غفلت میں چھپے 50 گناہ 27 - میلاد منانا یا کرانا

میلاد منانا یا کرانا

غفلت میں چھپے 50 گناہ

27. میلاد منانا یا کرانا

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں ستائیسواں گناہ میلاد منانا یا کرانا ہے۔ اس سے پہلے تو اتسے کئی آرٹیکل جو میں تفصیل سے شئیر کرتا آرہا ہوں اگر آپ انکو پڑھنا چاہیے تو نیچے دیے گئے ویب سائٹ لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔ ان میں سے، کسی جاندار کو آگ میں جلانا، پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا، سود کھانا، ظلم کرنا، رشوت لینا یا دینا، زنا کرنا وغیرہ۔

میلاد منانا یا کرانا حضور نبی اکرم ﷺ کی پیدائش کا جشن منانے کو کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ نبی ﷺ کی محبت میں یہ جشن مناتے ہیں اور اس دن مختلف تقاریب کا انعقاد کرتے ہیں، جن میں نعتیں پڑھنا، جلوس نکالنا اور میلاد کی محفلیں منعقد کرنا شامل ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ جشن نبی ﷺ کی تعلیمات یا صحابہ کرام کے عمل سے ثابت نہیں ہے۔

میلاد کی روایت اسلام میں نبی ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں موجود نہیں تھی بلکہ یہ بدعت بعد کے ادوار میں داخل ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس رسم میں مبالغہ آرائیاں اور مختلف خرافات شامل ہو گئیں، جیسے جلوس نکالنا، ڈھول بجانا، اور رنگ برنگی روشنیوں کے ساتھ محفلیں سجانا، جھنڈیاں لگانا، بازار سجانا، گھروں کو سجانا، کپڑوں پر بیج آویزاں کرنا، سبز پگڑیاں پہننا وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں دین میں بغیر کسی شرعی دلیل کے داخل ہو چکی ہیں۔

میلاد منانے والوں کے عقائد میں تضادات

  1. میلاد منانے والوں کا عقیدہ ہے کہ نبی ﷺ نور ہیں، اور نور کی ولادت نہیں ہوتی۔ اگر وہ نور ہیں تو پھر ولادت کا جشن منانا غیر منطقی ہے۔
  2. اگر میلاد منانے والوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں، تو پھر ان کی آمد کی خوشی منانا بھی ایک تضاد ہے۔
  3. بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ نبی ﷺ کی وفات نہیں ہوئی اور وہ دنیا میں زندہ ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو پھر نبی ﷺ کی عمر کا ذکر اور ان کی وفات کی تاریخ کیوں بیان کی جاتی ہے؟
  4. احمد رضا خان بریلوی کے بقول نبی ﷺ کی وفات 12 ربیع الاول کو ہوئی تھی۔ اگر یہ دن وفات کا دن ہے تو پھر اس دن عید اور خوشی منانا دینی یا عقلی لحاظ سے درست نہیں ہو سکتا۔

میلاد کی تاریخی حیثیت
نبی ﷺ کی پیدائش کا جشن منانا صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین یا ائمہ کرام سے ثابت نہیں ہے۔ نہ ہی رسول ﷺ نے خود اپنے میلاد کو منانے کی تعلیم دی اور نہ ہی خلفائے راشدین نے اس کا اہتمام کیا۔ جو چیزیں دین میں نہیں تھیں اور بعد میں شامل کی گئیں، انہیں بدعت کہا جاتا ہے۔

میلاد کی مختلف رسومات
بعض لوگ میلاد کی محفلوں میں خصوصی پکوان تیار کرتے ہیں۔ اسلام میں کھانے پینے کی کوئی خاص قید نہیں ہے، لیکن دین میں میلاد کی رسم بدعت ہے، اس لیے اس موقع پر بنائے گئے پکوانوں میں شریک ہونا بھی اس بدعت کا حصہ بنتا ہے۔

میلاد کے موقع پر جلوس نکالنا، ڈھول بجانا، اور بعض اوقات رقص کرنا عام ہوتا جا رہا ہے، جو کہ سراسر دین کے خلاف ہے۔ یہ عمل نہ صرف بدعت ہے بلکہ اس سے دین کے تقدس کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

میلاد میں جدید خرافات
آج کل میلاد کی محفلوں میں نئے گانوں کی طرزوں پر نعتیں گائی جاتی ہیں۔ نعت کا مطلب ہے نبی ﷺ کی تعریف کرنا، لیکن موسیقی اور گانے کی طرزوں میں اسے پیش کرنا دین میں ایک بدعت ہے۔

اسلامی نقطہ نظر
اسلام میں نبی ﷺ کی پیدائش کا دن منانے کا کوئی حکم نہیں ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں ملتا کہ نبی ﷺ کی ولادت کو جشن کے طور پر منایا جائے۔

بدعات کے نتائج
یہ تمام رسومات اور بدعات دین میں نئے اضافے ہیں جن کا مقصد دین کے بنیادی اصولوں سے لوگوں کو ہٹانا ہے۔ اسلام نے بدعات کی سختی سے مخالفت کی ہے۔

حل کی تجاویز
اس گناہ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ علماء کرام اور اسلامی دانشور عوام کو صحیح دین کی تعلیم دیں اور انہیں بدعات سے دور رہنے کی تلقین کریں۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔