غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں انتیسواں گناہ احسان جتلانا ہے۔ اگر آپ مزید آرٹیکل پڑھنا چاہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔
احسان جتلانے کا مطلب ہے کسی پر کی گئی نیکی یا مدد کو بار بار یاد دلانا اور اس شخص کو احساس دلانا کہ اس پر احسان کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی نیکی اور خلوص کی روح کو خراب کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ جو نیکی کی جائے، اس کا اجر اللہ کے نزدیک ہے اور انسان کو چاہئے کہ اس نیکی کا تذکرہ نہ کرے تاکہ اس کے دل میں تکبر یا غرور نہ پیدا ہو۔
قرآن مجید میں فرمایا گیا: "اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضائع نہ کرو، جیسے وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ قیامت کے دن پر۔" اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نیکی کا ذکر کر کے انسان اس کے اجر کو ضائع کر دیتا ہے۔
انسانی فطرت کی کمزوریاں
انسانی فطرت میں کچھ کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنی نیکیوں کو ظاہر کرنے اور احسان جتلانے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:
تکبر اور غرور: جب انسان اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے تو وہ اپنی نیکیوں کا ذکر کر کے اپنے غرور کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔
شکرگزاری کی کمی: اگر احسان کرنے والا یہ محسوس کرے کہ اسے مکمل طور پر سراہا نہیں گیا، تو وہ اپنے احسان کو بار بار یاد دلانے لگتا ہے۔
معاشرتی مقام کا حصول: بعض اوقات لوگ اپنی نیکیوں کو جتا کر معاشرتی مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی عزت اور شہرت میں اضافہ ہو۔
تاریخی پس منظر
دور جاہلیت میں احسان جتلانا اور احسان فراموشی دونوں ہی عام تھے۔ لوگ اپنی طاقت اور دولت کے ذریعے دوسروں پر احسان کرتے اور پھر ان احسانات کو بار بار یاد دلا کر اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ احسان جتلانے کا مقصد زیادہ تر اپنی حیثیت کو مضبوط کرنا اور دوسروں کو نیچا دکھانا ہوتا تھا۔
اسی طرح، احسان فراموشی بھی ایک بڑا مسئلہ تھا، جہاں لوگ دوسروں کی نیکیوں کو بھول جاتے تھے اور انہیں نظر انداز کرتے تھے۔
جنوبی ایشیائی ممالک میں صورت حال
جنوبی ایشیائی ممالک میں احسان جتلانے کے مختلف طریقے رائج ہیں، جن میں لوگوں کی مدد کرنے کے بعد اس کا بار بار ذکر کرنا، تحفے یا امداد دینے کے بعد اس کا تذکرہ کرنا، اور دوسروں پر اپنی حیثیت جتانے کے لیے احسانات کا بیان دینا شامل ہے۔ بعض اوقات لوگ اپنی نیکیوں کا ذکر عوامی محافل میں کرتے ہیں تاکہ ان کی تعریف ہو اور معاشرتی مقام میں اضافہ ہو۔
مختلف مذاہب میں نقطہ نظر
مذاہب عالم میں احسان جتلانے کا مختلف تصور اور مختلف احکامات ہیں۔ زیادہ تر مذاہب نے اس عمل کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے کیونکہ احسان جتلانے سے انسان کے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں اور اس کا اجر کم ہو جاتا ہے۔ ہر مذہب انسانیت کو نیکی کرنے اور احسان کرنے کی تلقین کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نیکی کا ذکر نہ کیا جائے تاکہ وہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ انجام دی جائے۔
زرتشت مذہب میں احسان کا تصور
زرتشتیت، جو دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے، احسان اور نیکی کے عمل کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ زرتشتیت کے بنیادی اصول تین ہیں: "اچھے خیالات، اچھے الفاظ، اور اچھے اعمال"۔ ان اصولوں کے تحت نیکی اور احسان کا عمل خلوص اور بے لوثی کے ساتھ انجام دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ زرتشت مذہب میں نیکی کے عمل کو جتلانا اور اس کا بار بار ذکر کرنا ایک ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ انسان کے دل میں تکبر اور خودغرضی کو جنم دیتا ہے۔
زرتشت مذہب میں احسان کا مقصد دوسروں کی مدد کرنا اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ احسان جتلانے سے نہ صرف انسان کے نیک اعمال کی روح متاثر ہوتی ہے بلکہ اس سے معاشرتی تعلقات میں بھی دراڑ پیدا ہوتی ہے۔ زرتشتیت تعلیمات کے مطابق، نیکی اور احسان کا اصل اجر اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اسے خاموشی اور خلوص کے ساتھ کیا جائے۔
ہندومت میں نقطہ نظر
ہندومت میں بھی نیکی اور احسان کا تصور بہت اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی احسان جتلانے کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ "کرما" کا تصور ہندومت میں اہم ہے، جہاں انسان کے اچھے اور برے اعمال کا اثر اس کی زندگی اور مستقبل پر ہوتا ہے۔ احسان جتلانا انسان کے کرما کو خراب کرتا ہے اور اس کے نیک اعمال کی روح کو متاثر کرتا ہے۔
عیسائیت میں تعلیمات
عیسائیت میں بھی احسان جتلانے کی ممانعت کی گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں نیکی اور احسان کو خلوص کے ساتھ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بائبل میں کہا گیا ہے کہ جب انسان صدقہ دے یا نیکی کرے، تو اس کا ذکر نہ کرے تاکہ وہ نیکی اللہ کے نزدیک قابل قبول ہو۔
یہودیت میں احکامات
یہودیت میں بھی احسان جتلانے کی ممانعت موجود ہے۔ تورات میں اللہ کے راستے میں نیکی اور احسان کرنے کی تلقین کی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیکی کے عمل کو جتلانا اس کے اجر کو ضائع کر دیتا ہے۔ یہودیت تعلیمات میں نیکی کے خفیہ اور بے لوث ہونے پر زور دیا گیا ہے۔
احسان جتلانے کی اقسام
احسان جتلانے کی کئی اقسام ہو سکتی ہیں:
مالی احسان: کسی کو مالی مدد فراہم کرنے کے بعد اس کا ذکر بار بار کرنا، تاکہ اسے احساس دلایا جا سکے کہ وہ احسان کے مقروض ہیں۔
اخلاقی احسان: کسی کی اخلاقی یا جذباتی مدد کے بعد اس کا بار بار تذکرہ کرنا، تاکہ اسے احساس ہو کہ اس پر اخلاقی احسان کیا گیا ہے۔
علمی احسان: کسی کو علمی یا مشورہ فراہم کرنے کے بعد اس کی اہمیت جتلانا اور اس کا بار بار ذکر کرنا۔
ذاتی تعلقات کا احسان: رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ احسان کر کے اس کا تذکرہ کرنا اور انہیں احساس دلانا کہ وہ اس احسان کے مقروض ہیں۔
اسلامی نقطہ نظر
اسلام نے احسان جتلانے کو سختی سے منع کیا ہے اور اسے ایک ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔ احسان جتلانا انسان کے نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے اور اس کے اخروی اجر کو ختم کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ ایذاء دیتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔"
ایک اور مقام پر اللہ رب العزت نے مزید وضاحت فرمائی: "اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح ضائع مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے"۔ اس آیت مبارکہ میں بڑا واضح پیغام دیا گیا ہے کہ صدقات ضائع ہونے کی تین صورتیں ہیں: احسان جتلانا، کسی شخص کو تکلیف دینا اور تیسرا ریا کاری کرنا۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تین لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا: ایک وہ جو احسان جتاتا ہے، دوسرا وہ جو جھوٹ بول کر مال بیچتا ہے، اور تیسرا وہ جو اپنے کپڑے گھسیٹ کر چلتا ہے۔" اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ احسان جتلانے والا اللہ کی ناراضگی کا مستحق ہے۔
ایک اور مقام پر یوں وضاحت فرمائی: "اپنا ہدیہ (گفٹ/تحفہ) واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے دوبارہ اسے چاٹ جاتا ہے"۔ احسان جتلانے والے کی حالت بھی ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ نیکی کر کے اسے جتلا رہا ہوتا ہے۔
اللہ رب العزت قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں: "بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے"۔
علماء کرام کی رائے
علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احسان جتلانا ایک کبیرہ گناہ ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے احسان جتلانے کو ریا کاری اور تکبر کی ایک شکل قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ عمل نیکی کے اخلاص کو خراب کر دیتا ہے اور انسان کو اللہ کے نزدیک ذلیل کرتا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ احسان جتلانا دل کی سختی اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی نیکیوں کو اللہ کی رضا کے لیے کرے اور ان کا تذکرہ نہ کرے تاکہ اس کا اجر ضائع نہ ہو۔
موجودہ دور میں صورت حال
احسان جتلانا آج کے معاشرے میں ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے کیونکہ لوگ اپنی نیکیوں اور مدد کا ذکر کرنے کو فخر اور اپنی حیثیت کا اظہار سمجھتے ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں لوگ اپنی نیکیوں کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنے اور ان کی تعریف کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض اوقات احسان جتانے کو دوسروں کو شرمندہ کرنے کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔
بچنے کے طریقے
احسان جتلانے سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
نیت کو درست رکھنا: ہر نیکی اور مدد کو اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے اور اس میں کسی بھی قسم کی ذاتی مفاد یا فخر شامل نہ ہو۔
نیکی کو پوشیدہ رکھنا: جب بھی کوئی نیکی یا مدد کی جائے، اسے خفیہ رکھا جائے تاکہ اس کا اجر اللہ کے نزدیک محفوظ رہے۔
احسان کا تذکرہ نہ کرنا: کسی پر احسان کرنے کے بعد اس کا ذکر نہ کیا جائے اور نہ ہی اس شخص کو بار بار یاد دلایا جائے کہ اس پر کوئی احسان کیا گیا ہے۔
تقویٰ اور عاجزی: انسان کو اپنے دل میں تقویٰ اور عاجزی پیدا کرنی چاہئے تاکہ وہ احسان جتانے سے بچ سکے۔
دعا اور استغفار: اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہمیں احسان جتلانے کی عادت سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ نیک اعمال کو اخلاص کے ساتھ انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
خلاصہ
احسان جتلانا ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی نیکیوں اور اخلاص کو خراب کر دیتا ہے اور اسے اللہ کے نزدیک ذلیل کرتا ہے۔ اسلام نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ ہم اپنی نیکیوں کا تذکرہ نہ کریں اور انہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے انجام دیں۔ احسان جتلانے کی مختلف اقسام ہیں اور یہ عمل انسانی دل میں تکبر اور ریا کاری کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے دل میں عاجزی اور اخلاص پیدا کریں تاکہ ہم اس گناہ سے محفوظ رہ سکیں اور اللہ کے نزدیک کامیاب ہوں۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔
جاندار کو آگ میں جلانا، پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا، سود کھانا، ظلم کرنا، رشوت لینا یا دینا، زنا کرنا۔