محترم قارئین کرام! ایک وقت تھا جب لوگوں کے گھر کچے ہوا کرتے تھے لیکن دلوں میں تقویٰ اور خداخوفی مضبوط ہوا کرتی تھی۔ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹ لیا کرتے تھے جہاں خوشیاں سب کے لئے سانجھی ہوا کرتی تھیں وہیں دکھ بھی سب کے لئے برابر ہوا کرتا تھا۔
آپ ﷺ نے امت کی بھلائی اور خیر و عافیت کے لئے قدم قدم پر راہنمائی فرمائی، قیامت کی ان بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی فرمائی کہ "قبائل کی قیادت جھوٹے اور فاسق لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی" اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا "قبیلے کا سب سے گھٹیا اور فاسق انسان ہی معزز تصور کیا جائے گا یعنی اس قبیلے/علاقے کا سربراہ ایک ایسا انسان ہوگا جو گھٹیا ترین ہوگا۔ اور اسی گھٹیا پن کی وجہ سے معاشرے میں امن و امان کی فضا برقرار نہ رہ پائے گی اور ظلم وستم کا راج ہوگا اور جب ایسی حالت ہوگی تو ویرانگی راج کرے گی۔
شرعی اصول یہ ہے کہ قیادت زیادہ صالح، زیادہ علم والے اور زیادہ موزوں لوگوں کے ہاتھوں میں سونپی جائے۔ جو معاشرے میں عدل اور انصاف کا بول بالا کر سکیں مگر افسوس! ایک زمانہ آئے گا کہ قوموں کی قیادت فاسق اور کمتر کے ہاتھوں میں آجائے گی۔ اس کا سبب یہ ہو گا کہ ان بُرے لوگوں کے پاس مال اور تعلقات کی کثرت ہوگی یا ان کی جرات و دلیری اور بلند حسب و نسب کے باعث قیادت ان کے ہاتھ میں آجائے گی۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ اس ملک میں کسی اہل علم، نیک و پارسا اور عادل حکمرانوں کو ہم میں بھیج جو قوم میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔