بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنا - غفلت میں چھپے 50 گناہ

تعارف

خبردار! بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنا ایک سنگین گناہ ہے جسے اکثر لوگ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ اسلام میں اس کی انتہائی سخت وعید آئی ہے۔

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں سینتالیسواں گناہ بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنا ہے۔ نماز اسلام کا بنیادی رکن اور بندے کا اللہ سے براہ راست تعلق کا ذریعہ ہے۔ قرآن و حدیث میں نماز کی اہمیت کو انتہائی واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اور اسے ایمان کی علامت اور مسلمان کی پہچان قرار دیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا انفرادی نماز پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔" (بخاری و مسلم)

نماز کی عدم ادائیگی یا باجماعت نماز چھوڑنا ایک ایسا عمل ہے جو دین میں غفلت اور روحانی زوال کا باعث بنتا ہے۔ اس مضمون میں ہم نماز کی اہمیت، بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنے کی مذمت اور موجودہ دور میں اس رجحان کے اسباب پر غور کریں گے۔

نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا ہے اور قیامت کے روز سب سے پہلے نماز ہی کا حساب لیا جائے گا۔ اگر نماز درست ہوئی تو باقی اعمال بھی درست ہوں گے اور اگر نماز خراب ہوئی تو باقی اعمال بھی خراب ہوں گے۔ یہ بات نماز کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے۔

اسلام میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ مسجد میں جا کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا نہ صرف اجر و ثواب کا باعث ہے بلکہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کو بھی فروغ دیتا ہے۔ جب مسلمان ایک صف میں کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں محبت اور اخوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

نماز کی اہمیت

اسلام میں نماز کو خصوصی حیثیت حاصل ہے اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نماز کے قیام کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

"بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض ہے۔" (سورہ النساء، آیت 103)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نماز ایک مقررہ وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے اور اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جا سکتا۔ نماز کو قیامت کے دن اعمال کا حساب شروع کرنے کے وقت اولین سوال بنایا جائے گا۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "نماز دین کا ستون ہے۔ جس نے نماز قائم کی اس نے دین کو قائم کیا، اور جس نے نماز ترک کی اس نے دین کو ڈھا دیا۔"

یہ حدیث اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ نماز دین کی بنیاد ہے، اور اس کے ترک کرنے والے کو دین کی بنیاد سے غافل قرار دیا گیا ہے۔ نماز انسان کو برائیوں سے بچاتی ہے اور اس کی روحانی تربیت کرتی ہے۔ جو شخص نماز پڑھتا ہے وہ اللہ کے قریب ہوتا ہے اور اس کی زندگی میں برکت اور سکون آتا ہے۔

نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو معراج کے موقع پر بغیر کسی وسیلے کے براہ راست نماز کا حکم دیا۔ یہ نماز کی عظمت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کو خود بلا کر نماز کا تحفہ عطا فرمایا۔

نماز انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے، اس کے گناہوں کو مٹاتی ہے، اور اس کی زندگی میں برکت اور سکون کا باعث بنتی ہے۔ جو شخص نماز کی پابندی کرتا ہے، اللہ اس کی دنیا اور آخرت سنوار دیتا ہے۔

جماعت کی نماز کی فضیلت

اسلام میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ایک اہم عمل ہے اور اسے فرد کے ایمان کی مضبوطی اور دین سے تعلق کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے جماعت کی نماز کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا انفرادی نماز پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔" (بخاری و مسلم)

اس حدیث سے جماعت کے ساتھ نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے نہ صرف اجر و ثواب بڑھتا ہے بلکہ مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ اور محبت بھی فروغ پاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے، اسے گویا آدھی رات عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور جو شخص فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے، اسے گویا پوری رات عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے۔" (مسلم)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ خاص طور پر فجر اور عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا بہت فضیلت رکھتا ہے۔ جو شخص ان دونوں نمازوں کو جماعت کے ساتھ پڑھتا ہے، اسے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے۔

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی ایک اور فضیلت یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پیدا ہوتی ہے۔ جب مسلمان ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہیں تو ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں رہتی۔ امیر اور غریب، سفید اور سیاہ، سب ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ اسلام کا پیغام برابری اور مساوات ہے۔

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے مسلمانوں کے درمیان محبت اور بھائی چارہ بڑھتا ہے، معاشرے میں امن و سکون آتا ہے، اور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ جب دو یا زیادہ مسلمان جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں تو فرشتے ان کے درمیان آتے ہیں اور ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔

بغیر عذر شرعی جماعت چھوڑنے کا گناہ

بغیر کسی شرعی عذر کے جماعت کی نماز چھوڑنا ایک گناہ ہے اور اس کی مذمت احادیث میں آئی ہے۔ ایسے لوگ جو عذر شرعی کے بغیر جماعت کو چھوڑ دیتے ہیں، ان کی نماز میں وہ برکت اور اجر نہیں جو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں ہے۔

یاد رکھیں! جماعت کی نماز چھوڑنے والے کے لیے نبی کریم ﷺ نے سخت وعید سنائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے تم پر جماعت کی نماز چھوڑنے والے منافقوں سے زیادہ کسی چیز کا خوف نہیں۔" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جماعت کی نماز چھوڑنا نفاق کی علامت ہے۔

بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنے کے کئی نقصانات ہیں۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے اور اس کی نماز میں برکت نہیں رہتی۔ اس کے علاوہ، جماعت چھوڑنے سے انسان مسلمانوں کے اجتماع سے الگ ہو جاتا ہے اور اس کی تنہائی بڑھ جاتی ہے۔

شرعی عذر میں بیماری، سفر، بارش، اندھیرا، یا کوئی اور ایسی وجہ شامل ہے جو انسان کو مسجد جانے سے روکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے جماعت کی نماز چھوڑتا ہے تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔

کفار مکہ کا رویہ

کفار مکہ نے نماز کے معاملے میں مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوشش کی اور دین اسلام کی روشنی سے دور رکھنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کفار مکہ کے کردار کو بیان کرتا ہے:

"پس ہلاکت ہے اُن نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔" (سورہ الماعون، آیت 4-5)

یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں ہیں جو نماز کو یا تو بالکل نہیں پڑھتے یا اس کے وقت اور طریقے سے غفلت برتتے ہیں۔ کفار مکہ نماز کو معمولی سمجھتے تھے اور اس کی اہمیت کو نظر انداز کرتے تھے، جبکہ اسلام میں نماز دین کا ستون ہے اور اس کے بغیر ایمان کامل نہیں۔

کفار مکہ کا رویہ ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ نماز کو کبھی معمولی نہ سمجھیں۔ جو لوگ نماز کو معمولی سمجھتے ہیں اور اس کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں، وہ کفار مکہ کے راستے پر چل رہے ہیں۔

موجودہ دور میں صورت حال

موجودہ دور میں بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنا ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سب سے بڑی وجہ دنیاوی مصروفیات اور دینی معاملات میں غفلت ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں اتنا مگن ہو گئے ہیں کہ نماز جیسا اہم فریضہ بھول جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، سوشل میڈیا، تفریحی پروگراموں، فلموں اور میوزک کنسرٹس نے لوگوں کی توجہ دینی فرائض سے ہٹا دی ہے۔ لوگ اپنا زیادہ وقت ان چیزوں میں گزارتے ہیں اور نماز کے لیے وقت نکالنا بھول جاتے ہیں۔

ایک اور وجہ دینی علم کی کمی اور روحانی تربیت کا فقدان ہے۔ لوگوں میں یہ شعور نہیں کہ نماز ان کی زندگی میں کتنی اہمیت رکھتی ہے اور اس کے نہ پڑھنے کے دنیوی و اخروی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ نماز کو صرف ایک رسم سمجھتے ہیں، جبکہ یہ اللہ سے تعلق قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔

ایک اور اہم وجہ ماحول کا اثر ہے۔ اگر کسی شخص کے دوست اور رشتہ دار نماز نہیں پڑھتے تو وہ بھی نماز سے دور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ایسے ماحول میں رہتا ہے جہاں نماز کو اہمیت نہیں دی جاتی تو وہ بھی نماز سے غافل ہو جاتا ہے۔

موجودہ دور میں جماعت کی نماز چھوڑنا ایک عام سی بات بن چکی ہے، لیکن یہ ایک سنگین گناہ ہے جس کی وعید آخرت میں بھی آئی ہے۔ ہمیں اس گناہ کو معمولی سمجھنے کی بجائے اپنی زندگیوں میں نماز کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

مساجد کی ویرانی

آج کے دور میں مساجد کی ویرانی ایک المناک حقیقت ہے۔ جہاں ایک طرف مساجد خالی ہیں، وہیں دوسری طرف اسٹیج شوز، میوزک کنسرٹس، فلموں اور سوشل میڈیا جیسے شیطانی محفلوں کا عروج ہے۔ لوگ دین سے دور اور دنیاوی لذتوں کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "ایک وقت آئے گا جب لوگ مساجد کو آباد کرنے کے بجائے دنیاوی لذتوں کی طرف مائل ہو جائیں گے۔"

یہ حدیث ہمارے زمانے کی صحیح عکاسی کرتی ہے، جہاں لوگوں نے اپنی روحانی اور دینی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیا ہے اور دنیاوی تفریحات کو اپنا مقصد بنا لیا ہے۔

مساجد کی ویرانی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں نے مساجد کو صرف نماز کی جگہ سمجھ لیا ہے، جبکہ مسجد مسلمانوں کا مرکز ہے جہاں وہ دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، مسائل حل کرتے ہیں، اور ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ مسجد کا کردار صرف نماز تک محدود نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی زندگی کا اہم مرکز ہے۔

مسجد اللہ کا گھر ہے۔ جو شخص مسجد کی تعمیر اور آبادی میں حصہ لیتا ہے، اللہ اسے جنت میں ایک گھر عطا فرماتا ہے۔ مسجد جانے والوں کے قدم جنت کی طرف اٹھتے ہیں اور ہر قدم کا اجر ملتا ہے۔

نماز ترک کرنے کے نقصانات

نماز کی عدم ادائیگی نہ صرف روحانی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی مشکلات کا سبب بنتی ہے۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "جو نماز کو ترک کرتا ہے، اس کی روزی میں تنگی پیدا کر دی جاتی ہے اور اس کے دل میں بے سکونی بھر دی جاتی ہے۔"

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نماز نہ پڑھنے سے انسان کی روزی میں تنگی آتی ہے اور اس کی زندگی میں بے سکونی یا مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نماز کے ذریعے بندے کو دنیا و آخرت میں سکون اور کامیابی عطا فرماتا ہے، اور جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔

نماز ترک کرنے کے دیگر نقصانات میں یہ بھی شامل ہیں:

  • اللہ کی ناراضی اور عذاب کا مستحق بننا — قرآن و حدیث میں نماز ترک کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں
  • دل کی سختی اور گناہوں کا بوجھ بڑھنا — نماز دل کو نرم کرتی ہے اور گناہوں کو مٹاتی ہے
  • دنیاوی مشکلات کا سامنا — نماز نہ پڑھنے سے روزی میں تنگی اور مشکلات آتی ہیں
  • آخرت میں سخت عذاب — نماز کا حساب قیامت کے روز سب سے پہلے ہوگا
  • دعاؤں کا قبول نہ ہونا — نماز کی بدولت دعائیں قبول ہوتی ہیں
نماز ترک کرنے والا شخص جہنم کا مستحق ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ہمیں اس گناہ سے بچنا چاہیے اور نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

پیروں اور فقیروں کی طرف رجوع

آج کل ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ لوگ دین کی بنیادی تعلیمات اور نماز جیسی عبادات سے غافل ہو کر پیروں اور فقیروں کے ڈیروں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ دینی علم کی کمی اور روحانی تربیت کا فقدان ہے۔

لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پیروں اور فقیروں کے پاس جا کر ان کی مشکلات حل ہو جائیں گی، حالانکہ دین اسلام میں سب سے بڑی مددگار اللہ کی ذات ہے اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرنا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد مانگو۔" (سورہ البقرہ، آیت 153)

یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نماز کے ذریعے اللہ کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے، نہ کہ پیروں اور فقیروں کے ذریعے۔ لوگوں کو اس آیت پر عمل کرنا چاہیے اور نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

پیروں اور فقیروں کے پاس جانے کی بجائے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی نمازوں کی پابندی کریں، قرآن پاک کی تلاوت کریں، اور اللہ سے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی دعا سنتا ہے اور ان کی مشکلات کو دور کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔" سورہ المؤمن، آیت 60۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ نماز اور دعا کے ذریعے اللہ سے مدد مانگنا سب سے بہترین طریقہ ہے۔

جماعت کی نماز چھوڑنے کی وعید

اسلام میں جماعت کی نماز کو چھوڑنا شدید گناہ قرار دیا گیا ہے، خصوصاً جب کوئی عذر شرعی موجود نہ ہو۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "مجھے تم پر جماعت کی نماز چھوڑنے والے منافقوں سے زیادہ کسی چیز کا خوف نہیں۔" (مسند احمد، ابن ماجہ)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جماعت کی نماز کو بغیر کسی شرعی عذر کے چھوڑنے والا شخص نفاق کے قریب ہے۔ اسلام میں جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھنے والوں کے لیے سخت وعیدیں آئی ہیں، اور ان کے لیے توبہ کا راستہ کھلا ہے، لیکن انہیں جلد از جلد اس گناہ سے بچنا چاہیے۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: 'عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو جماعت کی نماز چھوڑ دیں گے، اور وہ دوزخ کے کنارے پر کھڑے ہوں گے۔'"

یہ وعید اس گناہ کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے کہ جماعت کی نماز چھوڑنے والے دوزخ کے قریب ہوں گے۔ ہمیں اس گناہ سے بچنا چاہیے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی پابندی کرنی چاہیے۔

عمومی رویہ

آج کل لوگوں نے جماعت کی نماز چھوڑنے کو ایک معمولی گناہ سمجھ لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین کی بنیادی تعلیمات سے دوری اور دنیاوی معاملات میں مشغولیت نے لوگوں کو غافل کر دیا ہے۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "لوگوں میں سے سب سے بدترین شخص وہ ہے جس کا دل نماز سے غافل ہو۔"

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نماز کو معمولی سمجھنا دراصل اللہ سے دوری اور دین سے غفلت کا نتیجہ ہے۔ ہمیں اس گناہ کو معمولی سمجھنے کی بجائے اپنی زندگیوں میں نماز کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

جماعت کی نماز چھوڑنے کا عام رویہ ایک خطرناک علامت ہے کہ مسلمانوں میں دینی شعور کم ہو رہا ہے۔ ہمیں اس رویے کو تبدیل کرنا چاہیے اور اپنے بچوں اور رشتہ داروں کو نماز کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہیے۔

یاد رکھیں! جماعت کی نماز چھوڑنے کو معمولی سمجھنا دراصل شیطان کا فریب ہے۔ شیطان انسان کو دھیرے دھیرے نماز سے دور کر دیتا ہے اور اسے یہ باور کراتا ہے کہ نماز چھوڑنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، حالانکہ یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

خلاصہ

نماز دین کا ستون اور انسان کی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنا اسلام میں شدید گناہ قرار دیا گیا ہے اور اس کے دنیاوی اور اخروی نقصانات واضح ہیں۔

موجودہ دور میں اس گناہ کا رجحان بڑھ چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ دین سے دوری اور دنیاوی لذتوں میں مشغولیت ہے۔ لوگوں نے مساجد کو چھوڑ کر دوسری جگہوں پر وقت گزارنا شروع کر دیا ہے اور جماعت کی نماز کو معمولی سمجھ لیا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں نماز کو اولین ترجیح دیں، جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی پابندی کریں، اور اپنے بچوں اور رشتہ داروں کو بھی نماز کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ یاد رکھیں! قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا، اور جو شخص نماز میں کوتاہی کرے گا، وہ خسارے میں رہے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نماز کی پابندی کرنے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

دعا ہے کہ اللہ ہمارے دلوں کو نماز کی محبت سے بھر دے اور ہمیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہل بنائے۔ ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے اور ہمیں اپنی رحمت سے نوازے۔

اس مضمون میں ہم نے بغیر عذر شرعی جماعت کی نماز چھوڑنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس گناہ کی سنگینی کو سمجھا۔ ہم نے یہ جانا کہ نماز دین کا ستون ہے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

امید ہے کہ یہ مضمون پڑھ کر آپ کو جماعت کی نماز کی اہمیت کا ادراک ہوگا اور آپ اپنی زندگی میں اس کی پابندی کا اہتمام کریں گے۔ یاد رکھیں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے اور اس کے برعکس جماعت کی نماز چھوڑنا نفاق کی علامت ہے۔

جماعت کی نماز چھوڑنا بغیر عذر شرعی نماز چھوڑنا نماز کی اہمیت جماعت کی فضیلت غفلت میں چھپے 50 گناہ اسلامی تعلیمات گناہ کبیرہ نماز مسجد جماعت