فہرست مضامین
تعارف: بدعت کا پس منظر اور اہمیت
ہر جمعرات کو قبروں پر جانا ایک خاص عمل ہے جو کئی معاشروں میں مذہبی رسم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس عمل میں لوگ جمعرات کے دن قبروں پر جا کر دعائیں کرتے ہیں، فاتحہ پڑھتے ہیں، یا اپنے مرحومین کے لیے بخشش کی دعا مانگتے ہیں۔ تاہم، بعض اوقات یہ عمل غیر اسلامی رسومات، جیسے کہ قبروں کی تعظیم یا ان سے حاجت طلب کرنے، میں تبدیل ہو جاتا ہے، جسے دینِ اسلام بدعت قرار دیتا ہے۔
یہ روایت قرآن اور سنت کی تعلیمات سے واضح طور پر انحراف ہے اور توحید کی پاکیزگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "قبروں کو مسجد نہ بناؤ، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔" (مسلم) — یہ واضح فرمان قبروں کو عبادت گاہ بنانے کی ممانعت کرتا ہے۔
ہر جمعرات کو قبروں پر جانے کا رجحان اسلام کے ابتدائی دور میں موجود نہیں تھا بلکہ بعد کے ادوار میں اس کا آغاز ہوا۔ دورِ عباسیہ میں تصوف کے فروغ کے ساتھ قبروں کی زیارت کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔ ہندوستان میں تصوف کے اثرات اور ہندو دھرم کی رسومات کے زیرِ اثر، قبروں پر جانے اور وہاں پوجا کی مشابہت پیدا ہوئی۔ یہ عمل بنیادی طور پر عوامی توہمات اور غیر اسلامی عقائد کا نتیجہ ہے، جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں قبروں پر جانے کے احکام
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور یہ کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔" (سورہ الجن: 18) — اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا ہر مقام صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی لعنت ہے ان لوگوں پر جو قبروں کو مسجد بناتے ہیں۔" (مسلم) — یہ سخت وعید ہے جو قبروں کی تعظیم اور وہاں عبادت کرنے کی ممانعت کرتی ہے۔
ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم سے پہلی قومیں اس لیے گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔" (بخاری و مسلم) — یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ قبروں کو عبادت گاہ بنانا گمراہی کا سبب ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بے شک، اللہ شرک کو معاف نہیں کرے گا۔" (سورہ النساء: 48) — قبروں پر جا کر اولیاء سے دعا مانگنا، منتیں مانگنا، اور ان سے حاجت طلب کرنا شرک کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارا جاتا ہے۔
ارشاد نبوی ﷺ: "قبروں کی زیارت کا مقصد آخرت کی یاددہانی ہونا چاہیے نہ کہ عبادت یا تعظیم۔" — یہ حدیث قبروں کی زیارت کے اصل مقصد کو واضح کرتی ہے۔
دیگر مذاہب میں قبروں اور مزارات کی روایات
دنیا کے مختلف مذاہب میں قبروں اور مزارات پر حاضری کی روایات پائی جاتی ہیں:
🕉️ ہندومت: ہندو مذہب میں مقدس مقامات اور مندروں پر عورتیں اور مرد خصوصی طور پر حاضری دیتے ہیں۔ وہ وہاں منتیں مانگتے ہیں، پوجا کرتے ہیں، اور دیوتاؤں کو نذرانے پیش کرتے ہیں۔
☸️ بدھ مت: بدھ مت میں اسٹوپوں اور مقدس مقامات پر عبادت کی جاتی ہے، جہاں لوگ حاضری دیتے ہیں اور وہاں روشنیاں جلاتے ہیں۔
✡️ یہودیت: یہودی مذہب میں مقدس مقامات جیسے کہ دیوارِ گریہ پر لوگ مخصوص اوقات میں حاضری دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔
✝️ عیسائیت: عیسائیت میں گرجا گھروں اور مقدس مقامات پر لوگ حاضری دیتے ہیں اور وہاں دعا کرتے ہیں۔
اسلام نے تمام مذاہب کے برعکس ایک سادہ اور واضح راستہ بتایا ہے۔ اسلام میں عبادت صرف اللہ کے لیے ہے، کسی اور کی نہیں۔ قبروں کی زیارت کا مقصد صرف موت کی یاددہانی اور عبرت حاصل کرنا ہے، نہ کہ عبادت یا تعظیم۔
پاکستان کی مشہور درگاہیں اور وہاں کے رسومات
جنوبی ایشیا میں ہر جمعرات کو قبروں پر جانا ایک عام روایت بن چکی ہے، جو اسلامی تعلیمات سے زیادہ علاقائی ثقافتوں پر مبنی ہے۔ پاکستان کی کچھ مشہور درگاہیں جہاں یہ بدعت عروج پر ہے:
🕌 داتا دربار (لاہور): داتا دربار، برصغیر کے معروف صوفی بزرگ حضرت علی ہجویریؒ کا مزار ہے، جہاں لوگ بڑی تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔ یہاں پر منتیں مانگی جاتی ہیں، چادریں چڑھائی جاتی ہیں، اور خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں۔
🕌 عبداللہ شاہ غازی مزار (کراچی): کراچی میں واقع حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کا مزار ساحلی علاقوں کے لوگوں کے لیے روحانی مرکز ہے۔ لوگ یہاں خاص طور پر اپنی حاجتوں کے لیے آتے ہیں۔
🕌 بابا فرید گنج شکر (پاکپتن): حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے مزار پر لوگوں کی حاضری ایک خاص روایت بن چکی ہے، خاص طور پر عرس کے دنوں میں۔ یہاں چادریں چڑھانا، قوالی سننا، اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
🕌 شاہ رکن عالم (ملتان): حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مزار پر لوگوں کی بڑی تعداد حاضری دیتی ہے، جو ملتانی صوفی روایات کی علامت ہے۔
🕌 لعل شہباز قلندر (سیہون): سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا مزار سندھ بھر میں روحانی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں لوگ چادریں چڑھاتے ہیں اور دھمال میں حصہ لیتے ہیں۔
ان درگاہوں پر لوگوں کی حاضری کے دوران کئی غیر شرعی اعمال کیے جاتے ہیں، جیسے کہ:
- مرنے والوں سے دعا مانگنا اور حاجت طلب کرنا
- قبروں کو سجدہ کرنا یا ان کی تعظیم کرنا
- چادریں چڑھانا اور پھول پھینکنا
- نذر و نیاز کا اہتمام کرنا
- قوالی اور موسیقی کے ساتھ محافل منعقد کرنا
- دھمال اور دیگر غیر اسلامی رقص کرنا
ائمہ اربعہ اور مسالک کے موقف
ائمہ کرام کا ان بدعات کے بارے میں جو احکامات ہیں وہ یہ ہیں:
📚 امام ابن تیمیہؒ: قبروں کی زیارت کو عبادت کے طور پر اپنانے کو شرک قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبروں پر جا کر دعا مانگنا شرک ہے۔
📖 امام غزالیؒ: تصوف کی حدود میں رہنے کی تلقین کرتے ہیں لیکن قبروں کی غیر شرعی تعظیم کو رد کرتے ہیں۔
🕌 امام ابو حنیفہؒ: قبروں پر حاضری اور وہاں عبادت کرنے کو ناجائز قرار دیا۔
📚 فتاویٰ: جمہور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قبروں کو روحانی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنا شرک کے قریب ہے۔
مختلف مسالک کا اس بدعت پر موقف:
🕌 مسلک اہلحدیث: قبروں پر ہر قسم کی زیارت کو غیر ضروری اور بدعت قرار دیتے ہیں۔
🕌 مسلک بریلوی: قبروں کی زیارت کو جائز سمجھتے ہیں لیکن کچھ علماء شرعی حدود کی تاکید کرتے ہیں۔
🕌 مسلک دیوبندی: زیارت کی اجازت ہے لیکن ہر جمعرات کو جانے کو غیر ضروری تصور کرتے ہیں۔
🕌 مسلک اہل تشیع: قبروں پر جانے کو مستحب سمجھتے ہیں لیکن غیر شرعی رسومات کی مخالفت کرتے ہیں۔
سورۃ فاتحہ میں ہم بار بار کہتے ہیں: "اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ" (اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور خاص تیری ہی سے مدد مانگتے ہیں)۔ پھر قبروں والوں سے کیوں مانگتے پھرتے ہیں، سمجھ سے بالاتر ہے۔
اس بدعت کے معاشرتی اثرات اور نقصانات
اس بدعت کے پھیلاؤ سے معاشرے میں پائے جانے والے برے اثرات:
- شرک اور بدعات کا فروغ: لوگ توحید کے بجائے شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ کر اولیاء سے حاجت مانگنے لگتے ہیں۔
- وقت اور وسائل کا ضیاع: لوگ اپنا قیمتی وقت اور وسائل قبروں پر غیر ضروری رسومات میں صرف کرتے ہیں۔
- معاشرتی انتشار: معاشرے میں انتشار اور فرقہ واریت بڑھتی ہے، لوگ آپس میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔
- دین کے بنیادی اصولوں سے دوری: عوام کا دین کے بنیادی اصولوں سے کوئی تعلق نہیں رہتا یا رکھنا نہیں چاہتے۔
- اخلاقی انحطاط: قبروں پر غیر شرعی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے اخلاقیات متاثر ہوتی ہیں۔
- مالی استحصال: بعض لوگ اس عمل کو مالی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور لوگوں سے پیسے وصول کرتے ہیں۔
خلاصہ اور نتیجہ
ہمیں چاہیے کہ اس بدعت سے بچیں اور اللہ کی توحید پر عمل کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ میری عبادت کریں۔" (سورہ الذاریات: 56) — عبادت صرف اللہ کے لیے ہے، کسی اور کے لیے نہیں۔
بطور مسلم ہم اس گناہ سے کیسے بچیں؟
- قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں: دین کی صحیح سمجھ حاصل کریں اور اس پر عمل کریں۔
- بدعت کے نقصانات سے آگاہی: عوام کو بدعات کے نقصاندہ اثرات سے آگاہ کریں۔
- علما کی رہنمائی: مستند علما سے رہنمائی حاصل کریں۔
- دعوت و تبلیغ: توحید کی تبلیغ کریں اور لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات سکھائیں۔