فہرست مضامین
🔹 تعارف – شرک کا تصور
محترم قارئین کرام! ہمارے ایمان کا بنیادی جزو ہے کہ اللہ رب العزت کے سوا کسی اور کو مسبب الاسباب سے بالاتر نہ سمجھا جائے اور نہ ہی پکارا جائے۔ توحید یہ ہے کہ خاص اسی کی عبادت کی جائے اور اسی سے مدد مانگی جائے، وہ واحد ہے ذات و صفات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
لیکن افسوس کہ آج کے مسلمانوں نے اپنی حاجات کو پورا کرنے کے لیے الگ الگ پیر بنا لیے ہیں جن سے ناصرف مختلف توقعات بلکہ امداد و استعانت طلب کی جاتی ہے۔ بیٹے دینے والا پیر الگ ہے تو دولت دینے والا، نوکریاں بانٹنے والا کوئی اور۔ جنتی دروازہ کا محافظ کوئی اور ہے تو بیماریاں دور کرنے والا کوئی اور بالکل اسی طرح جیسے مشرکین الگ الگ بتوں سے الگ الگ حاجات کی توقعات رکھا کرتے تھے۔
🔹 قرآن مجید کی روشنی میں
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
ایسی لاحاصل خواہشات کے حصول جو درحقیقت مخلوق کے اختیار میں نہیں ہیں، اللہ کی پیدا کردہ مخلوق میں سے کسی فرد جو کہ کمتر، کمزور، اور محتاج ہو کو خواہشات پوری کرنے کے لیے پکارے شرک عظیم ہے۔ اور خاص کر قبر میں لیٹے اس مردہ لاش کو جو نہ تو سن سکتا ہے نہ اپنے لیے کچھ کر سکتا ہے اور نہ جواب دے سکتا ہے۔ ظلم عظیم ہے۔
اللہ نے دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا:
🔹 احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں
یہ چند دلائل ہیں ورنہ اس بیان کے لیے قرآن و سنت میں کئی نصوص موجود ہیں جن کو پڑھ کر کوئی بھی ذی شعور اور صاحب عقل اللہ کے سوا کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا نہیں سمجھ سکتا۔ یہ تو ایسی کھلی حقیقت ہے کہ مشرکین مکہ بھی اس کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراف کا ذکر کیا ہے۔
🔹 صحابہ کرام کا طرز عمل
اگر کسی بزرگ کی قبر پر جا کر حاجت روائی کے لیے پکارنا درست ہوتا تو اللہ کے رسول ﷺ سے بڑا بزرگ دنیا میں کون ہو سکتا ہے؟ لیکن حالت یہ ہے کہ صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی نبی ﷺ کی قبر پر جا کر انھیں کسی حاجت کے لیے کبھی نہیں پکارا۔ اگر یہ کام جائز ہوتا تو صحابہ خصوصاً خلفائے راشدین کو اپنے دور میں بڑی بڑی ضرورتوں اور مصائب کا سامنا تھا، وہ ضرور اللہ کے نبی ﷺ کی قبر پر آتے۔
ان جلیل القدر صحابہ میں سے کسی نے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آ کر یہ نہیں کہا کہ آپ ﷺ ہمارے لیے دعا کر دیں۔ ہاں! زندگی میں جو واقعتاً بزرگ ہو اس سے دعا کروانا درست ہے اور اس میں بھی بزرگ سے نہیں مانگا جاتا بلکہ اس سے عرض کی جاتی ہے کہ وہ اللہ سے ہماری بہتری کے لیے دعا کرے۔
🔹 آج کے معاشرے میں شرک
جیسے اللہ کے نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کا اللہ کی ذات پر ایمان ختم ہوتا چلا جائے گا۔ لوگ وہم و گمان کا شکار ہوتے چلے جائیں گے اور یاد رکھیں کہ شیطان ابلیس ہمیشہ انسان کی عقل پر وار کرتا ہے۔ اور شرک کے عمیق گہرائیوں میں انسان اس وقت جا گرتا ہے جب اس کی عقل پر شیطان ابلیس کی طرف سے پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔
آج کا انسان پریشان اور ویراں کیفیت سے دوچار نظر آتا ہے کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں رہا۔ نماز پڑھو تو دماغ کہیں اور اور دل کہیں اور ہوتا ہے حتیٰ کہ سکون نہیں ہوتا۔ دعا کرتا ہے تو دعا فوراً قبول ہونے کی شرط رکھتا ہے۔ صبر نہیں ہوتا تو فوراً باباجی آستانے پر پہنچتا ہے اور بابا جو پہلے ہی اسی تیاری میں ہوتا ہے کہ کب کوئی شکار آئے اور میں چند ٹکے بٹور لوں۔ اور یوں بہت ہی سستے میں اپنے ایمان کا سودا کر بیٹھتا ہے۔