تعارف
محترم قارئین کرام! ایک وقت تھا جب ہندوستان میں انگریز سرکار انھی لوگوں کو ملازمت کی آفر کیا کرتی تھی جن کو انگریزی بولنی، پڑھنی یا لکھنی آتی ہو وہ انگریزوں کے منظور نظر ہوا کرتے تھے کیونکہ وہ ان سے ان کی زبان میں ہی بات کرتے ہیں۔ کئی سال گزر چکے ہیں انگریز چلے گئے لیکن ہمارے معاشرے میں آج بھی یہ وائرس موجود ہے آج پاکستان میں بھی انھی لوگوں کو ملازمت کی آفر زیادہ کی جاتی ہے کہ جن کو انگریزی میں بات کرنی آتی ہو، ان کے لئے اچھے مراعات آفر کیے جاتے ہیں، گویا انگریزی بولنے سے انسان کی قابلیت کے معیار کا جانچا جاتا ہے جس کو انگریزی نہیں بولنی آتی لوگوں کی نظر میں وہ بیکار شخص ہے۔
انگریزی زبان اور قابلیت کا معیار
اسی غلط فہمی کی بدولت نہ تو ہم اپنی زبان کی شناخت کر پائے اور نہ انگریزی کو ٹھیک سے رائج کر پائے، ان دونوں زبانوں کی کشمکش میں ہم عربی زبان سے ہی دور ہو کر رہ گئے۔ ہمارے سکولوں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے وہاں عربی صرف نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اس کے نہ ہونے کی وجہ سے ہماری آنے والی نسل دین اسلام کی پیروی تو دور کی بات ہے اصل مقصد سے ہی دور ہو گئی اور بھٹک گئی ہے۔ اس کی گمراہی میں زیادہ ہاتھ دین کے سمجھانے والوں کی طرف سے ہوا اور باقی ہم نے اپنے ہاتھوں سے ہلاکت کمانا شروع کر دی۔ نتیجہ آج ہر گھر میں وہ فتنے پہنچ گئے ہیں جن سے ہمیں منع کیا گیا تھا۔
قیامت کی نشانی
اگر انسان جائز طریقوں سے دنیا کا مال کمائے یا شرعی طور طریقوں سے دنیا حاصل کرے تو اس میں کوئی بری بات نہیں۔ آدمی بیان و کلام اور دلیل کے ذریعے سے روزی کمائے یہ بھی شرعی طریقہ ہی ہے۔ جس طرح کہ وکلاء حضرات جو حق بات کہنے سے نہیں ڈرتے اور راست بار رہتے ہیں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہتے ہیں، اور نیوز رپورٹرز، ٹرینرز، دین کو سمجھانے والے، کوچ، اساتذہ، سیلز آفیسرز، وغیرہ ان حضرات کی روزی کا زیادہ اعتماد چرب، شائستہ، نرم گفتگو پر ہی ہوتا ہے۔
زبان کا جائز اور ناجائز استعمال
- جھوٹی قسمیں کھانا: اپنے لین دین میں جھوٹی قسمیں کھا کر اشیاء فروخت کرنا
- چرب زبانی اور خوشامد: غیر مستحق شخص کی جھوٹی تعریف کرنا
- غلط بیانی: بے ایمانی اور غلط بیانی کر کے مال اکٹھا کرنا
- دھوکہ دہی: لوگوں کو دھوکہ دے کر ان کا مال ہڑپ کرنا
حضرت سعد بن ابی وقاص کا واقعہ
عمر بن سعد کو اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کوئی کام تھا۔ وہ والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لیکن اپنا مقصد بیان کرنے سے پہلے انھوں نے فصاحت و بلاغت سے لبریز کچھ ایسی خوشنما گفتگو کی جس طرح کہ لوگ اپنی مقصد برآری کے لیے کیا کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قرب قیامت برے لوگ بلند کر دیے جائیں گے۔ اچھے لوگ پست کر دیے جائیں گے۔ گفتگو کی کثرت ہو جائے گی۔ جبکہ عمل روک دیا جائے گا، یعنی عمل نہیں ہو گا اور لوگوں کو "مُثَنَّاۃ" پڑھائی جائے گی اور کوئی اسے برا نہیں سمجھے گا۔ پوچھا گیا: یہ مثناہ " کیا چیز ہے؟ فرمایا: جو کچھ اللہ کی کتاب کے سوا لکھا جائے"۔
ائمہ کرام کی آرا
ائمہ کرام نے زبان کے ناجائز استعمال کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "احیاء علوم الدین" میں فرمایا:
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
موجودہ معاشرتی حالات
دوسری طرف دیکھیں تو ہماری آنے والی نسلوں کو جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے وہ بھی سب دنیا کمانے کے طریقوں پر مشتمل ہے آپ جو بھی سبق اٹھا کر دیکھیں تو دنیا داری ہی نظر آتی ہے اور لگتا ہے کہ یہ جو الفاظ پڑھائے جاتے ہیں سب کے سب کھوکھلے اور بناوٹی ہیں کیونکہ ان کا اصل حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، پڑھایا کچھ جا رہا ہے عملاً کچھ ہو رہا ہے، اس لیے ہمارے معاشرے میں بگاڑ اور انتشار زیادہ پھیل رہا ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طور طریقوں میں ہم نے ملاوٹ شروع کر دی اور نتیجہ یہ کہ ہم اصلی اور حقیقی مقصد سے دور ہو کر بھٹک گئے ہیں۔