کسی کے بھید کو ظاہر کرنا - غفلت میں چھپے 50 گناہ

تعارف

خبردار! کسی کے بھید کو ظاہر کرنا ایک سنگین گناہ ہے جسے اکثر لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ اسلام میں اس کی انتہائی سخت وعید آئی ہے۔

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں اڑتالیسواں گناہ کسی کے بھید کو ظاہر کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا گناہ ہے جو روزمرہ کی زندگی میں بہت عام ہے لیکن اس کے بارے میں شعور بہت کم ہے۔ اسلام میں رازداری اور امانت داری کو خاص اہمیت دی گئی ہے، اور کسی کے بھید کو ظاہر کرنا امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مؤمن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔" (بخاری و مسلم)

اسلام میں راز کی حفاظت کو ایک اہم فریضہ سمجھا گیا ہے کیونکہ اس سے معاشرتی اعتماد اور رشتوں کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں امانت داری اور رازداری کو اہمیت دی ہے، اور کسی کے بھید کو ظاہر کرنا اس حکم کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔

کسی کے بھید کو ظاہر کرنا یا راز افشاں کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک شخص کو کسی کے ذاتی یا خفیہ معاملات کا علم ہوا اور وہ اس علم کو دوسرے لوگوں کے سامنے ظاہر کر دے۔ یہ عمل نہ صرف اس شخص کی عزت کو مجروح کرتا ہے بلکہ معاشرے میں عدم اعتماد اور بدگمانی کا باعث بنتا ہے۔

اسلام میں رازداری کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے ایمان کی علامت قرار دیا۔ جو شخص دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک بہت محبوب ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص بھید افشا کرتا ہے، وہ اللہ کی ناراضی اور عذاب کا مستحق بنتا ہے۔

تعریف اور اہمیت

کسی کے بھید کو ظاہر کرنا یا راز افشاں کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک شخص کو کسی کے ذاتی یا خفیہ معاملات کا علم ہوا اور وہ اس علم کو دوسرے لوگوں کے سامنے ظاہر کر دے۔ اسلام میں راز کی حفاظت کو ایک اہم فریضہ سمجھا گیا ہے کیونکہ اس سے معاشرتی اعتماد اور رشتوں کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: "اور جب تمہیں کوئی بات امانت کے طور پر بتائی جائے تو اسے دوسروں سے چھپاؤ۔"

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امانت داری اور رازداری کو اہمیت دی ہے، اور کسی کے بھید کو ظاہر کرنا اس حکم کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ رازداری کا تعلق صرف ذاتی معاملات سے نہیں بلکہ اس کا تعلق معاشرتی امن و امان سے بھی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے رازوں کی حفاظت کرتے ہیں تو معاشرے میں اعتماد اور محبت پیدا ہوتی ہے۔

رازداری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے صحابہ کے رازوں کی حفاظت فرمائی اور کبھی کسی کا راز افشا نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی کے عیب کو چھپایا، اللہ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔" یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ رازداری کا اجر بہت عظیم ہے۔

جو شخص دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرتا ہے، اللہ اس کی دنیا اور آخرت سنوار دیتا ہے۔ رازداری محبت اور اعتماد کی بنیاد ہے، اور اس کے بغیر کوئی رشتہ مضبوط نہیں ہو سکتا۔

مرد و عورت کے حوالے سے

یہ سوال عمومی سوچ پر مبنی ہے کہ عورت زیادہ پاسداری کرتی ہے یا مرد؟ چونکہ اسلام میں مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں اصول ہیں۔ اسلام کسی بھی انسان کی عزت و حرمت کا احترام کرتا ہے اور دونوں صنفوں کو رازداری اور امانت داری کی تاکید کرتا ہے۔

حدیث شریف میں ہے: "مؤمن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔"

اس حدیث میں یہ نہیں بتایا گیا کہ راز افشاں کرنے میں کون زیادہ ہوتا ہے، بلکہ انسانیت کے ہر فرد کو اس سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اسلام میں مرد اور عورت دونوں کو یکساں طور پر رازداری کا پابند کیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں دونوں کو امانت داری اور رازداری کا حکم دیا ہے۔ سورہ المؤمنون میں اللہ تعالیٰ مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اور وہ جو اپنی امانتوں اور عہد کا خیال رکھتے ہیں۔" یہ آیت مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں ہے۔

اسلام میں کسی کے بھید کو ظاہر کرنے کا گناہ مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک بہت محبوب ہے۔

معاشرتی اثرات

کسی کے بھید کو ظاہر کرنے سے معاشرے میں عدم اعتماد، غلط فہمیاں، اور فساد پھیل سکتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جس سے معاشرتی تعلقات کمزور ہو جاتے ہیں۔ معاشرتی تعلقات کی خرابی کا نتیجہ عموماً اختلافات، دشمنیوں اور معاشرتی تفرقہ میں ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور فساد نہ پھیلاؤ زمین پر، اس کے بعد کہ اس میں اصلاح کی جا چکی ہو۔" (سورہ الاعراف، آیت 56)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلامی معاشرتی نظم و ضبط میں فساد پھیلانا سختی سے ممنوع ہے، اور بھید افشا کرنے سے بھی معاشرتی نظام بگڑ سکتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے راز افشا کرتے ہیں تو معاشرے میں بدگمانی، نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔

معاشرتی اثرات کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ بھید افشا کرنے سے خاندانوں کے درمیان جھگڑے اور رنجشیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایک چھوٹی سی بات جو کسی کے راز کے طور پر بتائی گئی تھی، اگر افشا ہو جائے تو یہ پورے خاندان کے لیے مصیبت کا باعث بن سکتی ہے۔

معاشرے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے رازداری بہت ضروری ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے رازوں کی حفاظت کریں گے تو معاشرے میں محبت اور بھروسہ بڑھے گا، اور نفرت اور دشمنی ختم ہو جائے گی۔

رشتہ داروں اور دوستوں کے تعلقات

رشتہ داروں اور دوستوں کے درمیان اعتماد اور محبت کے تعلقات ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ان تعلقات میں سے کسی کا بھید افشا کرتا ہے، تو یہ اعتماد ٹوٹ جاتا ہے اور رشتے بگڑ جاتے ہیں۔

حدیث شریف میں ہے: "جس نے کسی کے عیب کو چھپایا، اللہ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔" (مسلم)

اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں نہ صرف رشتہ داروں بلکہ ہر مسلمان کا حق ہے کہ ان کے راز محفوظ رہیں اور انہیں افشا نہ کیا جائے۔ رشتہ داروں کے درمیان رازداری خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ خاندانی تعلقات زیادہ حساس ہوتے ہیں۔

دوستوں کے درمیان بھی رازداری بہت اہم ہے۔ ایک سچا دوست وہی ہے جو اپنے دوست کے رازوں کی حفاظت کرے اور انہیں کبھی افشا نہ کرے۔ اگر کوئی دوست کسی دوسرے دوست کا بھید افشا کرتا ہے تو یہ دوستی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے۔

رشتہ داروں اور دوستوں کے تعلقات میں رازداری کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے قریبی رشتہ دار یا دوست کا بھید افشا کرتا ہے تو اس سے نہ صرف اس شخص کی عزت مجروح ہوتی ہے بلکہ پورے خاندان یا دوستوں کے حلقے میں بدگمانی پھیلتی ہے۔

رشتہ داروں اور دوستوں کے درمیان رازداری محبت اور اعتماد کو بڑھاتی ہے۔ جو شخص اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے رازوں کی حفاظت کرتا ہے، وہ ان کے دلوں میں محبت اور عزت کا مقام حاصل کرتا ہے۔

دور جاہلیت میں صورت حال

دور جاہلیت میں بھید افشا کرنا عام بات تھی، اور معاشرتی تعلقات میں رازداری کا زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا تھا۔ اسلام نے اس صورت حال کو درست کرنے کے لیے واضح احکامات دیے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے قول و فعل سے امانت داری اور رازداری کو اہمیت دی اور اس کی خلاف ورزی کو گناہ قرار دیا۔

دور جاہلیت میں لوگ ایک دوسرے کے عیوب اور رازوں کو بے دریغ بیان کر دیا کرتے تھے، جس سے معاشرے میں بدگمانی اور دشمنی پھیلی ہوئی تھی۔ اسلام نے اس روایت کو تبدیل کیا اور لوگوں کو رازداری اور امانت داری کا درس دیا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی مسلمان کا عیب چھپایا، اللہ اس کا عیب دنیا اور آخرت میں چھپائے گا۔" اس حدیث نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے رازوں کی حفاظت کرنے کی ترغیب دی اور بھید افشا کرنے کو ایک بڑا گناہ قرار دیا۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بات کو اس کی اجازت کے بغیر ظاہر نہ کرے۔" (ابو داود)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ کسی کے راز کو اس کی اجازت کے بغیر ظاہر کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ حکم صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کے لیے ہے۔

دیگر مذاہب میں

دیگر مذاہب میں بھی کسی کے بھید کو ظاہر کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مسیحیت میں انجیل مقدس میں کہا گیا ہے کہ دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرو اور ان کا بھید ظاہر نہ کرو۔ اسی طرح یہودیت تعلیمات میں بھی رازداری کو اہمیت دی گئی ہے۔

مسیحیت کی تعلیمات کے مطابق، انسان کو دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرنی چاہیے اور انہیں کبھی ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تعلیمات اسلام کے قریب ہیں اور اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ رازداری ایک عالمگیر اخلاقی قدر ہے۔

یہودیت میں بھی رازداری کو ایک اہم اخلاقی اصول سمجھا جاتا ہے۔ تورات میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے رازوں کو ظاہر نہ کرے اور ان کی حفاظت کرے۔

ہندومت اور بدھ مت میں بھی رازداری کو ایک اہم اخلاقی قدر سمجھا جاتا ہے۔ ان مذاہب میں یہ سکھایا گیا ہے کہ انسان کو دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرنی چاہیے اور انہیں افشا نہیں کرنا چاہیے۔

رازداری ایک عالمگیر اخلاقی قدر ہے جو تمام مذاہب اور معاشروں میں موجود ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رازداری انسانی فطرت کا حصہ ہے اور اس کی حفاظت کرنا ہر انسان کا اخلاقی فریضہ ہے۔

اسلام میں گناہ کی نوعیت

اسلام میں بھید کو افشا کرنا امانت میں خیانت کے مترادف ہے، اور یہ ایک گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: "اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی امانتوں میں خیانت نہ کرو۔" (سورہ الانفال، آیت 27)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امانت میں خیانت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کسی کے بھید کو ظاہر کرنا بھی امانت میں خیانت ہے کیونکہ جب کوئی شخص اپنا راز کسی کو بتاتا ہے تو وہ اس کی امانت ہوتی ہے۔

حدیث شریف میں بھی اس کی مذمت کی گئی ہے: "راز افشا کرنے والا منافق ہے۔" (ابن حبان)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بھید افشا کرنا نفاق کی علامت ہے۔ منافق وہ شخص ہوتا ہے جو ظاہر میں مسلمان ہو لیکن باطن میں کافر ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ بھید افشا کرنے والا شخص ایمان کی کمزوری کا شکار ہے۔

اسلام میں راز کی حفاظت کرنے والے کو دنیا و آخرت میں عزت و شرف ملتا ہے، جبکہ راز افشا کرنے والے کے لیے اللہ کے غضب کا ذکر آیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی مسلمان کا عیب چھپایا، اللہ اس کا عیب دنیا اور آخرت میں چھپائے گا۔"

بھید افشا کرنا ایک سنگین گناہ ہے جو انسان کو جہنم کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ہمیں اس گناہ سے بچنا چاہیے اور دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔

ائمہ کرام کا موقف

ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ بھید کو افشا کرنا ایک گناہ ہے۔ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے بھی اس عمل کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور اسے فتنہ و فساد کی بنیاد بتایا ہے۔ ان کے نزدیک بھید افشا کرنے والا شخص اپنے ایمان اور معاشرتی ذمہ داریوں میں خیانت کرتا ہے۔

ائمہ کرام نے رازداری کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کو گناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، کسی کے بھید کو ظاہر کرنا نہ صرف اس شخص کی عزت کو مجروح کرتا ہے بلکہ معاشرے میں فساد کا باعث بھی بنتا ہے۔

امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا: "کسی مسلمان کا راز افشا کرنا جائز نہیں ہے، خواہ وہ راز کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔" امام مالکؒ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ رازداری مسلمانوں کی صفات میں سے ایک ہے۔

ائمہ کرام کا موقف اس بات کی دلیل ہے کہ بھید افشا کرنا نہ صرف ایک اخلاقی برائی ہے بلکہ ایک شرعی گناہ بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ائمہ کرام کی تعلیمات پر عمل کریں اور دوسروں کے رازوں کی حفاظت کریں۔

موجودہ دور میں چیلنج

موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل رابطوں کی وجہ سے لوگوں کے درمیان رازداری کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ یونیورسٹیوں میں بھی یہ مسئلہ عام ہے کیونکہ نوجوان نسل میں یہ تصور پیدا ہو گیا ہے کہ بھید افشا کرنا ایک عام بات ہے، حالانکہ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگ اپنی اور دوسروں کی نجی زندگی کے بارے میں بہت کچھ شیئر کرتے ہیں، جس سے رازداری کا تصور کمزور ہو رہا ہے۔ لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ کسی کے بارے میں کوئی بھی بات شیئر کرنے سے پہلے اس کی اجازت لینا ضروری ہے۔

موجودہ دور میں بھید افشا کرنے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ لوگ دوسروں کی نجی گفتگو کو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ شرعی طور پر بھی ناجائز ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں رازداری کی حفاظت کرنا اور بھید افشا کرنے سے بچنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اور دوسروں کی رازداری کا خیال رکھیں اور سوشل میڈیا پر کسی کی نجی بات کو شیئر نہ کریں۔

اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو رازداری کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔ ہمیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کسی کے بھید کو ظاہر کرنا ایک سنگین گناہ ہے اور اس سے معاشرے میں فساد پھیلتا ہے۔

بچنے کے طریقے

ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو اس لیے ان اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھنا بہت ضروری ہے:

  • تقویٰ اختیار کریں — اللہ تعالیٰ کی یاد اور خوف دل میں بٹھائیں تاکہ بھید افشا کرنے سے باز رہیں۔ جب انسان کو اللہ کا خوف ہو تو وہ کسی کا بھید افشا نہیں کرتا۔
  • اپنے رویے کو بدلیں — دوسروں کی عزت و حرمت کا خیال رکھیں اور ان کے رازوں کی حفاظت کریں۔ عادت بنائیں کہ کسی کے بارے میں کوئی بات سنیں تو اسے اپنے تک محدود رکھیں۔
  • احتساب کریں — اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور غلطی پر توبہ کریں۔ اگر کبھی غلطی سے کسی کا بھید افشا ہو جائے تو فوراً توبہ کریں اور معافی مانگیں۔
  • اسلامی تعلیمات پر عمل کریں — قرآن و سنت کی تعلیمات کو سمجھ کر ان پر عمل کریں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی کے عیب کو چھپاتا ہے، اللہ اس کا عیب چھپاتا ہے۔
  • اپنی زبان کو قابو میں رکھیں — زبان کو گناہ سے بچائیں اور کسی کے بارے میں برائی نہ کریں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص خاموشی اختیار کرتا ہے، اس نے نجات پائی۔"
  • دوسروں کی عزت کریں — ہر انسان کی عزت اور حرمت کا خیال رکھیں۔ جب آپ دوسروں کی عزت کریں گے تو لوگ بھی آپ کی عزت کریں گے۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق، بھید افشا کرنے سے بچنا اور لوگوں کی عزت و وقار کا خیال رکھنا ایک مؤمن کی پہچان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "مؤمن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔"

ان اصولوں پر عمل کر کے ہم بھید افشا کرنے کے گناہ سے بچ سکتے ہیں اور ایک باعزت زندگی گزار سکتے ہیں۔ اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ وہ ہمیں اس کبیرہ گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

خلاصہ

کسی کے بھید کو ظاہر کرنا ایک سنگین گناہ ہے جس کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ یہ عمل نہ صرف اس شخص کی عزت کو مجروح کرتا ہے بلکہ معاشرے میں عدم اعتماد اور فساد کا باعث بنتا ہے۔

اسلام نے رازداری اور امانت داری کو بہت اہمیت دی ہے اور اس کی خلاف ورزی کو گناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی واضح وعیدیں آئی ہیں اور ائمہ کرام نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔

یاد رکھیں! کسی کے بھید کو ظاہر کرنا صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایک سنگین گناہ ہے جس کی وجہ سے انسان دنیا اور آخرت میں خسارے میں رہتا ہے۔ دوسروں کے رازوں کی حفاظت کریں، ان کی عزت کا خیال رکھیں، اور اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اور دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرنے اور بھید افشا کرنے کے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

دعا ہے کہ اللہ ہمارے دلوں کو رازداری اور امانت داری کی محبت سے بھر دے اور ہمیں دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرنے کا اہل بنائے۔ ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے اور اپنی رحمت سے نوازے۔

اس مضمون میں ہم نے کسی کے بھید کو ظاہر کرنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس گناہ کی سنگینی کو سمجھا۔ ہم نے یہ جانا کہ رازداری اور امانت داری اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے اور اس کی خلاف ورزی ایک سنگین گناہ ہے۔

امید ہے کہ یہ مضمون پڑھ کر آپ کو بھید افشا کرنے کے گناہ کی سنگینی کا ادراک ہوگا اور آپ اپنی زندگی میں رازداری اور امانت داری کو اپنائیں گے۔ یاد رکھیں کہ دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرنا ایمان کی علامت ہے اور اس کے برعکس بھید افشا کرنا نفاق کی علامت ہے۔

بھید ظاہر کرنا راز افشا کرنا کسی کے بھید کو ظاہر کرنا غفلت میں چھپے 50 گناہ اسلامی تعلیمات رازداری امانت داری گناہ کبیرہ معاشرتی اثرات قرآن و حدیث