غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں تینتالیسواں گناہ ناحق لڑائی جھگڑا کرنا ہے۔ اگر آپ مزید آرٹیکل پڑھنا چاہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔
غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں ناحق لڑائی جھگڑا کرنا بھی ایک اہم موضوع ہے۔ اس مضمون میں ہم اس گناہ کی تفصیلات، تاریخی پس منظر، اسلامی احکامات اور موجودہ دور میں اس کی نوعیت پر روشنی ڈالیں گے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق ناحق لڑائی جھگڑا ایک بڑا گناہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت میں نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ گناہ نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی میں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ناحق لڑائی جھگڑا کی سخت مذمت کی گئی ہے اور مسلمانوں کو صلح اور افہام و تفہیم کی تاکید کی گئی ہے۔
ناحق لڑائی جھگڑا سے مراد وہ جھگڑے اور اختلافات ہیں جو کسی جائز اور ٹھوس وجہ کے بغیر کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد صرف ذاتی مفادات کا حصول، ضد یا انا کی تسکین ہوتی ہے۔ یہ لڑائی جھگڑا معاشرتی بگاڑ اور اختلافات کو بڑھاتا ہے اور بھائی چارے اور محبت کو ختم کر دیتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ناحق لڑائی جھگڑا سے بچنے کا حکم دیا ہے اور اسے فتنہ و فساد کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور فساد نہ پھیلاؤ زمین میں، جبکہ اس کی اصلاح کی جا چکی ہو۔" یہ آیت ہمیں زمین میں فساد اور لڑائی جھگڑے سے بچنے کی تلقین کرتی ہے کیونکہ ایسے اعمال سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے: "اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔" اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اتحاد اور بھائی چارے کی تلقین کی ہے اور آپس کے جھگڑوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے بھی ناحق لڑائی جھگڑا کرنے والوں کے لیے سخت وعید بیان کی ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں فرمایا: "سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص اللہ کے نزدیک وہ ہے جو بہت جھگڑالو ہو۔"
اسی طرح ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے، میں اس کے لیے جنت کے وسط میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔" اس حدیث میں واضح طور پر جھگڑے سے بچنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا ترک کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقام کا باعث ہے۔
اسلام سے پہلے کے دور جاہلیت میں عرب معاشرہ آپس کی لڑائیوں اور قبائلی جھگڑوں میں مبتلا تھا۔ معمولی باتوں پر سالہا سال جنگیں ہوتی تھیں، جنہیں اسلام نے آ کر ختم کیا اور مسلمانوں کو بھائی چارے اور صلح کی تعلیم دی۔ اسلامی تاریخ میں بھی ناحق لڑائی جھگڑوں کے نتیجے میں بڑے فتنہ و فساد برپا ہوئے۔
گھریلو جھگڑے، میاں بیوی کے درمیان غلط فہمیوں اور ناچاقی کا نتیجہ اکثر طلاق کی صورت میں نکلتا ہے، اور آج کے دور میں طلاق کے شرح میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے، صبر کا فقدان، اعتماد کی کمی بڑی وجوہات ہیں۔
صبر و برداشت، صلح کی کوشش، حق پر قائم رہتے ہوئے جھگڑا ترک کرنا، دوسروں کے حقوق کا احترام اسلام کی تعلیمات ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم افہام و تفہیم کی راہ اپنائیں۔
جوا کھیلنا، بیوی کو خاوند کے خلاف بھڑکانا، لعنت کرنا، احسان جتلانا، دیوث بننا، میلاد منانا، حلالہ کرنا یا کروانا، ہم جنس پرستی — جاندار کو آگ میں جلانا، پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا، سود کھانا، ظلم کرنا، رشوت لینا یا دینا، زنا کرنا۔