⚡

غفلت میں چھپے 50 گناہ 16 - ظلم کرنا

اسلام میں ظلم کی ممانعت، اس کی اقسام، سزائیں اور اس سے بچنے کے طریقے۔ جانیے کیوں ظلم ایک کبیرہ گناہ ہے اور کیسے اپنے معاشرے کو اس سے بچایا جا سکتا ہے۔

15 اگست 2026 9 منٹ پڑھیں 0 مشاہدات

الحمدللہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ ﷺ۔ غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں سولہواں گناہ ظلم کرنا ہے۔ اس سے پہلے تواتر سے کئی آرٹیکل جو میں تفصیل سے شیئر کرتا آرہا ہوں اگر آپ انکو پڑھنا چاہیے تو نیچے دیے گئے ویب سائٹ لنک پر کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ ان میں سے، بھوکوں اور ننگوں کی حیثیت کے مطابق مدد نہ کرنا، بلا عذر بھیک مانگنا، کسی جاندار کی تصویر بنانا شامل ہیں۔

خبردار! اسلام میں ظلم کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ظلم سے مراد کسی کے حقوق کو پامال کرنا، کسی کو ناحق نقصان پہنچانا، یا کسی پر جبر و ظلم کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: "اور تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے ساتھ اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے، جو ایسی نہریں ہوں گی جن میں پانی بہتا ہے، اور جو لوگ ظلم کرتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔" (سورۃ الفتح: 29)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے دردناک عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ ظلم ایک ایسی برائی ہے جو نہ صرف مظلوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے بلکہ ظالم کے لیے بھی شدید نتائج کا باعث بنتی ہے۔

ظلم کا لغوی مطلب کسی چیز کو اس کے مناسب مقام سے ہٹانا ہے۔ یعنی کسی کے ساتھ ناحق سلوک کرنا، کسی کا حق چھیننا یا کسی کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچانا ظلم کہلاتا ہے۔ ظلم کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں جیسے جسمانی، زبانی، معاشی، یا سماجی ظلم۔

پس منظر – دیگر مذاہب عالم میں

ظلم کا تصور صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں پایا جاتا ہے۔ ہر مذہب نے ظلم کو برا عمل قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی ہے۔

ہندومت

ہندو مذہب میں ظلم کو برا عمل سمجھا جاتا ہے۔ ویدوں میں کہا گیا ہے کہ جو شخص دوسروں پر ظلم کرتا ہے وہ اپنی روح کو نقصان پہنچاتا ہے اور اسے برے انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عیسائیت

بائبل میں ظلم کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ عیسائی تعلیمات کے مطابق ظلم کرنے والا شخص اللہ کی ناراضی کا مستحق ہے اور اسے توبہ کرنی چاہیے۔

یہودیت

تورات میں ظلم سے منع کیا گیا ہے۔ یہودی تعلیمات کے مطابق ظلم کرنے والا شخص توبہ کرے اور جس پر ظلم کیا اس سے معافی مانگے۔

زرتشت

زرتشت مذہب میں ظلم کو برا عمل قرار دیا گیا ہے۔ زرتشت کے مطابق انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ انصاف کا ساتھ دے اور کسی پر ظلم نہ کرے۔

سکھ ازم

سکھ مذہب میں ظلم کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ سکھ گرووں نے ہمیشہ لوگوں کو انصاف اور مساوات کی تعلیم دی ہے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

بدھ مت

بدھ مت میں ظلم کو برا عمل قرار دیا گیا ہے۔ بدھ کی تعلیمات کے مطابق انسان کو چاہیے کہ وہ ہر مخلوق کے ساتھ رحم و شفقت کا معاملہ کرے اور کسی پر ظلم نہ کرے۔

زمانہ جاہلیت میں ظلم

زمانہ جاہلیت میں ظلم عام تھا، اور طاقتور لوگ کمزوروں کو اپنا غلام بناتے، ان کے حقوق پامال کرتے اور ان پر جبر کرتے تھے۔ یہ ظلم صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں تھا، بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی ظلم کا دور دورہ تھا۔ طاقتور لوگ غریبوں اور کمزوروں کو غلام بناتے، ان کی زمینوں پر قبضہ کرتے اور انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم کرتے تھے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرو۔" صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مظلوم کی تو مدد سمجھ میں آتی ہے، لیکن ظالم کی مدد کیسے کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے ظلم سے روک کر، کیونکہ یہ اس کے لیے مدد ہے۔" (صحیح بخاری)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم سے روکنا ایک ضروری عمل ہے اور یہ ظالم کے لیے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ یہ اسے عذاب سے بچا سکتا ہے۔

آج کے دور میں ظلم

آج کے دور میں بھی، جہاں ہم بہت ترقی کر چکے ہیں اور انسانی حقوق کے بارے میں باتیں کرتے ہیں، پھر بھی ظالم کا ظلم جاری ہے۔ طاقتور طبقہ کمزوروں پر اپنی طاقت اور وسائل کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جیسے:

انصاف کا فقدان: جب معاشرے میں انصاف کا نظام کمزور ہوتا ہے اور ظالم کو سزا نہیں دی جاتی تو وہ اپنے ظلم میں اور زیادہ بڑھتا جاتا ہے۔ انصاف کا نظام ظالم کو روکتا ہے، لیکن اگر انصاف نہ ہو تو ظلم بڑھتا ہے۔
معاشرتی ناہمواری: معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھنے سے ظلم کا راستہ کھل جاتا ہے۔ جب دولت اور طاقت چند لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو وہ کمزور طبقے پر اپنا زور ڈالتے ہیں۔
اخلاقی زوال: جب لوگوں کے دلوں سے خوفِ خدا اور اخلاقی اقدار ختم ہو جاتی ہیں تو وہ اپنے مفادات کے لیے دوسروں پر ظلم کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔
قوانین کا ناقص اطلاق: بعض اوقات قوانین موجود ہوتے ہیں، لیکن ان کا صحیح اطلاق نہ ہونے کی وجہ سے ظالم بچ جاتا ہے اور مظلوم انصاف سے محروم رہ جاتا ہے۔

احادیث کے مطابق

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمان دوسرے مسلمان پر ظلم نہیں کرتا۔" (صحیح مسلم)
آپ ﷺ نے ایک اور حدیث میں فرمایا: "ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں بدل جائے گا۔" (صحیح بخاری)
آپ ﷺ نے فرمایا: "مظلوم کی بد دعا چنگاریوں کی طرح آسمان پر جاتی ہے۔"
ایک اور حدیث میں کچھ اور وضاحت فرمائی: "لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے۔"

ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ ظلم ایک انتہائی سنگین گناہ ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے۔ ظالم کو آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور مظلوم کی دعا اللہ کے ہاں قبول ہوتی ہے۔

صحابہ کرام کی زندگی سے ثابت کوئی عمل

📖 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں انصاف کو فروغ دیا۔ انہوں نے ہر شخص کے ساتھ برابری کا سلوک کیا اور کسی کو بھی کسی پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا: "میں اس وقت تک نہیں سوؤں گا جب تک کہ میری رعایا کا ایک بھی فرد بھوکا سوئے گا۔"

📖 حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عدل و انصاف کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا: "لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔" انہوں نے اپنے دور میں ظلم کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

📖 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمل: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے خطبہ میں کہا: "میرا ساتھ دو جب تک میں اللہ کی اطاعت کروں، اور جب میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے چھوڑ دو۔" انہوں نے ظلم کو ہر حال میں ناپسند کیا۔

صحابہ کرام کا عمل ہمارے لیے نمونہ ہے۔ انہوں نے ظلم کو ہر حال میں ناپسند کیا اور انصاف کو فروغ دیا۔

دیگر تفاسیر کے مطابق

علامہ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ظلم کی کوئی بھی صورت جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کی وجہ سے معاشرے میں امن ختم ہو جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ظلم کرنے والے کو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ظالم کی پناہ اللہ کی پکڑ سے محفوظ نہیں ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے ظلم کو امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا فتنہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد ختم ہو جاتا ہے اور وہ آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔

ائمہ کرام کے احکامات

امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا موقف ہے کہ ظلم ایک کبیرہ گناہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کرنے والا شخص اس وقت تک معاف نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ جس پر ظلم کیا ہے اس سے معافی نہ مانگ لے۔

امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ظلم کی کوئی بھی شکل جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کرنے والے کو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ظلم ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کو جنت سے دور کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص ظلم کرتا ہے اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔

امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے تاکید کی کہ ہر مسلمان کو ظلم سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کرنے والا شخص اللہ کی ناراضی کا مستحق ہے۔

قرب قیامت کی نشانی: طاقتور کمزور کو کھا جائے گا

قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ طاقتور لوگ کمزوروں پر ظلم کریں گے اور انہیں اپنا غلام بنا لیں گے۔

نبی کریم ﷺ نے اس بارے میں فرمایا: "عنقریب ایسا وقت آئے گا جب طاقتور کمزور کو کھا جائے گا۔"

یہ پیشین گوئی آج کے دور میں بہت واضح نظر آتی ہے، جہاں امیر اور طاقتور طبقہ اپنے مفادات کے لیے غریبوں اور کمزوروں کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ آج کے دور میں طاقتور لوگ عدلیہ، حکومت اور معاشرتی اداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں تاکہ اپنے مفادات کو پورا کر سکیں۔

ظالم کے لیے وعید

اللہ تعالیٰ نے ظلم کرنے والے کے لیے بہت سخت وعید رکھی ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور ظالموں کو یقیناً ایک دن بدلہ دیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۃ الشوریٰ: 41)
اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: "اور جو لوگ ظلم کرتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔" (سورۃ الفتح: 29)

ظالموں کے لیے آخرت میں بہت سخت عذاب مقرر کیا گیا ہے اور دنیا میں بھی ان کے لیے تباہی و بربادی ہے۔

معاشرے میں نقصانات

  • سماجی عدم توازن: ظلم کی وجہ سے معاشرے میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔
  • اعتماد کا خاتمہ: ظلم کی وجہ سے لوگوں کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
  • معاشی عدم استحکام: ظلم کی وجہ سے معاشی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔
  • اخلاقی زوال: ظلم کی وجہ سے معاشرے میں اخلاقیات کا زوال ہوتا ہے۔
  • آپسی دشمنی: ظلم کی وجہ سے لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔

موجودہ دور کی گمراہیاں – ظلم کرنا یا کرانا

آج کے دور میں ظلم نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ لوگ ظلم کو معمولی سمجھنے لگے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے دوسروں پر ظلم کرتے ہیں۔

موجودہ دور کی گمراہیاں:

  • سوشل میڈیا پر ظلم: لوگ سوشل میڈیا پر دوسروں کی توہین کرتے ہیں اور ان پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔
  • عدالتی ظلم: طاقتور لوگ عدلیہ کا غلط استعمال کرتے ہیں اور کمزوروں کو انصاف سے محروم کرتے ہیں۔
  • معاشی ظلم: بڑے کاروباری لوگ چھوٹے کاروباریوں کو دباتے ہیں اور ان کے حقوق چھینتے ہیں۔
  • سماجی ظلم: لوگ کمزور اور غریب لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
  • ظلم کو معمولی سمجھنا: لوگ ظلم کو معمولی سمجھنے لگے ہیں اور اسے کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے۔

ان گمراہیوں سے بچنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں کو ظلم کے بارے میں آگاہ کریں اور انہیں انصاف کی تلقین کریں۔

غور و غوض کے پہلو

  • کیا ہم ظلم کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیتے ہیں؟
  • کیا ہم ظلم برداشت کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں؟
  • کیا ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کو ظلم سے بچا رہے ہیں؟
  • کیا ہم اللہ کا خوف رکھتے ہیں؟ کیا ہم اللہ کی ناراضی سے ڈرتے ہیں؟
  • کیا ہم آخرت کی تیاری کر رہے ہیں؟ کیا ہم ظلم کے انجام سے ڈرتے ہیں؟

🌟 غور طلب بات: ظلم کی ایک قبر ہے اور اس قبر کا نام جہنم ہے۔ جہاں ظالم کو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہم اس کبیرہ گناہ سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

ظلم سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں قرآن اور سنت کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا اور اپنے دل میں خوفِ خدا پیدا کرنا ہوگا۔ ذیل میں کچھ اقدامات ہیں جن پر عمل کر کے ہم ظلم سے بچ سکتے ہیں:

اللہ کا خوف دل میں رکھنا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کے لیے دل میں اس کا خوف ہونا بہت ضروری ہے۔ جب ہمیں یہ یقین ہو کہ اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور وہ ہر چیز کا حساب لے گا، تو ہم ظلم سے بچ سکتے ہیں۔
انصاف کا قیام: ہمیں ہر حال میں انصاف کا ساتھ دینا چاہیے، چاہے وہ کسی کے حق میں ہو یا خلاف۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: "اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو، چاہے وہ تمہارے اپنے نفس کے خلاف ہو، یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف۔"
کمزوروں کی مدد کرنا: ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کمزور اور مظلوم افراد کی مدد کریں اور ان پر ظلم نہ ہونے دیں۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور انصاف کا قیام ہمارے لیے ضروری ہے۔
صبر اور برداشت کا رویہ اپنانا: بعض اوقات لوگ ظلم کرتے ہیں اور ہمیں صبر سے کام لینا ہوتا ہے۔ صبر اور برداشت سے نہ صرف ہم خود ظلم سے بچ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ظلم سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
مسلمانوں کو آپس میں بھائی سمجھنا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔" یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آنا چاہیے اور ان پر ظلم کرنے سے بچنا چاہیے۔
تعلیم و تربیت: ظلم کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لیے ہمیں تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنے معاشرتی رویے کو بہتر بنا سکتے ہیں اور ظلم جیسی برائیوں سے دور رہ سکتے ہیں۔

نتیجہ

خلاصہ: ظلم ایک کبیرہ گناہ ہے جس کی اسلام میں سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ ظلم کسی بھی شکل میں ہو، وہ اللہ کی نافرمانی اور انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ ظالم کو دنیا میں بھی نقصان پہنچتا ہے اور آخرت میں بھی سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ظلم سے بچنے کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں، انصاف کو فروغ دیں، اور مظلوموں کی مدد کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم کرنے اور ظلم برداشت کرنے سے محفوظ رکھے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ایمان کو مضبوط کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات کو مقدم رکھیں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہیں۔

بلاگ لوورز کی اس سیریز کا مقصد لوگوں کو ان گناہوں سے آگاہ کرنا ہے جو وہ غفلت میں کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سیریز لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا سبب بنے گی۔ مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں۔

Uzair Hameed

Uzair Hameed

بلاگ لوورز کے بانی اور ایڈیٹر۔ اسلامی تعلیمات، تاریخ اور موٹیویشن پر لکھنے کا شوق۔ مقصد لوگوں تک درست اور مستند معلومات پہنچانا۔

متعلقہ مضامین