دوستو! کرونا وائرس کے پیش نظر کمیونٹی بیسڈ سکولز سے جڑے تمام لوگ (ٹیچر، بچے، والدین) سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کیونکہ ہنگامی حالات کے پیش نظر تعطیلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ کچھ Tips آپ کے ساتھ شیئر کروں گا۔ ہو سکتا ہے میری بات آپ کو سمجھ آ جائے اور آپ میں سے کوئی اس کا استعمال کر کے بچوں کے سال ضائع ہونے سے بچا سکے۔
مجھے ان سکولز کی اتنی فکر نہیں ہو رہی جہاں فیس لی جاتی ہے، اچھا سٹاف موجود ہے، اچھا لرننگ ماحول دیا جا رہا ہے، والدین پڑھے لکھے ہیں۔ وہ سکولز بچوں کو آن لائن کلاسز / کوچنگ دے رہے ہیں۔ چونکہ والدین اپنے بچوں کا بُرا نہیں سوچتے، اس لیے وہ اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے پورا پورا ساتھ دیتے ہیں۔
مجھے فکر ان بچوں کی ہو رہی ہے جہاں بچوں کو یہ سہولیات میسر نہیں ہیں اور وہ دن بھر کھیل کود میں اپنا وقت گزار رہے ہیں۔ چونکہ والدین پڑھے لکھے نہیں ہیں، اس لیے ان سب باتوں کی اہمیت سے نابلد ہیں۔
- ایسے میں کیا ہمیں ان بچوں کی پروا نہیں کرنی چاہیے؟
- کیا ہمیں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر وقت اور حالات کو ٹھیک ہونے کا انتظار کرنا چاہیے؟
- یا بچوں کو ان کے حالات پر چھوڑ دینا چاہیے؟
اگر ان سب باتوں کے جواب صرف اور صرف "نہیں" ہیں، تو پھر کیا کرنا چاہیے؟
کمیونٹی وزٹ
دوستو! یہ ٹائم آپ کا سپورٹ کرنے کا ٹائم ہے۔ لوگوں سے ملیں، ان کے ساتھ میٹنگ کریں، کمیونٹی کے بڑے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھیں۔ ان کو اپنے ساتھ ملائیں، ورنہ آپ کو اپنی حاضری پوری کرنے میں بہت دقت اور مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور آپ سب جانتے ہیں کہ حاضری کم ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ آپ کی ساری محنت پر پانی پھر جائے گا اگر آپ نے اپنی شکل کمیونٹی میں نہ دکھائی۔
آپ لوگ جانتے ہیں کہ رورل ایریا میں لوگوں کو سمجھانا اور بچوں کو واپس سکول میں لانا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔ پھر آپ کو حاضری پوری کرنے کے لیے منتیں سماجتیں کرنی پڑتی ہیں۔
والدین کے ساتھ میٹنگ
ایسے حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم بچوں کے والدین کو اعتماد میں لیں اور ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کریں۔ کیونکہ ان حالات میں ہر شخص پریشان، چڑچڑاپن کا شکار، تنگی معاش، فکرِ معاش سے دو چار ہے۔
لیکن ان سب کے باوجود پھر بھی ہمیں اپنی ذمہ داری سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ اگر ہم ان کو یہ سمجھا سکیں کہ جو کام سکول کی طرف سے آپ کے توسط سے بچوں کو دیا جائے، کم از کم اپنے سامنے بیٹھا کر توجہ سے کام کروائیں۔ اور پوچھیں کہ بیٹا، آپ کو جو کام دیا گیا ہے، وہ مکمل ہوا کہ نہیں؟ آپ کا اتنا تعاون بچے میں کام کی جستجو پیدا کر سکتا ہے۔
نفسیاتی سپورٹ
ہم لوگ دن بھر ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے مختلف خبروں کی وجہ سے بیمار ہو رہے ہیں۔ یا انٹرنیٹ سے کرونا کی خبریں اور وائرل ویڈیوز سے متعلق نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم کسی بھی طرح والدین کو یہ سمجھا سکیں کہ وہ یہ سرگرمیاں کم کریں، صاف ستھرا رہیں، اپنی حفاظت کریں، اور نماز پنجگانہ ادا کریں تاکہ بچوں میں کسی حد تک اچھی عادات پیدا ہو سکیں۔
ٹیچرز کی کوچنگ
ایسے حالات میں آپ اپنے سٹاف کو بھی اعتماد میں لیں اور ان کو سمجھائیں کہ مل جل کر کیسے ان حالات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ بچوں کی بہتری کے لیے اور ان کا سال ضائع نہ ہو، کیا کرنا چاہیے؟ ان سے رائے لیں، ان کی خدمات کو سرِ آنیم دیں۔
کیا وہ بچوں کو فری کوچنگ دے سکتی ہیں؟ یا آپ ان کو کچھ معاوضہ ضرور دیں، کیونکہ اگر آپ ان سے کام لے رہے ہیں، تو اس کا حق بنتا ہے، اور آپ کا فرض بنتا ہے کہ ان حالات میں وہ آپ کے ساتھ دے رہے ہیں۔ ٹیچرز کو جاب سے نکال دینا یا سیلری نہ دینا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ لہٰذا، ان سے کام لیں تاکہ اس مشعل کو بجھنے نہ دیا جائے۔
ڈیزائن ورک شیٹس
جو سکول پرائمری لیول میں کام کر رہے ہیں، وہ اپنے سلیبس کا 20 فیصد کا پلان کریں اور اس کے مطابق نرسری کے بچوں کے لیے ورک شیٹس ڈیزائن کریں اور والدین کو بلا کر ان کو دیں اور سمجھائیں کہ اپنے سامنے بیٹھا کر حل کروائیں۔ اور کسی بھی پریشانی کی صورت میں ہیلپنگ ویڈیوز یا ویڈیو لنک شیئر کریں یا پھر متعلقہ ٹیچر سے رابطہ کریں۔
بات صرف احساسِ ذمہ داری کی ہے۔
بڑی کلاسز کے بچوں کو صرف نوٹس فراہم کروائیں یا دیے گئے سابقہ ماڈل پیپرز پر پریکٹس کروا کر پابند کریں کہ وہ اپنا سبق یاد کر کے لکھ کر دکھائیں۔ اور جیسے میں نے ذکر کیا ہے کہ ٹیچر کے ذمہ بچوں کے گروپس شیئر کیے جائیں۔ ہر بچہ اپنی/اپنے متعلقہ ٹیچر سے رابطہ کرے اور سٹڈیز کو آگے لے کر چلے۔
ہوم بیسڈ سکولنگ
ان حالات میں ہوم بیسڈ سکولنگ / ہوم ٹیوٹرنگ چلایا جا سکتا ہے۔ آپ کو کرنا یہ ہے کہ لچکدار ٹائم ٹیبل بنائیں، ہر ٹیچر کو 30 بچوں کا ایک گروپ دے دیں، اور وہ ان سے رابطہ کرے (جیسے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا ماڈل ہمارے سامنے موجود ہے) اور ان 30 بچوں کی ذمہ داری لیں۔
- ڈے فرسٹ: کسی بھی ٹائم دس بچوں کو بلایا جائے اور ان کو ٹیچنگ کے ساتھ ہوم ٹاسک دے کر روانہ کیا جائے۔
- ڈے ٹو: اگلے دس بچوں کو بلایا جائے اور اسی طرح ٹیچنگ کے ساتھ ہوم ٹاسک دے کر روانہ کیا جائے۔
- ڈے تھری: اگلے دس بچوں کو بلایا جائے اور اسی طرح ٹیچنگ کے ساتھ ہوم ٹاسک دے کر روانہ کیا جائے۔
- ڈے فور: پہلا گروپ آئے گا اور اپنی کارکردگی چیک کرائے گا اور مزید آگے کی گائیڈلائنز لے کر رخصت ہو گا۔
اس پورے پراسس میں ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داری سامنے رکھنی ہو گی (ہیڈ ٹیچر، ٹیچر، والدین، آپریٹرز) تب ہم کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔
ٹیلی ٹیوٹرنگ
اگر بچوں کو ٹیچر کی طرف نہیں بھیج سکتے، تو بچوں کو سوال پوچھنے یا سمجھنے میں جو بھی دشواری ہو، ٹیچر آڈیو کانفرنس کال کے ذریعے بھی بچوں کی ہیلپ کر سکتی ہے۔ لیسن کو ریڈ کروانے میں اور سوالات کو سمجھانے میں کافی مدد گار ہو سکتی ہے۔
آن لائن کلاسز
جو سکول مالکان انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے سٹاف یا بچوں کو لیکچرز دے رہے ہیں، قابل تعریف ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو ہیلپنگ میٹریل فراہم کروائیں۔ مثلاً پنجاب گورنمنٹ نے elearn.punjab.gov.pk کی ویب سائٹ پر سائنس اور میتھ کی ویڈیو کے ساتھ میٹریل شیئر کیا ہے، اس کا استعمال کر کے بچوں کو گھر بیٹھے سمجھایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح sabaq.pk کی ویب سائٹ پر انگریزی کا مواد بہت تفصیل سے شیئر کیا گیا ہے، بالکل فری۔ تو ٹیچر اور بچے دونوں اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
آن لائن ریسورسز
جن والدین کے پاس موبائل یا لیپ ٹاپ موجود ہے، وہ ٹیچر یا سکول مالکان سے رابطہ کر کے متعلقہ آن لائن ریسورسز کا استعمال کر کے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
آف لائن ریسورسز
اور جن والدین کے پاس ریسورس تو موجود ہے لیکن چلانے میں دشواری یا انٹرنیٹ کی سہولیات میسر نہ ہونے کی صورت میں، اساتذہ کرام ان کو متعلقہ ویب سائٹ سے ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر کے دے سکتے ہیں۔ وہ اپنے گھر بیٹھ کر ویڈیو کی مدد سے اپنی تیاری کر سکتے ہیں۔ یہ میتھڈ خاص کر کے چھوٹے بچوں کے لیے کافی مفید ہو سکتا ہے۔ اگر گھر میں ایل ای ڈی موجود ہے، تو فلیش کارڈ کے ذریعے متعلقہ ویڈیوز دکھائی جا سکتی ہیں۔
جانچ پڑتال
آپ جو بھی طریقہ کار کا استعمال کر کے بچوں تک رسائی حاصل کریں، لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ آپ بچوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ٹچ رہیں۔ اگر آپ نے فاصلہ بڑھا دیا، تو کوئی بھی میتھڈ کارگر ثابت نہ ہو گا۔ اس کے لیے آپ خود بھی ایکٹو ہوں اور اپنے سٹاف کے توسط سے بچوں تک رسائی حاصل کریں۔