معاشرتی بگاڑ اور قیادت کا بحران
محترم قارئین کرام! ایک وقت تھا جب لوگوں کے گھر کچے ہوا کرتے تھے لیکن دلوں میں تقویٰ اور خداخوفی مضبوط ہوا کرتی تھی۔ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹ لیا کرتے تھے جہاں خوشیاں سب کے لئے سانجھی ہوا کرتی تھیں وہیں دکھ بھی سب کے لئے برابر ہوا کرتا تھا۔
وقت کی تیز رفتاری اور ٹیکنالوجی کی ایسی ہوائیں چلنا شروع ہوئیں نہ وہ ایمان رہے، نہ کچے گھر، بلکہ لوگوں کے رویے، اٹھنے بیٹھنے، روزگار کمانے اور خرچ کرنے کے طور طریقے ہی بدل گئے۔ چار پیسے کمانے والوں نے خرچ کرنے کی بجائے دولت کو جمع کرنا شروع کر دی، رفتہ رفتہ لوگوں کے خون کب سفید ہوئے، کب سفاکیت کا لبادہ اوڑھ لیا، کب چہروں پہ چہرے لگا لئے پتہ ہی نہ چلا۔
محبتوں کو بانٹنے والے وہ ہاتھ، دل وہ چہرے، جھوٹ اور سفاکیت، حلال و حرام، ظلم وستم، حتی کہ عزتوں کو پامال کرنے والے جان کے دشمن بن بیٹھے، نا خدا خوفی رہے اور نا ہی اللہ کے احکامات کی پاسداری۔
احادیث مبارکہ کی روشنی میں قیادت
آپ ﷺ نے امت کی بھلائی اور خیر و عافیت کے لئے قدم قدم پر راہنمائی فرمائی، قیامت کی ان بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی فرمائی کہ "قبائل کی قیادت جھوٹے اور فاسق لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی" اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا "قبیلے کا سب سے گھٹیا اور فاسق انسان ہی معزز تصور کیا جائے گا یعنی اس قبیلے/علاقے کا سربراہ ایک ایسا انسان ہوگا جو گھٹیا ترین ہوگا۔ اور اسی گھٹیا پن کی وجہ سے معاشرے میں امن و امان کی فضا برقرار نہ رہ پائے گی اور ظلم وستم کا راج ہوگا اور جب ایسی حالت ہوگی تو ویرانگی راج کرے گی۔
اب الیکشن کی تیاریاں شروع ہونے جا رہی ہیں جہاں آپ کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے گا جن کو آپ نے شاید اپنی پوری زندگی میں ایک بار یا ہو سکتا ہے کبھی دیکھا بھی نہ ہو۔ ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ اہل علاقہ کی بہتری کرے گا یا نہیں اور اس کو ووٹ دے دیتے ہیں اور پھر جب تک حکومت رہتی ہے ہم اس شخص کو کوستے رہتے ہیں۔
بلکہ جو سب سے زیادہ گھٹیا اور برا ہو گا اسی کو یہ منصب سونپا جائے گا۔ کسی بھی حال میں قوم کی سرداری کسی نیک اور منصف مزاج شخص کے ہاتھ میں ہرگز نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی ایسی صورتحال پیدا ہونے لگے گی تو باقی تمام لوگ اس کا بائیکاٹ کریں گے اور اس طرح اس کو منصب نہیں سونپا جائے گا۔
دراصل ایسی صورت حال زمانے کے بگاڑ کے باعث پیدا ہوگی یا پھر اس کا سبب یہ ہو گا کہ کمینے اور گھٹیا لوگوں کی کثرت ہوتی چلی جائے گی۔ ان لوگوں کے پاس دین کا علم نہ ہونے کے برابر ہوگا بلکہ ذاتی حیثیت اور بنیادی ترجیحات کی بنا پر فیصلے کئے جائیں گے۔ ان لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوگا کوئی جیے یا مرے۔
معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے انسان کے کردار کچھ اور عملاً کچھ ہوتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ لوگ تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں جس کو جہاں مفاد ملا اسی کا ہو لیا، آج ہمارے ملک کی حالت بھی کچھ ایسی ہی دکھائی دے رہی ہے، دن بدن مہنگائی اور ڈاکہ زنی، لوٹ مار، ناجائز تعلقات کی بنا پر قتل وغارت وغیرہ آپ ﷺ کے فرمان کے منہ بولتے ثبوت ہیں جو میں نے اوپر ذکر کئے ہیں۔
ظالم حکمرانوں اور جابر کارندوں کا انجام
ایک وقت آئے گا جب ظلم و ستم حد سے بڑھ جائیں گے تو معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے ریاست کے ٹھیکدار ایسی فوج کو بھیجے گی جو زور زبردستی ملک میں امن قائم کرنے کی ناکام کوشش کریں گی۔ حدیث نبوی ﷺ کے مطابق:
اہل دانش کہتے ہیں کہ وہ ریاستی پولیس کا محکمہ ہو سکتا ہے۔ جو اس احادیث کے مطابق ظلم و جبر کریں گے پولیس گردی کے لاتعداد واقعات ہم آئے روز پڑھتے اور دیکھتے رہتے ہیں ماضی قریب میں لاہور کا واقعہ سب کے سامنے ہے۔ عدلیہ کے خاموش اور بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلے بھی ہم سب کے سامنے روز روشن کی طرح ہیں، لوگوں کے دلوں سے نکلنے والی آہیں، سسکیاں، آنسو اور بددعائیں اللہ کی مخلوق کو ناجائز تکلیف پہنچانا درحقیقت اللہ رب العزت کی ناراضگی اور غیظ و غضب کو دعوت دینا ہے۔
نتیجہ اور دعا
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی قوم کی قیادت گٹھیا اور فاسق لوگوں کے ہاتھوں میں آنا ہے۔ یہ نشانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں اپنی قیادت کا انتخاب دانشمندی اور دینی بصیرت کے ساتھ کرنا چاہیے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے حکمرانوں اور قائدین کا انتخاب صالح، نیک اور عادل لوگوں میں سے کریں جو اللہ کے احکامات کو ترجیح دیں اور عوام کے ساتھ انصاف کریں۔