فہرست مضامین
تعارف: بدعت کا پس منظر اور اہمیت
اسلام نے انسان کو کھانے پینے کی بنیادی ضروریات فراہم کی ہیں اور انہیں حلال و طیب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے لوگو! زمین میں جو چیزیں حلال اور پاکیزہ ہیں انہیں کھاؤ۔" (سورہ البقرہ: 168) — اس آیت میں کھانے کو حلال اور پاکیزہ قرار دیا گیا ہے، مگر اسے کسی خاص دن یا شخصیت سے منسلک کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
بدعت کی تعریف یہ ہے کہ دین میں ایسی چیز کو شامل کرنا جس کا کوئی شرعی ثبوت نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔" (بخاری و مسلم) — یہ واضح فرمان بدعات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
دور جاہلیت میں مشرکین مخصوص دنوں اور مہینوں کو اپنے بتوں کے نام منسوب کرتے تھے اور کھانے پینے کی اشیاء کو ان بتوں کے لیے وقف کرتے تھے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور وہ اللہ کے لیے اسی چیز کو مقرر کرتے ہیں جو خود انہوں نے کھیتی اور مویشیوں میں سے پیدا کیں، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ہمارے شرکاء کے لیے۔" (سورہ الانعام: 136) — یہ عمل جاہلیت کی باقیات ہے جسے بعض مسلمان اپنے معاشرے میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
جنوبی ایشیائی ممالک (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش) میں کھانے کو مخصوص دنوں میں تقسیم کرنا ایک عام روایت بن چکی ہے، خاص طور پر عرس، گیارہویں شریف، یا کسی پیر کی یاد میں۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جو کام وہ کر رہے ہیں یا ان سے کروایا جا رہا ہے اس کے معاشرے پر کیا برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں کھانے کی تقسیم کے احکام
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللہ کی راہ میں خرچ کرو، لیکن اسراف نہ کرو۔" (سورہ الاعراف: 31) — اس آیت میں صدقہ و خیرات کی ترغیب دی گئی ہے، مگر اسے کسی خاص دن یا وقت سے مشروط نہیں کیا گیا۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم جو بھی خیرات کرو، وہ اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔" — اس حدیث سے واضح ہے کہ کھانے کی تقسیم کا مقصد اللہ کی رضا ہونی چاہیے، نہ کہ کسی پیر کی خوشنودی یا کسی مخصوص دن کی برکت حاصل کرنا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھانے کو بغیر کسی خاص دن یا وقت کے تقسیم کیا کرتے تھے۔ جب بھی ان کے پاس کھانا آتا، وہ اسے فوراً ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہم نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کسی خاص دن کھانے کی تقسیم کا حکم دیتے نہیں سنا۔"
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: "کھانے کو کسی مخصوص دن یا شخصیت کے ساتھ منسلک کرنا دین میں بدعت ہے، کیونکہ اس کا کوئی شرعی ثبوت نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اعمال لوگوں کو توحید سے دور کرتے ہیں اور انہیں شرک کی طرف لے جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیزوں کو پسند کرتا ہے۔" (مسلم) — اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کو پاکیزہ ہونا چاہیے، مگر اسے کسی خاص دن یا شخصیت کی نسبت دینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔
دیگر مذاہب میں کھانے کی تقسیم کی روایات
اس بدعت کا دیگر مذاہب عالم میں کیا تصور اور رجحان ہے، اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ ہم اس بات کو سمجھ سکیں کہ یہ عمل کس قدر غیر اسلامی ہے:
🔮 زرتشت: زرتشتی مذہب میں کھانے پینے کی اشیاء کو آگ کی عبادت کے لیے وقف کرنے کی روایت ملتی ہے۔ وہ آگ کو پاکیزہ سمجھتے ہیں اور کھانے کو آگ کے سامنے رکھ کر برکت حاصل کرتے ہیں۔
🕉️ ہندومت: ہندو دھرم میں پرساد کی تقسیم مخصوص دیو دیوتاؤں کی عبادت کے بعد کی جاتی ہے۔ یہ عمل مندر میں پوجا کے بعد کیا جاتا ہے اور اسے مذہبی فرض سمجھا جاتا ہے۔
☸️ بدھ مت: بدھ مت میں بھی کھانے کو مخصوص مذہبی تقریبات کے دوران تقسیم کیا جاتا ہے۔ راہبوں کو کھانا پیش کرنا ایک نیک عمل سمجھا جاتا ہے۔
✡️ یہودیت: یہودی مذہب میں کھانے کو ربیوں کی دعاؤں کے ساتھ برکت دی جاتی ہے، لیکن دن یا تاریخ کی سخت قید نہیں ہے۔ تاہم، بعض خاص دنوں جیسے سبت کے دن کھانے کی خاص تیاری کی جاتی ہے۔
✝️ عیسائیت: عیسائیت میں بھی مقدس دنوں (جیسے ایسٹر یا کرسمس) پر کھانے کی تقسیم کی رواج ہے۔ چرچ میں عبادت کے بعد کھانے کی تقسیم کی جاتی ہے۔
اسلام نے ان تمام مذاہب کے برعکس ایک آسان اور واضح راستہ بتایا ہے۔ اسلام میں کھانے کی تقسیم کے لیے نہ تو کوئی خاص دن ہے، نہ کوئی خاص شخصیت کی اجازت، اور نہ ہی کوئی پیچیدہ رسومات۔ مسلمان کسی بھی دن، کسی بھی وقت، بغیر کسی شرط کے اللہ کی رضا کے لیے کھانا تقسیم کر سکتا ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ اسلام نے کھانے کی تقسیم کو عبادت کا درجہ دیا ہے، لیکن اسے کسی خاص دن یا شخصیت سے منسلک کرنے کو شرک قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس میں اللہ کی عبادت کی بجائے کسی اور کی تعظیم کی جاتی ہے۔
ائمہ اربعہ اور مسالک کے موقف
ائمہ اربعہ کے نزدیک کھانے کی تقسیم کو کسی دن یا شخصیت سے منسلک کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ انہوں نے اس عمل کو بدعت قرار دیا ہے:
🕌 امام ابو حنیفہؒ: مخصوص دنوں میں کھانے کی تقسیم کو غیر ضروری اور بدعت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کھانے کی برکت اللہ کی طرف سے ہے، نہ کہ کسی خاص دن کی وجہ سے۔
📖 امام مالکؒ: انہوں نے بدعت کو دین کے خالص اصولوں سے انحراف کہا۔ ان کا موقف تھا کہ کھانے کی تقسیم کا کوئی خاص وقت یا دن نہیں ہے۔
🏛️ امام شافعیؒ: بدعات کو دین کے بنیادی اصولوں سے انحراف سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو عمل قرآن و سنت میں نہ ہو، وہ بدعت ہے۔
📚 امام احمد بن حنبلؒ: انہوں نے کہا کہ ہر وہ عمل جو قرآن و سنت میں نہ ہو، اسے رد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کھانے کو مخصوص دنوں میں تقسیم کرنے کو سختی سے رد کیا۔
مختلف مسالک میں اس بدعت کا تصور دیکھنے کو ملتا ہے:
🕌 مسلک بریلوی: بعض بریلوی افراد مخصوص دنوں میں کھانے کی تقسیم کو روحانی عمل سمجھتے ہیں، لیکن معتدل علماء اس عمل کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن جو حضرات اللہ کی توحید کی بجائے پیر عبدالقادر جیلانی کی پیروی کرتے ہیں وہ یہ عمل بخوبی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
📖 مسلک اہلحدیث: اہلحدیث اس عمل کو بدعت اور غیر اسلامی تصور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھانے کی تقسیم کا کوئی خاص وقت یا دن نہیں ہے۔
🏛️ مسلک دیوبندی: دیوبندی علماء اس عمل کو شرک کے قریب سمجھتے ہیں اور اس کی ممانعت کرتے ہیں۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی نے اس طرح کی رسومات کو سخت الفاظ میں رد کیا ہے۔
🕋 مسلک اہل تشیع: اہل تشیع میں بھی مخصوص دنوں پر کھانے کی تقسیم کی جاتی ہے، محرم الحرام کے مہینے میں یہ عمل بہت تیزی سے دکھائی دیتا ہے، جیسے کہ قبرستان جانا، قبروں کے لیے پائی کروانا، قبروں پر پھول یا پتیاں پھینکنا، پانی کا چھڑکاؤ کرنا اور سبیل لگانا، نذر و نیاز بنانا اور بانٹنا وغیرہ، لیکن یہ عمل متفقہ نہیں ہے۔
📚 مسلک ندوی: ندوی علماء اس عمل کو غیر ضروری اور غیر شرعی سمجھتے ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنی تحریروں میں اس طرح کی بدعات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
🕌 مسلک احمدی: احمدی جماعت بھی اس عمل کو دین کے خلاف سمجھتی ہے۔ وہ لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کھانے کو بغیر کسی خاص دن یا شخصیت کے تقسیم کریں۔
ان تمام مسالک کے درمیان یہ بات مشترک ہے کہ کھانے کی تقسیم کو کسی خاص دن یا شخصیت سے منسلک کرنے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ یہ صرف ایک ثقافتی رواج ہے جسے لوگوں نے دین کا حصہ بنا لیا ہے، جبکہ حقیقت میں اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس بدعت کے معاشرتی اثرات اور نقصانات
جنوبی ایشیائی ممالک میں کھانے کو مخصوص دنوں میں تقسیم کرنے کی روایت بہت عام ہے۔ اس بدعت سے معاشرے پر بہت ہی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں:
- توحید کی پامالی: یہ عمل اللہ پر بھروسے کی بجائے لوگوں کو بدعات کی طرف مائل کرتا ہے۔ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پیروں اور روحانی شخصیات کو پکارنے لگتے ہیں۔
- معاشرتی تقسیم: پیر پرستی اور طبقاتی فرقہ واریت کو فروغ ملتا ہے۔ لوگ آپس میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔
- وسائل کا ضیاع: معاشی وسائل غیر ضروری طور پر بدعات پر خرچ ہوتے ہیں۔ لوگ اپنی محنت کی کمائی ان بدعات پر لگا دیتے ہیں جو دین میں نہیں ہیں۔
- مالی استحصال: بعض پیر حضرات اس عمل کو مالی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر ان سے پیسے وصول کرتے ہیں۔
- دینی جہالت: اس بدعت کی وجہ سے لوگ دین کے بنیادی مسائل سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ اسلام میں کھانے کی تقسیم کا اصل طریقہ کیا ہے۔
- نفسیاتی اثرات: لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اگر کھانا کسی خاص دن یا پیر کی اجازت کے بغیر تقسیم کیا گیا تو اس میں برکت نہیں ہوگی۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے اور اسلام سے دوری کا باعث بنتی ہے۔
اس بدعت کی وجہ سے معاشرے میں انتشار اور تفریق بھی بڑھتی ہے۔ کچھ لوگ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کا کھانا فلاں پیر نے پڑھا ہے یا فلاں مبارک دن کو تقسیم کیا گیا ہے۔ جبکہ اسلام میں تمام مسلمان برابر ہیں اور ان کی شناخت ان کے اعمال سے ہے، نہ کہ ان کے کھانے تقسیم کرنے کے طریقے سے۔
اس کے علاوہ، اس بدعت کی وجہ سے لوگوں میں توہم پرستی بھی بڑھتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اگر کھانا فلاں دن یا فلاں شخص کے مشورے سے نہیں تقسیم کیا گیا تو اس میں برکت نہیں ہوگی۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے اور اسلام سے دوری کا باعث بنتی ہے۔
بدعت سے بچنے کے عملی طریقے
ہمیں چاہیے کہ اس بدعت سے بچنے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات کریں:
- توحید کی تعلیم: اللہ کی ذات پر مکمل ایمان رکھیں۔ یقین رکھیں کہ کھانے کی برکت اللہ کی طرف سے ہے، نہ کہ کسی خاص دن یا شخصیت کی وجہ سے۔
- بدعتوں سے اجتناب: دین کی اصل تعلیمات پر عمل کریں۔ کسی بھی ایسے عمل سے بچیں جس کا قرآن و سنت میں کوئی ثبوت نہ ہو۔
- قرآنی رہنمائی: اللہ کی رضا کے لیے صدقات دیں، بغیر کسی بدعتی قید کے۔ کسی بھی دن، کسی بھی وقت کھانا تقسیم کریں۔
- علماء سے مشورہ: صحیح اسلامی تعلیمات کے لیے مستند علماء سے رجوع کریں۔ ان سے پوچھیں کہ کھانے کی تقسیم کا صحیح طریقہ کیا ہے۔
- دوسروں کو تعلیم دیں: معاشرتی سطح پر بدعات کے نقصانات اجاگر کریں۔ لوگوں کو بتائیں کہ اسلام میں کھانے کی تقسیم کا اصل طریقہ کیا ہے۔
- نیت کی اصلاح: کھانے کی تقسیم کی نیت صرف اللہ کی رضا ہونی چاہیے، نہ کہ کسی پیر کی خوشنودی یا کسی مخصوص دن کی برکت حاصل کرنا۔
- سادگی اختیار کریں: کھانے کی تقسیم کو سادہ اور آسان بنائیں۔ اس میں کسی پیچیدہ رسومات یا تقریبات کی ضرورت نہیں ہے۔
خلاصہ اور نتیجہ
ہمیں چاہیے کہ ان بدعات سے اجتناب کریں اور دین کی اصل تعلیمات کو اپنائیں۔ کھانے کی تقسیم ایک نیک عمل ہے، لیکن اسے کسی خاص دن یا شخصیت سے منسلک کرنا اس کی روح کو مار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کھانے کو حلال اور طیب قرار دیا ہے، اور اسے بغیر کسی شرط کے تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔
یاد رکھیں! قیامت کے دن ہم سے ہمارے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا، نہ کہ اس بارے میں کہ ہم نے کھانا کس دن یا کس شخص کے مشورے پر تقسیم کیا تھا۔ اس لیے ہمیں اپنی توجہ دین کی اصل تعلیمات پر مرکوز رکھنی چاہیے اور ہر اس چیز سے بچنا چاہیے جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توحید خالص پر عمل کرنے اور بدعات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کھانے کو بغیر کسی خاص دن یا وقت کے تقسیم کریں اور اسے اللہ کی رضا کے لیے وقف کریں۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ پوری امت کو بدعات اور شرک سے بچا سکتے ہیں۔