👆

دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے
19- آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا

آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا ایک ایسی بدعت ہے جو اسلام کی اصل تعلیمات میں شامل نہیں۔ اس مضمون میں ہم انگوٹھے چومنے کی حقیقت، اس کی تاریخی ابتدا، اور اسلام کا موقف جانیں گے۔

فہرست مضامین

آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا

⚠️ خبردار! آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا ایک بدعت ہے جس کی کوئی اصل اسلامی تعلیمات میں نہیں ہے۔ یہ عمل دین میں غیر شرعی اضافہ ہے۔

📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے جو اس میں نہیں ہے، وہ رد (مردود) ہے۔" (صحیح بخاری)

آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا کیا ہے؟

آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا ایک رسم ہے جس میں بعض لوگ یہ عمل کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کا نام سنتے ہیں، تو اپنے انگوٹھے چومتے ہیں اور پھر انہیں اپنی آنکھوں پر لگاتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد محبت اور احترام کے اظہار کے طور پر سمجھا جاتا ہے، لیکن اسلام میں اس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ملتی، اور یہ عمل بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ رسم خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں پائی جاتی ہے، جہاں بعض لوگ نبی کریم ﷺ کے نام کے ساتھ انتہائی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ تاہم، یہ عمل نہ تو قرآن مجید میں مذکور ہے اور نہ ہی کسی مستند حدیث میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، نبی کریم ﷺ کی محبت کا اظہار ان کی سنت کی پیروی کرنے، ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے، اور ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے سے ہوتا ہے، نہ کہ اس طرح کی غیر شرعی رسومات سے۔

یہ عمل دراصل صوفی ازم اور مقامی ثقافتی روایات کا مرکب ہے، جسے بعد میں بعض لوگوں نے دین کا حصہ بنا لیا۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے خود کوئی ایسا عمل نہیں کیا اور نہ ہی صحابہ کرام نے ایسا کبھی کیا۔ اس لیے یہ عمل دین میں بدعت کی واضح مثال ہے۔

انگوٹھے چومنے کی بدعت کی ابتدا

آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنے کی بدعت کی اصل ابتدا کا اصل ماخذ معلوم نہیں، لیکن یہ عمل صوفی ازم اور خاص طور پر برصغیر میں رائج رسوم و رواج سے منسلک کیا جاتا ہے۔ یہ بدعت مختلف صوفی سلسلوں اور ثقافتی رسومات کے تحت پھیل گئی اور آج برصغیر پاک و ہند میں خاص طور پر پائی جاتی ہے۔

بعض مورخین کے مطابق، یہ رسم ہندوستان کے علاقے میں صوفیاء کرام کی آمد کے بعد وجود میں آئی۔ جب صوفیاء کرام نے برصغیر میں اسلام کی تبلیغ کی، تو انہوں نے مقامی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے تبلیغ کی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ غیر اسلامی رسومات بھی مسلم معاشرے میں شامل ہو گئیں، جن میں انگوٹھے چومنے کی رسم بھی شامل ہے۔ یہ عمل کسی خاص صوفی سلسلے یا کسی خاص عالم کی طرف منسوب نہیں ہے، بلکہ یہ بتدریج معاشرے کا حصہ بنتا گیا۔

پاکستان میں انگوٹھے چومنے کا رواج

پاکستان میں زیادہ تر مسلک بریلوی کے ماننے والے اس رسم کو انجام دیتے ہیں۔ بریلوی مکتب فکر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ عقیدت اور محبت کے اظہار کے لیے مختلف رسومات پائی جاتی ہیں، جن میں انگوٹھے چومنا بھی شامل ہے۔ اس عمل کو وہ نبی ﷺ کے ساتھ عقیدت کے اظہار کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں یہ رواج زیادہ عام ہے۔ بعض علماء اور خطیب بھی اپنی تقاریر اور محافل میں اس عمل کی ترغیب دیتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ رسم مزید پھیلتی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے بہت سے دینی مدارس اور علماء اس عمل کو بدعت قرار دیتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں۔

صحابہ کرام کے دور میں انگوٹھے چومنا

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نہ ہی قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ذکر موجود ہے اور نہ ہی کسی معتبر روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نے آپ ﷺ کا نام سننے پر انگوٹھے چومنے کا عمل کیا ہو۔

صحابہ کرام نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت رکھتے تھے اور وہ اس محبت کا اظہار اتباع سنت، احکام شریعت پر عمل اور آپ ﷺ کی اتباع کے ذریعے کرتے تھے، نہ کہ غیر شرعی رسومات کے ذریعے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ بنایا اور ہر عمل میں آپ کی پیروی کی۔ اگر انگوٹھے چومنا کوئی نیک عمل ہوتا تو صحابہ کرام اسے سب سے پہلے اپناتے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ ہے کہ جب انہوں نے حجر اسود کو چوما تو کہا: "مجھے معلوم ہے کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ تجھے نفع پہنچانے کی طاقت ہے اور نہ نقصان کی۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا"۔ اس واقعے سے واضح ہے کہ صحابہ کرام کسی بھی عمل کو صرف عقیدت کی بنا پر نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ ہر عمل میں نبی کریم ﷺ کی اتباع کرتے تھے۔

دیگر مذاہب میں انگوٹھے چومنا

دیگر مذاہب میں خاص شخصیات کے ساتھ عقیدت کے اظہار کے لیے جسمانی اعضاء کو چومنے یا دیگر رسومات کو اپنانے کا رواج پایا جاتا ہے:

1. عیسائیت

عیسائی مذہب میں پوپ یا دیگر مذہبی شخصیات کے ہاتھ چومنے کا رواج ہے، جو عقیدت کے اظہار کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک یہ عمل ان مقدس شخصیات کے ساتھ عقیدت اور احترام کا اظہار ہے۔

2. ہندوازم

ہندو مذہب میں بھی عقیدت مند لوگ اپنے گرو یا مذہبی شخصیات کے قدم چومتے ہیں تاکہ ان کی برکت حاصل کی جا سکے۔ یہ عمل ہندو معاشرے میں بہت عام ہے اور اسے روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

3. یہودیت

یہودی مذہب میں بھی بعض مقامات پر مذہبی شخصیات کے احترام میں مختلف جسمانی رسومات انجام دی جاتی ہیں، جیسے ربی کے ہاتھ چومنا۔ یہ عمل خاص مواقع پر کیا جاتا ہے اور اسے احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

⚠️ اہم انتباہ: اسلامی تعلیمات کے مطابق، کسی بھی شخصیت کی اس طرح تعظیم کرنا جو عبادت یا شرک کا باعث بنے، جائز نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا: "مجھے حد سے زیادہ مت سراہو جیسے عیسائیوں نے عیسیٰ ابن مریم کو سراہا، میں تو صرف ایک بندہ ہوں، پس مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو"۔

ائمہ کرام کی آراء

ائمہ کرام کے نزدیک نبی کریم ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنے کا عمل نہ تو شریعت میں موجود ہے اور نہ ہی کسی حدیث یا صحابہ کرام کی سنت میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ ایک بدعتی عمل ہے جو نبی کریم ﷺ کی اصل تعلیمات کے خلاف ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ اور امام ابو حنیفہؒ جیسے عظیم ائمہ نے بدعات کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے اور ان کی پیروی کرنے کے بجائے سنت رسول ﷺ پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔ امام مالکؒ کا قول ہے: "جس نے دین میں کوئی نیا عمل ایجاد کیا اور اسے نیک سمجھا، اس نے محمد ﷺ کی اس امانت کو خیانت کیا کہ آپ نے فرمایا: 'ہر بدعت گمراہی ہے'۔"

نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا: "جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے، وہ رد کر دی جائے گی"۔ یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ ہر نیا کام جو دین میں نہیں ہے، وہ قابل قبول نہیں ہو گا۔

اسلام میں انگوٹھے چومنے کا حکم

اسلام میں نبی کریم ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ یہ عمل بدعت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے خود اس طرح کا کوئی عمل نہ کیا اور نہ ہی صحابہ کرام نے اس عمل کو اپنایا۔

📖 قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اور اس کے علاوہ کسی اور کو دوست نہ بناؤ"۔ (سورۃ الاعراف: 3)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہمیں صرف قرآن اور سنت کی پیروی کرنی چاہیے، نہ کہ اپنی طرف سے نئی رسومات ایجاد کرنی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کر دیا ہے اور کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے ہر شخص میرے حوض (کوثر) پر آئے گا، اور تم میں سے بعض کو میرے سامنے سے اس طرح ہٹا دیا جائے گا جیسے کسی جانور کو ہٹایا جاتا ہے، پھر میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے صحابہ ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا: تم نہیں جانتے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا بدعات ایجاد کیں"۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ بھی اپنی امت کی بدعات سے نالاں ہوں گے۔

نتیجہ

🌟 خلاصہ: آپ ﷺ کے نام پر انگوٹھے چومنا ایک بدعتی عمل ہے جس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔ یہ رسم اسلام کی بنیادی تعلیمات اور سنت رسول ﷺ کے خلاف ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ بدعات سے بچیں اور دین اسلام کی اصل تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں۔ نبی کریم ﷺ کی محبت کا صحیح اظہار ان کی سنت کی پیروی ہے، نہ کہ ایسی رسومات جو دین میں شامل نہیں۔

📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی، اور اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر پسند کیا"۔ (سورۃ المائدہ: 3)

🕌 لہذا، مسلمانوں کو دین کی اصل تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے غیر ضروری رسومات سے بچنا چاہیے، اور اپنی عبادات کو قرآن و سنت کے مطابق انجام دینا چاہیے۔

📊 آپ کا ردعمل

Uzair Hameed

عزیر حمید

مصنف & بلاگر

بلاگ لوورز کا بانی، اسلامی تعلیمات اور اصلاحی مضامین کا شوقین۔ مقصد: دین کی پاکیزگی کو بدعات سے بچانا۔

مرکزی صفحہ تمام پوسٹس

بلاگ لوورز کے تمام کیٹیگریز