تعارف: نجومی/کاہن سے تصدیق کروانا - ایک سنگین گناہ
نجومی یا کاہن سے تصدیق کروانا ایک ایسا عمل ہے جس میں لوگ کسی مخصوص فرد، نجومی یا کاہن کے پاس جا کر اپنی قسمت، مستقبل، یا غیب کی باتیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں ہاتھ دکھانا، زائچہ بنوانا، ستاروں کی چال دیکھنا، یا کسی طرح کی پیشنگوئیاں کروانا شامل ہوتا ہے۔ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ غیب کی باتیں جانتے ہیں اور لوگوں کو ان کی زندگی کے مستقبل کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔
اسلام میں یہ عمل نہایت شدید ممانعت کا حامل ہے، کیونکہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "اور اللہ کے سوا کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔" یہ ایک بنیادی عقیدہ ہے جس پر اسلام کی عمارت قائم ہے، اور اس عقیدے کو کمزور کرنے والا کوئی بھی عمل شرک کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔
دورِ جاہلیت میں نجومیوں کا رواج
دور جاہلیت میں عرب معاشرے میں لوگ نجومیوں اور کاہنوں کی باتوں پر یقین رکھتے تھے اور اپنی زندگی کے فیصلے ان کے کہنے کے مطابق کرتے تھے۔ لوگوں کو یقین تھا کہ یہ نجومی ستاروں کی مدد سے غیب کی باتیں جان سکتے ہیں، اور اس طرح وہ لوگ اپنی قسمت اور زندگی کے اہم معاملات کا حل تلاش کرتے تھے۔ یہ یقین ایک بڑی گمراہی کا باعث بنتا تھا اور لوگوں کو حق سے دور لے جاتا تھا۔
عرب معاشرے میں کاہنوں کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ لوگ ان کے پاس جا کر اپنے کاروبار، شادی، جنگ، اور دیگر اہم فیصلوں کے بارے میں مشورہ لیتے تھے۔ یہ کاہن اپنے آپ کو جنات سے رابطہ کرنے والا اور غیب کا جاننے والا ظاہر کرتے تھے، جبکہ حقیقت میں یہ سب فریب اور دھوکہ تھا۔
احادیث کی روشنی میں ممانعت
رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی سختی سے ممانعت کی ہے کہ کوئی بھی شخص نجومی یا کاہن کے پاس جا کر اپنی قسمت کا حال دریافت کرے۔ یہ ممانعت اس قدر سخت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا کرنے والے شخص کو گویا قرآن پر ایمان نہ رکھنے والے کے برابر قرار دیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نجومی کے پاس محض سوال پوچھنے کے لیے جانا بھی اتنا سنگین گناہ ہے کہ چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ اور اگر اس کی باتوں کی تصدیق بھی کی جائے تو پھر یہ کفر کے درجے تک جا پہنچتا ہے۔ علماء کرام نے اس مسئلے پر تفصیلی بحث کی ہے اور واضح کیا ہے کہ نجومی پر ایمان لانا شرک ہے۔
دیگر مذاہب میں نجومیوں کا کردار
ہندو ازم میں بھی نجومیوں اور کاہنوں کا بڑا کردار رہا ہے۔ وہاں کے لوگ اپنی زندگی کے اہم فیصلے پنڈتوں، عاملوں سے کراواتے ہیں جیسے شادی، کاروبار، اور دیگر معاشرتی امور، نجومیوں کے مشورے کے مطابق کرتے ہیں۔ یہ ایک قدیم رسم ہے جس کے ذریعے لوگ اپنے مستقبل کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ معاشرتی بدامنی اور ذہنی پریشانیوں کا باعث بنتا ہے۔
دیگر مذاہب جیسے کہ زرتشت اور بدھ مت میں بھی نجومیوں اور کاہنوں سے مشورہ لینے کا رواج رہا ہے۔ زرتشت مذہب میں نجومیوں کو ایک خاص حیثیت حاصل تھی اور لوگ ان کے مشورے پر عمل کرتے تھے۔ یہ عمل ان مذاہب میں آج بھی موجود ہے، اور لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ نجومی اور کاہن ان کی زندگی کے بارے میں صحیح معلومات دے سکتے ہیں۔ یہ تمام اعمال توحید کے بنیادی تصور کے خلاف ہیں۔
جدید میڈیا اور نجومیوں کا پروپیگنڈا
آج کے دور میں ٹی وی چینلز اور میڈیا کے ذریعے نجومیوں اور کاہنوں کو عوامی پلیٹ فارم فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ مختلف چینلز پر آ کر لوگوں کے سوالات کا جواب دیتے ہیں اور ان کی قسمت کے بارے میں بتاتے ہیں۔ اس سے لوگ توہمات پرستی اور بدشگونی جیسی برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے دور میں بھی نجومیوں نے اپنی سرگرمیاں آن لائن منتقل کر دی ہیں۔ مختلف ایپس اور ویب سائٹس کے ذریعے زائچے بنائے جاتے ہیں، ہاتھ کی لکیریں پڑھی جاتی ہیں، اور ستاروں کی چال سے مستقبل کی پیشنگوئیاں کی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ نوجوان نسل کو تیزی سے گمراہی کی طرف لے جا رہا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں نجومیوں کا رواج
ہمارے معاشرے میں لوگ اپنے نکاح، بچوں کی پیدائش، کاروبار کی کامیابی، اور دیگر اہم امور کے بارے میں نجومیوں سے مشورے لیتے ہیں۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے ستارے کونسے ہیں اور کیا وہ شادی، کاروبار یا کسی دوسرے معاملے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔ یہ رویہ ہمارے معاشرے میں اتنا عام ہو چکا ہے کہ بہت سے لوگ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں۔
پاکستان میں بھی کئی فرقے اور لوگ نجومیوں سے مشورے کرتے ہیں، خصوصاً رزق کی بندش، نکاح کے مسائل، محبت کے معاملات اور دیگر معاشرتی مسائل کے حل کے لیے۔ اس عمل سے معاشرتی برائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل چھوڑ کر ان نجومیوں پر بھروسہ کرنے لگے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
اسلام میں نجومیوں کی شدید ممانعت
اسلام نے نجومیوں، کاہنوں اور غیب دانوں کے پاس جانے کو سختی سے منع کیا ہے۔ قرآن و حدیث میں واضح طور پر یہ بات بتائی گئی ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اور کوئی انسان اس کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور اس کی باتوں پر یقین رکھنا کفر ہے۔
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
"اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ تم خشکی اور تری کی تاریکیوں میں ان سے راستہ تلاش کرو۔"
(سورۃ الانعام: 97)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ستاروں کا مقصد صرف راستہ تلاش کرنا ہے، نہ کہ ان سے غیب کی باتیں جاننا یا مستقبل کی پیشنگوئی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو ایک نشانی بنایا ہے، نہ کہ تقدیر جاننے کا ذریعہ۔
مغربی دنیا میں پیشنگوئیوں کا رجحان
مغربی دنیا میں بھی پیشنگوئیوں کا رجحان پایا جاتا ہے، جس کی ایک مثال بلغاریہ کے مشہور نجومی بابا وانگا کی ہے، جس نے دنیا کے کئی بڑے واقعات کی پیشنگوئی کی۔ لوگوں نے ان کی باتوں پر یقین کرنا شروع کیا، لیکن یہ سب اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ مغربی معاشروں میں بھی لوگ روزانہ اپنے ستاروں کی چال پڑھتے ہیں اور اپنی زندگی کے فیصلے اس بنیاد پر کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں نجومیوں اور کاہنوں کے پاس جانا ایک عام بات سمجھی جاتی ہے۔ لوگ اس عمل کو محض تفریحی یا معمولی کام سمجھتے ہیں، لیکن یہ حقیقت میں ایک بڑا گناہ ہے جو انسان کو شرک کی طرف لے جاتا ہے۔ جب انسان اللہ کی بجائے کسی مخلوق پر بھروسہ کرنے لگتا ہے تو اس کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اس گناہ سے بچنے کا طریقہ اور حل
اس گناہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی عقیدت کو مضبوط کریں اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کریں۔ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے چاہئیں اور ہر طرح کے نجومیوں اور کاہنوں سے دور رہنا چاہیے۔ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے، استخارہ کرنا چاہیے، اور علماء کرام سے مشورہ لینا چاہیے۔
وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ
"اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔"
(سورۃ الانعام: 59)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا عالم ہے، اور ہمیں صرف اسی پر توکل کرنا چاہیے۔ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور کوئی بھی مخلوق اس علم میں شریک نہیں ہو سکتی۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔