دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے
28 - درباروں پر چڑھاوے چڑھانا

درباروں پر چڑھاوے چڑھانا ایک بدعت اور شرک ہے۔ اس مضمون میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس عمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔

درگاہوں پر چڑھاوے چڑھانا ایک ایسا عمل ہے جس میں لوگ قبروں یا بزرگانِ دین کے مزارات پر مال نذرانے، کھانا، چادریں یا دیگر اشیاء پیش کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ یہ عمل اُن کے دینی یا دنیوی معاملات میں برکت کا ذریعہ بنے گا۔ یہ عمل برصغیر پاک و ہند میں خاص طور پر عام ہے اور مختلف مزارات پر بڑی تعداد میں لوگ یہ رسومات ادا کرتے ہیں۔

چڑھاوے چڑھانے کی یہ رسم مختلف شکلوں میں پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگ مٹھائیاں، پھل یا کھانا پیش کرتے ہیں، تو کچھ قیمتی چادریں، نقد رقم یا دیگر اشیاء۔ بعض جگہوں پر جانور بھی ذبح کیے جاتے ہیں اور ان کا گوشت نذرانے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تمام اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

تاریخی پس منظر

اسلام سے قبل، عرب میں دورِ جاہلیت کے زمانے میں مشرکین مکہ اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے بتوں، درختوں اور مختلف مقدس مقامات پر قربانیاں پیش کیا کرتے تھے۔ اُن کے اس عمل کی بنیاد ایک توہم پرستی اور خدا کے بجائے مخلوق سے حاجت طلبی تھی۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: "تم اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں کی پوجا کرتے ہو، جبکہ اُن کا نہ تمہیں کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی نقصان۔" (سورہ الانبیاء)

اسلام نے ان تمام جاہلی رسومات کو ختم کر دیا اور صرف اللہ کی عبادت کا حکم دیا۔ لیکن افسوس کہ آج بعض مسلمان انہی جاہلی رسومات کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں اور مزارات پر چڑھاوے چڑھا کر اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگ رہے ہیں۔

اسلامی تعلیمات کے خلاف

اسلامی تعلیمات کے مخالف اس عمل کا آغاز دورِ جاہلیت میں ہی ہو چکا تھا، لیکن بعد ازاں مختلف ادوار میں مخصوص فرقوں اور مسلکوں کے ذریعہ اس کو مسلمانوں میں عام کیا گیا۔

اس عمل کی ابتدا کا صحیح مقام و زمانہ جاننا تو مشکل ہے، تاہم تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں تصوف کے ذریعے درگاہوں اور مزارات کے تقدس کا تصور زیادہ مقبول ہوا۔ جب مسلمانوں نے برصغیر میں قدم جمائے تو انہوں نے مقامی روایات سے متاثر ہو کر ان رسومات کو اپنا لیا۔

یہ عقیدہ زیادہ تر اُن فرقوں میں پروان چڑھا، جن میں اولیاء اللہ اور بزرگوں کو ایک خاص مقام دیا جاتا ہے اور اُن سے فیض یا مدد طلب کرنا جائز سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اہلِ سنت والجماعت اور اہلِ تشیع میں بعض فرقے اس میں ملوث ہیں، تاہم اس کی جوازیت اور حدود میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

خبردار! مزارات پر چڑھاوے چڑھانا، ان سے برکت طلب کرنا، اور ان کو وسیلہ بنانا شرک ہے۔ اللہ کے سوا کسی سے مدد مانگنا جائز نہیں ہے۔

معاشی پہلو

درگاہوں پر چڑھاوے چڑھانا آج کے دور میں بعض لوگوں کے لئے ایک نفع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ زائرین کی بڑی تعداد، خصوصاً جنوبی ایشیا میں، ایسے مزارات پر حاضری دیتی ہے اور نذرانے چڑھاتی ہے۔ اس سے وابستہ لوگوں کے لیے یہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

جنوبی ایشیائی ممالک (پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش) میں درگاہوں پر چڑھاوے چڑھانے کا رجحان وقت کے ساتھ بڑھا ہے۔ مختلف مذہبی میلوں، عرسوں اور دیگر مواقع پر بڑی تعداد میں لوگ یہ عمل کرتے ہیں۔ اس رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ اس کے ساتھ جڑی عوامی عقیدت اور توہمات ہیں۔

بعض لوگ اس کاروبار سے بہت زیادہ منافع کما رہے ہیں۔ مزارات کے متولی، خادم اور دیگر لوگ چڑھاوے کی صورت میں آنے والی رقم اور اشیاء سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ سب کچھ دین کے نام پر ہو رہا ہے جبکہ حقیقت میں یہ محض ایک کاروبار ہے۔

اسلامی نقطہ نظر

اسلام نے کسی بھی قسم کی حاجات اور حاجت روائی کے لئے صرف اور صرف اللہ سے مانگنے کا حکم دیا ہے۔ قرآن اور احادیث میں کسی اور کے سامنے جھکنے یا نذرانہ چڑھانے کی سختی سے ممانعت ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: "اور (اے نبی) کہہ دو کہ میرے رب سے دعا کرو، وہی ہے جو تمہاری دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔" (سورہ المؤمن)

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "جب تم مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔" (سنن ترمذی)

ان آیات اور احادیث سے واضح ہے کہ ہمیں صرف اللہ سے دعا مانگنی چاہیے اور صرف اللہ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ کسی بزرگ یا ولی کو وسیلہ بنانا یا ان سے مدد مانگنا شرک ہے۔

ائمہ کرام کا موقف

ائمہ کرام نے اس بدعت کو ناجائز اور ممنوع قرار دیا ہے۔

امام ابن تیمیہؒ اور امام ابن قیمؒ: جیسے بزرگوں نے اس عمل کو اسلامی عقائد کے خلاف اور شرک کی طرف جانے والا قدم قرار دیا۔

امام ابو حنیفہؒ: ان کے نزدیک، اولیاء اللہ کے مزارات پر چڑھاوے چڑھانا اور اس سے برکت کی امید رکھنا اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔

امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ: ان سب نے بھی اس عمل کو بدعت اور شرک قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی ہے۔

دیگر مذاہب میں چڑھاوے کا تصور

ہندوازم میں اس بدعت کا تصور

ہندوازم میں "چڑھاوے" یا "نذرانے" کی ایک طویل تاریخ ہے، جہاں لوگ مختلف معبودوں، دیوتاؤں اور مندروں میں قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ ہندؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ نذرانے معبودوں کی رضا حاصل کرنے، گناہوں کو مٹانے اور خوشحالی کی دعا کرنے کے لئے دیے جاتے ہیں۔

بدھ مت میں اس بدعت کا تصور

بدھ مت میں بھی نذرانے پیش کرنے کا تصور موجود ہے، مگر اس کا مقصد زیادہ تر عبادات اور روایات کے ذریعے برکت اور روحانی ترقی کی جانب ہے۔

عیسائیت میں اس بدعت کا تصور

عیسائیت میں بھی کچھ فرقوں میں مقدس مقامات پر نذرانے اور چڑھاوے پیش کرنے کا رواج پایا جاتا ہے، خاص طور پر کیتھولک چرچ میں۔

خلاصہ

تمام مذکورہ مذاہب میں چڑھاوے چڑھانے کا تصور موجود ہے، لیکن اسلام میں اس کی شدید مخالفت کی گئی ہے، کیونکہ یہ عمل توحید کے خلاف ہے اور شرک کی طرف لے جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کو اس بدعت سے بچنا ضروری ہے اور اپنی عبادات اور نذرانے صرف اللہ کے لئے مختصر کرنے چاہئیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کو قرآن و سنت کے مطابق رکھیں اور کسی بھی ایسے عمل سے بچیں جو شرک یا بدعت کی طرف لے جائے۔ اللہ سے براہ راست دعا کریں اور کسی کو اس کا وسیلہ نہ بنائیں۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔

#دربار #چڑھاوے #بدعت #شرک #مزارات #اسلامی_تعلیمات #بلاگ_لوورز
Uzair Hameed

Uzair Hameed

بانی اور مدیر، بلاگ لوورز

اسلامی تعلیمات، تاریخ اور عصری مسائل پر تحقیق

اس پوسٹ پر اپنے جذبات کا اظہار کریں

متعلقہ پوسٹس