مجالس میں شرکت کو فرض سمجھنا: ایک بدعتی رویہ

خبردار! مجالس میں شرکت کو فرض سمجھنا ایک بدعت ہے جو دین کی پاکیزگی پر حملہ ہے۔

اسلام میں ہر عمل کو قرآن و سنت کی روشنی میں انجام دینا ضروری ہے، اور کسی بھی عبادت یا اجتماع کو فرض سمجھنا، جبکہ وہ شریعت میں فرض نہ ہو، دین میں غلو اور بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ بعض افراد یا گروہ مخصوص مجالس میں شرکت کو دینی فریضہ یا ثواب کا عمل سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ مجالس کتاب و سنت میں نہیں پائی جاتیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "جو رسول تمہیں دے، وہ لے لو، اور جس سے منع کرے، رک جاؤ۔" اگر کوئی مجلس شریعت میں واضح طور پر نہیں ہے اور اسے فرض سمجھا جا رہا ہے، تو یہ عمل قرآن و سنت کی روح کے منافی ہے۔

یہ بدعت اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ یہ لوگوں کو دین کے حقیقی فرائض سے غافل کر دیتی ہے۔ جب لوگ غیر شرعی مجالس کو فرض سمجھنے لگتے ہیں، تو وہ اصل فرائض جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ شیطان کی ایک چال ہے جو لوگوں کو دین کی اصل روح سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات

رسول اللہ ﷺ نے عبادات کو اپنے مقرر کردہ حدود میں رکھنے کی تاکید کی ہے اور ان میں زیادتی یا غلو سے منع کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو نے ہلاک کیا۔" مجالس میں شرکت کو فرض یا عبادت سمجھنے سے نہ صرف دین کی اصل تعلیمات پر پردہ پڑتا ہے بلکہ یہ امت کو گمراہی اور تفرقے کی طرف لے جاتا ہے۔ دین کی پاکیزگی اور سادگی کو برقرار رکھنے کے لئے ان بدعات سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو نے ہلاک کیا۔"

نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کو غیر شرعی مجلس میں شرکت کرنے کا حکم نہیں دیا۔ آپ ﷺ کی سنت میں صرف وہی مجالس ہیں جو قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی ہوں۔

بدعات کے نقصانات

کسی بھی غیر شرعی عمل کو فرض سمجھنے سے دین میں بدعات کا دروازہ کھلتا ہے اور یہ امت کے اندر تفرقے کا باعث بنتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دین میں کسی قسم کی نئی چیز شامل کرنے سے سختی سے منع کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو ہمارے دین میں کوئی نئی چیز شامل کرے جو اس میں نہ ہو، وہ ناقابل قبول ہے۔" مجالس میں حاضر ہونا اگر کسی خاص شخصیت یا گروہ کے نظریات کو فروغ دینے کے لئے ہو، تو یہ دین کی روح کے خلاف ہے اور ایک بدعت ہے۔

بدعات کے نقصانات میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ لوگوں کو توحید سے دور کر دیتی ہیں۔ جب لوگ غیر شرعی مجالس میں شرکت کرنے لگتے ہیں، تو وہ آہستہ آہستہ شرک کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر اس عمل سے بچیں جو ہمیں توحید سے دور کرے۔

غیر شرعی مجالس کا تصور

ایسی مجالس میں شرکت کو دینی فریضہ قرار دینے سے ایک طرف عام لوگوں میں بدعات کا رجحان پیدا ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ افراد جو ان مجالس میں شرکت نہیں کرتے، انہیں گناہگار سمجھا جاتا ہے، حالانکہ شریعت نے ان پر کوئی ذمہ داری نہیں رکھی۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: "کہو، اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔" مجالس کو فرض قرار دینے کے لئے کوئی شرعی دلیل نہ ہونے کے باوجود اسے دین کا حصہ سمجھنا گمراہی کا سبب بن سکتا ہے اور امت کے اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اس بدعت کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ یہ معاشرے میں طبقاتی تفریق پیدا کرتی ہے۔ جو لوگ ان مجالس میں شرکت کرتے ہیں، وہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ جو شرکت نہیں کرتے، انہیں کمتر سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ اسلامی برادری کے اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔

دین اسلام کی اصل پاکیزگی

دین اسلام کی اصل پاکیزگی اس کی سادگی اور قرآن و سنت کی پیروی میں مضمر ہے۔ ایسی مجالس کو دین کا حصہ سمجھنا اور ان میں شرکت کو فرض قرار دینا دین کی روح کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تاکید کی ہے کہ دین میں کوئی اضافہ یا کمی نہ کی جائے: "یہ میرا سیدھا راستہ ہے، اس کی پیروی کرو اور دیگر راستوں پر نہ چلو۔" دین کی اصل تعلیمات پر عمل کرنے سے ہی انسان دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

اسلام کی سادگی اس کی خوبصورتی ہے۔ جب لوگ دین میں نئی رسومات شامل کرتے ہیں، تو وہ اس خوبصورتی کو داغدار کرتے ہیں۔ غیر شرعی مجالس کو فرض سمجھنا ایک ایسی رسم ہے جو نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی مفید۔

مختلف فرقوں میں مجالس کا تصور

اسلام میں مجالس کے انعقاد کا مقصد اللہ کی یاد، قرآن و سنت کی تعلیم، اور دینی شعور اجاگر کرنا ہے، لیکن کچھ فرقے ایسی مجالس کا انعقاد کرتے ہیں جنہیں وہ دینی طور پر لازمی یا باعث ثواب سمجھتے ہیں، حالانکہ ان کا کوئی ثبوت قرآن و سنت میں نہیں۔ محرم الحرام کی مجالس، میلاد النبی ﷺ کی تقریبات، چالیسواں، اور دیگر خاص مواقع پر ہونے والی مجالس کا اہتمام کرنے والے فرقوں میں اکثر اہل تشیع، بریلوی مسلک، اور دیگر گروہ شامل ہیں۔ اہل تشیع میں محرم کی مجالس، جن میں شہادت امام حسین ؓ کا ذکر کیا جاتا ہے، کو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور ان مجالس کو دین کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ مجالس اکثر جذباتیت اور ماتم پر مبنی ہوتی ہیں، جبکہ اسلام میں صبر اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے ایسی مجالس اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

بریلوی مسلک میں مجالس

بریلوی مسلک میں میلاد کی مجالس اور چالیسویں کی تقریبات کو دین میں شامل تصور کیا جاتا ہے۔ یہ مجالس اکثر غیر شرعی رسومات اور بدعات پر مشتمل ہوتی ہیں جن کا دین اسلام کی اصل تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔

ان مجالس میں اکثر ناچ گانا، موسیقی، اور دیگر غیر اسلامی اعمال شامل ہوتے ہیں، جو کہ شریعت کی روح کے خلاف ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان بدعات سے بچیں اور دین کو اس کی اصل شکل میں محفوظ رکھیں۔

قرآن مجید کی ہدایت

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: "اور اللہ پر وہ بات نہ کہو جس کا تمہیں علم نہیں۔" مجالس کو دین کا حصہ سمجھنا یا انہیں دینی طور پر لازم قرار دینا اس حکم کی خلاف ورزی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔" اس کے باوجود، ان فرقوں میں مجالس کو دین کا حصہ بنا کر ان میں شرکت کو باعث اجر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ عمل شریعت کے منافی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور اللہ پر وہ بات نہ کہو جس کا تمہیں علم نہیں۔"

یہ آیت ہمیں واضح کرتی ہے کہ ہمیں دین کے بارے میں بغیر علم کے کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔ غیر شرعی مجالس کو دین کا حصہ سمجھنا بغیر علم کے ایک دعویٰ ہے جو کہ غلط ہے۔

دور جاہلیت میں مجالس

دور جاہلیت میں مجالس کا کوئی دینی تصور موجود نہیں تھا، بلکہ یہ تہذیبوں میں سماجی تقریبات یا مذہبی تہواروں کے طور پر منعقد کی جاتی تھیں۔ عربوں میں جاہلیت کے زمانے میں مجالس کا اہتمام عموماً قبائلی امور یا شرک پر مبنی تقریبات کے لئے کیا جاتا تھا۔ قرآن مجید نے جاہلیت کے ان اعمال کو رد کرتے ہوئے مسلمانوں کو دین کے خالص اصول اپنانے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے۔"

جاہلیت کی مجالس میں شرک، بت پرستی، اور دیگر غیر اخلاقی اعمال شامل تھے۔ اسلام نے ان تمام برائیوں کو ختم کر کے ایک پاکیزہ اور سادہ معاشرہ قائم کیا۔

دیگر اقوام میں مجالس

دوسری اقوام میں بھی مجالس کے مختلف مظاہر دیکھے گئے ہیں۔ مثلاً ہندو مت میں یگیہ اور پوجا کی رسومات کے لئے اجتماعات ہوتے تھے، بدھ مت میں گوتم بدھ کے درشن اور تعلیمات کے لئے مجالس ہوتی تھیں، اور سکھ مت میں گرنتھ صاحب کی تعلیمات کو سننے کے لئے اکٹھے ہوتے تھے۔ اہل یہود اور عیسائیوں میں بھی مخصوص مذہبی تقریبات کے لئے مجالس منعقد کی جاتی تھیں، جن میں وہ اپنی عبادات اور رسومات ادا کرتے تھے۔ اسلام نے ان تمام غیر ضروری رسومات کو ختم کرتے ہوئے دین کو سادگی اور توحید پر قائم کیا، لیکن بدقسمتی سے بعد میں کچھ فرقوں نے انہی غیر اسلامی رسومات کو دین کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔

یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ بعض مسلمان فرقے دوسرے مذاہب کی رسومات کو اپنا کر اپنی شناخت کھو رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھیں اور غیر اسلامی رسومات کو اپنانے سے بچیں।

دیگر مذاہب میں مجالس کا تصور

دیگر مذاہب میں مجالس اور مذہبی تقریبات کا تصور بہت پرانا ہے اور ان میں اکثر غیر شرعی اعمال شامل ہوتے ہیں۔ ہندو ازم میں مذہبی مجالس کے دوران دیوی دیوتاؤں کی پوجا اور گیتا کے اشلوک کا پڑھا جانا شامل ہے۔ بدھ مت میں بدھ کی تعلیمات کو پھیلانے کے لئے بڑے اجتماعات منعقد کئے جاتے تھے۔ سکھ ازم میں گردواروں میں گرنتھ صاحب کی تلاوت اور مذہبی گیت گائے جاتے ہیں۔ اہل یہود میں "شاباط" اور عیسائیوں میں "ایسٹر" یا "کرسمس" جیسی تقریبات مذہبی مجالس کا حصہ ہیں۔

ان تمام مذاہب کی مجالس میں ایک چیز مشترک ہے کہ وہ شرک اور بدعات پر مبنی ہیں۔ اسلام نے ان تمام خرافات کو رد کیا اور خالص توحید کی دعوت دی۔

زرتشت مذہب میں مجالس

زرتشتی مذہب میں آگ کی پوجا کے لئے اجتماعات ہوتے تھے۔ ان مذاہب کی رسومات میں اکثر خرافات اور شرک کے عناصر موجود ہوتے ہیں، اور بعض مسلمان فرقوں نے انہی رسومات کو اپنی مجالس میں شامل کر لیا ہے۔

آگ کی پوجا کرنا شرک ہے، اور اسلام میں اس کی سختی سے ممانعت ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے شرک سے بچیں اور صرف اللہ کی عبادت کریں۔

اسلام کی اصل تعلیمات

اسلام ان تمام غیر ضروری رسومات سے پاک ہے اور اس کی تعلیمات میں توحید، عبادت میں خلوص، اور شرک سے اجتناب پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللہ شرک کو معاف نہیں کرتا۔" مجالس میں ان رسومات کا شامل ہونا اسلام کی اصل روح کے منافی ہے اور یہ مسلمانوں کو دین سے دور لے جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللہ شرک کو معاف نہیں کرتا۔" اس لیے ہمیں ہر اس عمل سے بچنا چاہیے جو شرک کی طرف لے جاتا ہے۔

اسلام کی اصل تعلیمات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن و سنت کا مطالعہ کریں اور اہل علم سے رجوع کریں۔ صرف اسی طرح ہم بدعات اور شرک سے بچ سکتے ہیں۔

ائمہ کرام کا موقف

ائمہ کرام اور علمائے امت نے بدعات کو دین کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں: "جس نے دین میں کوئی بدعت ایجاد کی اور اسے اچھا سمجھا، تو گویا اس نے یہ دعویٰ کیا کہ محمد ﷺ نے رسالت میں خیانت کی۔" اسی طرح امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے بدعات سے سختی سے بچنے کی تاکید کی ہے۔

امام مالکؒ فرماتے ہیں: "جس نے دین میں کوئی بدعت ایجاد کی اور اسے اچھا سمجھا، تو گویا اس نے یہ دعویٰ کیا کہ محمد ﷺ نے رسالت میں خیانت کی۔"

ائمہ کرام کا یہ موقف ہے کہ دین میں کسی بھی قسم کی بدعت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی بدعات کے خلاف جہاد میں گزاری اور امت کو صحیح راستے پر رہنے کی تعلیم دی۔

ائمہ کرام کی رائے

ائمہ کرام کے نزدیک ایسی مجالس، جن کا قرآن و سنت میں کوئی ذکر نہیں، اور انہیں دین کا حصہ بنا کر ان میں شرکت کو لازم قرار دینا بدعت ہے۔ ان کے مطابق، دین کی اصل تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے بدعات سے اجتناب کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو تمہیں اللہ کے قریب کرے مگر وہ کہ جس کا میں نے تمہیں حکم دیا ہو۔" اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دین کو اپنی اصل شکل میں محفوظ رکھیں اور بدعات سے مکمل اجتناب کریں۔

ائمہ کرام کی رائے ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں بدعات کے خلاف آواز اٹھائی اور امت کو صحیح راستے پر رہنے کی تلقین کی۔

بدعات سے بچاؤ کے طریقے

ایسی مجالس، جو دین میں فرض نہیں لیکن انہیں فرض سمجھا جاتا ہے، دین میں خرافات اور بدعات کا سبب بنتی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دین کی اصل تعلیمات کو سمجھیں اور ان غیر ضروری رسومات یا اعمال سے اجتناب کریں جن کا قرآن و سنت میں ذکر نہیں۔ دین کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیمات پر مضبوطی سے عمل کریں اور اپنی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم بدعات اور گمراہی سے محفوظ رہ سکیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہوگے، کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔"

  1. قرآن و سنت کا مطالعہ کریں: دین کے صحیح احکامات کو خود سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔
  2. معتبر علماء سے رجوع کریں: کسی بھی عمل کو قبول کرنے سے پہلے اس کی شرعی حیثیت جانچ لیں۔
  3. بدعات سے دور رہیں: ایسی جگہوں اور اجتماعات سے اجتناب کریں جہاں بدعات کو فروغ دیا جاتا ہو۔
  4. توحید کو مضبوط کریں: اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھیں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔
  5. دوسروں کو آگاہ کریں: اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بدعات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

خلاصہ

مجالس میں حاضر ہونا اور اسکو فرض سمجھنا ایک بدعت ہے جو دین کی پاکیزگی پر حملہ ہے۔ یہ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ امت میں تفرقہ اور گمراہی کا باعث بنتا ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے دین کو اس کی اصل شکل میں محفوظ رکھیں اور ان بدعات سے بچیں جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے دور کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بدعات سے بچنے اور سنت نبوی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!