غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں سترہواں گناہ سود کھانا ہے۔ اس سے پہلے تو اتسر سے کئی آرٹیکل جو میں تفصیل سے شئیر کرتا آرہا ہوں اگر آپ انکو پڑھنا چاہیے تو نیچے دیے گئے ویب سائٹ لنک پر کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ ان میں سے، بھوکوں اور ننگوں کی حیثیت کے مطابق مدد نہ کرنا، بلا عذر بھیک مانگنا، کسی جاندار کی تصویر بنانا شامل ہیں۔

اسلام میں سود (ربا) کو ایک بدترین اور کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ سود ایک ایسا مالی لین دین کا نظام ہے جس میں قرض دینے والا شخص اضافی رقم وصول کرتا ہے، جو اصولی طور پر ناحق اور ظلم کے زمرے میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سود کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے خلاف سخت وعید سنائی ہے۔ سود کے بارے میں دین اسلام کی سخت تعلیمات ہیں، اور اس کی ممانعت انسانی معاشرت کی فلاح و بہبود کے لیے ہے۔

سود کھانا یا سود لینا ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی شخص قرض دینے کے بدلے میں اصل رقم کے علاوہ اضافی رقم وصول کرتا ہے۔ یہ اضافی رقم ناحق شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ بغیر کسی محنت یا جدوجہد کے وصول کی جاتی ہے۔ اسلام میں یہ عمل سختی سے منع ہے کیونکہ یہ دوسرے انسانوں پر ظلم اور ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سود کی ممانعت ان الفاظ میں کی: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر تم ایمان والے ہو۔"

یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ سود کو مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے اور اللہ کی طرف سے عذاب سے بچا جائے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "سود کے ستر درجے ہیں، ان میں سب سے کم درجے کا گناہ اس قدر ہے جیسے کوئی اپنی ماں سے نکاح (یعنی زنا) کرے۔"

ہندومت میں سود کا رواج

ہندومت کی قدیم کتابوں میں بھی سود کا ذکر ملتا ہے۔ اگرچہ ہندو دھرم میں سود کو مکمل طور پر حرام نہیں قرار دیا گیا، لیکن اس کے حدود و قیود ضرور مقرر کی گئی ہیں۔ قدیم ہندو دھرم میں سود کا رواج تھا، اور بعض اوقات برہمن اور ویشی طبقات سود پر قرض دیتے تھے۔ سود کی شرح مختلف مواقع پر مختلف ہوتی تھی، اور بعض حالات میں زیادہ شرح سود وصول کی جاتی تھی۔

مہابھارت اور منوسمرتی جیسے مذہبی متون میں سود کی ممانعت کے ساتھ ساتھ اس کے محدود استعمال کی اجازت بھی ملتی ہے۔ تاہم، ہندومت میں سود کا استحصال اور اس کی زیادہ شرح پر وصول کرنا ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔

یہود و نصاریٰ میں سود کا رواج

یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی سود کا رواج قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ یہودی مذہب کی کتاب "تورات" میں سود لینے کی ممانعت کا ذکر موجود ہے، لیکن بعض حالات میں یہودی آپس میں سود لینے کے حقدار تھے جبکہ غیر یہودیوں سے سود لینا جائز سمجھا جاتا تھا۔

"اگر تم اپنے کسی بھائی کو قرض دو، تو سود نہ لو۔"

ایک اور جگہ کچھ یوں وضاحت فرمائی: "آپ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور سود کا حساب لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر۔"

عیسائیت میں بھی سود کو ایک گناہ سمجھا جاتا تھا، اور ابتدائی دور میں عیسائی مذہبی رہنما سود کے سخت خلاف تھے۔ تاہم، بعد کے ادوار میں، جب عیسائی یورپ میں سرمایہ دارانہ نظام پر وون چڑھنے لگا تو سود کو ایک معمولی عمل سمجھا جانے لگا۔

سود کی اقسام

سود کی دو بنیادی اقسام ہیں:

1. ربا النسیئہ (سود برائے تاخیر) یہ سود اس وقت وصول کی جاتی ہے جب قرض لینے والا مقررہ وقت پر رقم واپس نہ کر سکے اور اسے مہلت دی جائے۔ اس مہلت کے بدلے میں اضافی رقم وصول کی جاتی ہے، جو ربا النسیئہ کہلاتی ہے۔

2. ربا الفضل (اضافہ کا سود) یہ سود اس وقت وصول کی جاتی ہے جب کسی جنس کے تبادلے میں اضافی مقدار لی جائے۔ جیسے کہ ایک ہی قسم کی چیز کے بدلے میں اضافی مقدار مانگنا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سونا سونے کے بدلے میں، چاندی چاندی کے بدلے میں، گندم گندم کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں، کھجور کھجور کے بدلے میں، اور نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہو، اگر ان چیزوں میں اضافہ ہو تو یہ سود ہے۔"

سود کے بارے میں وعید

اسلام میں سود کو ایک انتہائی بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کو اپنے اور اپنے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: "جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جسے شیطان نے چھو کر دیوانہ بنا دیا ہو، یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا کہ تجارت بھی تو سود کی طرح ہی ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ پھر جس کو اس کے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو پہلے لے چکا وہ اس کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اور جو پھر بھی یہی کرتا رہا تو وہ ایلوگ جہنمی ہیں۔"

نبی کریم ﷺ نے سود کے بارے میں سخت وعید سنائی ہے: "رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود دینے والے، اس کے گواہوں اور اسے لکھنے والے پر لعنت کی اور فرمایا: یہ سب برابر ہیں۔" یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ سود کے لین دین میں شامل تمام افراد برابر کے گناہ گار ہیں، چاہے وہ سود لینے والا ہو، دینے والا ہو یا اس کے گواہ ہوں۔

سودی لین دین سے کیسے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے؟

سودی نظام سے چھٹکارا پانا ایک مشکل کام ہے، خاص طور پر جب یہ معاشرے میں پھیل چکا ہو، لیکن اسلام نے اس کے لیے واضح رہنما اصول دیے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اس برائی سے بچ سکتے ہیں:

اللہ پر توکل اور رزق حلال کا انتخاب: سود کے بغیر زندگی گزارنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اللہ پر توکل کرنا چاہیے اور حلال رزق کو ترجیح دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے حلال ذرائع سے روزی کا وعدہ کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص حلال طریقے سے روزی کمائے اور اسے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرے، تو وہ شخص قیامت کے دن کامیاب ہوگا۔"

سودی بینکنگ سے اجتناب: مسلمانوں کو سودی بینکنگ سے اجتناب کرنا چاہیے اور اسلامی بینکنگ نظام کو فروغ دینا چاہیے۔ اسلامی بینکنگ میں شراکت داری، مضاربہ اور مشارکہ جیسے اصولوں پر مبنی لین دین کیاجاتا ہے جو سود سے پاک ہوتا ہے۔

سود کے خلاف شعور بیدار کرنا: معاشرے میں سود کے خلاف شعور بیدار کرنا بہت ضروری ہے۔ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کو سود کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرنا چاہیے اور انہیں سود سے بچنے کی ترغیب دینی چاہیے۔

سودی قرضوں سے بچنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی: اکثر لوگ قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور سودی قرضے ان کی مشکلات کو اور بڑھا دیتے ہیں۔ سودی قرضوں سے بچنے کے لیے ہمیں مناسب منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور اپنے وسائل کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔

اسلامی فلاحی اداروں کا قیام: اسلامی معاشرے میں فلاحی اداروں کا قیام ایک اہم ضرورت ہے جو محتاجوں اور ضرورت مندوں کو بغیر سود کے قرض فراہم کر سکیں۔ اس طرح محتاج افراد کو سودی قرضوں کی طرف جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

سود اسلام میں ایک سنگین گناہ ہے اور اسے بچنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ سود نہ صرف اللہ کے عذاب کا باعث بنتا ہے بلکہ معاشرتی اور معاشی تباہی کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے سودی نظام سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ سود سے پاک معیشت اور حلال ذرائع آمدن کی طرف رجوع کرنا ہی ہمیں سود کے عذاب سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔