غفلت میں چھپے 50 گناہ
23 - جادو ٹونا کرنا یا کرانا

جادو ٹونا کرنا یا کرانا اسلام میں ایک کبیرہ گناہ ہے۔ اس آرٹیکل میں جادو کی مذمت، اس کے اسباب، اسلامی تعلیمات، اور اس سے بچنے کے طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں تئیسواں گناہ جادو ٹونا کرنا یا کرانا ہے۔ اس سے پہلے تو اتسر سے کئی آرٹیکل جو میں تفصیل سے شئیر کرتا آرہا ہوں اگر آپ انکو پڑھنا چاہیے تو نیچے دیے گئے ویب سائٹ لنک پر کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ ان میں سے، کسی جاندار کو آگ میں جلانا، پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا، سود کھانا، ظلم کرنا، رشوت لینا یا دینا، زنا کرنا وغیرہ۔

جادو ٹونا کرنا یا کرانا ایک سنگین اور کبیرہ گناہ ہے جس کی سخت ممانعت اسلام اور دیگر مذاہب میں کی گئی ہے۔ یہ عمل نہ صرف اللہ کی رضا کے خلاف ہے بلکہ انسانی زندگی اور معاشرتی تعلقات کو بگاڑنے کا باعث بھی بنتا ہے۔ جادو ٹونے کی مختلف اشکال ہیں اور یہ عمل عموماً لوگوں کی زندگیوں میں مشکلات، تنازعات، اور بدبختیوں کو پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

جادو ٹونا ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان غیر مرئی قوتوں کا سہارا لے کر کسی فرد، خاندان یا معاشرتی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ جادو کے ذریعے لوگ دوسروں کو نقصان پہنچانے، کسی کی محبت حاصل کرنے، دشمنوں کو زیر کرنے، یا مالی مفاد کے لیے غیر اخلاقی اور غیر اسلامی طریقے اپناتے ہیں۔

خبردار! جادو کا عمل عموماً شیطانی طاقتوں کا سہارا لے کر کیا جاتا ہے اور یہ ایمان کی کمزوری اور اللہ کے احکامات سے روگردانی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسلام میں جادو کو ایک بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں جادو کی ممانعت: "اور وہ اندونوں (فرشتوں) سے وہ (جادو) سیکھتے تھے جس سے مرد اور عورت کے درمیان جدائی ڈالی جاتی تھی، حالانکہ وہ کسی کو بغیر اللہ کے اذن کے نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔" (سورہ البقرہ، آیت 102)

جادو کی اقسام اور طریقے

جادو کی مختلف اقسام ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں رائج ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم اقسام درج ذیل ہیں:

  • سفید جادو: اسے بعض لوگ نیک جادو سمجھتے ہیں، جس کے ذریعے لوگ کسی کو نقصان سے بچانے یا کسی کا علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • سیاہ جادو: اس کا استعمال لوگوں کو نقصان پہنچانے، دشمنوں کو زیر کرنے، یا کسی کو بیمار کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
  • محبت کا جادو: اس کے ذریعے کسی کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
  • تفرقہ کا جادو: اس کے ذریعے میاں بیوی یا خاندان کے افراد میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
  • نظر بد: حسد یا بدخواہی کی وجہ سے کسی کو نقصان پہنچانے کا عمل۔

ان تمام اقسام کا اسلام میں کوئی جواز نہیں ہے اور یہ سب حرام ہیں۔ جادو کا کوئی بھی طریقہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز نہیں ہے۔

دورِ جاہلیت میں جادو ٹونا کا تصور

دورِ جاہلیت میں بھی جادو ٹونے کا رجحان موجود تھا۔ قدیم عرب معاشرے میں جادوگروں اور عاملوں کو خاص عزت دی جاتی تھی اور ان کے ذریعے لوگ اپنے دشمنوں کو نقصان پہنچانے یا ذاتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ جاہلی دور میں لوگ جادو کو طاقتور اور پراسرار مانتے تھے اور اکثر اپنی مشکلات کو حل کرنے کے لیے جادو کا سہارا لیتے تھے۔

دور جاہلیت میں جادوگروں کو قبائل میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے، بیماریوں کا علاج کرنے، اور مستقبل کی پیشگوئی کرنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ لوگ ان پر اندھا اعتماد کرتے تھے اور ان کے پاس اپنی مشکلات لے کر جاتے تھے۔

اہل مغرب میں جادو ٹونا کا تصور

مغربی معاشروں میں بھی جادو ٹونے کا رجحان مختلف ادوار میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ قرون وسطیٰ میں یورپ میں جادوگرنیوں اور عاملوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں اور ان پر شیطان سے تعلق کا الزام لگا کر انہیں جلا دیا جاتا تھا۔ مغربی دنیا میں جادو کا تصور عموماً شیطانی قوتوں سے منسوب کیا جاتا ہے، اور جادوگروں کو بدی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

موجودہ دور میں بھی مغربی ممالک میں بعض افراد جادو ٹونے میں ملوث ہوتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو مختلف غیر مرئی قوتوں اور شیطانیت کے پیروکار ہیں۔ مغربی ممالک میں جادو کے جدید طریقے، جیسے کہ ویکا (Wicca) اور دیگر نئے مذہبی تحریکیں، بھی رائج ہیں۔

دیگر مذاہب عالم میں جادو کا تصور

دنیا کے مختلف مذاہب میں جادو ٹونے کا تصور اور اس کی ممانعت مختلف انداز میں کی گئی ہے:

عیسائیت

عیسائی مذہب میں جادو اور شیطانیت کو برا عمل قرار دیا گیا ہے۔ بائبل میں جادوگروں اور عاملوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے۔

یہودیت

یہودی مذہب میں بھی جادو کو شیطانی عمل سمجھا جاتا ہے اور اس کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ تورات میں جادو کرنے والوں کو سزا دینے کا حکم ہے۔

ہندومت

ہندو مذہب میں جادو کے کچھ مخصوص عمل موجود ہیں، جیسے کہ "تنترا" اور "منتر" وغیرہ، جنہیں لوگ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر عمومی طور پر جادو کو برا عمل سمجھا جاتا ہے۔

بدھ مت

بدھ مت میں بھی جادو اور شیطانی عمل کو ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ بدھ مت میں کرم کے قانون پر زور دیا گیا ہے، اور جادو کو کرم کو خراب کرنے والا عمل سمجھا جاتا ہے۔

زرتشت میں جادو ٹونا کا تصور

زرتشت مذہب میں بھی جادو کی ممانعت کی گئی ہے۔ زرتشت مذہب کی تعلیمات میں خیر اور شر کی قوتوں کے درمیان جنگ کا تصور موجود ہے، اور جادو کو عموماً شیطانی اور شر کی قوتوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ زرتشت عقائد میں جادو کرنے یا کرا نے والوں کو بدی کی طاقتوں کا حمایتی سمجھا جاتا ہے اور انہیں سخت تنبیہ کی گئی ہے۔

زرتشت مذہب میں اہورا مزدا (خدا) کی طرف سے دی گئی اخلاقی تعلیمات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے، اور جادو کو ان تعلیمات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اس مذہب میں پاکیزگی اور سچائی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، اور جادو کو ان دونوں کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

اسلام میں جادو ٹونا کی ممانعت

اسلام میں جادو ٹونا کرنا یا کرانا ایک بہت بڑا گناہ ہے اور اس کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ جادو کے عمل کو کفر کے قریب قرار دیا گیا ہے، اور جو لوگ جادو کا سہارا لیتے ہیں، وہ اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔" صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کونسی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا..." (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ حدیث واضح طور پر جادو کو ایک ہلاک کرنے والا عمل قرار دیتی ہے اور اس کی ممانعت پر زور دیتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "جو کوئی جادو کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔" (مسند احمد)

اسلام میں جادو کو اس لیے حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کرتا ہے اور شیطانی راستے پر لے جاتا ہے۔ جادو کا عمل دراصل اللہ پر بھروسہ نہ کرنے اور غیر اللہ سے مدد مانگنے کا نتیجہ ہے۔

ایشیائی ممالک میں جادو کے برے اثرات

ایشین ممالک، خصوصاً پاکستان، بھارت، اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں جادو ٹونے کا رجحان کافی عام ہے۔ لوگ عموماً ذاتی دشمنیوں، محبت میں ناکامی، یا مالی فائدے کے لیے جادو کا سہارا لیتے ہیں۔ جادوگروں اور عاملوں کا کاروبار یہاں خوب پھل پھول رہا ہے، اور اس کی وجہ سے معاشرتی مسائل، خاندانوں میں تنازعات، اور بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔

جادو ٹونے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان بدگمانیاں، حسد، اور نفرت بڑھ رہی ہے، اور یہ معاشرے کے تانے بانے کو برباد کر رہا ہے۔ جادو کے جھوٹے دعووں کی وجہ سے بے گناہ لوگوں کو ذہنی اور نفسیاتی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ان کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

انتباہ! جادوگروں اور عاملوں کے جھوٹے دعووں سے بچیں۔ یہ لوگ صرف آپ کے پیسے اور وقت کو ضائع کرتے ہیں اور آپ کو اللہ سے دور کرتے ہیں۔

موجودہ دور میں جادو کا بڑھتا ہوا رجحان

موجودہ دور میں جادو ٹونے کا رجحان اور بھی بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے لوگ جادو کے طریقے اور عمل سیکھتے ہیں، اور بعض لوگ اس گناہ کو عام فہم اور معمولی سمجھنے لگے ہیں۔ جادو ٹونے کی وجہ سے خاندانوں میں دراڑیں پیدا ہو رہی ہیں، نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں، اور لوگوں کے ذہنوں میں شک اور بدگمانی کا زہر بھر رہا ہے۔

انٹرنیٹ پر جادو کے بارے میں ہزاروں ویب سائٹس اور یوٹیوب چینلز موجود ہیں جو لوگوں کو جادو سکھانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ لوگ نادان افراد کا استحصال کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے بھٹکاتے ہیں۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے معاشرتی سطح پر آگاہی اور تعلیم کی ضرورت ہے۔

جادو سے بچاؤ کے طریقے

اس گناہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو جادو کی حقیقت اور اس کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔ علماء اور مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو قرآن اور سنت کی روشنی میں جادو کے نقصانات اور اس کے حرام ہونے کی وضاحت کریں۔

قرآن کی تلاوت

قرآن مجید کی تلاوت، خاص طور پر سورہ الفلق اور سورہ الناس کی تلاوت، جادو کے اثرات سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ان سورتوں کی تلاوت جادو اور نظر بد سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

اللہ پر بھروسہ

ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ کرنا اور اس سے مدد مانگنا جادو سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔

علماء سے رجوع

اگر کسی کو جادو کا شبہ ہو تو اسے جادوگروں کے پاس جانے کی بجائے علماء اور دینی رہنماؤں سے رجوع کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی کوئی چال تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔" (سورہ آل عمران، آیت 120)

جادوگروں سے دوری

جادوگروں اور عاملوں سے مکمل دوری اختیار کرنی چاہیے اور ان کے پاس کبھی نہیں جانا چاہیے۔

اختتامیہ

جادو ٹونا کرنا یا کرانا ایک سنگین اور کبیرہ گناہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کرتا ہے اور شیطانی طاقتوں کا غلام بنا دیتا ہے۔ اس گناہ کے معاشرتی اور روحانی نقصانات بہت زیادہ ہیں، اور ہمیں اس سے بچنے کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنانا چاہیے۔

معاشرے میں جادو کے رجحان کو کم کرنے کے لیے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عوام کو آگاہی دینا ضروری ہے، تاکہ لوگ اس گناہ سے دور رہ سکیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکیں۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "جو شخص صبح و شام سورہ الفلق اور سورہ الناس کی تلاوت کرے، وہ ہر طرح کے شر سے محفوظ رہے گا۔" (ابو داود، ترمذی)

ہمیں چاہیے کہ ہم جادو اور اس سے متعلقہ تمام امور سے دور رہیں اور صرف اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہی ہر مشکل کا حل ہے اور وہی ہماری حفاظت کر سکتا ہے۔ جادو کا سہارا لینا دراصل اللہ پر بھروسہ نہ کرنے کی علامت ہے، جو کہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔ ہماری ویب سائٹ پر اسلامی تعلیمات، تاریخ، شخصیات، اور دیگر موضوعات پر تفصیلی مضامین موجود ہیں جو آپ کے علم میں اضافہ کریں گے۔

#جادو #ٹونا #50_گناہ #غفلت_میں_چھپے_گناہ #اسلامی_تعلیمات #شرک #کبیرہ_گناہ #بلاگ_لوورز
Uzair Hameed

عزیر حمید

بانی اور مدیر، بلاگ لوورز

اسلامی تعلیمات، تاریخ اور عصری مسائل پر تحقیق

اس پوسٹ پر اپنے جذبات کا اظہار کریں

متعلقہ پوسٹس