غفلت میں چھپے 50 گناہ: 34 - نوحہ اور بین کرنا

نوحہ اور بین کرنا

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں چونتیسواں گناہ نوحہ اور بین کرنا ہے۔ اگر آپ مزید آرٹیکل پڑھنا چاہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

نوحہ اور بین کرنے سے مراد مرنے والے کے غم میں اونچی آواز میں چیخنا، رونا اور بین ڈالنا ہے۔ یہ عمل خاص طور پر اس وقت انجام دیا جاتا ہے جب کسی عزیز کا انتقال ہو جاتا ہے۔ نوحہ میں مرنے والے کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے، مبالغہ آمیز انداز میں افسوس ظاہر کیا جاتا ہے اور اس میں زیادہ تر چیخنا، سینہ کو پیٹنا اور چہرے کو نوچنا شامل ہوتا ہے۔

اسلام میں اس عمل کو سخت ناپسند کیا گیا ہے کیونکہ یہ غم کا ایک بے جا اظہار ہے اور تقدیر کے خلاف احتجاج کی مانند ہے۔

نوحہ اور بین کرنے والی عورتیں وہ ہوتی ہیں جو مرنے والے کے غم میں شریک ہوتی ہیں اور اس کے جنازے یا تعزیت کے موقع پر اونچی آواز میں چیخنا، رونا اور سینہ کو پیٹتی ہیں۔ یہ عورتیں اکثر ایسے روایتی معاشروں میں پائی جاتی ہیں جہاں مرنے والوں کے غم کا اظہار انہی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ نوحہ کرنے والی عورتیں اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھتیں اور اپنی آواز اور حرکات سے دوسروں کو بھی رنج و غم میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

نوحہ اور بین کرنے کی کئی اقسام ہیں:

چیخنا اور بین ڈالنا: اونچی آواز میں رونا، چیخنا اور مرنے والے کی تعریف کرتے ہوئے غم کا اظہار کرنا۔

سینہ کو پیٹنا اور چہرہ نوچنا: جذبات کے قابو سے باہر ہو کر سینے پر ہاتھ مارنا، چہرے کو نوچنا، اور خود کو نقصان پہنچانا۔

مرنے والے کے کارناموں کا مبالغہ آمیز ذکر: مرنے والے کی صفات اور کارناموں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور اس کے نقصان کو ایسا پیش کرنا جیسے دنیا ختم ہو گئی ہو۔

اسلام کی آمد سے پہلے عرب میں نوحہ اور بین کرنے کا رواج عام تھا۔ لوگ مرنے والے کے غم میں حد سے زیادہ افسوس کا اظہار کرتے تھے، جس میں چیخنا، چلانا، اور جسم کو نقصان پہنچانا شامل ہوتا تھا۔ یہ عمل معاشرتی طور پر قبول شدہ تھا اور لوگ اسے معمولی بات سمجھتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کی سختی سے ممانعت کی اور فرمایا: "وہ شخص ہم میں سے نہیں جو نوحہ کرتا ہے یا اس کے لیے بین کرایا جاتا ہے۔"

آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت میں جاہلیت کے کاموں میں سے چار باتیں موجود ہیں وہ ان کو ترک نہیں کریں گے۔ پہلا احساب قومیت پر فخر کرنا (یعنی باپ دادا کے کارناموں) دوسرا دوسروں کے نسب پر طعن کرنا، تیسرا ستاروں کے ذریعے سے بارش مانگنا اور چوتھا نوحہ کرنا۔" آپ ﷺ نے مزید وضاحت فرمائی: "نوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے بدن پر تارکول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی۔"

انگریزی ادب میں نوحہ اور بین کا تصور خاص طور پر قدیم یونانی اور رومی دور میں ملتا ہے، جہاں مرنے والے کے لیے مخصوص نوحہ خوانیاں کی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ، برطانوی لٹریچر میں بھی مرنے والوں کے لیے غم کا اظہار کرنے والے نوحے لکھے گئے ہیں جنہیں "الیجی" کہا جاتا ہے، لیکن ان میں غم کا اظہار زیادہ تر نظم کی صورت میں ہوتا ہے۔

مختلف مذاہب میں نوحہ اور بین کرنے کا تصور مختلف طریقوں سے موجود ہے:

عیسائی معاشروں میں بھی مرنے والے کے غم میں دعا اور نوحہ خوانی کی جاتی ہے، خاص طور پر قدیم عیسائی رسومات میں۔

یہودیوں میں بھی مرنے والے کے لیے مخصوص نوحہ اور دعا کی جاتی ہے۔

ہندو مذہب میں نوحہ اور غم کا اظہار مرنے والے کے لیے آہ و زاری کی صورت میں کیا جاتا ہے۔

زرتشتی مذہب میں مرنے والے کے غم کا اظہار انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں کیا جاتا ہے۔ زرتشت مذہب کے مطابق مرنے والے کی روح کی حفاظت اور نجات کے لیے مخصوص رسومات ادا کی جاتی ہیں، جن میں نوحہ خوانی بھی شامل ہوتی ہے۔

جنوبی ایشیا کے ممالک جیسے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں نوحہ اور بین کرنے کا رواج زیادہ تر روایتی اور قبائلی معاشروں میں پایا جاتا ہے۔ مرنے والے کے گھر میں بین کرنے والی عورتیں بلائی جاتی ہیں جو مرنے والے کی موت پر مخصوص طریقے سے چیختی چلاتی ہیں اور غم کا اظہار کرتی ہیں۔

اسلام میں نوحہ اور بین کرنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ مرنے والے پر چیخنا، چلانا اور غم کا بے جا اظہار کرنا صبر کے خلاف ہے اور یہ اللہ کی تقدیر پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص بین کرے اور چیخے چلائے، وہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھے گا کہ اس کے جسم پر کالے رنگ کی چادر ہو گی اور وہ لوگوں کے سامنے ذلیل و خوار ہوگا۔"

ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے کچھ یوں وضاحت فرمائی: "لوگوں میں دو باتیں کفر کی علامتوں میں سے ہیں: ایک نسب کے طعنہ دینا اور دوسرا مُردوں پر نوحہ کرنا یعنی چلا کر رونا، کپڑے پھاڑنا، سینہ کو پیٹ کرنا وغیرہ۔"

اسلامی مکاتب فکر میں نوحہ اور بین کرنے کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں:

دیوبند مکتبہ فکر میں نوحہ اور بین کو صریحاً ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس کو اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

بریلوی مکتب فکر میں مرنے والے کے لیے دعا اور صبر کی تلقین کی جاتی ہے، لیکن نوحہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

اہل حدیث مکتبہ فکر بھی نوحہ اور بین کو حرام سمجھتا ہے اور اس کی مخالفت کرتا ہے۔

اہل تشیع میں مرنے والوں کے لیے مخصوص رسومات کے دوران نوحہ خوانی کی جاتی ہے، خاص طور پر محرم کے موقع پر۔ تاہم، اس میں بین کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

ہمارے معاشرے میں نوحہ اور بین کرنے کو معمولی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک روایتی عمل بن چکا ہے۔ لوگوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ غم کا اظہار فطری ہے، لیکن اس میں حد سے تجاوز کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اس گناہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں اور صبر کا مظاہرہ کریں۔ ہمیں اپنے غم کو اللہ کے سامنے ظاہر کرنا چاہیے اور مرنے والے کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" اس گناہ سے بچنے کے لیے ہمیں اپنی آخرت کو یاد رکھنا چاہیے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہیے۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔

جاندار کو آگ میں جلانا، پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا، سود کھانا، ظلم کرنا، رشوت لینا یا دینا، زنا کرنا