ڈیجیٹل دور میں غیبت: اسکرین شاٹس، اسٹیٹس اور ہماری ذمہ داری
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دنیا نے انسانی زندگی کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ آج ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کی منتقلی پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور آسان ہو گئی ہے۔ لیکن اس آسانی کے ساتھ ساتھ کئی اخلاقی مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں جن میں غیبت ایک بڑا اور سنگین مسئلہ ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
"اے ایمان والو! زیادہ قیاس سے بچو، بے شک بعض قیاس گناہ ہیں، اور نہ جاسوسی کیا کرو، اور تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے بدتر بات نہ کہے، تم اسے کیسے ناپسند کرتے ہو؟" (الحجرات: 12)
یہ آیت آج کے ڈیجیٹل دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ آج ہم نے غیبت کو نئی شکلوں میں اپنایا ہے - اسکرین شاٹس، فارورڈ شدہ میسجز، اور سوشل میڈیا اسٹیٹس کے ذریعے۔
غیبت کی تعریف اور اسلامی تعلیمات
غیبت کا مطلب ہے کسی کی غیر موجودگی میں ایسی بات کرنا جو اگر وہ سن لے تو ناپسند کرے، خواہ وہ بات سچ ہو یا جھوٹ۔ اسلام میں غیبت کو انتہائی سنگین گناہ قرار دیا گیا ہے۔
"تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے بھائی کی ایسی بات کرنا جو وہ ناپسند کرے۔" (مسلم)
ڈیجیٹل غیبت کی نئی شکلیں
اسکرین شاٹس کی ثقافت
اسکرین شاٹ لینا اور اسے دوسروں کو بھیجنا آج کی سب سے عام عادت بن چکی ہے۔ ہم کسی کی نجی باتچیت کا اسکرین شاٹ لے کر اسے دوسروں کو دکھاتے ہیں۔
فارورڈ میسجز کی وبا
وٹس ایپ پر میسجز فارورڈ کرنا عام بات ہے، لیکن ہمیں اجازت کے بغیر ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
ہماری ذمہ داریاں
- اپنی زبان پر قابو رکھیں - چاہے وہ حقیقی زبان ہو یا ڈیجیٹل "زبان"
- دوسروں کی پرائیویسی کا احترام کریں
- بغیر اجازت کسی کی نجی بات شیئر نہ کریں
اختتامیہ
ڈیجیٹل دور ہمارے لیے مواقع اور چیلنجز دونوں لے کر آیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو استعمال کریں، لیکن اسلامی اصولوں کے دائرے میں رہ کر۔












