لگانا شامل ہیں۔

تکبر ایک ایسا گناہ ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے بہتر، اعلیٰ اور فوقیت والا سمجھتا ہے۔ یہ اس رویے کی علامت ہے جہاں کوئی شخص اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو حقیر گردانتا ہے۔ تکبر کا اظہار انسان کے الفاظ، عمل اور سوچ میں ہوتا ہے۔

قرآن اور حدیث میں بارہا تکبر کی مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ انسان کو اللہ کی بندگی اور تواضع سے دور لے جاتا ہے۔ تکبر کی بنیادی شکلیہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا مالک سمجھتا ہے اور ان نعمتوں کے ذریعے دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو تواضع، انکساری اور فروتنی کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ دین ہمیں سکھاتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور کسی کو کسی پر برتری حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ کے۔ تکبر اس اصول کے سراسر خلاف ہے۔

تکبر کا مفہوم

تکبر ایک ایسی صفت ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے بہتر اور اعلیٰ سمجھتا ہے۔ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے جو انسان کے رویے، گفتار اور کردار میں ظاہر ہوتی ہے۔ تکبر کرنے والا شخص دوسروں کو حقیر جانتا ہے اور ان کی عزت و وقار کو پامال کرتا ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔"

(سورۃ الاسراء، آیت 37)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ زمین پر اکڑ کر چلنا اور تکبر کرنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ انسان کو اپنی حقیقت کو پہچاننا چاہیے اور اللہ کے سامنے جھکنا چاہیے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔" (صحیح مسلم)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ تکبر کتنا سنگین گناہ ہے اور جنت میں داخلے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ تکبر انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔

زمانہ جاہلیت میں تکبر کرنے والوں کا حال

زمانہ جاہلیت میں تکبر ایک عام رواج تھا۔ لوگ اپنی دولت، طاقت، قبیلے یا رتبے کی بنیاد پر دوسروں کو کم تر سمجھتے تھے۔ عرب قبائل کے درمیان یہ معمول تھا کہ وہ اپنے قبیلے کو دوسروں سے بہتر سمجھتے اور دشمنوں کو حقیر گردانتے۔

یہ رویہ نہ صرف دشمنیاں اور نفرت کو فروغ دیتا تھا بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتا تھا۔ اسلام نے اس جاہلیت کے تکبر کو سختی سے رد کیا اور تواضع اور فروتنی کی تعلیم دی۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔" یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ تکبر کتنا سنگین گناہ ہے اور جنت میں داخلے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

فرعون اور شداد کا تکبر کرنا

قرآن میں فرعون اور شداد جیسے لوگوں کے تکبر کی مثالیں دی گئی ہیں، جو اللہ کی عطا کردہ طاقت اور وسائل کو اپنے غرور کا سبب بناتے تھے۔ فرعون نے اپنے آپ کو خدا قرار دیا اور بنی اسرائیل پر ظلم وستم کیا۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے تکبر کا ذکر کیا:

"اس نے کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔"

(سورۃ النازعات، آیت 24)

شداد، جو عاد قوم کا سردار تھا، نے جنت کی طرح ایک باغ بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ لوگوں کو اپنی طاقت دکھا سکے۔ اس کا تکبر بھی اللہ کے غضب کا سبب بنا اور اس کا انجام عبرت ناک ہوا۔

یہ مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ تکبر کا انجام ہمیشہ تباہی اور بربادی ہوتا ہے۔ جو لوگ اللہ کے سامنے تکبر کرتے ہیں، ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔

تکبر اللہ رب العزت کی چادر ہے

تکبر ایک ایسی صفت ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کو زیبا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت، حکمت اور عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تکبر صرف اس کا حق ہے اور کوئی مخلوق اس میں شریک نہیں ہو سکتی۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "تکبر میری چادر ہے اور عظمت میری ازار، جو بھی ان میں میرے ساتھ مقابلہ کرے گا، میں اسے عذاب دوں گا۔" (صحیح مسلم)

اس حدیث سے واضح ہے کہ تکبر صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے اور کوئی انسان اس صفت کو اپنا نہیں سکتا۔ جو شخص تکبر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہوتا ہے۔

انسان کو اپنی حقیقت کو پہچاننا چاہیے کہ وہ مٹی سے پیدا ہوا ہے اور مٹی ہی میں مل جانا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنا انسان کو تکبر سے بچاتا ہے۔

تکبر معاشرے کا ایک بدترین گناہ ہے

تکبر معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے کیونکہ یہ انسانوں کے درمیان تفریق پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی شخص دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے تو وہ ان کے حقوق کو پامال کرتا ہے اور ان کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"بیشک اللہ کسی متکبر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔"

(سورۃ النساء، آیت 36)

تکبر کی وجہ سے معاشرے میں نفرت، حسد اور دشمنی پھیلتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں اور بھائی چارے کی جگہ تفریق اور امتیاز لے لیتا ہے۔

ایک صحت مند معاشرہ وہ ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتے ہیں۔ تکبر اس سب کے خلاف ہے۔

تکبر سے کیسے بچا جائے؟

تکبر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دل میں تواضع اور انکساری پیدا کریں۔ اس کے لیے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

📌 اللہ کی قدرت کو سمجھیں

اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کو سمجھیں اور اپنی حقیقت کو پہچانیں کہ ہم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ شعور انسان کو تکبر سے بچاتا ہے۔

📌 خود احتسابی کریں

اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہیں آپ تکبر تو نہیں کر رہے۔ خود احتسابی انسان کو اپنی غلطیوں کو پہچاننے اور ان کو درست کرنے میں مدد دیتی ہے۔

📌 سنت نبوی ﷺ پر عمل کریں

نبی اکرم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں کبھی تکبر نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ تواضع اور انکساری کا مظاہرہ کیا۔

📌 دعا کریں

اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں تکبر سے محفوظ رکھے اور ہمارے دلوں میں تواضع اور انکساری پیدا فرمائے۔

📌 دوسروں کی عزت کریں

دوسروں کی عزت اور حقوق کا خیال رکھیں۔ جب ہم دوسروں کی عزت کرتے ہیں تو ہمارے دل میں تکبر پیدا نہیں ہوتا۔

📌 اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھیں

اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھیں اور ان کی حالت پر غور کریں۔ یہ عمل انسان کو شکر گزار بناتا ہے اور تکبر سے بچاتا ہے۔

اختتامیہ

تکبر ایک سنگین گناہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے اور معاشرتی تعلقات کو بگاڑتا ہے۔ ہمیں تکبر سے بچنے کے لیے تواضع اور انکساری کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔

موجودہ دور میں تکبر کو معمولی سمجھنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے اور ہماری آخرت کو خراب کر سکتا ہے۔ تکبر سے بچنے کے لیے ہمیں اللہ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔

ہمیں اپنے دلوں کو تواضع اور انکساری سے بھرنا چاہیے، دوسروں کی عزت کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔ اگر ہم یہ اصول اپنا لیں تو معاشرہ پرامن اور خوشحال ہو سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر کے گناہ سے محفوظ رکھے اور ہمیں تواضع اور انکساری والا بنائے۔ ہمیں دوسروں کی عزت کرنے، ان کی مدد کرنے اور معاشرے میں محبت و بھائی چارے کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

مزید اسلامی تعلیمات، مضامین اور معلومات کے لیے بلاگ لوورز وزٹ کریں۔

اس تحریر پر اپنا ردعمل دیں
Uzair Hameed
Uzair Hameed مصنف
محقق، مصنف اور بلاگنگ کے شوقین۔ اسلامی تعلیمات، تاریخ اور معاشرتی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ مقصد قارئین کو بہترین اور مستند معلومات فراہم کرنا ہے۔