دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے – 35: کالے جادو یا جنات کے خلاف غیر شرعی اقدامات
کالے جادو یا جنات کے خلاف غیر شرعی اقدامات
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر مسئلے کا حل قرآن و سنت کے دائرے میں فراہم کرتا ہے، لیکن بدقسمتی سے بعض افراد اور طبقات نے دین میں بدعات اور غیر شرعی اعمال کا اضافہ کر کے اس کی پاکیزگی پر حملہ کیا۔ کالے جادو یا جنات کے خلاف غیر شرعی اقدامات ان بدعتی اعمال میں شامل ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متصادم ہیں۔
جادو کے توڑ یا جنات کے اثرات ختم کرنے کے نام پر لوگ عاملوں، کاہنوں، اور جادوگروں کے پاس جاتے ہیں جو غیر شرعی رسومات، شیطانی منتر، اور کفریہ عملیات تجویز کرتے ہیں۔ یہ تمام عمل دین کی اصل روح کے خلاف ہیں، کیونکہ قرآن واضح کرتا ہے کہ صرف اللہ کی مدد اور شرعی دعاؤں کے ذریعے ہی کسی بھی قسم کے روحانی مسئلے کا حل ممکن ہے۔
ایسے اعمال میں نہ صرف وقت اور مال کی ضیاع ہوتی ہے بلکہ یہ انسان کے ایمان کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
غیر شرعی اقدامات کی تعریف
غیر شرعی اقدامات سے مراد وہ تمام اعمال اور طریقے ہیں جو قرآن و سنت کے احکامات کے خلاف ہوں۔ کالے جادو یا جنات کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے ایسے عمل، جیسے جادو کے ذریعے جادو کا توڑ، شیطانی جنات کی پناہ لینا، یا کسی بھی قسم کی بدعتی رسومات ادا کرنا، اسلام میں ممنوع ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں سے پناہ مانگتے تھے، جس سے وہ (جن) ان کی گمراہی کو بڑھا دیتے تھے"۔
تاریخی پس منظر
دورِ جاہلیت میں کالے جادو اور جنات کے اثرات کا خوف بہت زیادہ تھا۔ اس وقت کے لوگ جنات کو اپنے معاملات میں مداخلت کا سبب سمجھتے تھے اور ان کی خوشنودی کے لیے قربانیوں اور تعویذ گنڈوں کا سہارا لیتے تھے۔ جادوگروں اور عاملوں کا وسیع نیٹ ورک موجود تھا جو لوگوں کے خوف سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ یہ تصور اس وقت کے مشرکانہ عقائد کا حصہ تھا۔
کالے جادو اور جنات کے خلاف غیر شرعی اقدامات کا رجحان قدیم مصری، بابل اور دیگر مشرکانہ تہذیبوں سے شروع ہوا۔ بابل کے دور میں جادو کو ایک مخصوص علم کے طور پر سمجھا جاتا تھا، جسے جنات اور شیطان کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور انہوں نے اس (جادو) کی پیروی کی جو شیطان سلیمان کی حکومت کے وقت پڑھتے تھے"۔
مختلف مسالک کا نقطہ نظر
اسلامی مسالک میں کوئی بھی مسلک کالے جادو یا جنات کے خلاف غیر شرعی اقدامات کی حمایت نہیں کرتا۔ تاہم، بدعات اور رسومات مختلف ثقافتی اثرات کی وجہ سے مختلف علاقوں میں پھیل گئی ہیں۔ بعض صوفی اور روایتی حلقوں میں اس قسم کے اعمال کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن وہ عام طور پر علماء اور مفتیان کرام کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔
اسلامی حل
اسلام میں کالے جادو اور جنات کے اثرات سے بچنے کے لیے قرآن و سنت میں واضح رہنمائی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے"۔ رسول اللہ ﷺ نے دم اور رقیہ شرعیہ کو جائز قرار دیا، بشرطیکہ وہ شرکیہ الفاظ پر مبنی نہ ہو۔
اس گناہ کبیرہ سے کیسے بچیں؟
- قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل: قرآن کی تلاوت کریں، خاص طور پر سورۃ البقرہ، سورۃ الفلق، اور سورۃ الناس
- شرعی دعائیں اور اذکار: صبح و شام کے اذکار اور مسنون دعائیں اپنائیں
- علمائے کرام سے رجوع: مسائل کے حل کے لیے مستند علماء سے رہنمائی حاصل کریں
- بدعات سے اجتناب: غیر شرعی رسومات اور جادوگروں کے پاس جانے سے مکمل اجتناب کریں
آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو وہ محمد ﷺ پر نازل شدہ دین کا انکار کرتا ہے"۔
اللہ ہمیں اس فتنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔












