تعویز پہننا

تعویز ایک قسم کی تحریر، طغرٰی، یا علامتی شکل ہے جسے لوگ اپنی جسمانی یا روحانی حفاظت، بیماریوں سے شفا یا بری نظر سے بچنے کے لیے پہنتے ہیں۔ تعویز عموماً کسی کپڑے یا دھاتی ڈبے میں لپیٹ کر گردن، بازو یا کمر میں باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے اندر قرآن کی آیات، مقدس دعائیں، یا جادوئی نقوش درج کیے جاتے ہیں۔ تعویز پہننے کا مقصد ان غیر مرئی طاقتوں یا ناپسندیدہ اثرات سے بچنا ہوتا ہے جنہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ ان پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

مختلف مسالک میں تعویز پہننا

مسلک بریلوی

مسلک بریلوی میں تعویز پہننا ایک عام رواج ہے۔ ان کے عقائد کے مطابق، اگر تعویز قرآنی آیات یا نیک دعاؤں پر مشتمل ہو تو اس کا پہننا جائز اور نیک کام ہے۔ تعویز کو روحانی حفاظت کے لیے پہنا جاتا ہے اور بریلوی حضرات اس عمل کو کسی حد تک شریعت کے دائرے میں سمجھتے ہیں۔

اہل تشیع

اہل تشیع میں بھی تعویز کا رواج موجود ہے، جہاں تعویز اکثر اوقات حضرت علیؓ اور دیگر اہل بیت سے منسوب دعاؤں اور آیات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اہل تشیع میں تعویز کو روحانی طاقت کا ایک ذریعہ مانا جاتا ہے، جس کے ذریعے مومن کو اللہ کی مدد حاصل ہو سکتی ہے۔

دیگر مذاہب میں تعویز کا تصور

ہندومذہب

ہندو مذہب میں تعویز، جسے "تاویز" یا "کاوچ" کہا جاتا ہے، عام طور پر بدروحوں، بری نظر، اور بدقسمتی سے بچنے کے لیے پہنا جاتا ہے۔ تعویز میں مختلف دیوی دیوتاؤں کی عبادات یا مقدس منتروں پر مشتمل تحریریں شامل ہوتی ہیں۔

سکھازم

سکھازم میں تعویز پہننے کا تصور نہیں ہے، لیکن سکھ عوام میں یہ رواج پایا جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ اپنی صحت یا مشکلات کے لیے کسی روحانی حل کی تلاش میں ہوں۔ سکھ مت میں یہ عام نہیں لیکن عوامی سطح پر ثقافتی اثرات کے تحت یہ عمل موجود ہے۔

زرتشت مذہب

زرتشتی مذہب میں بھی تعویز کا تصور پایا جاتا ہے، جو آتش پرستی کی مذہبی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ زرتشتی تعویذات کو جادوئی یا مذہبی اثرات سے بچنے کے لیے پہنا جاتا ہے۔

دور جاہلیت میں تعویز

دورِ جاہلیت میں لوگ تعویذ اور طلسمات کو اپنی حفاظت، جنگ میں کامیابی، اور بیماریوں سے شفا کے لیے پہنتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ تعویذات انہیں بری نظر، جادو، اور آفات سے بچا سکتے ہیں۔ قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ نے اس قسم کے توہمات اور جادوئی اثرات کے خلاف سختی سے احکامات دیے۔

صحابہ کرام کے دور میں تعویز

صحابہ کرام کے ادوار میں تعویز کا رواج نہیں تھا۔ صحابہ کرامؓ براہ راست اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے تھے اور اس کی مدد طلب کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے تعویذ اور جادوئی عملیات کے سخت خلاف اقدامات کیے۔ ان کے دور میں جادو، طلسمات، اور غیر شرعی اعمال کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص تعویذ لٹکائے، اس نے شرک کیا

مختلف مذاہب میں تعویز پہننا

مختلف مذاہب میں تعویز پہننے کا رواج عام ہے۔ عیسائیت، یہودیت، ہندو مذہب، بدھ مت اور دیگر مذاہب میں تعویذات کا استعمال تحفظ، بیماری سے شفا، اور بدروحوں سے بچاؤ کے لیے ہوتا ہے۔ ہر مذہب میں اس کا تصور مختلف طریقے سے موجود ہے اور لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ تعویذات انہیں روحانی اور جسمانی مشکلات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں تعویز پہننا

جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں تعویز پہننے کا رواج بہت زیادہ ہے۔ ان ممالک میں عوام کا ایک بڑا طبقہ جاہلانہ عقائد اور توہمات کا شکار ہوتا ہے، اور تعویز کے ذریعے روحانی اور جسمانی مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ ان ممالک میں تعویز کے عاملین کا ایک وسیع کاروبار ہے، جو عوام کے خوف اور مشکلات کو استعمال کر کے اپنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اسلام میں تعویز پہننے کا حکم

اسلام میں تعویز پہننے کے بارے میں سختی سے منع کیا گیا ہے، خاص طور پر اگر اس میں شرکیہ الفاظ یا غیر اسلامی تحریریں شامل ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے تعویز کو شرک کی علامت قرار دیا۔ حدیث میں آیا ہے: "دم، تعویذ اور جادو شرک ہیں

البتہ، بعض علماء نے یہ رائے دی ہے کہ اگر تعویز میں صرف قرآن کی آیات یا جائز دعائیں ہوں اور اس پر یقین اللہ کی ذات پر ہو، تو اسے جائز کہا جا سکتا ہے، مگر یہ رائے محدود ہے اور اس پر عمل کرنے والے علماء کی تعداد کم ہے۔

تعویز کا کاروباری پہلو

تعویز لکھنا اور فروخت کرنا ایک نفع بخش کاروبار بن چکا ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں۔ عاملین اور پیروں کے پاس لوگ اپنی مشکلات اور مسائل کے حل کے لیے آتے ہیں، اور وہ تعویز لکھنے اور دینے کے بدلے میں پیسے لیتے ہیں۔ اس عمل میں عاملین لوگوں کے خوف اور جہالت کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اور اکثر یہ عمل مالی فائدے کے لیے کیا جاتا ہے۔

تعویز سے بچنے کے طریقے

1. اللہ پر مکمل بھروسہ

قرآن اور حدیث کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ ہر مشکل اور پریشانی کے حل کے لیے ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا: "جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہے

2. قرآن کی تلاوت اور دعا

مشکلات اور بیماریوں کے حل کے لیے قرآن کی تلاوت اور نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق دعائیں کرنی چاہئیں۔ نبی کریم ﷺ نے مختلف بیماریوں اور مشکلات کے لیے دعائیں سکھائی ہیں۔

3. تعلیم اور شعور کی ضرورت

مسلمانوں کو تعویذ اور جادوئی عقائد سے بچنے کے لیے دینی اور دنیاوی تعلیم کی ضرورت ہے۔ علماء اور معلمین کو چاہیے کہ وہ عوام کو قرآن و سنت کی روشنی میں آگاہ کریں تاکہ لوگ توہمات سے بچ سکیں۔

4. علماء کی رہنمائی

معتبر علماء کی رہنمائی حاصل کریں جو قرآن و سنت کی روشنی میں دینی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نتیجہ

تعویز پہننے کے گناہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دین اسلام کی اصل تعلیمات کو سمجھیں اور اپنے مسائل کا حل صرف اللہ سے مانگیں، نہ کہ تعویذات یا جادوئی طریقوں سے۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔

کسی جانور گائے بکری سے جماع کرنا، بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنا، پڑوسی کو تکلیف دینا، وعدہ خلافی کرنا، غیر محرم عورت کی طرف بہ قصد دیکھنا، پکی قبریں بنانا، قل خوانی کرنا، عرس میلے منانا