غفلت میں چھپے 50 گناہ 45۔ مسجد میں لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنا

غفلت میں چھپے 50 گناہ - تصویر

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں پینتالیسواں گناہ مسجد میں لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنا ہے۔ اگر آپ مزید آرٹیکل پڑھنا چاہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

مسجد ایک مقدس اور بابرکت مقام ہے جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں اور عبادات میں مشغول ہوتے ہیں۔ اسلام نے مسجد میں آنے اور وہاں بیٹھنے کے آداب کو واضح طور پر بیان کیا ہے، تاکہ اجتماعیت اور احترام برقرار رہے۔ ایک ایسا مسئلہ جو اکثر دیکھنے میں آتا ہے، وہ یہ ہے کہ لوگ مسجد میں داخل ہو کر پہلے سے بیٹھے نمازیوں کی گردنوں کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس عمل کی اسلامی تعلیمات میں واضح طور پر مذمت کی گئی ہے۔

مسجد کے آداب

مسجد کے آداب اور وہاں کے اعمال کی تفصیلات قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ میں واضح کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: "اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کرو، اللہ تمہارے لیے وسعت کرے گا۔" یہ آیت مسلمانوں کو اجتماعی آداب کی تعلیم دیتی ہے کہ ایک دوسرے کو احترام دیں اور مجلس یا مسجد میں داخل ہوتے وقت کسی کے حق کو نہ چھینیں۔

حدیث نبویہ کی روشنی میں

اسی طرح، ایک حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہے، وہ گویا جہنم کا پل بنا رہا ہے۔" یہ حدیث واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنا ایک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے، اور اس کے لیے وعید بھی بیان کی گئی ہے۔

موجودہ دور میں صورت حال

دیوبندی، بریلوی اور اہل تشیع مساجد میں دیر سے آنے والے نمازیوں کا اگلی صف میں جانے کے لیے بیٹھے ہوئے لوگوں کو پھلانگنا ایک معمولی سا عمل سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ عمل خلاف ادب ہے اور اس کی ممانعت موجود ہے۔ اس کی بنیادی وجہ شاید انفرادی اور اجتماعی آداب کی کمی ہے، جس پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا۔ اس عمل سے نہ صرف نماز میں خشوع اور خضوع متاثر ہوتا ہے بلکہ دوسرے نمازیوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔

عرب ممالک میں صورت حال

اہل عرب میں عمومی طور پر مساجد میں آداب کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے، خصوصاً مسجد نبوی ﷺ اور حرمین شریفین میں۔ وہاں لوگ صفوں میں باادب بیٹھتے ہیں اور اگر کوئی دیر سے آئے تو پیچھے کی صفوں میں بیٹھنے کو ترجیح دی جاتی ہے، بجائے اس کے کہ آگے بڑھنے کے لیے لوگوں کو تکلیف دی جائے۔

اسلامی آداب

اسلام میں مجلس کے آداب کا بہت خیال رکھا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں بیٹھا ہو تو کسی کو وہاں سے اٹھا کر خود نہ بیٹھے۔" مسجد میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص پہلے سے بیٹھا ہوا ہو، تو اسے تنگ نہ کیا جائے اور نہ ہی اس کے آرام میں مداخلت کی جائے۔

بچنے کے طریقے

احادیث کے مطابق، مسجد میں نمازیوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنے کا عمل ایک گناہ ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس گناہ سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

جلدی مسجد پہنچنے کی کوشش کریں: تاخیر سے پہنچنے پر اگلی صف میں جانے کی کوشش نہ کریں بلکہ جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں۔

مسجد کے آداب کی تعلیم دی جائے: مساجد میں نمازیوں کو بار بار اس مسئلے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے تاکہ اس عمل کا سدباب ہو۔

عالمی خطبہ اور درس میں بیان: علما کو چاہیے کہ وہ خطبات جمعہ اور دروس میں اس گناہ کی وضاحت کریں تاکہ عوام میں شعور بیدار ہو۔

نمونہ بنیں: خود عملی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مثالی بنیں اور دوسروں کو بھی اس کی پیروی کی ترغیب دیں۔

علما کی ذمہ داری

یہ سوال کہ کیوں اہل علم اس گناہ کو بیان نہیں کرتے، اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات اہم مسائل کے ساتھ ساتھ ان چھوٹے مگر اہم امور پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ علما کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کی طرف عوام کو متوجہ کریں تاکہ یہ غلطی عام نہ ہو۔

خلاصہ

اسلامی تعلیمات کے مطابق مسجد میں نمازیوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے بڑھنے کا عمل ناپسندیدہ اور ممنوع ہے۔ اس عمل سے بچنے کے لیے مسلمانوں کو نہ صرف خود آداب سیکھنے چاہئیں بلکہ دوسروں کو بھی ان کی تلقین کرنی چاہیے۔ مساجد کو روحانی اور جسمانی سکون کے مراکز کے طور پر قائم رکھنے کے لیے ان کے آداب کی پاسداری ضروری ہے۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔