غفلت میں چھپے 50 گناہ 18 - پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا
اسلام میں طہارت کی اہمیت، پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کی ممانعت، اس گناہ کی سنگینی اور اس سے بچنے کے طریقے۔ جانیے کیوں یہ گناہ قبر کے عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔
الحمدللہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ ﷺ۔ غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں اٹھارہواں گناہ پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا ہے۔ اس سے پہلے تواتر سے کئی آرٹیکل جو میں تفصیل سے شیئر کرتا آرہا ہوں اگر آپ انکو پڑھنا چاہیے تو نیچے دیے گئے ویب سائٹ لنک پر کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ ان میں سے، بھوکوں اور ننگوں کی حیثیت کے مطابق مدد نہ کرنا، بلا عذر بھیک مانگنا، کسی جاندار کی تصویر بنانا شامل ہیں۔
یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ پیشاب کی ناپاکی کو معمولی سمجھنا ایک بڑی خطا ہے اور قیامت کے دن عذاب کا باعث بن سکتی ہے۔
پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص قضائے حاجت کے دوران پیشاب کرتا ہے تو اس بات کا خیال نہ رکھنا کہ چھینٹیں اس کے جسم، لباس یا ماحول کو ناپاک کر دیں۔ اسلام میں طہارت اور صفائی پر بہت زور دیا گیا ہے، اور جسم اور لباس کو ناپاکی سے بچانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
زمانہ جاہلیت میں پلیدگی سے نہ بچنے کی سزا
زمانہ جاہلیت میں لوگ صفائی ستھرائی اور طہارت کے اصولوں پر توجہ نہیں دیتے تھے۔ ناپاکی اور پلیدی کو معمولی سمجھا جاتا تھا اور اکثر لوگ ان امور میں سستی برتتے تھے۔ اسلام نے جب صفائی کو نصف ایمان قرار دیا تو لوگوں کو پلیدی سے بچنے اور اپنے جسم اور ماحول کو پاک صاف رکھنے کی تعلیم دی۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو اس معاملے میں غفلت برتنے کی وجہ سے سخت سزا دی جاتی تھی۔ پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے کی عادت بھی انہی برائیوں میں شامل تھی جو اسلام نے آکر ختم کی۔
دوسرے مذاہب میں پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کی ممانعت
اسلام سے پہلے بھی بعض مذاہب اور تہذیبوں میں طہارت اور صفائی کے اصول موجود تھے، لیکن ان پر سختی سے عمل نہیں کیا جاتا تھا۔ یہودیت اور عیسائیت میں بھی صفائی کے احکام موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود بعض مذاہب میں ان اصولوں کو معمولی سمجھا جاتا تھا۔ ہندومت اور دیگر مذاہب میں بھی صفائی کے اصول موجود ہیں، مگر اسلام نے اس معاملے کو خاص طور پر اہمیت دی۔
اسلام میں پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کی اہمیت و ضرورت
اسلام میں طہارت اور پاکیزگی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ پیشاب کی ناپاکی سے بچنا اسلامی اصولوں کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں صفائی ستھرائی کی کتنی قدر و قیمت ہے۔ پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر ممکن کوشش کرے کہ اس کا جسم، لباس اور جگہ ناپاک نہ ہو۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان قضائے حاجت کرتے وقت احتیاط سے کام لے اور پانی کا استعمال کر کے اپنے آپ کو پاک صاف کرے۔
موجودہ دور میں پاکی اور پلیدی کو ملحوظ خاطر نہ رکھنا
آج کے دور میں بہت سے لوگ پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے معاملے میں سستی اور لاپرواہی برتتے ہیں۔ لوگوں کی زیادہ توجہ مادی چیزوں پر ہے، اور وہ اپنے جسمانی اور روحانی پاکیزگی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ قضائے حاجت کے دوران جلدی کرنے کی عادت رکھتے ہیں اور طہارت کا مکمل خیال نہیں رکھتے۔
ہم اس کبیرہ گناہ سے اپنی نوجوان نسل کو کیسے بچائیں؟
پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا ایک ایسا گناہ ہے جسے ہم تعلیم و تربیت اور شعور بیدار کر کے اپنی نوجوان نسل میں ختم کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:
نتیجہ
اللہ تعالیٰ ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ایمان کو مضبوط کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات کو مقدم رکھیں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہیں۔
بلاگ لوورز کی اس سیریز کا مقصد لوگوں کو ان گناہوں سے آگاہ کرنا ہے جو وہ غفلت میں کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سیریز لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا سبب بنے گی۔ مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں اور اپنے علم میں اضافہ کریں۔