آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا

آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا ایک رسم ہے جس میں بعض لوگ یہ عمل کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کا نام سنتے ہیں، تو اپنے انگوٹھے چومتے ہیں اور پھر انہیں اپنی آنکھوں پر لگاتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد محبت اور احترام کے اظہار کے طور پر سمجھا جاتا ہے، لیکن اسلام میں اس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ملتی، اور یہ عمل بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

بدعت کی ابتدا

آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنے کی بدعت کی اصل ابتدا کا اصل ماخذ معلوم نہیں، لیکن یہ عمل صوفیازماور خاص طور پر برصغیر میں رائج رسوم و رواج سے منسلک کیا جاتا ہے۔ یہ بدعت مختلف صوفی سلسلوں اور ثقافتی رسومات کے تحت پھیل گئی اور آج برصغیر پاک و ہند میں خاص طور پر پائی جاتی ہے۔

پاکستان میں انگوٹھے چومنے کا رواج

پاکستان میں زیادہ تر مسلک بریلوی کے ماننے والے اس رسم کو انجام دیتے ہیں۔ بریلوی مکتب فکر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ عقیدت اور محبت کے اظہار کے لیے مختلف رسومات پائی جاتی ہیں، جن میں انگوٹھے چومنا بھی شامل ہے۔ اس عمل کو وہ نبی ﷺ کے ساتھ عقیدت کے اظہار کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔

صحابہ کرام کے دور میں انگوٹھے چومنا

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نہ ہی قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ذکر موجود ہے اور نہ ہی کسی معتبر روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نے آپ ﷺ کا نام سننے پر انگوٹھے چومنے کا عمل کیا ہو۔ صحابہ کرام نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت رکھتے تھے اور وہ اس محبت کا اظہار اتباع سنت، احکام شریعت پر عمل اور آپ ﷺ کی اتباع کے ذریعے کرتے تھے، نہ کہ غیر شرعی رسومات کے ذریعے۔

دیگر مذاہب میں انگوٹھے چومنا

دیگر مذاہب میں خاص شخصیات کے ساتھ عقیدت کے اظہار کے لیے جسمانی اعضاء کو چومنے یا دیگر رسومات کو اپنانے کا رواج پایا جاتا ہے:

1. عیسائیت

عیسائی مذہب میں پوپ یا دیگر مذہبی شخصیات کے ہاتھ چومنے کا رواج ہے، جو عقیدت کے اظہار کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

2. ہندوازم

ہندو مذہب میں بھی عقیدت مند لوگ اپنے گرو یا مذہبی شخصیات کے قدم چومتے ہیں تاکہ ان کی برکت حاصل کی جا سکے۔

3. یہودیت

یہودی مذہب میں بھی بعض مقامات پر مذہبی شخصیات کے احترام میں مختلف جسمانی رسومات انجام دی جاتی ہیں، جیسے ربی کے ہاتھ چومنا۔

ائمہ کرام کی آراء

ائمہ کرام کے نزدیک نبی کریم ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنے کا عمل نہ تو شریعت میں موجود ہے اور نہ ہی کسی حدیث یا صحابہ کرام کی سنت میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ ایک بدعتی عمل ہے جو نبی کریم ﷺ کی اصل تعلیمات کے خلاف ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ اور امام ابو حنیفہؒ جیسے عظیم ائمہ نے بدعات کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے اور ان کی پیروی کرنے کے بجائے سنت رسول ﷺ پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا: "جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے، وہ رد کر دی جائے گی"۔ یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ ہر نیا کام جو دین میں نہیں ہے، وہ قابل قبول نہیں ہو گا۔

اسلام میں انگوٹھے چومنے کا حکم

اسلام میں نبی کریم ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ یہ عمل بدعت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے خود اس طرح کا کوئی عمل نہ کیا اور نہ ہی صحابہ کرام نے اس عمل کو اپنایا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بدعات اور غیر اسلامی رسومات سے منع فرمایا ہے: "اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اور اس کے علاوہ کسی اور کو دوست نہ بناؤ"۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہمیں صرف قرآن اور سنت کی پیروی کرنی چاہیے، نہ کہ اپنی طرف سے نئی رسومات ایجاد کرنی چاہئیں۔

نتیجہ

آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا ایک بدعتی عمل ہے جس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔ یہ رسم اسلام کی بنیادی تعلیمات اور سنت رسول ﷺ کے خلاف ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ بدعات سے بچیں اور دین اسلام کی اصل تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔

آپ کا ردعمل
👍عمدہ0
❤️دلچسپ0
😊مفید0
😢قابل غور0
🤔سوچ بچار0
👏شاندار0
🔥زبردست0