دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے
قوالی گانا - اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بدعات کا خاتمہ اور سنت کو اپنانے کی اہمیت
تعارف
قوالی ایک موسیقی کی صنف ہے جسے خاص طور پر صوفیانہ رنگ میں گایا جاتا ہے۔ اس میں اللہ، نبی کریم ﷺ، اولیاء اللہ، اور بزرگانِ دین کی تعریف و توصیف کے اشعار شامل ہوتے ہیں۔ قوالی کا مقصد بعض حلقوں میں روحانی کیفیت پیدا کرنا اور دلوں کو نرم کرنا بتایا جاتا ہے، تاہم، اس کے مختلف عناصر میں موسیقی اور دیگر رسوم شامل ہونے کے سبب، یہ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہو سکتی ہے۔
اسلام میں بدعت کا مفہوم
اسلام میں بدعت (بِدْعَة) سے مراد ہر وہ نیا عمل ہے جو دین کی اصل تعلیمات میں نہ ہوا اور جسے دین میں شامل کیا جائے۔ قرآن و سنت میں قوالی گانے کی کوئی اصل موجود نہیں، لہٰذا علماء کی ایک بڑی تعداد اسے بدعت قرار دیتی ہے۔
قوالی گانا بھی اسی اصول کے تحت ایک بدعت شمار کیا جا سکتا ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانے میں اس طرح کے عمل کا کوئی تصور نہیں تھا۔
دیگر بدعات سے موازنہ
پکی قبریں بنانا، قل خوانی، عرس میلے اور پیری مریدی، جیسے اعمال اور رسوم کو علماء بدعت کے دائرے میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ سب چیزیں نبی ﷺ اور صحابہ کی سنت میں موجود نہیں ہیں۔ قوالی گانا ان رسوم میں ایک اور اضافہ ہے جو لوگوں نے اپنی ثقافت اور معاشرتی رسومات میں شامل کر لیا ہے۔
جنوبی ایشیا میں قوالی کا رواج
جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں، قوالی کا رواج زیادہ تر صوفیاء کے مزارات پر ہوتا ہے۔ یہ رواج صوفی سلسلوں میں روحانی محافل کے دوران مقبول ہوا، جہاں قوالیاں اولیاء کی شان میں گائی جاتی ہیں اور مریدین ان محافل کو روحانی تجربہ تصور کرتے ہیں۔
مزارات پر قوالی
مزارات پر قوالی کی محافل منعقد کرنا ایک عام رواج بن گیا ہے، جہاں لوگ قبروں اور عرس میلوں پر جمع ہو کر اولیاء کی تعریف میں قوالیاں سنتے اور گاتے ہیں۔ یہ عمل نبی ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں موجود نہ تھا اور اس قسم کی محفلوں کو علماء بدعت اور غیر اسلامی رسوم شمار کرتے ہیں۔
قوالی کی تاریخی ابتدا
قوالی کی اصل جنوبی ایشیا میں صوفیاء کے سلسلوں سے جڑی ہے۔ اس صنف کی ابتدا صوفیاء کی تعلیمات کے ساتھ ہوئی، جہاں اسے روحانی عمل کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم، قوالی کا کوئی بنیاد اسلام کے ابتدائی دور میں نہیں ملتی اور اس کے مختلف عناصر موسیقی اور گانے کی شکل میں شامل ہیں۔
دورِ جاہلیت میں
دورِ جاہلیت میں قوالی جیسا کوئی مخصوص عمل موجود نہیں تھا، لیکن موسیقی اور گانا بجانا اس دور میں عام تھا۔ قرآن و سنت میں گانے بجانے اور موسیقی کے متعلق واضح ہدایات موجود ہیں، جن میں اس کے منفی اثرات سے خبردار کیا گیا ہے۔
دیگر مذاہب میں
زرتشت مذہب اور دیگر غیر اسلامی مذاہب میں بھی موسیقی اور مذہبی گانے کا ایک کردار رہا ہے۔ زرتشی عقائد میں مذہبی ترانے اور اشعار ایک روحانی ذریعہ تھے، جن کا مقصد لوگوں کو روحانی طور پر بلندی پر لے جانا تھا۔ عیسائیت اور ہندو دھرم میں بھی مذہبی گانے اور موسیقی کی ایک اہمیت ہے۔
اسلام میں قوالی کا حکم
اسلام میں قوالی یا موسیقی کی کوئی باقاعدہ تعلیمات موجود نہیں ہیں جو اس کی تائید کرتی ہوں۔ علماء کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ قوالی جیسی محافل دین کی اصل روح کے منافی ہیں، کیونکہ یہ دلوں کو غفلت کی طرف لے جا سکتی ہیں اور شرعی احکامات کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
علماء کا موقف
قوالی یا موسیقی میں مشغول ہونا ایک ایسا عمل ہے جس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ علماء کی ایک بڑی تعداد اسے گمراہی کا ذریعہ سمجھتی ہے اور ایسے لوگوں کو شرعی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیتی ہے۔
ائمہ کرام کا نظریہ
ائمہ کرام جیسے امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل نے موسیقی اور گانے بجانے کو ناپسند کیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ اعمال انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کرتے ہیں اور ان کی زندگی میں روحانی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
نتیجہ
قوالی گانا ایک ایسا عمل ہے جس کی بنیاد اسلامی تعلیمات میں نہیں ملتی اور جسے علماء کی ایک بڑی تعداد بدعت کے زمرے میں شمار کرتی ہے۔ دین اسلام میں بدعات سے بچنے اور شریعت کی پیروی کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ لہٰذا، قوالی گانے اور سننے سے پرہیز کرنا اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنا ہی ہمارے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔