عورت کی حکمرانی: ایک تجزیاتی جائزہ
جدید دور میں بعض حلقوں کی طرف سے یہ آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ عورت کو بلا روک ٹوک ہر طرح کے عہدے، یہاں تک کہ قیادت و حکمرانی کے عہدے بھی دے دینے چاہئیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اسلام میں عورت کو ہر قسم کے عہدے تفویض کرنے کی اجازت ہے؟ نیز تاریخ انسانی میں عورت کی حکمرانی کے نتائج کیا نکلے؟ اس تحریر میں ہم اسلامی تعلیمات اور تاریخی حقائق کی روشنی میں اس مسئلے کا جائزہ لیں گے۔
اسلامی نقطہ نظر: قرآن و حدیث کی روشنی میں
(تعلیمات کے بنیادی مآخذ)
اسلامی شریعت کے بنیادی مآخذ قرآن مجید اور سنت رسول ہیں۔ جہاں تک "حکمرانی" (ریاست کی قیادت) کا تعلق ہے، اہل علم نے بے شمار دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ عورت کے لیے ملک یا ریاست کی باگ ڈور سنبھالنا جائز نہیں۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: "عورت کی حکمرانی کی ممانعت پر اجماعِ امت ہو چکا ہے، اور اس کے خلاف کوئی اختلافِ معتبر نہیں پایا جاتا۔"
صحیح بخاری کی ایک روایت میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "کبھی بھی فلاح نہیں پائیں گے وہ قوم جس نے اپنے معاملات ایک عورت کے سپرد کر دیے۔" (بخاری، کتاب المغازی) اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ کسی قوم کی باگ ڈور عورت کے ہاتھ میں دینا اس کی ناکامی اور تباہی کا سبب بنتا ہے۔
محدثین کرام اس حدیث کو "حکمرانی کے باب" میں ذکر کرتے ہیں، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ حکم عام قیادت کے لیے نہیں، بلکہ ریاست کی اعلیٰ قیادت کے لیے ہے۔
عورت کی حکمرانی کی ممانعت کے اسباب:
- جذباتی ہیجان اور فیصلہ سازی: عورت کی فطرت میں جذبات کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے، جبکہ حکمرانی کے لیے ٹھنڈے دل و دماغ سے فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں جذباتی فیصلے تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔
- عورت کی عصمت و حرمت کا تحفظ: حکمرانی کے منصب پر فائز ہونے کے لیے عوامی اجتماعات، میدانوں میں نکلنا اور بعض اوقات سخت حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب امور عورت کے شرعی پردے اور اس کی عزت و حرمت کے منافی ہیں۔
- طبیعی و نفسیاتی صلاحیتیں: اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو مختلف صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مرد کو زیادہ مضبوط جسمانی ساخت اور فیصلہ کن صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے، جو حکمرانی جیسے بھاری بوجھ کے لیے موزوں ہے۔
تاریخی شواہد: عورت کی حکمرانی کے نتیجے
تاریخ عالم اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کی حکمرانی عورت کے ہاتھ میں آئی، اس کے نتیجے میں انحطاط، خاندانی انتشار اور معاشرتی تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔
کچھ مشہور مثالیں:
ملکہ سبا (بلقیس): قرآن مجید میں ملکہ سبا کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اگرچہ اس نے اپنی قوم میں عدل و انصاف قائم رکھا، لیکن جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو ان کی فطرت میں موجود کمزوری ظاہر ہوئی اور انہوں نے اپنے مشیروں سے کہا: "میں کسی معاملے کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی۔" یہ بات عورت کی فطری فیصلہ سازی میں غیر یقینی کی عکاس ہے۔
ملکہ ایلزبتھ اول (انگلینڈ): ملکہ ایلزبتھ اول کے دور میں انگلینڈ نے اقتصادی ترقی کی، لیکن اس کے ذاتی زندگی میں انتشار اور خاندانی بے سکونی نے ملک کی سیاسی استحکام کو متاثر کیا۔
ملکہ وکٹوریہ: ملکہ وکٹوریہ کا دور برطانیہ کے عروج کا دور کہلاتا ہے، لیکن اس دور میں برطانوی سلطنت نے دنیا بھر میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ استعماری پالیسیوں کے ذریعے لاکھوں لوگ مارے گئے اور کئی ممالک تباہ ہوئے۔
ملکہ کلئوپیٹرا (مصر): کلئوپیٹرا کی حکمرانی مصر کی تباہی کا سبب بنی۔ اس کے ذاتی عشق و محبت کے معاملات نے سلطنت کو کمزور کیا اور آخرکار مصر رومی سلطنت کا حصہ بنا لیا گیا۔
پاکستان کی تاریخ میں:
بینظیر بھٹو: بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ ان کے دور میں کرپشن، بدعنوانی اور قانونی نظام کی کمزوری نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کے خاندان کے اندرونی تنازعات اور سیاسی انتشار نے ملکی استحکام کو متاثر کیا۔
مریم نواز: مریم نواز کی سیاسی سرگرمیوں نے خاندان کے اندر انتشار پیدا کیا اور سیاسی جماعتوں میں داخلی تنازعات کو ہوا دی۔
حالیہ دور کے غیر مسلم ممالک میں:
انگولا کی صدر: 2017 میں انگولا کی صدر کی نااہلی اور کرپشن کے باعث ملک معاشی بحران کا شکار ہوا۔
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن: جیسنڈا آرڈرن کی حکومت کے دوران معاشی مسائل اور ان کی ذاتی زندگی کے فیصلوں پر تنقید کی گئی۔
فن لینڈ کی وزیراعظم سانا مارین: سانا مارین کی حکومت کے دوران سیاسی تنازعات اور ان کی ذاتی زندگی پر سوال اٹھائے گئے۔
بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ: شیخ حسینہ کے دور میں سیاسی استبداد، انسانی حقوق کی پامالی اور مخالفین پر مظالم عام ہوئے۔
سری لنکا کی صدر چندریکا کمارا سنگھے: چندریکا کمارا سنگھے کی حکومت کے دوران ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں عوامی بغاوتیں ہوئیں۔
برازیل کی صدر دیلما روسیف: دلما روسیف کے دور میں کرپشن کے بڑے اسکینڈلز سامنے آئے، جس کے نتیجے میں ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
جنوبی کوریا کی صدر پارک گن ہائے: پارک گن ہائے کو بدعنوانی کے الزامات میں عہدے سے برطرف کر دیا گیا اور جیل کی سزا سنائی گئی۔
ملائیشیا کی وزیراعظم کی تاریخ: ملائیشیا میں اب تک کوئی خاتون وزیراعظم نہیں بنی، جو اس بات کی غماز ہے کہ وہاں بھی عورت کی اعلیٰ قیادت کو مناسب نہیں سمجھا جاتا۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت: افغانستان میں طالبان کی حکومت نے عورتوں کو حکمرانی کے عہدوں سے یکسر دور رکھا، جو ان کے اسلامی تشخص کا اظہار ہے۔
مشرقی تیمور کی صدر: مشرقی تیمور میں صدر کے عہدے پر فائز خاتون کے دور میں سیاسی عدم استحکام دیکھنے میں آیا۔
مذہبی، معاشرتی اور اقتصادی اثرات:
عورت کی حکمرانی کے باعث جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
- خاندانی نظام کی تباہی: عورت جب حکمرانی کے عہدے پر فائز ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داریاں گھر اور بچوں کی طرف سے کم ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں خاندانی نظام تباہ ہوتا ہے۔ بچوں کی تربیت میں خرابی واقع ہوتی ہے۔
- معاشرتی بگاڑ: عورت کی حکمرانی مردانہ قوت اور غلبے کے تصور کو مجروح کرتی ہے، جس سے معاشرے میں بے راہ روی اور اخلاقی گراوٹ پیدا ہوتی ہے۔
- مذہبی تقدس کا خاتمہ: اسلام میں عورت کو گھر کی زینت اور پرورش گاہ قرار دیا گیا ہے۔ حکمرانی کا عہدہ اس کے تقدس اور حرمت کے خلاف ہے۔
- اقتصادی عدم استحکام: تاریخ بتاتی ہے کہ عورت کی حکمرانی میں اکثر اقتصادی فیصلے جذباتی بنیادوں پر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں معیشت متاثر ہوتی ہے۔
- دفاعی کمزوری: عورت کی حکمرانی میں فوجی اور دفاعی پالیسیاں کمزور ہو جاتی ہیں، کیونکہ دفاعی امور میں فیصلہ کن قوت اور مضبوطی کی ضرورت ہوتی ہے۔
خلاصہ:
اسلامی تعلیمات اور تاریخی شواہد دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ عورت کی حکمرانی نہ صرف ناجائز ہے بلکہ تباہ کن نتائج کی حامل ہے۔ اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان فطری تقسیم کار کی ہے، جس میں عورت کو گھر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور مرد کو باہر کے معاملات کا کفیل بنایا گیا ہے۔
اسلام عورت کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے، لیکن یہ حقوق فطری حدود کے اندر رہ کر ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ عورت کو حکمرانی کے عہدے پر بٹھانا دراصل اس کی عزت و حرمت کے ساتھ کھیلنا ہے، نہ کہ اسے بااختیار بنانا۔
لہٰذا، ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے عورت کو اس کا فطری مقام و مرتبہ دینا چاہیے، نہ کہ اسے غیر فطری ذمہ داریوں کا بوجھ لاڈ کر اس کی عزت کو مجروح کریں۔