تعارف: نوحہ اور بین کرنا - ایک سنگین گناہ
نوحہ اور بین کرنے سے مراد مرنے والے کے غم میں اونچی آواز میں چیخنا، رونا اور بین ڈالنا ہے۔ یہ عمل خاص طور پر اس وقت انجام دیا جاتا ہے جب کسی عزیز کا انتقال ہو جاتا ہے۔ نوحہ میں مرنے والے کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے، مبالغہ آمیز انداز میں افسوس ظاہر کیا جاتا ہے اور اس میں زیادہ تر چیخنا، سینہ کو پیٹنا اور چہرے کو نوچنا شامل ہوتا ہے۔
اسلام میں اس عمل کو سخت ناپسند کیا گیا ہے کیونکہ یہ غم کا ایک بے جا اظہار ہے اور تقدیر کے خلاف احتجاج کی مانند ہے۔ اسلام نے صبر اور رضا بالقضا کی تعلیم دی ہے، اور مرنے والے پر بے تحاشا رونے اور چیخنے کو تقدیرِ الٰہی پر اعتراض کے مترادف قرار دیا ہے۔ غم کا فطری اظہار جائز ہے، لیکن حد سے تجاوز کرنا شرعاً حرام ہے۔
نوحہ اور بین کی تعریف اور اقسام
نوحہ اور بین کرنے والی عورتیں وہ ہوتی ہیں جو مرنے والے کے غم میں شریک ہوتی ہیں اور اس کے جنازے یا تعزیت کے موقع پر اونچی آواز میں چیخنا، رونا اور سینہ کو پیٹتی ہیں۔ یہ عورتیں اکثر ایسے روایتی معاشروں میں پائی جاتی ہیں جہاں مرنے والوں کے غم کا اظہار انہی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ نوحہ کرنے والی عورتیں اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھتیں اور اپنی آواز اور حرکات سے دوسروں کو بھی رنج و غم میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
نوحہ اور بین کرنے کی کئی اقسام ہیں:
- چیخنا اور بین ڈالنا: اونچی آواز میں رونا، چیخنا اور مرنے والے کی تعریف کرتے ہوئے غم کا اظہار کرنا۔
- سینہ کو پیٹنا اور چہرہ نوچنا: جذبات کے قابو سے باہر ہو کر سینے پر ہاتھ مارنا، چہرے کو نوچنا، اور خود کو نقصان پہنچانا۔
- مرنے والے کے کارناموں کا مبالغہ آمیز ذکر: مرنے والے کی صفات اور کارناموں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور اس کے نقصان کو ایسا پیش کرنا جیسے دنیا ختم ہو گئی ہو۔
دورِ جاہلیت میں نوحہ کا رواج
اسلام کی آمد سے پہلے عرب میں نوحہ اور بین کرنے کا رواج عام تھا۔ لوگ مرنے والے کے غم میں حد سے زیادہ افسوس کا اظہار کرتے تھے، جس میں چیخنا، چلانا، اور جسم کو نقصان پہنچانا شامل ہوتا تھا۔ یہ عمل معاشرتی طور پر قبول شدہ تھا اور لوگ اسے معمولی بات سمجھتے تھے۔ جاہلی عرب میں نوحہ کرنے کے لیے مخصوص عورتیں مقرر ہوتی تھیں جو پیسوں کے بدلے میں نوحہ کرتی تھیں۔
جاہلی دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جتنی اونچی آواز میں نوحہ کیا جائے، اتنی ہی زیادہ میت کی عزت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ایک غلط تصور تھا جس نے معاشرے میں غم کے فطری اظہار کو ایک مصنوعی اور مہنگی رسم میں بدل دیا تھا۔ اسلام نے آ کر اس رواج کا خاتمہ کیا اور صبر کی تعلیم دی۔
احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں ممانعت
رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کی سختی سے ممانعت کی اور فرمایا:
آپ ﷺ نے مزید وضاحت فرمائی: "نوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے بدن پر تارکول کا لباس اور خارش کی قمیص ہو گی۔" یہ وعید اس بات کی دلیل ہے کہ نوحہ کرنا کتنا سنگین گناہ ہے اور اس سے بچنا کتنا ضروری ہے۔
مختلف مذاہب میں نوحہ کا تصور
مختلف مذاہب میں نوحہ اور بین کرنے کا تصور مختلف طریقوں سے موجود ہے:
- عیسائی معاشروں میں بھی مرنے والے کے غم میں دعا اور نوحہ خوانی کی جاتی ہے، خاص طور پر قدیم عیسائی رسومات میں۔
- یہودیوں میں بھی مرنے والے کے لیے مخصوص نوحہ اور دعا کی جاتی ہے۔
- ہندو مذہب میں نوحہ اور غم کا اظہار مرنے والے کے لیے آہ و زاری کی صورت میں کیا جاتا ہے۔
- زرتشتی مذہب میں مرنے والے کے غم کا اظہار انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں کیا جاتا ہے۔ زرتشت مذہب کے مطابق مرنے والے کی روح کی حفاظت اور نجات کے لیے مخصوص رسومات ادا کی جاتی ہیں، جن میں نوحہ خوانی بھی شامل ہوتی ہے۔
انگریزی ادب میں نوحہ
انگریزی ادب میں نوحہ اور بین کا تصور خاص طور پر قدیم یونانی اور رومی دور میں ملتا ہے، جہاں مرنے والے کے لیے مخصوص نوحہ خوانیاں کی جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ، برطانوی لٹریچر میں بھی مرنے والوں کے لیے غم کا اظہار کرنے والے نوحے لکھے گئے ہیں جنہیں "الیجی" (Elegy) کہا جاتا ہے، لیکن ان میں غم کا اظہار زیادہ تر نظم کی صورت میں ہوتا ہے۔
ادب میں غم کا اظہار ایک فطری بات ہے، لیکن عملی زندگی میں نوحہ اور بین کرنا مختلف معاملہ ہے۔ ادب میں غم کی ترجمانی دل کو سکون دیتی ہے، جبکہ نوحہ میں جذبات کا بے جا اظہار دل کو مزید بے چین کرتا ہے اور دوسروں کو بھی تکلیف دیتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں نوحہ کا رواج
جنوبی ایشیا کے ممالک جیسے انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں نوحہ اور بین کرنے کا رواج زیادہ تر روایتی اور قبائلی معاشروں میں پایا جاتا ہے۔ مرنے والے کے گھر میں بین کرنے والی عورتیں بلائی جاتی ہیں جو مرنے والے کی موت پر مخصوص طریقے سے چیختی چلاتی ہیں اور غم کا اظہار کرتی ہیں۔
بعض علاقوں میں یہ پیشہ ور عورتیں ہوتی ہیں جو پیسوں کے عوض نوحہ کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسا رواج ہے جو نہ صرف شرعاً حرام ہے بلکہ معاشرتی طور پر بھی مضر ہے، کیونکہ یہ غم کو مصنوعی انداز میں بڑھاتا ہے اور لوگوں کے صبر کو توڑ دیتا ہے۔
اسلام میں نوحہ کی سخت ممانعت
اسلام میں نوحہ اور بین کرنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ مرنے والے پر چیخنا، چلانا اور غم کا بے جا اظہار کرنا صبر کے خلاف ہے اور یہ اللہ کی تقدیر پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے۔
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
"اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔"
(سورۃ البقرہ: 155)
اسلامی مکاتب فکر کی آراء
اسلامی مکاتب فکر میں نوحہ اور بین کرنے کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں:
- دیوبند مکتبہ فکر میں نوحہ اور بین کو صریحاً ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس کو اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔
- بریلوی مکتب فکر میں مرنے والے کے لیے دعا اور صبر کی تلقین کی جاتی ہے، لیکن نوحہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
- اہل حدیث مکتبہ فکر بھی نوحہ اور بین کو حرام سمجھتا ہے اور اس کی مخالفت کرتا ہے۔
- اہل تشیع میں مرنے والوں کے لیے مخصوص رسومات کے دوران نوحہ خوانی کی جاتی ہے، خاص طور پر محرم کے موقع پر۔ تاہم، اس میں بین کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
معاشرتی رواج اور غفلت
ہمارے معاشرے میں نوحہ اور بین کرنے کو معمولی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک روایتی عمل بن چکا ہے۔ لوگوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ غم کا اظہار فطری ہے، لیکن اس میں حد سے تجاوز کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر بھی لوگ مرنے والوں کی ویڈیوز بنا کر نوحہ کرتے ہیں، جو کہ ایک اور خطرناک رجحان ہے۔ اس سے نہ صرف شرعی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ میت کی بے حرمتی بھی ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں اس غلط رواج کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔
اس گناہ سے بچنے کا طریقہ اور حل
اس گناہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں اور صبر کا مظاہرہ کریں۔ ہمیں اپنے غم کو اللہ کے سامنے ظاہر کرنا چاہیے اور مرنے والے کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
"بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
(سورۃ البقرہ: 153)
اس گناہ سے بچنے کے لیے ہمیں اپنی آخرت کو یاد رکھنا چاہیے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہیے۔ مصیبت کے وقت "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" پڑھنا چاہیے اور اللہ سے صبر کی دعا مانگنی چاہیے۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔