محافل نعت میں موسیقی کا استعمال: ایک بدعتی عمل

خبردار! محافل نعت میں موسیقی کا استعمال ایک بدعت ہے جو دین کی پاکیزگی پر حملہ ہے۔

اسلام کی بنیادی تعلیمات میں ذکر اور عبادات کی تمام شکلوں میں خلوص، سادگی، اور شرعی اصولوں کی پابندی شامل ہے۔ محافل نعت میں موسیقی کا استعمال ایک ایسی بدعت ہے جو دین کی اصل روح کو متاثر کرتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کھیل تماشے کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے گمراہ کریں۔" مفسرین کے مطابق، "لہو الحدیث" میں موسیقی اور وہ چیزیں شامل ہیں جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کردیں۔

محافل نعت میں موسیقی کا استعمال ایک ایسی بدعت ہے جو حالیہ صدیوں میں عام ہوئی ہے۔ اس سے پہلے نعت خوانی خالصتاً بغیر کسی ساز کے کی جاتی تھی۔ جب موسیقی کو نعت میں شامل کیا جاتا ہے تو یہ عبادت کی سادگی کو ختم کر دیتا ہے اور اسے تفریح کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات

رسول اللہ ﷺ نے موسیقی اور گانے بجانے کو دین میں گمراہی اور ضلالت کا سبب قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب، اور موسیقی کو حلال قرار دیں گے۔" محافل نعت میں موسیقی کے استعمال کا رجحان ایک نیا اضافہ ہے، جو عبادات کے مفہوم کو مسخ کرتا ہے اور لوگوں کو دین کے اصل مقصد سے دور لے جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب، اور موسیقی کو حلال قرار دیں گے۔" (صحیح بخاری)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ موسیقی کو حلال قرار دینا ایک بڑا گناہ ہے اور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ موسیقی کے استعمال سے بچیں اور اپنی عبادات کو خالص رکھیں۔

نعت خوانی کی اصل روح

نعت خوانی ایک عبادتی عمل ہے جس کا مقصد رسول اللہ ﷺ کی مدح کرنا، آپ کی تعلیمات کو عام کرنا، اور لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت کو بڑھانا ہے۔ لیکن جب اس عبادتی عمل میں موسیقی شامل کی جاتی ہے، تو یہ نعت کی روح کو متاثر کرتی ہے اور اس کی سادگی ختم ہو جاتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں نعت خوانی کا طریقہ کار انتہائی سادہ اور خالص تھا۔ سیدنا حسان بن ثابتؓ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں نعت پڑھتے تھے، لیکن ان کے کلام میں موسیقی یا سازوآلات کا کوئی تصور نہیں تھا۔

صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی مدح میں جو اشعار کہے، وہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے تھے اور ان میں کسی قسم کا ساز یا موسیقی شامل نہیں تھی۔ یہی طریقہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔

اسلام کی ہدایات

اسلام نے عبادات اور ذکر الٰہی کو موسیقی اور دنیاوی تفریحات سے الگ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: "وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے سکون پاتے ہیں؛ خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دل سکون پاتے ہیں۔" نعت خوانی کو خالص ذکر الٰہی کا ذریعہ بنایا جائے اور موسیقی کے استعمال سے گریز کیا جائے، تاکہ اس عبادتی عمل کی اصل روح برقرار رہے۔

ذکر الٰہی کا مقصد اللہ کی یاد اور قربت حاصل کرنا ہے، جبکہ موسیقی انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔ اس لیے ذکر اور موسیقی کو ایک ساتھ جمع کرنا مناسب نہیں ہے۔

بدعت کے خطرات

محافل نعت میں موسیقی کا استعمال دین میں ایک خطرناک بدعت کے طور پر ابھرا ہے، جو نہ صرف دین کی پاکیزگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسی محافل میں شرکت کرنے والے افراد کا دھیان موسیقی اور نعت کے انداز پر زیادہ ہوتا ہے، جبکہ دین کی اصل تعلیمات اور ذکر الٰہی پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں تھی، وہ ناقابل قبول ہے۔"

بدعت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ لوگوں کو دین کی اصل روح سے دور کر دیتی ہے۔ جب لوگ موسیقی والی نعت سننے کے عادی ہو جاتے ہیں، تو وہ بغیر موسیقی والی نعت کو پسند نہیں کرتے، جس سے دین کی سادگی ختم ہو جاتی ہے۔

مختلف مسالک کا نقطہ نظر

پاکستان میں اہل تشیع محرم الحرام کی مجالس اور میلاد کی محافل کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ ان محافل میں شرکت کو نہ صرف مذہبی فریضہ قرار دیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر وہ ان مجالس میں شرکت نہ کریں تو وہ گناہگار ہوں گے۔ یہ رویہ دین کی اصل تعلیمات سے انحراف ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: "جو اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرے گا، اس سے وہ قبول نہ کیا جائے گا۔" دین اسلام نے عبادات کو خالصتاً اللہ کے لئے مقرر کیا ہے اور ان میں کسی بھی قسم کی نئی شریعت یا بدعت شامل کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

تمام مسالک کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عبادات میں خلوص اور سادگی ضروری ہے۔ تاہم، بعض فرقوں نے اپنی ثقافتی روایات کو دین کا حصہ بنا لیا ہے، جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی وصیت

رسول اللہ ﷺ نے واضح طور پر بدعات سے بچنے کی تلقین کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز شامل کی جو اس میں نہیں تھی، وہ ناقابل قبول ہے۔" اہل تشیع اور دیگر فرقوں کی طرف سے میلاد یا محرم کی مجالس میں شرکت کو فرض قرار دینا ایک بدعت ہے جو دین اسلام کی خالصیت اور سادگی کے خلاف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز شامل کی جو اس میں نہیں تھی، وہ ناقابل قبول ہے۔" (صحیح مسلم)

یہ حدیث ہمیں واضح کرتی ہے کہ دین میں کسی بھی قسم کا اضافہ قابل قبول نہیں ہے۔ محافل نعت میں موسیقی کا اضافہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

میلاد کی محافل کا تصور

میلاد النبی ﷺ کی محافل میں شرکت کو دینی فریضہ سمجھنا اور لوگوں کو گمراہ کرنا کہ شرکت نہ کرنے سے وہ گناہگار ہوں گے، دین کی اصل روح کو نقصان پہنچاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔" رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ آپ ﷺ نے اپنی پیدائش یا دیگر مواقع پر ایسی محافل کا اہتمام کیا ہو۔

نبی کریم ﷺ کی محبت کا صحیح اظہار آپ کی سنت پر عمل کرنا ہے، نہ کہ ایسی رسومات کا اہتمام کرنا جن کا آپ ﷺ نے کبھی حکم نہیں دیا۔

اہل حدیث اور دیوبند کا موقف

اہل حدیث اور اہل دیوبند کے علما نے بھی میلاد کی محافل میں ہونے والی بدعات اور ان میں موسیقی، بے جا خرچ، اور غیر شرعی اعمال پر تنقید کی ہے۔ ان کے نزدیک دین اسلام کی اصل بنیاد توحید اور سنت رسول ﷺ پر عمل ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں: "دین کو اپنی خواہشات کے تابع نہ کرو، بلکہ اللہ کے احکام اور رسول ﷺ کی سنت کی پیروی کرو۔" اس لئے میلاد کی محافل میں بدعات کو دین کا حصہ بنانا شریعت کی خلاف ورزی ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔

اہل حدیث اور دیوبند علماء کا موقف ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت کا بہترین اظہار آپ کی سنت پر عمل کرنا ہے، نہ کہ نئی رسومات ایجاد کرنا۔

دین کی اصل روح

اہل حدیث اور اہل دیوبند کے نزدیک دین کی اصل روح توحید اور سنت رسول ﷺ کی پیروی ہے۔ وہ بدعات کو دین کے لئے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور ایسی محافل یا مجالس میں شرکت کو ناجائز قرار دیتے ہیں جن کا قرآن و سنت میں کوئی ثبوت نہ ہو۔ اہل حدیث کے علما کا موقف ہے کہ دین میں ہر وہ عمل جو نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانے میں موجود نہ تھا، اسے دین کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "یہ میرا سیدھا راستہ ہے، اس کی پیروی کرو اور دیگر راستوں پر نہ چلو۔"

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "یہ میرا سیدھا راستہ ہے، اس کی پیروی کرو اور دیگر راستوں پر نہ چلو۔" (الأنعام: 153)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ دین کا ایک ہی راستہ ہے اور اس کے علاوہ تمام راستے گمراہی ہیں۔ محافل نعت میں موسیقی کا استعمال اس سیدھے راستے سے انحراف ہے۔

دیوبندی علما کا نقطہ نظر

اہل دیوبند کے علما بھی ایسی محافل اور مجالس میں شرکت کو ناجائز سمجھتے ہیں جن میں شرعی حدود کی خلاف ورزی ہو یا جنہیں دین کا حصہ بنا کر پیش کیا جائے۔ ان کے نزدیک، رسول اللہ ﷺ کی محبت اور تعظیم کا حقیقی مظہر آپ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے، نہ کہ غیر شرعی رسومات میں شرکت۔ دین کی اصل خالصیت کو برقرار رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مسلمان بدعات اور غیر شرعی اعمال سے اجتناب کریں۔

دیوبندی علما نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں بارہا بدعات کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور لوگوں کو سنت نبوی پر عمل کرنے کی ترغیب دی ہے۔

بدعات سے بچاؤ کی ہدایات

اہل حدیث اور اہل دیوبند کے علما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو بدعات سے بچنے اور دین اسلام کی خالص تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ محافل میلاد اور محرم کی مجالس کو دین کا لازمی حصہ سمجھنا یا ان میں شرکت کو گناہ سے بچنے کا ذریعہ قرار دینا شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہیں صاف ستھرے راستے پر چھوڑے جا رہا ہوں، اس کی رات دن کی طرح روشن ہے، میرے بعد اسے صرف گمراہ ہی ہٹے گا۔"

  1. قرآن و سنت کا مطالعہ کریں: دین کے صحیح احکامات کو خود سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔
  2. معتبر علماء سے رجوع کریں: کسی بھی عمل کو قبول کرنے سے پہلے اس کی شرعی حیثیت جانچ لیں۔
  3. بدعات سے دور رہیں: ایسی جگہوں اور اجتماعات سے اجتناب کریں جہاں بدعات کو فروغ دیا جاتا ہو۔
  4. سنت نبوی کو اپنائیں: نبی کریم ﷺ کے طریقے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
  5. دوسروں کو آگاہ کریں: اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بدعات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

اصلاح کے طریقے

بدعات کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو قرآن و سنت کی اصل تعلیمات سے روشناس کرایا جائے۔ علما اور دینی رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ مساجد، مدارس، اور دعوتی پروگراموں کے ذریعے عوام کو بدعات کے نقصانات اور دین کی اصل روح کے بارے میں آگاہ کریں۔ محافل میں شرکت کو گناہ و ثواب کے پیمانے سے ہٹ کر، دین کو اس کی خالص شکل میں سمجھنے اور اپنانے کی ترغیب دی جائے، تاکہ دین اسلام کی اصل روح محفوظ رہے۔

اصلاح کا عمل آہستہ آہستہ ہونا چاہیے۔ لوگوں کو حکمت اور نرمی کے ساتھ سمجھانا چاہیے تاکہ وہ بدعات کو چھوڑ کر سنت کو اپنائیں۔

علماء کی رہنمائی

علما اور ائمہ کرام کا بھی یہی موقف ہے کہ نعت خوانی کو خالص اور شرعی اصولوں کے مطابق رکھا جائے۔ امام ابن قیمؒ نے فرمایا: "موسیقی اور گانے دل کو خراب کرتے ہیں اور انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کرتے ہیں۔" مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ محافل نعت میں موسیقی کے استعمال سے اجتناب کریں اور نعت خوانی کو خالصتاً ذکر الٰہی کے طور پر اپنائیں، تاکہ دین کی پاکیزگی اور عبادات کی اصل روح محفوظ رہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے بدعات سے بچنا ہی دین کی اصل حفاظت ہے۔

امام ابن قیمؒ نے فرمایا: "موسیقی اور گانے دل کو خراب کرتے ہیں اور انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کرتے ہیں۔"

خلاصہ

محافل نعت میں موسیقی کا استعمال ایک بدعت ہے جو دین کی پاکیزگی پر حملہ ہے۔ یہ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ عبادات کی سادگی اور روح کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے دین کو اس کی اصل شکل میں محفوظ رکھیں اور ان بدعات سے بچیں جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے دور کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بدعات سے بچنے اور سنت نبوی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!