کرونا میں کمیونٹی بیسڈ سکولز کے بچوں کو کیسے سنبھالیں؟

تعارف

دوستو! کرونا وائرس کے پیش نظر کمیونٹی بیسڈ سکولز سے جڑے تمام لوگ (ٹیچر، بچے، والدین) سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ کیونکہ ہنگامی حالات کے پیش نظر تعطیلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ کچھ Tips آپ کے ساتھ شیئر کروں گا۔ ہو سکتا ہے میری بات آپ کو سمجھ آ جائے اور آپ میں سے کوئی اس کا استعمال کر کے بچوں کے سال ضائع ہونے سے بچا سکے۔

📖 اہم نکتہ: کرونا کے دور میں کمیونٹی بیسڈ سکولز کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل محدود ہیں۔ ہمیں ان کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے جدید حکمت عملیاں اپنانا ہوں گی۔

مجھے ان سکولز کی اتنی فکر نہیں ہو رہی جہاں فیس لی جاتی ہے، اچھا سٹاف موجود ہے، اچھا لرننگ ماحول دیا جا رہا ہے، والدین پڑھے لکھے ہیں۔ وہ سکولز بچوں کو آن لائن کلاسز / کوچنگ دے رہے ہیں۔ چونکہ والدین اپنے بچوں کا بُرا نہیں سوچتے، اس لیے وہ اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے پورا پورا ساتھ دیتے ہیں۔

مجھے فکر ان بچوں کی ہو رہی ہے جہاں بچوں کو یہ سہولیات میسر نہیں ہیں اور وہ دن بھر کھیل کود میں اپنا وقت گزار رہے ہیں۔ چونکہ والدین پڑھے لکھے نہیں ہیں، اس لیے ان سب باتوں کی اہمیت سے نابلد ہیں۔

اگر ان سب باتوں کے جواب صرف اور صرف "نہیں" ہیں، تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ آئیے اس مضمون میں تفصیل سے جانتے ہیں۔

کمیونٹی وزٹ

دوستو! یہ ٹائم آپ کا سپورٹ کرنے کا ٹائم ہے۔ لوگوں سے ملیں، ان کے ساتھ میٹنگ کریں، کمیونٹی کے بڑے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھیں۔ ان کو اپنے ساتھ ملائیں، ورنہ آپ کو اپنی حاضری پوری کرنے میں بہت دقت اور مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور آپ سب جانتے ہیں کہ حاضری کم ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ آپ کی ساری محنت پر پانی پھر جائے گا اگر آپ نے اپنی شکل کمیونٹی میں نہ دکھائی۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم اپنی کمیونٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہمارے بچے کرونا کے دوران کیا کر رہے ہیں؟

آپ لوگ جانتے ہیں کہ رورل ایریا میں لوگوں کو سمجھانا اور بچوں کو واپس سکول میں لانا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔ پھر آپ کو حاضری پوری کرنے کے لیے منتیں سماجتیں کرنی پڑتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کمیونٹی کے ساتھ مضبوط تعلقات بنائیں۔

والدین کے ساتھ میٹنگ

ایسے حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم بچوں کے والدین کو اعتماد میں لیں اور ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کریں۔ کیونکہ ان حالات میں ہر شخص پریشان، چڑچڑاپن کا شکار، تنگی معاش، فکرِ معاش سے دو چار ہے۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم والدین کے ساتھ باقاعدہ رابطہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم ان کی مشکلات کو سمجھتے ہیں؟

لیکن ان سب کے باوجود پھر بھی ہمیں اپنی ذمہ داری سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ اگر ہم ان کو یہ سمجھا سکیں کہ جو کام سکول کی طرف سے آپ کے توسط سے بچوں کو دیا جائے، کم از کم اپنے سامنے بیٹھا کر توجہ سے کام کروائیں۔ اور پوچھیں کہ بیٹا، آپ کو جو کام دیا گیا ہے، وہ مکمل ہوا کہ نہیں؟ آپ کا اتنا تعاون بچے میں کام کی جستجو پیدا کر سکتا ہے۔

نفسیاتی سپورٹ

ہم لوگ دن بھر ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے مختلف خبروں کی وجہ سے بیمار ہو رہے ہیں۔ یا انٹرنیٹ سے کرونا کی خبریں اور وائرل ویڈیوز سے متعلق نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم کسی بھی طرح والدین کو یہ سمجھا سکیں کہ وہ یہ سرگرمیاں کم کریں، صاف ستھرا رہیں، اپنی حفاظت کریں، اور نماز پنجگانہ ادا کریں تاکہ بچوں میں کسی حد تک اچھی عادات پیدا ہو سکیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم اپنے بچوں کو نفسیاتی طور پر مضبوط بنا رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں مثبت سوچ اور صبر کی تعلیم دے رہے ہیں؟

ٹیچرز کی کوچنگ

ایسے حالات میں آپ اپنے سٹاف کو بھی اعتماد میں لیں اور ان کو سمجھائیں کہ مل جل کر کیسے ان حالات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ بچوں کی بہتری کے لیے اور ان کا سال ضائع نہ ہو، کیا کرنا چاہیے؟ ان سے رائے لیں، ان کی خدمات کو سرِ آنیم دیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم اپنے اساتذہ کی مدد کر رہے ہیں؟ کیا ہم ان کی تربیت اور حوصلہ افزائی کر رہے ہیں؟

کیا وہ بچوں کو فری کوچنگ دے سکتی ہیں؟ یا آپ ان کو کچھ معاوضہ ضرور دیں، کیونکہ اگر آپ ان سے کام لے رہے ہیں، تو اس کا حق بنتا ہے، اور آپ کا فرض بنتا ہے کہ ان حالات میں وہ آپ کے ساتھ دے رہے ہیں۔ ٹیچرز کو جاب سے نکال دینا یا سیلری نہ دینا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ لہٰذا، ان سے کام لیں تاکہ اس مشعل کو بجھنے نہ دیا جائے۔

ڈیزائن ورک شیٹس

جو سکول پرائمری لیول میں کام کر رہے ہیں، وہ اپنے سلیبس کا 20 فیصد کا پلان کریں اور اس کے مطابق نرسری کے بچوں کے لیے ورک شیٹس ڈیزائن کریں اور والدین کو بلا کر ان کو دیں اور سمجھائیں کہ اپنے سامنے بیٹھا کر حل کروائیں۔ اور کسی بھی پریشانی کی صورت میں ہیلپنگ ویڈیوز یا ویڈیو لنک شیئر کریں یا پھر متعلقہ ٹیچر سے رابطہ کریں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم بچوں کے لیے دلچسپ اور تعلیمی ورک شیٹس ڈیزائن کر رہے ہیں؟ کیا یہ ورک شیٹس بچوں کی عمر اور سطح کے مطابق ہیں؟

بات صرف احساسِ ذمہ داری کی ہے۔ بڑی کلاسز کے بچوں کو صرف نوٹس فراہم کروائیں یا دیے گئے سابقہ ماڈل پیپرز پر پریکٹس کروا کر پابند کریں کہ وہ اپنا سبق یاد کر کے لکھ کر دکھائیں۔ اور جیسے میں نے ذکر کیا ہے کہ ٹیچر کے ذمہ بچوں کے گروپس شیئر کیے جائیں۔ ہر بچہ اپنی/اپنے متعلقہ ٹیچر سے رابطہ کرے اور سٹڈیز کو آگے لے کر چلے۔

ہوم بیسڈ سکولنگ

ان حالات میں ہوم بیسڈ سکولنگ / ہوم ٹیوٹرنگ چلایا جا سکتا ہے۔ آپ کو کرنا یہ ہے کہ لچکدار ٹائم ٹیبل بنائیں، ہر ٹیچر کو 30 بچوں کا ایک گروپ دے دیں، اور وہ ان سے رابطہ کرے (جیسے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا ماڈل ہمارے سامنے موجود ہے) اور ان 30 بچوں کی ذمہ داری لیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہوم بیسڈ سکولنگ کا نظام ہمارے معاشرے میں ممکن ہے؟ کیا والدین اس کے لیے تیار ہیں؟

اس پورے پراسس میں ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داری سامنے رکھنی ہو گی (ہیڈ ٹیچر، ٹیچر، والدین، آپریٹرز) تب ہم کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

ٹیلی ٹیوٹرنگ

اگر بچوں کو ٹیچر کی طرف نہیں بھیج سکتے، تو بچوں کو سوال پوچھنے یا سمجھنے میں جو بھی دشواری ہو، ٹیچر آڈیو کانفرنس کال کے ذریعے بھی بچوں کی ہیلپ کر سکتی ہے۔ لیسن کو ریڈ کروانے میں اور سوالات کو سمجھانے میں کافی مدد گار ہو سکتی ہے۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم ٹیلی ٹیوٹرنگ کے ذریعے بچوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس اس کے لیے وسائل ہیں؟

آن لائن کلاسز

جو سکول مالکان انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے سٹاف یا بچوں کو لیکچرز دے رہے ہیں، قابل تعریف ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو ہیلپنگ میٹریل فراہم کروائیں۔ مثلاً پنجاب گورنمنٹ نے elearn.punjab.gov.pk کی ویب سائٹ پر سائنس اور میتھ کی ویڈیو کے ساتھ میٹریل شیئر کیا ہے، اس کا استعمال کر کے بچوں کو گھر بیٹھے سمجھایا جا سکتا ہے۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم آن لائن کلاسز کو موثر بنا رہے ہیں؟ کیا ہم طلباء کو انٹرایکٹو طریقے سے پڑھا رہے ہیں؟

اسی طرح sabaq.pk کی ویب سائٹ پر انگریزی کا مواد بہت تفصیل سے شیئر کیا گیا ہے، بالکل فری۔ تو ٹیچر اور بچے دونوں اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

آن لائن ریسورسز

جن والدین کے پاس موبائل یا لیپ ٹاپ موجود ہے، وہ ٹیچر یا سکول مالکان سے رابطہ کر کے متعلقہ آن لائن ریسورسز کا استعمال کر کے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم آن لائن ریسورسز کو بہتر طریقے سے استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہم طلباء کو ان کے بارے میں بتا رہے ہیں؟

آف لائن ریسورسز

اور جن والدین کے پاس ریسورس تو موجود ہے لیکن چلانے میں دشواری یا انٹرنیٹ کی سہولیات میسر نہ ہونے کی صورت میں، اساتذہ کرام ان کو متعلقہ ویب سائٹ سے ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر کے دے سکتے ہیں۔ وہ اپنے گھر بیٹھ کر ویڈیو کی مدد سے اپنی تیاری کر سکتے ہیں۔ یہ میتھڈ خاص کر کے چھوٹے بچوں کے لیے کافی مفید ہو سکتا ہے۔ اگر گھر میں ایل ای ڈی موجود ہے، تو فلیش کارڈ کے ذریعے متعلقہ ویڈیوز دکھائی جا سکتی ہیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم آف لائن ریسورسز کو بھی استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہم ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر کے بچوں تک پہنچا رہے ہیں؟

جانچ پڑتال

آپ جو بھی طریقہ کار کا استعمال کر کے بچوں تک رسائی حاصل کریں، لیکن اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ آپ بچوں کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ٹچ رہیں۔ اگر آپ نے فاصلہ بڑھا دیا، تو کوئی بھی میتھڈ کارگر ثابت نہ ہو گا۔ اس کے لیے آپ خود بھی ایکٹو ہوں اور اپنے سٹاف کے توسط سے بچوں تک رسائی حاصل کریں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم بچوں کی کارکردگی کو باقاعدگی سے مانیٹر کر رہے ہیں؟ کیا ہم ان کی ترقی کو ٹریک کر رہے ہیں؟

مزید تدریسی حکمت عملیاں

کرونا کے دور میں تدریس کے لیے مزید حکمت عملیاں اپنانا ضروری ہے تاکہ بچے تعلیم سے جڑے رہیں اور ان کا سال ضائع نہ ہو۔

📖 1. پروجیکٹ بیسڈ لرننگ

بچوں کو چھوٹے چھوٹے پروجیکٹ دیے جائیں جو وہ گھر پر مکمل کر سکیں۔ مثال کے طور پر، ایک درخت بنانا، ایک کہانی لکھنا، یا ایک ماڈل تیار کرنا۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم پروجیکٹ بیسڈ لرننگ کو استعمال کر رہے ہیں؟ کیا یہ بچوں کی دلچسپی کو بڑھا رہا ہے؟

📖 2. گروپ ڈسکشن

بچوں کو چھوٹے چھوٹے گروپس میں تقسیم کریں اور انہیں مختلف موضوعات پر بات کرنے دیں۔ اس سے ان کی بولنے اور سننے کی مہارت بہتر ہوگی۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم گروپ ڈسکشن کو فروغ دے رہے ہیں؟ کیا ہم بچوں کو اپنی رائے دینے کا موقع دے رہے ہیں؟

📖 3. گیم بیسڈ لرننگ

تعلیمی کھیلوں اور سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو سکھائیں۔ اس سے سیکھنے کا عمل مزہ دار بن جاتا ہے اور بچے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم گیم بیسڈ لرننگ کو استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہم بچوں کی عمر کے مطابق کھیل ڈیزائن کر رہے ہیں؟

📖 4. پڑھنے کی مہارت

بچوں کو روزانہ کم از کم 30 منٹ پڑھنے کی ترغیب دیں۔ انہیں مختلف کتابیں، کہانیاں اور مضامین پڑھنے کو دیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم بچوں کو پڑھنے کی عادت ڈال رہے ہیں؟ کیا ہمارے پاس بچوں کے لیے موزوں کتابیں ہیں؟

طلباء کو مصروف رکھنے کے طریقے

کرونا کے دوران طلباء کو تعلیم سے جڑے رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہاں کچھ طریقے ہیں جو اس میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

📖 1. روزانہ چیلنجز

ہر روز بچوں کو ایک چھوٹا سا چیلنج دیں، جیسے ایک مسئلہ حل کرنا، ایک نظم یاد کرنا، یا ایک تجربہ کرنا۔ اس سے ان کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم روزانہ چیلنجز دے رہے ہیں؟ کیا یہ چیلنجز بچوں کی سطح کے مطابق ہیں؟

📖 2. انعامات اور حوصلہ افزائی

بچوں کو ان کی کامیابیوں پر انعامات دیں، چاہے وہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے ان کا حوصلہ بڑھتا ہے اور وہ زیادہ محنت کرتے ہیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم بچوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں؟ کیا ہم ان کی چھوٹی کامیابیوں کو بھی سراہتے ہیں؟

📖 3. والدین کو شامل کرنا

والدین کو بچوں کی تعلیم میں شامل کریں۔ انہیں بتائیں کہ وہ گھر پر کیسے بچوں کی مدد کر سکتے ہیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم والدین کو تعلیمی عمل میں شامل کر رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں؟

📖 4. تخلیقی سرگرمیاں

بچوں کو تخلیقی سرگرمیاں دیں، جیسے ڈرائنگ، پینٹنگ، کرافٹ، اور آرٹ۔ اس سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں۔

🤔 غور طلب نکتہ: کیا ہم بچوں کو تخلیقی سرگرمیوں کے مواقع دے رہے ہیں؟ کیا ہم ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو پہچانتے ہیں؟

غور طلب نکات

  • کیا ہم کرونا کے دوران اپنے بچوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں؟
  • کیا ہم اپنے اساتذہ کو آن لائن تدریس کے لیے تربیت دے رہے ہیں؟
  • کیا ہم کمیونٹی بیسڈ سکولز کے بچوں کو انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل آلات فراہم کر رہے ہیں؟
  • کیا ہم والدین کو بچوں کی تعلیم میں شامل کر رہے ہیں؟
  • کیا ہم بچوں کو نفسیاتی طور پر مضبوط بنا رہے ہیں؟
  • کیا ہم بچوں کو تخلیقی اور انٹرایکٹو طریقوں سے پڑھا رہے ہیں؟
  • کیا ہم بچوں کی کارکردگی کو باقاعدگی سے مانیٹر کر رہے ہیں؟
  • کیا ہم بچوں کو تعلیم کے ساتھ کھیل کود کا بھی موقع دے رہے ہیں؟

خلاصہ

📖 خلاصہ: کرونا وائرس کے دوران کمیونٹی بیسڈ سکولز کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے ہمیں مختلف حکمت عملیاں اپنانا ہوں گی جیسے کمیونٹی وزٹ، والدین کے ساتھ میٹنگ، ٹیچرز کی کوچنگ، ورک شیٹس ڈیزائن کرنا، ہوم بیسڈ سکولنگ، ٹیلی ٹیوٹرنگ، آن لائن کلاسز، اور آن لائن/آف لائن ریسورسز کا استعمال۔

مزید تدریسی حکمت عملیاں جیسے پروجیکٹ بیسڈ لرننگ، گروپ ڈسکشن، گیم بیسڈ لرننگ، اور پڑھنے کی مہارت بھی بہت اہم ہیں۔ طلباء کو مصروف رکھنے کے لیے روزانہ چیلنجز، انعامات، والدین کو شامل کرنا، اور تخلیقی سرگرمیاں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ہمیں بچوں کی کارکردگی کو باقاعدگی سے مانیٹر کرنا چاہیے اور انہیں نفسیاتی طور پر مضبوط بنانا چاہیے۔ یاد رکھیں، احساسِ ذمہ داری ہی کامیابی کی کلید ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان مشکل حالات میں بچوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

#کرونا #کمیونٹی_سکول #بچے #تدریسی_حکمت_عملیاں #آن_لائن_تعلیم #ہوم_اسکولنگ #ٹیلی_ٹیوٹرنگ #ورک_شیٹس

📊 آپ کا ردعمل