غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں سولہواں گناہ ظلم کرنا ہے۔ اس سے پہلے تو اتسر سے کئی آرٹیکل جو میں تفصیل سے شئیر کرتا آرہا ہوں اگر آپ انکو پڑھنا چاہیے تو نیچے دیے گئے ویب سائٹ لنک پر کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ ان میں سے، بھوکوں اور ننگوں کی حیثیت کے مطابق مدد نہ کرنا، بلا عذر بھیک مانگنا، کسی جاندار کی تصویر بنانا شامل ہیں۔
اسلام میں ظلم کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ظلم سے مراد کسی کے حقوق کو پامال کرنا، کسی کو ناحق نقصان پہنچانا، یا کسی پر جبر و ظلم کرنا ہے۔ ظلم ایک ایسی برائی ہے جو نہ صرف مظلوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے بلکہ ظالم کے لیے بھی شدید نتائج کا باعث بنتی ہے۔ ظلم کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے محروم قرار دیا ہے اور اس پر عذاب کی وعید سنائی ہے۔
ظلم کا لغوی مطلب کسی چیز کو اس کے مناسب مقام سے ہٹانا ہے۔ یعنی کسی کے ساتھ ناحق سلوک کرنا، کسی کا حق چھیننا یا کسی کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچانا ظلم کہلاتا ہے۔ ظلم کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں جیسے جسمانی، زبانی، معاشی، یا سماجی ظلم۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:
"اور تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے ساتھ اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے، جو ایسی نہریں ہوں گی جن میں پانی بہتا ہے، اور جو لوگ ظلم کرتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے دردناک عذاب کا وعدہ کیا ہے۔
زمانہ جاہلیت سے طاقتور انسان کمزور پر ظلم کرتا آیا ہے
زمانہ جاہلیت میں ظلم عام تھا، اور طاقتور لوگ کمزوروں کو اپنا غلام بناتے، ان کے حقوق پامال کرتے اور ان پر جبر کرتے تھے۔ یہ ظلم صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں تھا، بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی ظلم کا دور دورہ تھا۔ طاقتور لوگ غریبوں اور کمزوروں کو غلام بناتے، ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے اور انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے دور میں اسلام نے ظلم کے خلاف واضح احکامات دیے اور ظالموں کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنے کی تلقین کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مظلوم کی تو مدد سمجھ میں آتی ہے، لیکن ظالم کی مدد کیسے کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے ظلم سے روک کر، کیونکہ یہ اس کے لیے مدد ہے۔" یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم سے روکنا ایک ضروری عمل ہے اور یہ ظالم کے لیے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ یہ اسے عذاب سے بچا سکتا ہے۔
آج کا انسان ظالم کے ظلم سے محفوظ کیوں نہیں ہے؟
آج کے دور میں بھی، جہاں ہم بہت ترقی کر چکے ہیں اور انسانی حقوق کے بارے میں باتیں کرتے ہیں، پھر بھی ظالم کا ظلم جاری ہے۔ طاقتور طبقہ کمزوروں پر اپنی طاقت اور وسائل کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جیسے:
انصاف کا فقدان: جب معاشرے میں انصاف کا نظام کمزور ہوتا ہے اور ظالم کو سزا نہیں دی جاتی تو وہ اپنے ظلم میں اور زیادہ بڑھتا جاتا ہے۔ انصاف کا نظام ظالم کو روکتا ہے، لیکن اگر انصاف نہ ہو تو ظلم بڑھتا ہے۔
معاشرتی ناہمواری: معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھنے سے ظلم کا راستہ کھل جاتا ہے۔ جب دولت اور طاقت چند لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو وہ کمزور طبقے پر اپنا زور ڈالتے ہیں۔
اخلاقی زوال: جب لوگوں کے دلوں سے خوفِ خدا اور اخلاقی اقدار ختم ہو جاتی ہیں تو وہ اپنے مفادات کے لیے دوسروں پر ظلم کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔
قوانین کا ناقص اطلاق: بعض اوقات قوانین موجود ہوتے ہیں، لیکن ان کا صحیح اطلاق نہ ہونے کی وجہ سے ظالم بچ جاتا ہے اور مظلوم انصاف سے محروم رہ جاتا ہے۔
قرب قیامت کی نشانی: طاقتور کمزور کو کھا جائے گا
قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ طاقتور لوگ کمزوروں پر ظلم کریں گے اور انہیں اپنا غلام بنا لیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے اس بارے میں فرمایا: "مسلمان دوسرے مسلمان پر ظلم نہیں کرتا۔" یہ پیشین گوئی آج کے دور میں بہت واضح نظر آتی ہے، جہاں امیر اور طاقتور طبقہ اپنے مفادات کے لیے غریبوں اور کمزوروں کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ آج کے دور میں طاقتور لوگ عدلیہ، حکومت اور معاشرتی اداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں تاکہ اپنے مفادات کو پورا کر سکیں۔
ایک اور مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا: "مظلوم کی بد دعا چنگاریوں کی طرح آسمان پر جاتی ہے"
ایک اور حدیث میں کچھ اور وضاحت فرمائی: "لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے"۔
ظلم کرنے والے کے لیے کیا وعید ہے؟
اللہ تعالیٰ نے ظلم کرنے والے کے لیے بہت سخت وعید رکھی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور ظالموں کو یقیناً ایک دن بدلہ دیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔" ظالموں کے لیے آخرت میں بہت سخت عذاب مقرر کیا گیا ہے اور دنیا میں بھی ان کے لیے تباہی و بربادی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں بدل جائے گا۔" اس حدیث میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ظلم کی وجہ سے قیامت کے دن ظالم کو اندھیروں میں چھوڑ دیا جائے گا، یعنی وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہوگا اور اس کے لیے کوئی بخشش نہیں ہوگی۔
ہم اس کبیرہ گناہ سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟
ظلم سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں قرآن اور سنت کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا اور اپنے دل میں خوفِ خدا پیدا کرنا ہوگا۔ ذیل میں کچھ اقدامات ہیں جن پر عمل کر کے ہم ظلم سے بچ سکتے ہیں:
اللہ کا خوف دل میں رکھنا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کے لیے دل میں اس کا خوف ہونا بہت ضروری ہے۔ جب ہمیں یہ یقین ہو کہ اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور وہ ہر چیز کا حساب لے گا، تو ہم ظلم سے بچ سکتے ہیں۔
انصاف کا قیام: ہمیں ہر حال میں انصاف کا ساتھ دینا چاہیے، چاہے وہ کسی کے حق میں ہو یا خلاف۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: "اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو، چاہے وہ تمہارے اپنے نفس کے خلاف ہو، یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف۔"
کمزوروں کی مدد کرنا: ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کمزور اور مظلوم افراد کی مدد کریں اور ان پر ظلم نہ ہونے دیں۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور انصاف کا قیام ہمارے لیے ضروری ہے۔
صبر اور برداشت کا رویہ اپنانا: بعض اوقات لوگ ظلم کرتے ہیں اور ہمیں صبر سے کام لینا ہوتا ہے۔ صبر اور برداشت سے نہ صرف ہم خود ظلم سے بچ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ظلم سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
مسلمانوں کو آپس میں بھائی سمجھنا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔" یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آنا چاہیے اور ان پر ظلم کرنے سے بچنا چاہیے۔
تعلیم و تربیت: ظلم کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لیے ہمیں تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنے معاشرتی رویے کو بہتر بنا سکتے ہیں اور ظلم جیسی برائیوں سے دور رہ سکتے ہیں۔
ظلم ایک کبیرہ گناہ ہے جس کی اسلام میں سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ ظلم کسی بھی شکل میں ہو، وہ اللہ کی نافرمانی اور انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ ظالم کو دنیا میں بھی نقصان پہنچتا ہے اور آخرت میں بھی سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ظلم سے بچنے کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں، انصاف کو فروغ دیں، اور مظلوموں کی مدد کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم کرنے اور ظلم برداشت کرنے سے محفوظ رکھے۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔