غفلت میں چھپے 50 گناہ 13 - چوری کرنا

اسلام میں چوری کی ممانعت، اس کی اقسام، سزائیں اور معاشرتی اثرات۔ جانیے کیوں چوری ایک کبیرہ گناہ ہے اور کیسے اپنے معاشرے کو اس سے بچایا جا سکتا ہے۔

12 اگست 2026 7 منٹ پڑھیں 0 مشاہدات

الحمدللہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ ﷺ۔ غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں تیرھواں گناہ چوری کرنا ہے۔ اس سے پہلے تواتر سے کئی آرٹیکل جو میں تفصیل سے شیئر کرتا آرہا ہوں، اگر آپ ان کو پڑھنا چاہیے تو دیے گئے ناموں پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں، ان میں سے بھوکوں اور ننگوں کی حیثیت کے مطابق مدد نہ کرنا، بلاعذر بھیک مانگنا، کسی جاندار کی تصویر بنانا شامل ہیں۔

خبردار! چوری، معاشرتی بگاڑ اور بدعنوانی کی ایک بدترین شکل ہے جسے اسلام میں ایک سنگین جرم اور گناہ قرار دیا گیا ہے۔ چوری کا مطلب صرف کسی کی مادی اشیاء یا دولت چوری کرنا نہیں، بلکہ اس کے بہت سے مختلف پہلو ہیں جو انسان کو اخلاقی اور روحانی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی ہے، جو انڈا چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے، اور جو رسی چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے۔" (صحیح بخاری)

یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ چوری، چاہے وہ چھوٹی ہو یا بڑی، اسلام میں سخت منع کی گئی ہے اور اس کے لیے سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔

اسلام میں چوری کی ممانعت

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کے ہر پہلو کو نظم و ضبط میں لاتا ہے۔ چوری کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے، اور قرآن مجید میں چوری کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں: "چور مرد ہو یا عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ان کے اعمال کے بدلے میں، یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے سزا ہے اور اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔" (سورۃ المائدہ: 38)

یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ چوری ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزا سخت ہے تاکہ معاشرتی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔

چوری کی مختلف اقسام

چوری کی بہت سی اقسام ہیں، اور یہ صرف مادی اشیاء کی چوری تک محدود نہیں۔ درج ذیل چوری کی مختلف اقسام ہیں جن سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے:

مالی چوری: کسی کی دولت، جائیداد یا مال و اسباب کو چوری کرنا۔
وقت کی چوری: کام کے دوران وقت کی بربادی، ملازمین یا ملازموں کا وقت ضائع کرنا بھی چوری کے زمرے میں آتا ہے۔
حقوق کی چوری: کسی کا حق چھیننا یا کسی کے جائز حق سے محروم کرنا۔
علم کی چوری: دوسروں کے علمی یا تخلیقی مواد کو بغیر اجازت اپنے نام سے پیش کرنا، جیسے کہ سرقہ (plagiarism)۔
اعتماد کی چوری: لوگوں کے اعتماد کا غلط استعمال کرنا، ان کی ذاتی معلومات کا ناجائز فائدہ اٹھانا۔

ان تمام اقسام کی چوری معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتی ہیں اور اسلام میں سختی سے منع کی گئی ہیں۔

چوری جیسے گناہ کو معمولی سمجھنا

آج کل کے معاشرے میں چوری کو اکثر معمولی سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب یہ چھوٹے پیمانے پر ہو۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی نے چھوٹی موٹی چیز چوری کی ہے تو یہ کوئی بڑا گناہ نہیں ہے، حالانکہ اسلام میں چوری کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا گیا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کسی بھی نیکی کو معمولی نہ سمجھو، چاہے وہ صرف تمہارے بھائی کے ساتھ خوش اخلاقی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔" (صحیح مسلم)

اس حدیث کا مفہوم یہ بھی ہے کہ کسی بھی برے عمل کو معمولی نہ سمجھا جائے، چاہے وہ چوری کی چھوٹی سی مثال ہو۔ معمولی چوری بھی ایک بڑی برائی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

یاد رکھیں: چھوٹی چوری بھی گناہ ہے اور اس کی کوئی معافی نہیں جب تک کہ چوری شدہ چیز واپس نہ کی جائے یا مالک سے معافی نہ مانگی جائے۔

پاکستان کے موجودہ حالات میں چوری کی وارداتیں

پاکستان کے موجودہ معاشرتی حالات میں چوری کی وارداتیں بہت عام ہو چکی ہیں۔ غربت، بے روزگاری، اور معاشرتی ناہمواریوں کی وجہ سے چوری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چور نہ صرف امیروں کی جائیداد پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں بلکہ غریبوں اور عام شہریوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔

ملک میں چوری کے واقعات میں اضافہ قانون کی کمزوری، حکومتی اداروں کی ناقص کارکردگی، اور عدالتی نظام کی سست رفتاری کا نتیجہ ہے۔ یہ سب عوامل مل کر ایک ایسی فضا پیدا کرتے ہیں جہاں چوری کو جرم نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

چوری کی لعنت سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

چوری سے بچنے اور معاشرتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے چند اہم اقدامات اٹھانے ضروری ہیں:

اسلامی تعلیمات کی پیروی: اسلام نے چوری کو سختی سے منع کیا ہے اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دی ہے۔ ہمیں قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھالنا چاہیے تاکہ ہم چوری جیسے گناہ سے بچ سکیں۔
معاشی بہتری: غربت اور بے روزگاری چوری کی بڑی وجوہات ہیں۔ حکومت کو معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں اور وہ چوری جیسے گناہ میں ملوث نہ ہوں۔
قانون کا نفاذ: قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا اور چوری کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ضروری ہے۔ جب چوری کرنے والے کو سزا ملے گی، تو یہ دوسروں کے لیے عبرت کا باعث بنے گا۔
اخلاقی تربیت: والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کی ابتدائی عمر سے ہی ان کی اخلاقی تربیت کریں اور انہیں چوری کے نقصانات اور گناہ کے بارے میں آگاہ کریں۔
سماجی انصاف: چوری کے پیچھے معاشرتی ناہمواریوں کا بھی کردار ہے۔ اگر معاشرے میں عدل و انصاف کا نظام قائم ہو گا، تو چوری کے واقعات کم ہو جائیں گے۔

اسلام میں چوری کی سزا

چوری کے سنگین نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے، اسلام نے چوروں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ معاشرتی نظام کو خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، قرآن میں چوروں کے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

اللہ رب العزت فرماتے ہیں: "چور مرد ہو یا عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ان کے اعمال کے بدلے میں، یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے سزا ہے اور اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔" (سورۃ المائدہ: 38)

یہ سخت سزا صرف ایک ظاہری سزا نہیں بلکہ اس کا مقصد معاشرتی عدل و انصاف کو بحال کرنا ہے۔ اسلام کا یہ نظام سزا اور جزا انسانوں کو گناہ سے روکنے اور ایک بہترین معاشرتی نظام قائم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

یاد رکھیں: چوری کی سزا صرف اس صورت میں نافذ ہوتی ہے جب تمام شرائط پوری ہوں، جیسے کہ گواہوں کا ہونا، چوری شدہ مال کی قیمت کا متعین ہونا، وغیرہ۔ اسلام میں سزاؤں کا مقصد اصلاح ہے، نہ کہ صرف سزا دینا۔

نتیجہ

خلاصہ: چوری، ایک ایسا گناہ ہے جسے اسلام میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔ چاہے وہ مالی چوری ہو یا حقوق کی چوری، ہر قسم کی چوری معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔ آج کل کے معاشرے میں چوری کو معمولی سمجھا جانا ایک بڑی غلطی ہے، جسے سدھارنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعلیمات کی پیروی، معاشرتی اور معاشی اصلاحات، اور قانون کی سختی سے عمل درآمد کے ذریعے ہم چوری جیسے گناہ سے بچ سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ایمان کو مضبوط کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات کو مقدم رکھیں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہیں۔

بلاگ لوورز کی اس سیریز کا مقصد لوگوں کو ان گناہوں سے آگاہ کرنا ہے جو وہ غفلت میں کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سیریز لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا سبب بنے گی۔ مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں۔

Uzair Hameed

Uzair Hameed

بلاگ لوورز کے بانی اور ایڈیٹر۔ اسلامی تعلیمات، تاریخ اور موٹیویشن پر لکھنے کا شوق۔ مقصد لوگوں تک درست اور مستند معلومات پہنچانا۔

متعلقہ مضامین