فہرست مضامین
تعارف: بدعت کا پس منظر اور اہمیت
اسلام ایک کامل دین ہے جو توحید، عبادت، اور شریعت کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اس کے برخلاف، درگاہوں پر عورتوں کی مخصوص حاضری ایک ایسی بدعت ہے جو معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے بگاڑ اور شرک جیسے سنگین گناہ کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔ یہ عمل نہ صرف وقت اور وسائل کا ضیاع ہے بلکہ یہ ایک غیر شرعی رسم ہے جو توہم پرستی کو فروغ دیتی ہے۔
درگاہوں پر عورتوں کی مخصوص حاضری سے مراد وہ روایتی عمل ہے جہاں خواتین مخصوص دنوں میں مزاروں یا درگاہوں پر حاضری دیتی ہیں، وہاں منتیں مانگتی ہیں، دعا کرتی ہیں، اور بعض اوقات نذر و نیاز کا اہتمام کرتی ہیں۔ یہ عمل عموماً روحانی مدد کے لیے کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس میں غیر شرعی رسومات اور عقائد شامل ہو جاتے ہیں۔
یہ بدعت زیادہ تر اسلامی تعلیمات میں بگاڑ کے دور میں سامنے آئی، جب مسلم معاشروں میں غیر اسلامی روایات نے جگہ بنانی شروع کی۔ دورِ عباسیہ میں تصوف کے بڑھتے رجحان کے ساتھ مزاروں کی تعمیر شروع ہوئی، جہاں عوام نے روحانی تسکین کے لیے جانا شروع کیا۔ برصغیر میں تصوف کے ساتھ، غیر اسلامی رسم و رواج بھی شامل ہوئے، جن میں خواتین کی مخصوص حاضری شامل ہے۔ ان عقائد کی جڑیں ہندو دھرم کی رسومات اور علاقے کی قدیم تہذیبوں میں پائی جاتی ہیں، جہاں مزاروں اور مندروں میں خواتین کی عبادت کا تصور عام تھا۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں درگاہوں پر حاضری کے احکام
اللہ رب العزت فرماتے ہیں: "مساجد اور عبادت کے مقامات صرف اللہ کے لیے مخصوص ہیں" — اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا ہر مقام صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ولی یا بزرگ کی تعظیم کے لیے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلی قومیں اس لیے گمراہ ہوئیں کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔" (بخاری و مسلم) — یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ قبروں کو عبادت گاہ بنانا گمراہی کا سبب ہے۔
ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہ کی لعنت ہے ان پر جو قبروں کو مسجد بنالیتے ہیں۔" (مسلم) — یہ سخت وعید ہے جو قبروں کی تعظیم اور وہاں عبادت کرنے کی ممانعت کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ناقابل معافی گناہ ہے۔" (سورہ النساء: 48) — درگاہوں پر جا کر اولیاء سے دعا مانگنا، منتیں مانگنا، اور ان سے حاجت طلب کرنا شرک کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارا جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی قبر پر عبادت کے لیے جائے، وہ شرک کرتا ہے۔" — یہ حدیث قبروں پر حاضری اور وہاں عبادت کرنے کو شرک قرار دیتی ہے۔
دیگر مذاہب میں مزارات اور عبادت گاہوں کی روایات
دنیا کے مختلف مذاہب میں مزارات اور عبادت گاہوں پر حاضری کی روایات پائی جاتی ہیں:
🕉️ ہندومت: ہندو مذہب میں مندروں اور مقدس مقامات پر عورتیں خصوصی طور پر حاضری دیتی ہیں۔ وہ وہاں منتیں مانگتی ہیں، پوجا کرتی ہیں، اور دیوتاؤں کو نذرانے پیش کرتی ہیں۔
☸️ بدھ مت: بدھ مت میں اسٹوپوں اور مقدس مقامات پر عبادت کی جاتی ہے، جہاں عورتیں بھی حاضری دیتی ہیں۔ وہ وہاں روشنیاں جلاتی ہیں اور پھول چڑھاتی ہیں۔
✡️ یہودیت: یہودی مذہب میں مقدس مقامات جیسے کہ دیوارِ گریہ پر عورتیں مخصوص اوقات میں حاضری دیتی ہیں اور دعا کرتی ہیں۔
✝️ عیسائیت: عیسائیت میں گرجا گھروں اور مقدس مقامات پر عورتیں حاضری دیتی ہیں اور وہاں دعا کرتی ہیں۔
اسلام نے تمام مذاہب کے برعکس ایک سادہ اور واضح راستہ بتایا ہے۔ اسلام میں عبادت صرف اللہ کے لیے ہے، کسی اور کی نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "دعا ہی عبادت ہے۔" (ترمذی) — اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرنا عبادت ہے، اور عبادت صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔
پاکستان کی مشہور درگاہیں اور وہاں کے رسومات
برصغیر میں یہ بدعت تیزی سے پھیلی، خاص طور پر ہندوستان، پاکستان، اور بنگلہ دیش میں۔ پاکستان کی کچھ مشہور درگاہیں جہاں خواتین کی مخصوص حاضری عام ہے:
🕌 داتا دربار (لاہور): داتا دربار، برصغیر کے معروف صوفی بزرگ حضرت علی ہجویریؒ کا مزار ہے، جہاں خواتین بڑی تعداد میں حاضری دیتی ہیں۔ یہاں پر منتیں مانگی جاتی ہیں، چادریں چڑھائی جاتی ہیں، اور خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں۔ یہ جگہ روحانی تسکین کا مرکز سمجھی جاتی ہے لیکن بعض اوقات غیر شرعی اعمال کا بھی مظاہرہ ہوتا ہے۔
🕌 عبداللہ شاہ غازی مزار (کراچی): کراچی میں واقع حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کا مزار ساحلی علاقوں کے لوگوں کے لیے روحانی مرکز ہے۔ خواتین یہاں خاص طور پر بچوں کی صحت، شادی، اور دیگر مسائل کے حل کے لیے حاضری دیتی ہیں۔ اس مزار پر مختلف رسوم، جیسے نذر و نیاز، غیر اسلامی عقائد کو فروغ دیتی ہیں۔
🕌 بابا فرید گنج شکر (پاکپتن): حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے مزار پر خواتین کی حاضری ایک خاص روایت بن چکی ہے، خاص طور پر عرس کے دنوں میں۔ یہاں چادریں چڑھانا، قوالی سننا، اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان رسومات کے دوران شرعی حدود کا لحاظ اکثر نہیں کیا جاتا۔
🕌 شاہ رکن عالم (ملتان): حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مزار پر خواتین کی بڑی تعداد حاضری دیتی ہے، جو ملتانی صوفی روایات کی علامت ہے۔ یہاں پر خواتین روحانی مسائل کے حل کے لیے آتی ہیں لیکن بعض اوقات غیر شرعی عقائد اور بدعات کا رجحان نمایاں ہوتا ہے۔
🕌 لعل شہباز قلندر (سیہون): سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا مزار سندھ بھر میں روحانی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں خواتین حاضری دے کر چادریں چڑھاتی ہیں اور دھمال میں حصہ لیتی ہیں، جو اسلامی تعلیمات کے برخلاف ایک بدعت سمجھی جاتی ہے۔
ان درگاہوں پر خواتین کی حاضری کے دوران کئی غیر شرعی اعمال کیے جاتے ہیں، جیسے کہ:
- مرنے والوں سے دعا مانگنا اور حاجت طلب کرنا
- قبروں کو سجدہ کرنا یا ان کی تعظیم کرنا
- چادریں چڑھانا اور پھول پھینکنا
- نذر و نیاز کا اہتمام کرنا
- قوالی اور موسیقی کے ساتھ محافل منعقد کرنا
- دھمال اور دیگر غیر اسلامی رقص کرنا
ائمہ اربعہ اور مسالک کے موقف
ائمہ کرام کا ان بدعات کے بارے میں جو احکامات ہیں وہ یہ ہیں:
📚 امام ابن تیمیہؒ: مزاروں پر حاضری کو شرک کے قریب تصور کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قبروں پر جا کر دعا مانگنا شرک ہے۔
📖 امام غزالیؒ: تصوف کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے غیر شرعی اعمال کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ عبادت صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔
🕌 امام ابو حنیفہؒ: قبروں پر حاضری اور وہاں عبادت کرنے کو ناجائز قرار دیا۔
📚 فتاویٰ: جمہور علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قبر پرستی اور غیر شرعی رسومات اسلام میں ممنوع ہیں۔
مختلف مسالک کا اس بدعت پر موقف:
🕌 مسلک اہلحدیث: مکمل مخالفت؛ یہ عمل شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ اہلحدیث علماء کہتے ہیں کہ درگاہوں پر جانا اور وہاں عبادت کرنا حرام ہے۔
🕌 مسلک بریلوی: مزاروں پر حاضری جائز سمجھتے ہیں، لیکن شرعی حدود کا لحاظ کرنے پر زور دیتے ہیں۔ بعض بریلوی علماء غیر شرعی اعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔
🕌 مسلک دیوبندی: عمومی طور پر مخالفت، لیکن بعض علماء اعتدال کا مشورہ دیتے ہیں۔ دیوبندی علماء کہتے ہیں کہ قبروں پر حاضری صرف عبرت حاصل کرنے کے لیے جائز ہے، عبادت کے لیے نہیں۔
🕌 مسلک اہل تشیع: اولیاء کی قبروں پر حاضری کو جائز سمجھتے ہیں لیکن غیر شرعی اعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔
اس بدعت کے معاشرتی اثرات اور نقصانات
اس بدعت کے پھیلاؤ سے معاشرے میں پائے جانے والے برے اثرات:
- خواتین کے وقت اور وسائل کا ضیاع: خواتین اپنا قیمتی وقت اور وسائل درگاہوں پر غیر ضروری رسومات میں صرف کرتی ہیں۔
- توہم پرستی اور غیر شرعی عقائد کا فروغ: لوگ توہمات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی بجائے اولیاء سے حاجت مانگنے لگتے ہیں۔
- معاشرتی انتشار: معاشرے میں انتشار اور فرقہ واریت بڑھتی ہے، لوگ آپس میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔
- اسلام کے بنیادی عقائد سے انحراف: لوگ توحید کے بنیادی عقیدے سے دور ہو جاتے ہیں اور شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
- اخلاقی انحطاط: درگاہوں پر غیر شرعی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے اخلاقیات متاثر ہوتی ہیں۔
- مالی استحصال: بعض لوگ اس عمل کو مالی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور لوگوں سے پیسے وصول کرتے ہیں۔
یہ بدعت معاشرے میں خواتین کے کردار کو بھی متاثر کرتی ہے۔ خواتین کو گھر سے باہر نکل کر درگاہوں پر جانا پڑتا ہے، جہاں بعض اوقات اختلاط کی صورت پیدا ہوتی ہے، جو اسلامی اقدار کے خلاف ہے۔ اسلام نے خواتین کو گھر میں رہنے اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا حکم دیا ہے۔
خلاصہ اور نتیجہ
ہمیں چاہیے کہ اس بدعت سے بچیں اور اللہ کی توحید پر عمل کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ میری عبادت کریں۔" (سورہ الذاریات: 56) — عبادت صرف اللہ کے لیے ہے، کسی اور کے لیے نہیں۔
ہم اس گناہ سے کیسے بچیں؟
- قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل: قرآن و سنت کی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور ان پر عمل کریں۔
- علماء سے رجوع: مستند علماء اور اسلامی اسکالرز سے رہنمائی حاصل کریں۔
- دعوت و تبلیغ: لوگوں کو توحید کی دعوت دیں اور بدعات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔
- اصلاحی اقدامات: مزاروں پر غیر شرعی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے سماجی شعور پیدا کریں۔
- دعا: اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بدعات سے بچائے اور توحید پر قائم رکھے۔