میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت: ایک بدعتی رسم
خبردار! میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت کرنا ایک بدعت ہے جو دین کی پاکیزگی پر حملہ ہے۔
دین کی پاکیزگی پر بدعات کے حملے ایک سنگین مسئلہ ہے جس نے اسلام کے اصل تعلیمات کو دھندلا کر دیا ہے۔ دینِ اسلام ایک فطری اور سیدھا راستہ فراہم کرتا ہے، جس میں اللہ کے احکامات اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ بدعت، دین میں کسی نئی چیز کا اضافہ کرنے یا دین کے حکم کو بدلنے کی کوشش کو کہتے ہیں، جو نہ صرف گناہ ہے بلکہ دین کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ ان بدعات میں ایک خاص روایت یہ ہے کہ میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت دی جاتی ہے، جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور شریعت کے واضح احکامات کو نظر انداز کرتی ہے۔ یہ بدعت نہ صرف میت کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی آزمائش بن جاتی ہے جو جنازے میں شرکت کرتے ہیں۔
اسلام میں میت کی تدفین کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے میت کو جلد دفن کرنے کی تاکید فرمائی تاکہ میت کی روح کو آرام مل سکے اور اس کے اہل خانہ کو بھی صبر و تحمل کی توفیق حاصل ہو۔ لیکن جب لوگ میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت دیتے ہیں، تو وہ اس بنیادی اصول کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ عمل دراصل میت کی بے حرمتی ہے اور اس کے اہل خانہ پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے، جو پہلے ہی غم و اندوہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔
اس بدعت کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ یہ لوگوں کو آخرت کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ جب لوگ کھانے پینے اور دنیاوی معاملات میں مشغول ہو جاتے ہیں، تو وہ میت کے لیے دعا اور مغفرت طلب کرنے سے غافل ہو جاتے ہیں، جو کہ جنازے کا اصل مقصد ہے۔ یہ عمل شیطان کی ایک چال ہے جو لوگوں کو دین کی اصل روح سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
اسلامی تعلیمات کے مطابق، میت کو جلد از جلد دفن کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میت کو جلد دفن کرو، اگر وہ نیک ہو تو اسے بھلائی تک پہنچاؤ، اور اگر وہ کچھ اور ہو تو تم اس سے جلد نجات حاصل کرو"۔ اس کے برعکس، میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت کرنا، شریعت کے اس حکم کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس عمل میں نہ صرف میت کی عزت پامال ہوتی ہے بلکہ شرکاء کی توجہ کھانے اور دنیاوی معاملات پر مرکوز ہو جاتی ہے، جبکہ ایسے مواقع پر ان کا مقصد میت کے لیے دعا اور مغفرت طلب کرنا ہونا چاہیے۔ یہ بدعت اس بات کی علامت ہے کہ لوگ دین کی اصل روح کو چھوڑ کر رسوم و رواج کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں، جو دین کی پاکیزگی پر ایک حملہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میت کو جلد دفن کرو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف جلد پہنچاؤ گے اور اگر وہ برا ہے تو تم اس برائی کو اپنے اوپر سے جلد ہٹا لو گے"۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ تدفین میں تاخیر کرنا نہ صرف میت کے خلاف ہے بلکہ زندہ لوگوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ جب لوگ میت کو دفن کرنے میں تاخیر کرتے ہیں، تو وہ اس کے لیے دعا اور مغفرت کے موقع سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، تدفین میں تاخیر سے میت کی بے حرمتی کا اندیشہ ہوتا ہے، جو کہ ایک سنگین گناہ ہے۔
بدعت کی وجوہات
اس بدعت کے پیچھے موجود بنیادی وجہ علمِ دین کی کمی یا معاشرتی دباؤ ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگ اس عمل کو 'ثواب' کا ذریعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ عمل نہ قرآن و سنت میں ثابت ہے اور نہ ہی اس سے میتی یا حاضرین کو کوئی روحانی فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ محض لوگوں کو خوش کرنے اور روایتی دباؤ کی وجہ سے کیا جاتا ہے، جو دین کی اصل تعلیمات کے برعکس ہے۔ علماء کرام اور دین کے داعیوں پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کو اجاگر کریں اور لوگوں کو آگاہ کریں کہ میت کے ساتھ حسنِ سلوک کا مطلب جلد از جلد اس کے تمام حقوق ادا کرنا، اس کے لیے دعا کرنا اور اس کے لیے صدقہ جاریہ کا انتظام کرنا ہے، نہ کہ غیر شرعی رسوم میں مبتلا ہونا۔ دین کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بدعات سے بچیں اور اپنے اعمال کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں۔
اس بدعت کا ایک بڑا سبب معاشرتی دباؤ اور روایات کی اندھی تقلید بھی ہے۔ بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ یہ عمل غلط ہے، لیکن وہ لوگوں کی نظروں سے ڈرتے ہیں اور اس لیے اس بدعت میں شریک ہو جاتے ہیں۔ یہ رویہ ایمان کی کمزوری کی علامت ہے اور اللہ کی نافرمانی کا باعث بنتا ہے۔
عمل کی وضاحت
میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت ایک بدعت ہے جس میں میت کو دفن کرنے کی فوری ذمہ داری کو مؤخر کر کے کھانے کی محفل سجائی جاتی ہے۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات اور شریعت کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہے، جس میں میت کے حقوق اور اس کے ساتھ حسن سلوک کو پامال کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: "ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے"۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ موت کے بعد انسان کے لیے سب سے اہم چیز آخرت کی تیاری ہے، نہ کہ دنیاوی رسوم و رواج۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میت کو جلد دفن کرو، اگر وہ نیک ہو تو اسے بھلائی تک پہنچاؤ، اور اگر وہ کچھ اور ہو تو تم اس سے جلد نجات حاصل کرو"۔ لیکن اس بدعت کے ذریعے میت کی تدفین میں تاخیر کر کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
اس عمل کی ایک اور برائی یہ ہے کہ یہ میت کے اہل خانہ پر مالی بوجھ ڈالتا ہے۔ جب لوگ میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت دیتے ہیں، تو انہیں بڑے پیمانے پر کھانے کا انتظام کرنا پڑتا ہے، جو کہ ایک اضافی مالی ذمہ داری ہے۔ اس طرح یہ بدعت نہ صرف روحانی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ معاشی طور پر بھی مہنگی ہے۔
تاریخی پس منظر
اس بدعت کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا، اس بارے میں واضح تاریخی شواہد موجود نہیں ہیں، لیکن عموماً یہ بدعات روایتی رسوم و رواج اور غیر اسلامی اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہ عمل اکثر ان معاشروں میں پایا جاتا ہے جہاں دین کا علم کمزور ہے اور لوگ روایات کو دین پر ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اللہ کا خوف نہیں رکھتے اور دنیاوی شہرت یا رسوم کو اہمیت دیتے ہیں، وہ اس بدعت کو پروان چڑھاتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے ایک شہر میں ایسا واقعہ سامنے آیا، جہاں میت کو دفن کرنے سے پہلے کھانے کی دعوت دی گئی، جس سے نہ صرف میت کی بے حرمتی ہوئی بلکہ اسلامی تعلیمات کا بھی مذاق بنایا گیا۔
مختلف اسلامی ممالک میں یہ بدعت مختلف شکلوں میں پائی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں لوگ میت کے گھر پر تین دن تک کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، جبکہ بعض جگہوں پر صرف ایک دن کی دعوت ہوتی ہے۔ تاہم، ان تمام صورتوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ میت کی تدفین میں تاخیر کی جاتی ہے، جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
دیگر مذاہب میں رسومات
دیگر مذاہب میں بھی میت کے حوالے سے غیر ضروری رسوم و رواج موجود ہیں، جیسے کہ ہندو دھرم میں میت کی چتا جلانے سے پہلے کئی طرح کی رسمیں کی جاتی ہیں، یا عیسائیت میں مخصوص دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ لیکن اسلام ان تمام رسوم و رواج کی نفی کرتا ہے اور ایک سادہ، صاف اور فوری تدفین کا حکم دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق میت کو جلد از جلد غسل دے کر کفنایا اور دفنایا جانا چاہیے، تاکہ اس کی آخرت کی تیاری میں تاخیر نہ ہو۔
اسلام میں میت کی تدفین کا طریقہ کار انتہائی سادہ اور بے تکلف ہے۔ اس میں کسی قسم کی دنیاوی نمائش یا فضول خرچی نہیں ہوتی۔ یہ دین کی خوبصورتی ہے کہ اس نے زندگی اور موت دونوں کو سادگی اور پاکیزگی کا درس دیا ہے۔ بدعات اس خوبصورتی کو داغدار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ائمہ کرام کا موقف
ائمہ کرام کے نزدیک اس بدعت کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: "ہر وہ عمل جو قرآن و سنت کے خلاف ہو اور امت میں بگاڑ پیدا کرے، وہ بدعت ہے اور اسے ترک کرنا واجب ہے۔" اسی طرح امام مالکؒ کا قول ہے: "جو چیز صحابہ کرام کے زمانے میں دین کا حصہ نہ تھی، وہ آج بھی دین کا حصہ نہیں ہو سکتی۔" ان احکامات کے تحت علماء اس بات پر متفق ہیں کہ میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت یا کوئی اور غیر شرعی رسم بدعت ہے اور گناہ کے زمرے میں آتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جو شخص دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کرے جس کا کوئی اصل نہ ہو، وہ بدعت ہے اور اس کا عمل مردود ہے۔"
ائمہ کرام کا موقف یہ ہے کہ میت کی تدفین میں تاخیر کرنا اور اس دوران کھانے کی دعوت دینا نہ صرف ناجائز ہے بلکہ اس سے میت کی بے حرمتی بھی ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ سنت نبوی کے مطابق عمل کریں اور بدعات سے بچیں۔
بچنے کے طریقے
اس گناہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ دین کا علم حاصل کیا جائے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھاما جائے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ میت کے حقوق کا احترام کرے اور غیر شرعی رسوم و رواج سے پرہیز کرے۔ علماء اور ائمہ کرام کو چاہیے کہ وہ عوام الناس کو اس بدعت کے نقصانات سے آگاہ کریں اور قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے کی دعوت دیں۔ "اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو"۔ یہ آیت ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ دین میں وحدت اور یکجہتی ضروری ہے، اور بدعات سے اجتناب کرنا اس کا حصہ ہے۔
- علم حاصل کریں: دین کے صحیح احکامات کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔
- سنت نبوی کو اپنائیں: نبی کریم ﷺ کے طریقے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
- معاشرتی دباؤ سے بچیں: لوگوں کی خوشی کے لیے دین کے احکامات کو نظر انداز نہ کریں۔
- دوسروں کو آگاہ کریں: اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بدعات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔
- میت کے حقوق ادا کریں: میت کو جلد دفن کریں اور اس کے لیے دعا کریں۔
معاشرتی اثرات
میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت کے معاشرتی اثرات بھی بہت گہرے ہیں۔ یہ بدعت معاشرے میں تفریق اور طبقاتی فرق کو بڑھاتی ہے۔ جب لوگ بڑے پیمانے پر کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، تو غریب طبقہ اس کا متحمل نہیں ہو پاتا اور اس طرح معاشرے میں ایک تفریق پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ عمل لوگوں کو دین سے دور کرتا ہے اور انہیں دنیاوی معاملات میں الجھا دیتا ہے۔
معاشرے میں بدعات کا پھیلاؤ اس بات کی علامت ہے کہ لوگ دین کی اصل تعلیمات سے دور ہو رہے ہیں۔ جب بدعات عام ہو جاتی ہیں، تو لوگ انہیں دین کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں اور اصل احکامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بدعات کے خلاف شعور بیدار کریں اور لوگوں کو صحیح راستے پر لانے کی کوشش کریں۔
خلاصہ
میت کو دفن کیے بغیر کھانے کی دعوت کرنا ایک بدعت ہے جو دین کی پاکیزگی پر حملہ ہے۔ یہ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ میت کی بے حرمتی اور اس کے اہل خانہ پر اضافی بوجھ کا باعث بنتا ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنائیں، میت کو جلد دفن کریں، اور غیر شرعی رسوم و رواج سے اجتناب کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بدعات سے بچنے اور سنت نبوی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!