⚡

غفلت میں چھپے 50 گناہ 5- طعنہ دینا

طعنہ دینا ایک سنگین گناہ ہے جو معاشرے میں نفرت، بداعتمادی اور تباہی پھیلاتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں طعنہ دینے کی حقیقت، اس کے معاشرتی اثرات اور بچاؤ کے طریقے جانیں۔

9 منٹ پڑھیں 0 مشاہدات 9 اگست 2026 تعلیمات اسلامی

تعارف

طعنہ دینا ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی شخص کے بارے میں طنزیہ یا حقارت آمیز الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ اس کی تذلیل کی جا سکے یا اسے نیچا دکھایا جا سکے۔

طعنہ دینا اکثر اوقات دوسروں کے کمزور پہلوؤں یا ان کی بیماریوں کی غلطیوں کو نشانہ بناتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف دوسرے شخص کو دکھ پہنچانا ہوتا ہے بلکہ اسے اپنی غلطیوں کا بار بار احساس دلانا بھی ہوتا ہے۔ غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی لسٹ میں یہ گناہ پانچویں نمبر پر آتا ہے۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانوں کے درمیان محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ دین ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر انسان عزت و احترام کا مستحق ہے، خواہ اس کا سماجی مقام کچھ بھی ہو۔ طعنہ دینا اس اصول کے سراسر خلاف ہے۔

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی لسٹ میں یہ گناہ پانچویں نمبر پر آتا ہے، جو اس کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ بہت سے لوگ اس گناہ کو معمولی سمجھتے ہیں اور روزمرہ کی گفتگو میں اس کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں، حالانکہ یہ ایک کبیرہ گناہ ہے جس کا انجام بہت برا ہے۔

طعنہ دینا کیا ہے؟

طعنہ دینا ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی شخص کو اس کی کمزوریوں، غلطیوں یا ناکامیوں کو یاد دلا کر اسے ذہنی یا جذباتی تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔ یہ عمل کسی شخص کی عزت اور وقار کو مجروح کرتا ہے اور اس میں خود اعتمادی کو کم کرتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے طعنہ زنی کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

"اے ایمان والو! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب لگاؤ اور نہ برے القاب سے پکارو۔"

(سورۃ الحجرات، آیت 11)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر طعنہ زنی سے منع کیا ہے اور اسے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔ طعنہ دینے والا شخص دراصل دوسروں کی عزت کو پامال کرتا ہے اور اللہ کی ناراضگی کا مرتکب ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (صحیح بخاری)۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ طعنہ دینا ایک مسلمان کی شخصیت کے منافی ہے۔

پس منظر – دیگر مذاہب عالم میں

طعنہ زنی کا تصور صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مختلف مذاہب اور ثقافتوں میں پایا جاتا ہے۔ ہر مذہب نے طعنہ زنی کو برا عمل قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی ہے۔

ہندومت

ہندو مذہب میں طعنہ زنی کو برا عمل سمجھا جاتا ہے۔ ویدوں میں کہا گیا ہے کہ جو شخص دوسروں کو طعنے دیتا ہے وہ اپنی روح کو نقصان پہنچاتا ہے اور اسے برے انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عیسائیت

بائبل میں طعنہ زنی کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ عیسائی تعلیمات کے مطابق طعنہ زنی کرنے والا شخص اللہ کی ناراضی کا مستحق ہے اور اسے توبہ کرنی چاہیے۔

یہودیت

تورات میں طعنہ زنی سے منع کیا گیا ہے۔ یہودی تعلیمات کے مطابق طعنہ زنی کرنے والا شخص توبہ کرے اور جسے طعنہ دیا اس سے معافی مانگے۔

زرتشت

زرتشت مذہب میں طعنہ زنی کو برا عمل قرار دیا گیا ہے۔ زرتشت کے مطابق انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اچھی باتیں کرے اور دوسروں کو طعنے نہ دے۔

سکھ ازم

سکھ مذہب میں طعنہ زنی کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ سکھ گرووں نے ہمیشہ لوگوں کو اچھی زبان استعمال کرنے کی تعلیم دی ہے۔

بدھ مت

بدھ مت میں طعنہ زنی کو برا عمل قرار دیا گیا ہے۔ بدھ کی تعلیمات کے مطابق انسان کو چاہیے کہ وہ ہر مخلوق کے ساتھ رحم و شفقت کا معاملہ کرے اور کسی کو طعنہ نہ دے۔

طعنہ زنی زمانہ جاہلیت کا وطیرہ

زمانہ جاہلیت میں طعنہ زنی ایک عام رواج تھا۔ لوگ ایک دوسرے کی کمزوریوں اور ناکامیوں کو نشانہ بناتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ قبیلوں کے درمیان دشمنی اور مقابلے کے جذبے نے طعنہ زنی کو مزید فروغ دیا۔

ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کو نیچا دکھانے کے لیے طعنہ زنی کا سہارا لیتا تھا، جس سے معاشرتی انتشار بڑھتا۔ اسلام نے طعنہ زنی کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اس کی مذمت کی۔

رسول اللہ ﷺ نے طعنہ زنی کو ناپسندیدہ قرار دیا اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کی تاکید کی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو طعنہ دیتا ہے اور عیب جوئی کرتا ہے۔"

(سورۃ الہمزہ، آیت 1)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے طعنہ دینے اور عیب جوئی کرنے والوں کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے، جو اس عمل کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

احادیث کے مطابق

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (صحیح بخاری)
آپ ﷺ نے ایک اور حدیث میں فرمایا: "جو شخص طعنہ زنی کرتا ہے وہ جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے۔"
آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی عیب جوئی نہ کرے، نہ اس کا مذاق اڑائے۔"

ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ طعنہ زنی ایک انتہائی سنگین گناہ ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے۔ طعنہ زنی کرنے والا شخص آخرت میں سخت عذاب کا مستحق ہے۔

صحابہ کرام کی زندگی سے ثابت کوئی عمل

📖 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں لوگوں کو طعنہ زنی سے بچنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا: "کسی کو طعنہ دینے سے بچو کیونکہ یہ عمل تمہیں دوسروں سے دور کر دیتا ہے۔"

📖 حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کسی کا مذاق نہ اڑاؤ کیونکہ یہ تمہاری اخلاقیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔"

📖 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمل: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ہمیشہ لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئے اور کبھی کسی کو طعنہ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا: "تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو طعنہ نہ دے۔"

صحابہ کرام کا عمل ہمارے لیے نمونہ ہے۔ انہوں نے طعنہ زنی کو ہر حال میں ناپسند کیا اور اچھی زبان کو فروغ دیا۔

دیگر تفاسیر کے مطابق

علامہ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ طعنہ زنی کی کوئی بھی صورت جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طعنہ زنی کی وجہ سے معاشرے میں امن ختم ہو جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ طعنہ زنی کرنے والے کو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ طعنہ زنی کی پناہ اللہ کی پکڑ سے محفوظ نہیں ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے طعنہ زنی کو امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا فتنہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طعنہ زنی کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد ختم ہو جاتا ہے اور وہ آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔

ائمہ کرام کے احکامات

امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا موقف ہے کہ طعنہ زنی ایک کبیرہ گناہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طعنہ زنی کرنے والا شخص اس وقت تک معاف نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ جسے طعنہ دیا ہے اس سے معافی نہ مانگ لے۔

امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ طعنہ زنی کی کوئی بھی شکل جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طعنہ زنی کرنے والے کو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ طعنہ زنی ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کو جنت سے دور کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص طعنہ زنی کرتا ہے اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی۔

امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے تاکید کی کہ ہر مسلمان کو طعنہ زنی سے بچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طعنہ زنی کرنے والا شخص اللہ کی ناراضی کا مستحق ہے۔

طعنہ زنی ہمارے معاشرے کی ایک لعنت

آج کے دور میں طعنہ زنی ہمارے معاشرے میں ایک عام اور خطرناک عمل بن چکا ہے۔ طعنہ زنی صرف زبانی نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات یہ غیر زبانی رویے اور اشارے کنایے کے ذریعے بھی کی جاتی ہے۔ کسی کے خلاف نفرت، حسد، یا عدم برداشت کے جذبات کو ظاہر کرنے کے لیے طعنہ زنی کا سہارا لیا جاتا ہے۔

معاشرتی طور پر، طعنہ زنی کے ذریعے افراد اور خاندانوں کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ عمل رشتہ داروں، دوستوں، اور حتیٰ کہ میاں بیوی کے تعلقات میں بھی تلخی پیدا کر سکتا ہے۔

طعنہ زنی کرنے والا شخص خود کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ عمل اس کے اپنے کردار کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی لعنت ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں طعنہ زنی اور بھی آسان ہو گئی ہے۔ لوگ بغیر کسی جھجک کے دوسروں کی برائی کرتے ہیں، ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کی عزت کو پامال کرتے ہیں۔ یہ رجحان انتہائی خطرناک ہے اور اسے روکنے کی اشد ضرورت ہے۔

طعنہ زنی کے معاشرے پر برے اثرات

طعنہ زنی کے معاشرتی اثرات انتہائی منفی اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں:

📌 نفرت اور دشمنی بڑھتی ہے

طعنہ زنی کے ذریعے افراد اور گروہوں کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ یہ عمل معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے اور افراد کے درمیان فاصلے بڑھاتا ہے۔

📌 اعتماد کی کمی

طعنہ زنی کی وجہ سے لوگوں میں اعتماد کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ جب کسی شخص کو مسلسل طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ خود اعتمادی کھو بیٹھتا ہے اور اس کا ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔

📌 خاندانی تعلقات میں دراڑیں

طعنہ زنی کے ذریعے خاندانوں میں اختلافات اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر میاں بیوی کے درمیان طعنہ زنی کی وجہ سے رشتے کمزور ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات یہ طلاق تک نوبت پہنچا دیتی ہے۔

📌 معاشرتی بگاڑ

طعنہ زنی کی وجہ سے معاشرے میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی اور حسد کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ یہ عمل معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے اور لوگوں کے درمیان فرقہ واریت اور اختلافات کو ہوا دیتا ہے۔

📌 نفسیاتی اثرات

طعنہ زنی کا شکار ہونے والا شخص شدید نفسیاتی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس میں ڈپریشن، بے چینی، خود اعتمادی کی کمی اور سماجی تنہائی جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔

معاشرے میں نقصانات

  • سماجی عدم توازن: طعنہ زنی کی وجہ سے معاشرے میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔
  • اعتماد کا خاتمہ: طعنہ زنی کی وجہ سے لوگوں کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
  • آپسی دشمنی: طعنہ زنی کی وجہ سے لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔
  • اخلاقی زوال: طعنہ زنی کی وجہ سے معاشرے میں اخلاقیات کا زوال ہوتا ہے۔
  • خاندانی نظام کی کمزوری: طعنہ زنی کی وجہ سے خاندانی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

موجودہ دور کی گمراہیاں – طعنہ زنی کرنا یا کرانا

آج کے دور میں طعنہ زنی نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ لوگ طعنہ زنی کو معمولی سمجھنے لگے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے دوسروں کو طعنے دیتے ہیں۔

موجودہ دور کی گمراہیاں:

  • سوشل میڈیا پر طعنہ زنی: لوگ سوشل میڈیا پر دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہیں طعنے دیتے ہیں۔
  • جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ: لوگ بغیر تصدیق کے خبریں پھیلاتے ہیں اور دوسروں کے خلاف طعنہ زنی کرتے ہیں۔
  • منفی پروپیگنڈا: بعض لوگ اپنے مفادات کے لیے دوسروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں۔
  • طعنہ زنی کو معمولی سمجھنا: لوگ طعنہ زنی کو معمولی سمجھنے لگے ہیں اور اسے کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے۔

ان گمراہیوں سے بچنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں کو طعنہ زنی کے بارے میں آگاہ کریں اور انہیں اچھی زبان کی تلقین کریں۔

غور و غوض کے پہلو

  • کیا ہم طعنہ زنی کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیتے ہیں؟
  • کیا ہم طعنہ زنی برداشت کر رہے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کی طعنہ زنی کو نظر انداز کرتے ہیں؟
  • کیا ہم طعنہ زنی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کو طعنہ زنی سے بچا رہے ہیں؟
  • کیا ہم اللہ کا خوف رکھتے ہیں؟ کیا ہم اللہ کی ناراضی سے ڈرتے ہیں؟
  • کیا ہم آخرت کی تیاری کر رہے ہیں؟ کیا ہم طعنہ زنی کے انجام سے ڈرتے ہیں؟

🌟 غور طلب بات: طعنہ زنی کی ایک قبر ہے اور اس قبر کا نام جہنم ہے۔ جہاں طعنہ زنی کرنے والے کو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

طعنہ زنی سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

طعنہ زنی سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے کردار اور رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

📌 اپنی زبان پر قابو پائیں

طعنہ زنی اکثر زبان کے ذریعے کی جاتی ہے، لہٰذا ہمیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہئے اور دوسروں کے خلاف طنزیہ الفاظ سے بچنا چاہئے۔

📌 نرم دلی اپنائیں

دوسروں کے لیے نرم دل ہونا اور ان کی مشکلات کو سمجھنا ہمیں طعنہ زنی سے بچا سکتا ہے۔ نرم دلی سے دلوں میں محبت اور الفت پیدا ہوتی ہے۔

📌 حسنِ ظن رکھیں

دوسروں کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان رکھیں اور ان کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کریں۔

📌 تعلیم و تربیت

معاشرتی تعلیم و تربیت کے ذریعے لوگوں کو طعنہ زنی کے نقصانات اور اس سے بچنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

📌 دعا کریں

اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو طعنہ زنی کے گناہ سے محفوظ رکھے۔

📌 دوسروں کی عزت کریں

دوسروں کی عزت اور حقوق کا خیال رکھیں۔ طعنہ دینے کے بجائے ان کی حفاظت کریں۔

📌 مثبت گفتگو کو فروغ دیں

اپنی گفتگو میں مثبت باتوں کو شامل کریں اور دوسروں کی تعریف کرنے کی عادت ڈالیں۔

اختتامیہ

طعنہ زنی ایک سنگین گناہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے اور معاشرتی تعلقات کو بگاڑتا ہے۔ ہمیں طعنہ زنی سے بچنے کے لیے اپنے کردار اور رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم ایک بہتر اور پرسکون معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

موجودہ دور میں طعنہ زنی کو معمولی سمجھنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے اور ہماری آخرت کو خراب کر سکتا ہے۔ طعنہ زنی سے بچنے کے لیے ہمیں اللہ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔

ہمیں اپنی زبانوں کو اچھی باتوں کے لیے استعمال کرنا چاہیے، دوسروں کی مدد کرنی چاہیے اور ان کی عزت کرنی چاہیے۔ اگر ہم یہ اصول اپنا لیں تو معاشرہ پرامن اور خوشحال ہو سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں طعنہ زنی کے گناہ سے محفوظ رکھے اور ہمیں حسنِ ظن رکھنے والا بنائے۔ ہمیں دوسروں کی عزت کرنے، ان کی تعریف کرنے اور معاشرے میں محبت و بھائی چارے کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

مزید اسلامی تعلیمات، مضامین اور معلومات کے لیے بلاگ لوورز وزٹ کریں۔

اس تحریر پر اپنا ردعمل دیں
Uzair Hameed
Uzair Hameed مصنف
محقق، مصنف اور بلاگنگ کے شوقین۔ اسلامی تعلیمات، تاریخ اور معاشرتی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ مقصد قارئین کو بہترین اور مستند معلومات فراہم کرنا ہے۔