غفلت میں چھپے 50 گناہ 7- تہمت لگانا

تہمت لگانا ایک سنگین گناہ ہے جو معاشرے میں نفرت، بداعتمادی اور تباہی پھیلاتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں تہمت لگانے کی حقیقت، اس کے معاشرتی اثرات اور بچاؤ کے طریقے جانیں۔

8 منٹ پڑھیں 0 مشاہدات 9 اگست 2026 تعلیمات اسلامی

تعارف

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں ساتواں گناہ تہمت لگانا ہے۔ اس سے پہلے چھے آرٹیکل جو میں تفصیل سے شیئر کر چکا ہوں، ان میں سے حقارت سے کسی پر ہنسنا، دھوکا دینا، چغلی کرنا، بدگمانی کرنا، طعنہ دینا، کسی کے عیب تلاش کرنا شامل ہیں۔

تہمت لگانا یا افتراء ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی شخص پر جھوٹا الزام لگایا جاتا ہے، جس کا مقصد اس کی عزت کو نقصان پہنچانا یا اسے ذلیل و رسوا کرنا ہوتا ہے۔ تہمت میں الزام حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ اسے جان بوجھ کر جھوٹ کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے۔

یہ گناہ معاشرے میں بد نیتی، عداوت اور فتنہ و فساد کا سبب بنتا ہے۔ تہمت لگانے والے شخص کا مقصد دوسروں کو دھوکہ دینا، کسی کی ساکھ کو خراب کرنا یا محض اپنی نفرت اور بغض کو نکالنا ہوتا ہے۔ یہ ایک نہایت قبیح فعل ہے جو انسانیت اور اسلامی اخلاقیات کے سراسر خلاف ہے۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانوں کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ دین ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر انسان عزت و احترام کا مستحق ہے۔ تہمت لگانا اس اصول کے سراسر خلاف ہے۔

تہمت کا مفہوم

تہمت لگانا یا افتراء کسی شخص پر جھوٹا الزام لگانے کا عمل ہے۔ یہ الزام کسی جرم، برائی یا ناشائستہ فعل کے بارے میں ہو سکتا ہے جو حقیقت میں اس شخص نے نہیں کیا۔ تہمت کا مقصد کسی کی عزت کو مجروح کرنا، اس کی ساکھ کو خراب کرنا یا اسے معاشرے میں رسوا کرنا ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی جرم کے ایذاء دیتے ہیں، انہوں نے جھوٹ اور واضح گناہ کا بوجھ اٹھایا۔"

(سورۃ الاحزاب، آیت 58)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ جو لوگ مومنوں پر بلا وجہ تہمت لگاتے ہیں، وہ نہ صرف جھوٹے ہوتے ہیں بلکہ سنگین گناہ کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ تہمت ایک ایسا گناہ ہے جو نہ صرف الزام لگانے والے بلکہ اسے پھیلانے والے سب کو متاثر کرتا ہے۔

تہمت ایک بدترین گناہ ہے

تہمت کا گناہ نہایت سنگین ہے کیونکہ یہ کسی کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اس عمل کی سختی سے مذمت کی ہے۔ تہمت لگانے والے کو دنیا اور آخرت میں سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی مومن پر وہ بات کہی جو اس میں نہیں تھی، اللہ اسے دوزخ میں ایک جگہ ٹھہرائے گا، یہاں تک کہ وہ اپنے کہے ہوئے سے بری ہو جائے۔" (سنن ابوداؤد)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تہمت لگانے کی سزا کتنی سخت ہے اور یہ عمل اللہ کے نزدیک کتنا ناپسندیدہ ہے۔ تہمت لگانے والا شخص نہ صرف دوسرے کی عزت کو پامال کرتا ہے بلکہ اپنے آپ کو بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق بناتا ہے۔

تہمت لگانے کا گناہ اس قدر سنگین ہے کہ یہ سو برس کے نیک اعمال کو تباہ کر سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "پاک دامن عورت پر تہمت لگانا سو برس کے عمل کو تباہ کرتا ہے۔"

معاشرے میں تیزی سے پھیلنے والا بدبودار گناہ

تہمت ایک ایسا گناہ ہے جو معاشرے میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی پر جھوٹا الزام لگاتا ہے، تو لوگ بغیر تحقیق کے اس بات کو آگے پھیلا دیتے ہیں۔ یہ گناہ اس وقت اور بھی زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے افواہیں اور جھوٹ تیزی سے پھیلتے ہیں۔

تہمت کی یہ بدبو معاشرتی تعلقات کو خراب کرتی ہے، لوگوں کے درمیان بدگمانی اور نفرت کو فروغ دیتی ہے اور ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے پر شک کرنے لگتے ہیں۔ تہمت کا نتیجہ اکثر بے گناہوں کی بدنامی اور ان کی زندگیوں کو برباد کرنے کی صورت میں نکلتا ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں تہمت لگانا اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ لوگ بغیر کسی تحقیق کے دوسروں کے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلا دیتے ہیں، جس سے معاشرتی امن و امان کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

آج کل مختلف پلیٹ فارمز پر لوگوں کے خلاف جھوٹے الزامات لگانا، ان کی عزت کو نقصان پہنچانا اور ان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانا ایک عام سی بات بن چکی ہے۔ یہ رجحان انتہائی خطرناک ہے اور اسے روکنے کی شدید ضرورت ہے۔

اسلام میں اس کی ممانعت

اسلام نے تہمت لگانے کو سختی سے منع کیا ہے کیونکہ یہ گناہ نہ صرف ایک فرد کی عزت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس گناہ کی سخت ممانعت کی گئی ہے اور تہمت لگانے والوں کو دنیا و آخرت میں سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

قرآن مجید میں سورہ نور میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائے گئے جھوٹے الزام کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے تہمت لگانے والوں کی مذمت کی ہے اور فرمایا:

"بیشک وہ لوگ جنہوں نے جھوٹا الزام لگایا، وہ تم میں سے ایک گروہ ہیں۔ اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔"

(سورۃ النور، آیت 11)

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تہمت لگانے والوں کی سخت سرزنش کی ہے اور بتایا کہ جو لوگ جھوٹے الزامات لگاتے ہیں، وہ ایک گناہ گار گروہ کا حصہ ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو!" صحابہ کرام نے پوچھا: کون سی چیزیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "شرک، مال کی حرص، قتل، سود، یتیم کا مال کھانا، معرکے سے بھاگ جانا، مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ حدیث تہمت لگانے کو ان سات مہلک گناہوں میں شامل کرتی ہے جو انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں۔

ہم اس گناہ سے کیسے بچیں؟

تہمت لگانے کے گناہ سے بچنے کے لیے ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:

📌 غور و فکر کریں

تہمت لگانے سے پہلے ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم کسی پر جھوٹا الزام لگا رہے ہیں؟ اگر ہمیں کسی کی برائی یا غلطی کا یقین نہ ہو، تو ہمیں خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔

📌 تحقیق کریں

اگر کسی کے بارے میں کوئی بات سنیں، تو فوراً اس پر یقین نہ کریں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لو۔" (سورۃ الحجرات، آیت 6)

📌 حسنِ ظن رکھیں

ہمیشہ دوسروں کے بارے میں حسنِ ظن رکھیں اور ان کے اعمال کو نیک نیتی کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کریں۔ بدگمانی اور تہمت معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے، اس لیے ہمیں دوسروں کے بارے میں اچھا سوچنا چاہیے۔

📌 اللہ سے مدد مانگیں

اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں تہمت لگانے کی بیماری سے محفوظ رکھے اور ہمارے دلوں کو حسد، بغض اور نفرت سے پاک کرے۔

📌 اخلاقی تربیت

اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت دیں تاکہ ہم تہمت جیسے گناہوں سے بچ سکیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بیشک میں اچھے اخلاق کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔"

📌 جھوٹ کو پھیلانے سے روکیں

اگر کوئی آپ کے سامنے کسی کے بارے میں جھوٹی بات کرے تو اسے روکیں اور اس سے کہیں کہ وہ تحقیق کرے۔ جھوٹ کو پھیلانا بھی ایک گناہ ہے۔

اختتامیہ

تہمت لگانا ایک نہایت سنگین گناہ ہے جس کی مذمت قرآن و حدیث میں کی گئی ہے۔ ہمیں اس گناہ سے بچنے کے لیے اسلامی تعلیمات کو اپنانا چاہیے، دوسروں کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے اور بلا تحقیق کوئی بات آگے نہیں پھیلانی چاہیے۔

موجودہ دور میں تہمت لگانا کو معمولی سمجھنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے اور ہماری آخرت کو خراب کر سکتا ہے۔ تہمت لگانے سے بچنے کے لیے ہمیں اللہ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔

ہمیں اپنی زبانوں کو اچھی باتوں کے لیے استعمال کرنا چاہیے، دوسروں کی مدد کرنی چاہیے اور ان کی عزت کرنی چاہیے۔ اگر ہم یہ اصول اپنا لیں تو معاشرہ پرامن اور خوشحال ہو سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں تہمت لگانے کے گناہ سے محفوظ رکھے اور ہمیں سچ بولنے اور حسنِ ظن رکھنے والا بنائے۔ ہمیں دوسروں کی عزت کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور معاشرے میں محبت و بھائی چارے کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

مزید اسلامی تعلیمات، مضامین اور معلومات کے لیے بلاگ لوورز وزٹ کریں۔

اس تحریر پر اپنا ردعمل دیں
Uzair Hameed
Uzair Hameed مصنف
محقق، مصنف اور بلاگنگ کے شوقین۔ اسلامی تعلیمات، تاریخ اور معاشرتی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ مقصد قارئین کو بہترین اور مستند معلومات فراہم کرنا ہے۔