تعارف: جوا کھیلنا - ایک کبیرہ گناہ
غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں بتیسواں گناہ جوا کھیلنا ہے۔ عربی زبان میں جوئے کو 'المیسر' کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ایسی چیز جس سے مال کو آسانی سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ جوا کھیلنے سے مراد کسی بھی قسم کی وہ مالی یا مادی سرگرمی ہے جس میں دو یا زیادہ افراد قسمت کے ذریعے کسی ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار طے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جس میں مالی دولت کو کسی لاٹری، کارڈز، سٹے، کرکٹ میچز، یا کسی اور غیر یقینی صورتِ حال میں داؤ پر لگایا جاتا ہے۔ اسلام میں رزقِ حلال کی کمائی پر بہت زور دیا گیا ہے، جبکہ جوا بغیر کسی محنت اور مشقت کے دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کا ایک شیطانی طریقہ ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جوا (میسر) کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے متعلق فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
"اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بت، اور پانسے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، سو ان سے بچو تاکہ تم فلاح پا سکو۔"
(سورۃ المائدہ: 90)
جوئے کی نفسیاتی اور معاشرتی وجوہات
جوئے کے پیچھے کئی نفسیاتی اور معاشرتی وجوہات ہوتی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ آسان اور تیز تر دولت کمانے کی خواہش ہے۔ لوگ جوئے کی طرف اس امید کے ساتھ راغب ہوتے ہیں کہ وہ تھوڑی سی محنت یا قسمت کے بل پر بڑی دولت حاصل کر لیں گے۔ اس کے علاوہ، جوئے کے کھیل میں ملنے والا عارضی لطف، ایڈرینالائن رش (Adrenaline Rush) اور جذباتی جوش و خروش بھی لوگوں کو اس کی لت میں مبتلا کرتا ہے۔
دیگر وجوہات میں مالی مشکلات، لالچ، بے روزگاری، اور معاشرتی یا دوستانہ دباؤ بھی شامل ہیں۔ آج کل انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کی وجہ سے آن لائن جوئے تک رسائی بہت آسان ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل تیزی سے اس دلدل میں پھنس رہی ہے۔ بعض اوقات لوگ جوئے کو بطور تفریح کھیلتے ہیں، لیکن یہ تفریح بہت جلد ان کی زندگیوں کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔
جوئے کے انفرادی اور معاشرتی نقصانات
جوا کھیلنے کی عادت ایک شخص کو مسلسل مالی مشکلات میں مبتلا رکھتی ہے۔ جواری نہ صرف اپنی کمائی بلکہ قرضے لے کر بھی جوا کھیلتا ہے، جس سے وہ مقروض ہو جاتا ہے۔ بالآخر وہ اپنی زندگی اور اہل و عیال کی ضروریات سے غفلت برتتا ہے۔ جواری کے گرد رہنے والے افراد، خاص طور پر اس کی بیوی اور بچے، اس کے جوئے کی وجہ سے شدید ذہنی اور مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ خاندان میں جھگڑے، گھریلو تشدد، مالی بحران، اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔
جوئے کی لت انسان کی شخصیت اور کردار کو تباہ کرتی ہے اور اسے معاشرتی طور پر ذلت اور رسوائی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ ایک جواری اپنی عزت، وقار اور خاندانی حیثیت کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ نفسیاتی طور پر، جواری ڈپریشن، اینگزائٹی، اور خودکشی کے خیالات کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ بڑی رقم ہار جاتا ہے۔ معاشرے میں جوئے کی وجہ سے چوریاں، ڈکیتیاں اور دیگر جرائم بھی جنم لیتے ہیں۔
دورِ جاہلیت میں جوئے کا رواج
دورِ جاہلیت میں عرب معاشرے میں جوا کھیلنا ایک عام اور پسندیدہ سرگرمی تھی۔ عرب سردار اور امراء اپنی دولت، اونٹوں، اور جانوروں کو داؤ پر لگا کر کھیلتے تھے۔ ان کے ہاں تیر اندازی کے ذریعے بھی جوا کھیلا جاتا تھا جسے 'الازلام' کہا جاتا تھا۔ اس وقت جوئے کے کھیل میں جیتنے والے کو بہت سی دولت ملتی تھی جبکہ ہارنے والے کو انتہائی ذلت، غلامی، اور معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
جوئے کی وجہ سے معاشرے میں بغض، عداوت، اور نفرت پھیلتی تھی۔ یہ سرگرمی لوگوں کو اپنی حقیقی زندگی، تجارت، اور معاشرتی ذمہ داریوں سے دور کرتی تھی۔ اسی لیے قرآن مجید نے شراب اور جوئے کو ایک ساتھ ذکر کر کے ان کی معاشرتی تباہ کاریوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اسلام میں جوا کی حرمت اور حکمت
اسلام میں جوا سختی سے حرام قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے جوئے کو 'رجس' (ناپاک) اور 'عملِ شیطان' قرار دیتے ہوئے اس سے مکمل طور پر بچنے کی تاکید کی ہے۔ اسلام کا معاشی نظام محنت، تجارت، اور حلال ذرائع پر مبنی ہے۔ جوا ایک 'زیرو سم گیم' (Zero-sum game) ہے جس میں ایک کی جیت دوسرے کی ہار اور تباہی پر مبنی ہوتی ہے، اور یہ اسلامی معاشی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی جوئے کو ناپسندیدہ قرار دیا اور فرمایا کہ یہ انسان کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ علماء کرام کے نزدیک جوا کھیلنے والے لوگ دین اور دنیا دونوں لحاظ سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ جواریوں کے لیے سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ فوراً توبہ کریں اور اس عمل سے باز آئیں۔
جدید دور میں جوئے کی خطرناک اقسام
آج کل جوا صرف تاش یا لڈو تک محدود نہیں رہا۔ جدید دور میں جوئے کی کئی نئی اور خطرناک اقسام سامنے آئی ہیں۔ ان میں کرکٹ اور فٹ بال میچز پر سٹے بازی (Sports Betting)، آن لائن کیسینو، لاٹری ٹکٹ، بونسائی گیمز، اور یہاں تک کہ ویڈیو گیمز میں موجود 'لوٹ باکسز' (Loot Boxes) بھی شامل ہیں جن میں پیسے لگا کر انعام جیتنے کی امید رکھی جاتی ہے۔ کریپٹو کرنسی اور بائنری ٹریڈنگ کے نام پر بھی آج کل نئے طریقوں سے جوا کھیلا جا رہا ہے۔ اسلام نے ان تمام اقسام پر لعنت فرمائی ہے جن میں خطرہ (Gharar) اور جوا پایا جائے۔
پاکستان اور جنوبی ایشیا میں جوا
پاکستان اور بھارت سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں جوئے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لوگ مختلف طریقوں سے جوئے میں ملوث ہو رہے ہیں، جیسے کہ کرکٹ کے سٹے، سٹہ مارکیٹ، اور غیر قانونی آن لائن بیٹنگ ایپس۔ اس رجحان کی وجہ سے معاشرے میں مالی مشکلات، خاندانی جھگڑے، اور اخلاقی زوال دیکھنے کو ملتا ہے۔ نوجوان نسل جوئے کی طرف مائل ہو رہی ہے، جو کہ قوم کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
لوگ اس کبیرہ گناہ کو اس لیے معمولی سمجھتے ہیں کیونکہ وہ فوری فائدے کی طرف دیکھتے ہیں اور اس کے طویل مدتی نقصان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، معاشرتی دباؤ اور مادی دنیا کی لالچ بھی لوگوں کو اس گناہ کی طرف راغب کرتی ہے۔
جوئے سے بچنے کا طریقہ اور حل
جوئے کی دلدل سے بچنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اللہ سے سچی توبہ کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے مال کو حلال طریقے سے کمانا اور خرچ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص جوئے کی لت میں مبتلا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کسی ماہر نفسیات یا عالم دین سے رجوع کرے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں حلال تفریح کے مواقع فراہم کریں۔ معاشرے میں حلال روزی کی اہمیت اور جوئے کے نقصانات کے بارے میں آگاہی مہم چلانا ضروری ہے۔
إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ
"اے ایمان والو! بے شک شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعے دشمنی اور بغض ڈال دے۔"
(سورۃ المائدہ: 91)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ جوا اور شراب جیسے اعمال معاشرتی نقصان، دشمنی اور بغض کا سبب بنتے ہیں، اور ان سے بچنا ہی فلاح کا راستہ ہے۔