تعویز لکھنا
تعویز ایک قسم کی تحریری یا طغرٰی ہے جو عام طور پر کسی مقدس متن، قرآنی آیات، یا دیگر دعاؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسے حفاظت، بیماریوں کے علاج، مصائب سے بچنے، یا خوش قسمتی حاصل کرنے کے لیے لکھا جاتا ہے۔ تعویز کو بعض اوقات گردن میں لٹکایا جاتا ہے، بازو پر باندھا جاتا ہے، یا گھر میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو بعض لوگ اسلامی تعلیمات کے ساتھ جوڑتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک متنازعہ رسم ہے اور اس کے بارے میں اسلام کے مختلف مکاتب فکر میں مختلف رائے پائی جاتی ہے۔
دور جاہلیت میں تعویز
تعویذ اور طلسماتی تحریریں دورِ جاہلیت میں بھی موجود تھیں۔ جاہلیت کے دور میں لوگ مختلف اشیاء اور تحریروں کو اپنی حفاظت یا بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان کا اعتقاد تھا کہ یہ چیزیں ماورائی طاقتوں سے بچانے یا نقصاندہ اثرات کو ختم کرنے میں مددگار ہیں۔ اسلام نے اس قسم کے توہمات کی مذمت کی اور ان کے خلاف واضح ہدایات دیں۔
تعویز لکھنے کی تاریخ
تعویز لکھنے کی رسم قدیم تہذیبوں سے چلی آ رہی ہے، جیسے بابل، مصر اور یونان کی تہذیبوں میں مختلف جادوئی تحریروں اور تعویذات کا رواج تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے شرک اور توہمات کے خلاف سختی سے احکام جاری کیے، لیکن بدقسمتی سے، بعد میں مسلمانوں کے درمیان بھی یہ رسم جاری رہی، اور بعض لوگ اسے مذہبی عقیدے کے ساتھ جوڑنے لگے۔
مختلف مسالک میں تعویز لکھنا
تعویز لکھنے کا عمل زیادہ تر جنوبی ایشیائی ممالک میں پایا جاتا ہے اور اس میں بریلوی مکتب فکر سب سے آگے ہے۔ بریلوی حضرات تعویز لکھنے اور اس کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں، بشرطیکہ وہ قرآنی آیات یا نیک دعاؤں پر مشتمل ہو۔ بعض دیگر مکاتب فکر جیسے اہل تشیع میں بھی تعویز کا استعمال ہوتا ہے، مگر اس میں فرق پایا جاتا ہے۔ دیوبندی اور اہل حدیث مکاتب فکر میں تعویز لکھنے کو عام طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور اسے بدعتی یا غیر شرعی عمل کہا جاتا ہے۔
تعویز لکھنے کا کاروباری پہلو
تعویز لکھنے کا عمل جنوبی ایشیائی ممالک میں ایک نفع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ، خصوصاً کم علم رکھنے والے عوام، مولوی حضرات، پیروں اور عاملین کے پاس تعویز لینے جاتے ہیں۔ یہ عاملین قرآنی آیات یا جادوئی نقوش لکھ کر تعویز تیار کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں پیسے وصول کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ کاروبار اس قدر وسیع ہوتا ہے کہ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے ان پر مالی طور پر انحصار کرنے لگتے ہیں، جو دین کی روح کے خلاف ہے۔
جنوبی ایشیا میں تعویز لکھنے کا رواج
جنوبی ایشیائی ممالک میں تعویز لکھنے کا عمل زیادہ عام ہے کیونکہ یہاں عوام میں تعلیم اور دینی شعور کی کمی ہے۔ بہت سے لوگ مشکلات، بیماریوں، اور مشکلات کے حل کے لیے روحانی علاج اور تعویذات پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس خطے کی تاریخی اور ثقافتی اثرات بھی اس عمل کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہندو مذہب کی رسومات اور توہمات بھی بعض مسلم معاشروں میں شامل ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے تعویذات کا استعمال زیادہ ہو گیا ہے۔
اللہ کی رحمت سے مایوسی
کئی لوگ اپنی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور بیماریوں سے مایوس ہو کر اللہ کی مدد کے بجائے تعویذ نویسوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کا اعتقاد ہوتا ہے کہ تعویز کے ذریعے انہیں فوری مدد ملے گی۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تعویز انہیں ان کی مشکلات سے نکال سکتا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا کوئی ناامید نہیں ہوتا"۔ ایک اور مقام پر اللہ رب العزت فرماتے ہیں: "اے محمد ﷺ آپ فرمادیجئے! اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کرلی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرمادیتا ہے، یقینا وہ بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے"۔
اسلام میں تعویز لکھنے کا حکم
اسلام میں تعویز لکھنے اور استعمال کرنے کے بارے میں علماء کے مختلف آراء ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے جادو، شرک، اور غیر اسلامی رسومات کی سخت مذمت کی ہے۔ تعویز کی بعض اقسام شرک کے زمرے میں آتی ہیں، خصوصاً جب ان میں غیر اسلامی کلمات یا شرکیہ الفاظ شامل ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "دم (جھاڑ پھونک)، تعویذات اور محبت پیدا کرنے والے عملیات شرک ہیں"۔
اگر تعویز میں قرآنی آیات یا جائز دعائیں شامل ہوں اور اس کا مقصد اللہ سے مدد طلب کرنا ہو تو بعض علماء اسے جائز سمجھتے ہیں، لیکن اس کی بھی کوئی واضح شرعی بنیاد نہیں ہے۔
ائمہ کرام کی آراء
ائمہ کرام کے درمیان تعویز لکھنے کے بارے میں اختلاف رائے موجود ہے:
- امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ بعض حالات میں تعویز کو جائز قرار دیتے ہیں، بشرطیکہ اس میں شرکیہ کلمات نہ ہوں اور وہ صرف قرآنی آیات یا صحیح دعاؤں پر مشتمل ہو۔
- امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ تعویز کے استعمال کو مکروہ یا ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں، خصوصاً جب اس کا مقصد اللہ کی ذات پر اعتماد کے بجائے تعویز پر انحصار کرنا ہو۔
مختلف مسالک میں تعویز لکھنا
1. بریلوی مکتب فکر
تعویز لکھنا اور استعمال کرنا عام ہے۔ بریلوی حضرات اس عمل کو جائز سمجھتے ہیں اور اسے شریعت کے خلاف نہیں مانتے، بشرطیکہ وہ قرآنی آیات یا نیک دعاؤں پر مشتمل ہو۔
2. اہل تشیع
اہل تشیع میں بھی تعویز لکھنے کا رواج پایا جاتا ہے، اور ان کے مذہبی علماء بعض تعویذات کو جائز مانتے ہیں، خصوصاً اگر وہ مقدس شخصیات یا ان کے دعاؤں پر مشتمل ہوں۔
3. احمدی مکتب فکر
احمدیوں میں تعویز کا تصور محدود ہے، اور اس پر بہت زیادہ زور نہیں دیا جاتا۔
4. دیوبندی مکتب فکر
دیوبندی علماء عمومی طور پر تعویز کے استعمال کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے دین سے باہر کی رسم تصور کرتے ہیں۔
5. اہل حدیث مکتب فکر
اہل حدیث علماء تعویز کو بدعت اور شرک کا ذریعہ مانتے ہیں اور اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر قسم کے تعویز استعمال کرنا شرعاً ناجائز ہے۔
تعویز سے بچنے کے لیے تجاویز
تعویز کے استعمال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان قرآن و سنت پر مضبوطی سے عمل پیرا ہوں اور ہر مشکل کے حل کے لیے اللہ پر مکمل بھروسہ کریں۔ شرعی تعلیمات کے مطابق، دعا اور قرآن کی تلاوت اللہ کی مدد حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو"۔
ایسے عاملین اور مولوی حضرات سے دور رہنا ضروری ہے جو تعویز کے ذریعے لوگوں کی عقیدت کا استحصال کرتے ہیں۔ دین کی روحانی طاقت اللہ سے براہ راست مدد طلب کرنے میں ہے، نہ کہ تعویذ یا دیگر جادوئی طریقوں میں۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔
کسی جانور گائے بکری سے جماع کرنا، بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنا، پڑوسی کو تکلیف دینا، وعدہ خلافی کرنا، غیر محرم عورت کی طرف بہ قصد دیکھنا، پکی قبریں بنانا، قل خوانی کرنا، عرس میلے منانا