محترم قارئین کرام! جھوٹ ایک بدترین غلاظت ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے۔ بندہ جب جھوٹ بولتا ہے تو ملائکہ اس سے دور بھاگ جاتے ہیں کیونکہ جھوٹ بولنے کی وجہ سے اس کے منہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ بالکل سچائی انسان کو ہمیشہ نجات دلاتی ہے جبکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور وہ انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔
جھوٹی گواہی کی مذمت
جھوٹی گواہی دینا ایسا ہے گویا حقدار کو زندہ دفن کرنے کے مترادف ہے اور جس کا حق نہیں ہے اس کو جھوٹ کے ذریعے وہ حق دلانا جو اس کا حقیقتاً ہے ہی نہیں، یہ بدترین گناہ ہے۔ اور رحمٰن کے بندے ہرگز ایسے نہیں ہیں نہ وہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں اور نہ ہی باطل اور ناحق محفلوں میں شرکت کرتے ہیں۔ (کفار کی عیدیں اور میلے، گانے اور بجانے کی محفلیں، شراب اور رقص و سرود کی محفلیں، الغرض ساری بری محفلیں ہیں) جہاں حق تلفی ہوتی وہاں رحمٰن کے بندے ہرگز نہیں جاتے، اگر ہم اپنے معاشرے میں ایک جھلک دیکھ لیں، ولیمہ، برتھ ڈے، عرس و میلہ وغیرہ اگر ایسی محفل سے گزر ہو جائے تو وہاں سے بڑے معتبر طریقے سے اٹھ جاتے ہیں۔
جھوٹی گواہی کے معاشرتی اثرات
لوگوں میں جھوٹی گواہی کا عام ہو جانا اور لوگوں کا اس بارے میں سستی کرنا قیامت کی علامات میں سے ہے، جیسا کہ حدیث سابق میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ "قیامت سے پہلے جھوٹی گواہی عام ہو جائے گی"۔
جھوٹی گواہی صرف عدالتوں میں قاضی اور حاکم کے سامنے ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ زندگی کے تمام شعبہ جات اور معاملات کو محیط ہے، جیسا کہ لوگوں کا آپس کے روزمرہ کے معاملات میں غلط بیانی، جھوٹی گواہی دینا، بعض کمپنیوں اور اداروں کے ملازمین کا اپنی ذمہ داری کے حوالے سے مدارس اور جامعات میں طالب علموں کی جھوٹی گواہی اور بچوں کی اپنے والدین کے سامنے جھوٹی گواہی بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔
قیامت کی علامات
آپ ﷺ نے جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسم یا غلط بیانی کے ذریعے دوسروں کا حق مارنے سے اپنی امت کو بہت ڈرایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلم بھائی کا مال ہڑپ کر لے گا، وہ کل اللہ کی عدالت میں اس حال میں پیش ہو گا کہ اللہ اس پر سخت ناراض ہو گا"۔
جھوٹی گواہی کی مختلف صورتیں
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس کسی نے جھوٹی قسم کھا کر اپنے مسلم بھائی کا حق مارا، اللہ نے اس پر جہنم واجب اور جنت حرام کر دی۔ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ کوئی معمولی چیز ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی کیوں نہ ہو"۔
جھوٹی قسم کا وبال
گناہ چھوٹا ہو یا بڑا گناہ ذلت و رسوائی کا سبب ہے دنیا میں بھی جھوٹے انسان کے کردار کو اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن گناہ کے سبب دنیا و آخرت دونوں جہتوں پر انسان کے ہلاکت ہے۔ آج ہم اتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں اور اس قدر جھوٹ بولنے کے عادی ہو چکے ہیں کہ گناہ گناہ نہیں لگتا۔ اللہ پاک ہم سب کو معاف کرے اور ہمیں ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔