مسلم تاریخ کی 50 اہم شخصیات 19: ابو بکر الرازی
ابو بکر الرازی مسلم تاریخ کے عظیم طبیب، فلسفی اور کیمیاداں تھے۔ ان کا پورا نام ابو بکر محمد بن زکریا الرازی تھا۔ وہ نویں صدی عیسوی میں پیدا ہوئے اور طب کے میدان میں انقلابی خدمات انجام دیں۔
ابتدائی زندگی
ابو بکر الرازی 865ء میں رے (موجودہ ایران) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی۔ ابتدا میں انہوں نے موسیقی اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کی لیکن بعد میں ان کا رجحان طب کی طرف ہو گیا۔ انہوں نے بغداد میں طب کی تعلیم حاصل کی اور وہاں کے ہسپتال میں کام کیا۔
طبی خدمات
الرازی کو "طب کے امام" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی اہم طبی خدمات:
1. تشخیص اور علاج
- انہوں نے بیماریوں کی تشخیص کے نئے طریقے ایجاد کیے
- انہوں نے چھوتی امراض (Infectious diseases) پر کام کیا
- انہوں نے بخار کی اقسام اور ان کے علاج پر تحقیق کی
2. جراحی
- انہوں نے سرجری کے نئے آلات ایجاد کیے
- انہوں نے آنکھوں کی سرجری میں مہارت حاصل کی
- انہوں نے مرہم اور زخم بھرنے کے طریقے ایجاد کیے
3. دوائیں
- انہوں نے متعدد نئی دوائیں ایجاد کیں
- انہوں نے دواؤں کے مرکبات تیار کیے
- انہوں نے دواؤں کے استعمال کے طریقے مقرر کیے
مشہور تصانیف
الرازی نے تقریباً 200 کتابیں تصنیف کیں جن میں سے مشہور ہیں:
- الحاوی فی الطب (طب کا جامع مجموعہ) - 25 جلدیں
- المنصوری فی الطب (المنصوری طب پر)
- کتا ب الجدری والحصبة (چیچک اور خسرہ پر کتاب)
- دفع مضار الأغذية (غذا کے نقصانات کا دفاع)
- الأسرار فی الکیمیا (کیمیا کے راز)
الحاوی فی الطب
"الحاوی فی الطب" الرازی کی سب سے مشہور کتاب ہے جو طب کا انسائیکلوپیڈیا سمجھی جاتی ہے۔ یہ کتاب سترہویں صدی تک یورپ کے طب کے اسکولوں میں پڑھائی جاتی رہی۔
کیمیائی خدمات
طب کے علاوہ الرازی نے کیمیا کے میدان میں بھی اہم کام کیا۔
فلسفیانہ خیالات
الرازی فلسفہ کے میدان میں بھی فعال تھے۔ ان کے فلسفیانہ خیالات میں عقل پرستی نمایاں تھی۔
یورپ پر اثرات
الرازی کی کتابیں بارہویں صدی میں یورپ پہنچیں اور وہاں کے طبی حلقوں میں مقبول ہوئیں۔