غفلت میں چھپے 50 گناہ 9- بھوکوں اور ننگوں کی مدد نہ کرنا

بھوکوں اور ننگوں کی مدد نہ کرنا ایک سنگین گناہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس گناہ کی حقیقت، اس کے معاشرتی اثرات اور بچاؤ کے طریقے جانیں۔

8 منٹ پڑھیں 0 مشاہدات 9 اگست 2026 تعلیمات اسلامی

تعارف

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں نواں گناہ بھوکوں اور ننگوں کی حیثیت کے مطابق مدد نہ کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا گناہ ہے جو معاشرے میں بڑھتی ہوئی غربت اور بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔

بھوکوں اور ننگوں کی مدد نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ افراد جو اپنی بنیادی ضروریات، جیسے خوراک، کپڑے اور رہائش، پوری کرنے سے قاصر ہیں، انہیں ان کی حیثیت کے مطابق مدد فراہم نہ کرنا۔ جب ہم اپنے آس پاس کے بھوک اور غربت کے شکار لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں یا ان کی مدد میں کوتاہی کرتے ہیں تو یہ ایک بڑی غفلت ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوسروں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے، اور یہ آزمائش کا ایک حصہ ہے کہ ہم اپنی دولت اور وسائل کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ جو لوگ اپنی دولت سے دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچاتے، وہ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانوں کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی تعاون کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ دین ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر انسان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ بھوکوں اور ننگوں کی مدد نہ کرنا اس اصول کے سراسر خلاف ہے۔

بھوکوں اور ننگوں کی مدد نہ کرنے کا مفہوم

بھوکوں اور ننگوں کی مدد نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی بے حسی اور خود غرضی کو ظاہر کرتا ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اور ان کے مالوں میں حق تھا، معلوم حق، سائل اور محروم کے لیے۔"

(سورۃ الذاریات، آیت 19)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ ہماری دولت میں دوسروں کا حق ہے، اور ہمیں انہیں ان کے حقوق سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حق سائل (مانگنے والے) اور محروم (ضرورت مند) دونوں کے لیے ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "جو اپنے بھائی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ اس کی پوشیدہ مدد کرے تو اللہ رب العزت دنیا و آخرت میں اس کی مدد فرمائے گا۔" (صحیح مسلم)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا کتنا بڑا نیک عمل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔

مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام

موجودہ دور میں مہنگائی کی وجہ سے بہت سے افراد بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ خوراک، رہائش اور دیگر ضروریات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس کی وجہ سے عوام کا بڑا حصہ غربت کی دلدل میں دھنس رہا ہے۔

ایسے میں جو افراد اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے مالا مال ہیں، ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان ضرورت مند لوگوں کی مدد کریں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر افراد اپنی دولت کو صرف اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کی مشکلات سے بے خبر رہتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رحم اور مدد کرنا نہایت ضروری ہے، اور جو لوگ غفلت برتتے ہیں، ان پر اللہ کی ناراضگی ہوتی ہے۔

حرام کمائی سے کسی کی مدد کرنا

کچھ لوگ حرام طریقے سے کمائی کرتے ہیں اور اس کے ذریعے غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ یہ عمل اسلام میں ناپسندیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حلال روزی کو اہمیت دی ہے اور حرام کمائی کو منع فرمایا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حرام کمائی کو سختی سے منع فرمایا ہے:

"اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ۔"

(سورۃ النساء، آیت 29)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ حرام طریقے سے حاصل شدہ مال سے نہ صرف خود کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ دوسروں کی مدد کرنا بھی اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر کوئی شخص حرام ذرائع سے مال کما کر دوسروں کی مدد کرتا ہے، تو اس کا عمل قابل قبول نہیں ہوگا۔

حرام کمائی سے کسی کو فائدہ پہنچانا ایک اور گناہ کو فروغ دینا ہے۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ حلال ذرائع سے کمائی کرنی چاہیے اور حلال کمائی سے دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔

حلال کمانے والوں کے لیے مشکلات

وہ لوگ جو حلال طریقے سے روزی کمانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر موجودہ دور میں جہاں معاشی حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ حلال روزی کمانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور بہت سے لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "محنت سے کمانے والا اللہ کا دوست ہے۔" (مسند احمد)

یہ حدیث حلال کمائی کی اہمیت کو بیان کرتی ہے اور ہمیں اس بات کی طرف راغب کرتی ہے کہ ہم ان لوگوں کی مدد کریں جو حلال روزی کے لیے محنت کرتے ہیں لیکن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

ایسے حالات میں ہم پر لازم ہے کہ ہم ان لوگوں کی مدد کریں جو حلال کمائی کے باوجود مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے کمزور افراد کا خیال رکھیں۔

موجودہ دور میں ضرورت مند کو حقارت سے دھتکار دینا

آج کے دور میں، غربت اور بھوک سے دوچار افراد کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اکثر انہیں مدد فراہم کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھرے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔" (مشکوٰۃ المصابیح)

یہ حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہمیں اپنے آس پاس کے ضرورت مند افراد کی مدد کرنی چاہیے اور انہیں کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اسلام میں ہر فرد کو عزت اور وقار سے نوازا گیا ہے، چاہے وہ کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو۔ ہمیں ضرورت مندوں کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ان کی مدد کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے۔

ضرورت مند لوگوں کی مدد کیسے کریں؟

ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے اور اس کے لیے ہمیں درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:

📌 صدقہ اور خیرات کریں

اسلام میں صدقہ اور خیرات دینے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ہمیں اپنی آمدنی سے ایک حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے اور خاص طور پر بھوکوں اور ننگوں کی مدد کرنی چاہیے۔

📌 زکوٰۃ کا اہتمام کریں

زکوٰۃ دینا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس کا مقصد یہی ہے کہ معاشرے کے غریب طبقے کی مدد ہو سکے۔ زکوٰۃ کو صحیح طریقے سے ادا کرنا معاشرتی انصاف کو فروغ دیتا ہے۔

📌 دوسروں کے ساتھ ہمدردی کریں

ہمدردی اور محبت کے ساتھ ضرورت مند افراد کی مدد کریں۔ انہیں حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ ان کی مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

📌 حرام کمائی سے بچیں

ہمیشہ حلال کمائی سے دوسروں کی مدد کریں۔ حرام ذرائع سے کمائی ہوئی رقم سے کسی کی مدد کرنا نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ اس کا کوئی اجر بھی نہیں ملتا۔

📌 عزت اور وقار کے ساتھ مدد کریں

جب بھی آپ کسی کی مدد کریں، اس کی عزت اور وقار کو برقرار رکھیں۔ کسی کو ذلیل یا شرمندہ نہ کریں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اس کی مدد کریں۔

📌 اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھیں

اپنے پڑوسیوں کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اگر آپ کا پڑوسی بھوکا ہے تو اس کی مدد کریں۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔

اختتامیہ

بھوکوں اور ننگوں کی مدد نہ کرنا ایک سنگین گناہ ہے جو ہمیں اللہ کی رحمت سے محروم کر سکتا ہے۔ اسلام نے ہمیں ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے، اور جو لوگ اپنی دولت سے دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچاتے، وہ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں۔

موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت نے لاکھوں لوگوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کی مدد کریں اور انہیں حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔

ہمیں اپنی زندگیوں میں رحم، محبت اور ہمدردی کو فروغ دینا چاہیے اور ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ہم بھوک اور غربت کے شکار افراد کی مدد کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی رضا اور جنت کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھوکوں اور ننگوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا بنائے۔ ہمیں دوسروں کے ساتھ رحم اور ہمدردی کا سلوک کرنے والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔

مزید اسلامی تعلیمات، مضامین اور معلومات کے لیے بلاگ لوورز وزٹ کریں۔

اس تحریر پر اپنا ردعمل دیں
Uzair Hameed
Uzair Hameed مصنف
محقق، مصنف اور بلاگنگ کے شوقین۔ اسلامی تعلیمات، تاریخ اور معاشرتی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ مقصد قارئین کو بہترین اور مستند معلومات فراہم کرنا ہے۔