🌙

چاند کا معمول سے بڑا نظر آنے پر آپ ﷺ نے کیا پیشین گوئی فرمائی؟

چاند کا معمول سے بڑا نظر آنے کی پیشین گوئی، قیامت کی علامات، اور چاند دیکھنے کے احکامات پر ایک جامع اور تحقیقی مضمون

|
چاند کا معمول سے بڑا نظر آنے پر آپ ﷺ نے کیا پیشین گوئی فرمائی؟
پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

چاند کا معمول سے بڑا نظر آنے پر آپ ﷺ نے کیا پیشین گوئی فرمائی؟

دوستو! قمری کیلنڈر مسلمانوں کے نزدیک بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام کے ارکان میں سے دو کا اس کیلنڈر سے بہت گہرا تعلق ہے، رمضان کے روزے رکھنا، عیدین، یا پھر حرمت والے دن، یا دیگر معاملات غرض یہ کہ چاند دیکھ کر فرائض کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

لیکن جب بھی چاند دیکھنے کی تیاری کی جاتی ہے ہمارے ہاں یہ روایات پائی جاتی ہیں کہ عام طور پر اختلاف رائے یا پھر تنقید برائے تنقید کا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ ہمیں نیا چاند دیکھنے اور سلامتی کی دعائیں مانگنے کا حکم فرمایا گیا۔

چاند دیکھنے میں اختلافات

آج کل ہم چاند کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی بجائے دوسروں کی آنکھوں اور باتوں پر یقین کرتے ہیں۔ مختلف مقامات سے شہادتیں اکٹھی کی جاتی ہیں اور پھر ایک جماعت کی مشترکہ رائے سے فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔

علم نجوم اور پیشین گوئیاں

زیادہ تر لوگ علم نجوم سے رائے لینا شروع کر دیتے ہیں کہ بتائیں جی ہمارا سال، مہینہ، یا دن کیسے گزرے گا اور یہ لوگ اپنے ناقص علم اور رائے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پیشین گوئیاں فرماتے دکھائی دیتے ہیں۔

بعض اوقات یہ پیشین گوئیاں سچ ہو جاتی ہیں لیکن اکثر اوقات ان لوگوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ کیونکہ عالم الغیب تو صرف اللہ رب العزت کی ذات اقدس ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ کب کیا ہو گا؟

ماہرین فلکیات کی رائے

زیادہ پڑھے لکھے لوگ ماہرین فلکیات کی رپورٹ کا انتظار کرتے ہیں اور پھر اگلا قدم اٹھانے کا سوچتے ہیں۔ کیونکہ ماہر فلکیات چاند کی عمر، اس کی چمک اور سورج اور چاند کے غروب ہونے کے درمیانی وقفے کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب چاند کی عمر اٹھارہ گھنٹے سے زائد ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں چاند زیادہ روشن ہوتا ہے اور نظر آنے کے امکانات بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ اور اگر چاند کی عمر پندرہ گھنٹوں سے کم ہو تو چاند کے امکانات کم ہوتے ہیں یا نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر انتیسویں کی رات اگر چاند نہیں دکھائی دیتا تو ہم لوگ تیس دن پورے کرتے ہیں اور یہی حکم بھی دیا گیا ہے۔ جب چاند تیس دن پورے کرنے کے بعد ظاہر ہوتا ہے تو وہ پہلے سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے کیونکہ انتیسویں اور تیسویں کی رات میں 24 گھنٹوں کا اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے چاند پوری آب و تاب کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔

صحابہ کرام کے دور میں اختلاف

چاند کے بارے میں اختلاف رائے صحابہ کرام کے دور میں بھی تھا جیسا کہ روایت میں ہے کہ چند صحابہ کرام عمرہ کے لیے نکلے تو جب وہ وادی نخلہ میں پہنچے تو انھوں نے چاند کو دیکھا، ان میں سے بعض نے کہا کہ یہ تیسری کا چاند ہے اور کسی نے کہا کہ یہ دوسری رات کا چاند ہے۔ جب ان کی ملاقات حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انھوں نے عرض کیکہ ہم نے چاند دیکھا ہے کوئی کہتا ہے کہ تیسری کا ہے تو کوئی کہتا ہے دوسری کا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ تم نے کس رات چاند دیکھا تھا؟ تو انھوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ رب العزت نے دیکھنے کے لیے اسے بڑھا دیا ہے۔ درحقیقت اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔

یوں تو ہلال مہینے کے آغاز میں پہلی رات کے چاند کو کہتے ہیں۔ یہ چاند قمری مہینے کی پہلی رات میں چھوٹا سا نظر آتا ہے، پھر مہینے کے نصف تک بتدریج بڑھتا رہتا ہے، پھر مہینے کے نصف سے آخر تک بتدریج چھوٹا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

قیامت کی علامت: چاند کا بڑا نظر آنا

علامات قیامت میں سے پہلی رات کے چاند کا بڑا نظر آنا بھی ہے، یعنی چاند ابتدائی رات ہی میں معمول سے بڑا نظر آنے لگے گا۔ لوگ پہلی رات کے چاند کو دوسری رات کا چاند خیال کریں گے۔

جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا "قرب قیامت چاند معمول سے بڑا نظر آئے گا۔ پہلی رات کا چاند دیکھ کر کہا جائے گا کہ یہ تو دوسری رات کا چاند ہے"۔

خلاصہ

چاند کا معمول سے بڑا نظر آنا قیامت کی ایک اہم علامت ہے جس کی پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔ آج کے دور میں ہم چاند دیکھنے میں اختلافات اور علم نجوم کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں، جبکہ ہمیں چاند کی رویت کے لیے شرعی احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ قرب قیامت چاند ابتدائی رات ہی میں بڑا نظر آئے گا اور لوگ اسے دوسری رات کا چاند سمجھیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قیامت کے قریب آنے کی ایک نشانی ہے۔

#چاند #قیامت_کی_علامات #پیشین_گوئی #ہلال #رسول_اللہ #چاند_دیکھنا
اس پوسٹ پر اپنا ردعمل دیں
Uzair Hameed

Uzair Hameed

بلاگ لوورز کے بانی اور مذہبی موضوعات پر محقق۔ اسلامیات، تاریخ اور قیامت کی علامات پر مضامین تحریر کرتے ہیں۔