ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام اپنی فوج کے ساتھ کسی راستے سے گزر رہے تھے۔ ان کی فوج میں جنات، انسان اور پرندے شامل تھے۔ جب وہ ایک وادی کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک ننھی چیونٹی کو دوسری چیونٹیوں سے کہتے سنا: "اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ تاکہ سلیمان اور اس کی فوج تمہیں کچل نہ دیں اور وہ محسوس بھی نہ کریں۔"
یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام مسکرائے اور اللہ کی حمد کی۔ انہوں نے اس چیونٹی کی عقل مندی اور دور اندیشی پر حیرت کا اظہار کیا۔ یہ وہی واقعہ ہے جو قرآن مجید میں سورہ نمل میں بیان ہوا ہے۔
چیونٹی اور پیغمبر کی ملاقات
حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی آواز سنی اور اس کی بات کو غور سے سنا۔ چیونٹی نے اپنی قوم کو خبردار کیا تھا کہ سلیمان کی فوج آ رہی ہے اور اگر وہ باہر نکلیں گی تو کچل دی جائیں گی۔
یہ چیونٹی نہ صرف اپنی قوم کی فکر مند تھی بلکہ اس نے سلیمان علیہ السلام کی فوج کے بارے میں بھی سوچا کہ وہ نادانستہ طور پر چیونٹیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ چیونٹی کی ذہانت اور دور اندیشی تھی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی آواز سنی اور اس کی حکمت پر مسکرائے۔ انہوں نے اللہ کی حمد کی اور اس نعمت کا شکر ادا کیا کہ اللہ نے انہیں جانوروں کی بولی سمجھنے کی صلاحیت عطا کی تھی۔
چیونٹی کی عقل مندی
اس واقعے میں چیونٹی کی عقل مندی کے کئی پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ اس نے اپنی قوم کی حفاظت کا انتظام کیا۔ دوسرا یہ کہ اس نے سلیمان علیہ السلام کی فوج کے بارے میں سوچ بچار کی اور انہیں نقصان پہنچانے سے بچایا۔
چیونٹی نے یہ بھی سوچا کہ اگر وہ باہر نکلیں گی تو سلیمان کی فوج انہیں کچل دے گی اور انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوگا۔ اس لیے اس نے اپنی قوم کو پہلے سے ہی خبردار کر دیا۔
یہ چیونٹی نہ صرف اپنی قوم کی رہنما تھی بلکہ اس نے ایک عظیم پیغمبر کو بھی ایک سبق سکھایا کہ اللہ کی تخلیق میں ہر چیز کی اپنی اہمیت اور حکمت ہے۔
پیغمبر کی عاجزی
حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی بات سن کر نہ صرف مسکرایا بلکہ اللہ کی حمد بھی کی۔ انہوں نے اس چھوٹی سی مخلوق کی عقل مندی کو سراہا اور اس سے سبق سیکھا۔
یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عاجزی تھی کہ انہوں نے ایک ننھی چیونٹی کی بات کو اہمیت دی اور اس سے سبق حاصل کیا۔ ایک عظیم پیغمبر ہونے کے باوجود انہوں نے تکبر نہیں کیا اور اللہ کی تخلیق میں ہر چیز کو اہمیت دی۔
اس واقعے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ وہ انہیں شکر گزار بندہ بنائے اور انہیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سبق آموز پیغام
اس کہانی سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ کی تخلیق میں ہر چیز حکمت اور مقصد رکھتی ہے۔ ایک چھوٹی سی چیونٹی بھی اتنی عقل مند ہو سکتی ہے کہ وہ ایک پوری قوم کی رہنمائی کر سکے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ دور اندیشی سے کام لینا چاہیے۔ چیونٹی نے اپنی قوم کو پہلے سے ہی خبردار کر دیا تاکہ وہ نقصان سے بچ سکیں۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں آگے کی سوچ رکھنی چاہیے۔
تیسرا سبق عاجزی کا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک چھوٹی سی مخلوق سے سبق سیکھا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ہمیشہ عاجزی سے کام لیں اور دوسروں سے سیکھنے کے لیے تیار رہیں۔