جنتی دروازوں کا عقیدہ: ایک بدعتی تصور

خبردار! جنتی دروازوں کا عقیدہ ایک بدعت ہے جو دین کی پاکیزگی پر حملہ ہے۔

دینِ اسلام کی پاکیزگی کو بدعتی نظریات اور غیر شرعی عقائد کے ذریعے مٹانے کی کئی کوششیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک "جنتی دروازوں" کا عقیدہ ہے۔ اس عقیدے کی بنیاد ان افکار پر رکھی گئی جن کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ایسی خرافات کا رد ضروری ہے تاکہ دینِ حق کو ہر قسم کی بدعت سے محفوظ رکھا جا سکے۔

جنتی دروازوں کا عقیدہ دراصل ایک ایسا تصور ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایجاد کیا گیا۔ اس عقیدے کے تحت لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ کسی خاص دروازے یا مقام سے گزرنے سے جنت میں داخلہ ممکن ہو جاتا ہے، حالانکہ قرآن و سنت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں۔ یہ عقیدہ شرک کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ اس میں اللہ کے علاوہ کسی اور کو جنت کا دروازہ کھولنے والا تسلیم کیا جاتا ہے۔

شداد بن عاد کی کہانی

شداد بن عاد کی کہانی قرآن میں ذکر کردہ قوم عاد سے منسلک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو زمین میں طاقتور بنایا، مگر وہ اپنے غرور اور تکبر میں اللہ کی بندگی سے روگرداں ہو گئے۔ ان کا بادشاہ، شداد، اپنے غرور میں یہاں تک بڑھا کہ اس نے جنت جیسا ایک باغ بنانے کا دعویٰ کیا۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "عاد نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہا، ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟" (سورۃ فصلت، آیت 15)

شداد کی اس حرکت کا انجام اللہ کے عذاب کی صورت میں ہوا، اور یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنت اور دوزخ بنانے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا: "یہ وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے متقیوں کو بناتے ہیں۔" (سورۃ مریم، آیت 63)

شداد بن عاد کی کہانی ہمیں سبق دیتی ہے کہ جو لوگ اپنے تکبر اور غرور میں اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کا انجام تباہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کسی انسان کو جنت یا دوزخ کا مالک ماننا شرک ہے۔

بدعتی عقیدے کی حقیقت

کچھ گروہوں نے اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کے لیے جنتی دروازوں کا ایک تصور پیش کیا۔ اس عقیدے کے مطابق، اگر کسی بزرگ یا پیر کی قبر کے پاس ایک مخصوص دروازہ بنایا جائے تو وہ جنت کے دروازے کے مترادف ہوگا، اور اس کے ذریعے جنت میں داخلہ ممکن ہو گا۔ یہ تصور قرآن و سنت کے صریح خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ تمہاری ہی طرح کے بندے ہیں۔" (سورۃ الاعراف، آیت 194)

نبی کریم ﷺ نے بھی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع کیا ہے: "اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔" (صحیح بخاری)

اس بدعت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ لوگ مزارات پر جا کر مخصوص دروازوں کو چھوتے ہیں اور ان سے برکت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عمل کسی بھی طرح اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں اور اس سے لوگوں کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

اسلام میں جنت کے دروازے اللہ کے حکم سے کھلتے ہیں، نہ کہ کسی پیر، قبر یا دروازے کے ذریعے۔ حدیث میں آیا ہے: "جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اور جو نماز کے پابند ہوں گے، انہیں نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا۔" (صحیح بخاری و مسلم) اس لیے یہ تصور کہ کسی قبر یا بزرگ کی نسبت سے جنت کے دروازے بنائے جا سکتے ہیں، اسلامی عقائد کے منافی ہے۔ یہ دین کی پاکیزگی پر ایک حملہ ہے، جس کا رد قرآن و سنت کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ دین اسلام ہمیں ہر قسم کی بدعت سے بچنے اور خالص اللہ کی عبادت کی تاکید کرتا ہے۔

اسلام میں جنت کے حصول کے لیے صرف دو چیزیں ضروری ہیں: اللہ پر ایمان اور نیک اعمال۔ کسی بھی انسان کو جنت میں داخل کرنے کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ اس لیے کسی مخصوص دروازے یا مقام کو جنت کا ذریعہ ماننا سراسر گمراہی ہے۔

جنوبی ایشیا میں تصور

جنوبی ایشیا میں جنتی دروازوں کا تصور مختلف ناموں اور شکلوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ تصور زیادہ تر قبروں، درگاہوں، اور مزاروں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، جہاں مخصوص دروازے جنت میں داخلے کی علامت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، اور سری لنکا جیسے ممالک میں اس کا رواج زیادہ عام ہے۔ بھارت میں بعض جگہوں پر ان دروازوں کو "باب الجنہ" یا "جنت کے دروازے" کہا جاتا ہے۔

اس خطے میں صوفیاء اور بزرگان دین کے مزارات کے گرد مختلف عقائد پروان چڑھے ہیں۔ لوگ ان مزارات کو روحانی مراکز سمجھتے ہیں اور وہاں جا کر مختلف رسومات ادا کرتے ہیں۔ جنتی دروازوں کا عقیدہ انہی رسومات کا ایک حصہ ہے جو اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

پاکستان میں رواج

پاکستان میں یہ مقامات مختلف درگاہوں سے منسلک ہیں، جہاں عقیدت مند یہ سمجھتے ہیں کہ ان دروازوں سے گزرنے سے جنت کا حصول ممکن ہوگا۔ اس قسم کی بدعت زیادہ تر غیر اسلامی ثقافتوں اور روایات کے امتزاج سے وجود میں آئی ہے۔

پاکستان میں جنتی دروازوں کا عقیدہ مختلف صوفی سلسلوں کے ذریعے فروغ پایا ہے۔ بعض لوگ اس عقیدے کو اپنی روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک بدعت ہے جو لوگوں کو حقیقی اسلام سے دور کر رہی ہے۔

پاکستان کے اہم مقامات

پاکستان میں کئی درگاہوں اور مزاروں کے ساتھ جنتی دروازے کے عقائد منسلک ہیں۔ مثال کے طور پر، لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے مزار کے کچھ حصے کو خاص برکتوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں "بابِ جنت" کے تصور کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ملتان میں حضرت بہاؤ الدین زکریا کے مزار کے قریب بھی اس قسم کے عقائد دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سیہون شریف میں لال شہباز قلندر کے مزار پر آنے والے عقیدت مند بعض مخصوص راستوں اور دروازوں کو جنتی دروازے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ ان عقائد کی کوئی بنیاد نہ قرآن میں ہے اور نہ ہی حدیث میں، بلکہ یہ رسوم اور ثقافتی اثرات کا نتیجہ ہیں۔

ان مزارات پر لوگ مختلف اقسام کی نذریں اور چڑھاوے بھی پیش کرتے ہیں، جو کہ شرک کی طرف لے جانے والے اعمال میں سے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق نذر صرف اللہ کے لیے ماننی چاہیے اور کسی مخلوق کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے۔

دیگر مذاہب میں مشابہ تصورات

دیگر مذاہب میں بھی ایسے تصورات موجود ہیں جو کسی خاص جگہ یا دروازے کو نجات یا جنت کے حصول سے جوڑتے ہیں۔ ہندو مت میں بعض مندروں کے دروازوں کو "موکش دروازہ" کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے نجات یا ابدی سکون کا دروازہ۔ بدھ مت میں مخصوص استوپا یا مندروں کے گرد چکر لگانا جنت کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ عیسائیت میں بھی قرون وسطیٰ کے زمانے میں چرچوں کے مخصوص دروازوں کو "ہولی گیٹ" (مقدس دروازہ) کہا جاتا تھا، جہاں سے گزرنے کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ مانا جاتا تھا۔

یہ تمام تصورات انسان کے اندر موجود مذہبی جھکاؤ اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر پیدا ہوئے ہیں، لیکن اسلام نے ان تمام بدعات کو رد کیا اور خالص توحید پر زور دیا۔

اسلام کا واضح موقف

اسلام میں کسی مخصوص دروازے یا مقام کو جنت کے حصول کا ذریعہ ماننا بدعت اور شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا: "مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔" (سورۃ الجن، آیت 18)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو کوئی ہمارے دین میں کوئی نئی بات داخل کرے جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔" (صحیح بخاری و مسلم)

اسلام کا موقف بہت واضح ہے کہ جنت کے دروازے صرف اللہ کے حکم سے کھلتے ہیں اور ان کا کوئی مادی وجود نہیں ہے جسے انسان بنا سکے۔ یہ عقیدہ کہ کوئی بزرگ یا پیر اپنے مزار پر دروازہ بنا کر جنت کا راستہ فراہم کر سکتا ہے، سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔

جنت کے حصول کا صحیح طریقہ

اسلام ہمیں واضح کرتا ہے کہ جنت کے دروازے اللہ کے حکم سے کھلیں گے اور یہ صرف نیک اعمال، اللہ پر ایمان، اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے ذریعے ممکن ہے۔ جنت کے دروازے انسان کے اعمال کے مطابق کھلتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے: "جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اور جو نماز کے پابند ہوں گے، انہیں نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا۔" (صحیح بخاری) یہ تعلیمات اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ جنت کے حصول کے لیے غیر شرعی راستے تلاش کرنا گمراہی ہے اور ہمیں قرآن و سنت کی رہنمائی پر قائم رہنا چاہیے۔

جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ایمان کو مضبوط کرے، فرائض کو بجا لائے، اور گناہوں سے بچے۔ کوئی دروازہ یا مقام اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ یہی وہ سیدھا راستہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں دکھایا ہے۔

ائمہ کرام کا موقف

ائمہ کرام نے دین میں بدعات کو سختی سے مسترد کیا اور ان کو گمراہی کی جڑ قرار دیا۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں: "جو کوئی اللہ کے دین میں ایسی بات داخل کرے جس کی قرآنی یا سنت سے کوئی دلیل نہ ہو، وہ مردود ہے۔"

امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: "ہر وہ عمل جو نبی ﷺ اور صحابہؓ کے عمل کے خلاف ہو، وہ بدعت ہے۔"

امام مالکؒ نے کہا: "جو شخص دین میں بدعات ایجاد کرتا ہے، وہ گویا یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دین کو مکمل نہیں کیا۔"

ائمہ کرام کے مطابق جنتی دروازوں کا عقیدہ بھی انہی بدعات میں شامل ہے جو اسلامی عقائد کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دین کو صرف قرآن اور سنت کی بنیاد پر سمجھا جائے اور ہر ایسی بات سے اجتناب کیا جائے جو دین میں بغیر دلیل شامل کی جائے۔

مختلف مسالک کا نقطہ نظر

مسلک بریلوی کے بعض طبقات میں جنتی دروازوں اور درباروں سے متعلق غیر اسلامی عقائد پائے جاتے ہیں، جنہیں وہ روحانی فوائد کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ تاہم، ان کے علماء میں بھی ایسے نظریات پر اختلاف ہے۔ مسلک دیوبندی اور اہل حدیث ان بدعات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور عقائد کو خالص توحید اور سنت پر مبنی رکھنے پر زور دیتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام مسالک کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنت میں داخلہ صرف اللہ کی رحمت اور نیک اعمال کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ کسی دروازے یا مقام کے ذریعے۔ اس لیے جنتی دروازوں کا عقیدہ کسی بھی مسلک میں جائز نہیں ہے۔

📖 تفاسیر کی روشنی میں جنتی دروازوں کا تصور

تفسیر ابن کثیر

امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: "جنت کے دروازے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھلتے ہیں، کسی بشر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ جنت کا دروازہ بنا کر لوگوں کو داخل کرے۔ یہ عقیدہ محض جہالت اور گمراہی ہے۔"

امام ابن کثیر نے اس بات کو واضح کیا کہ جنت کے دروازے صرف اللہ کے حکم سے کھلتے ہیں اور کوئی انسان اس کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ یہ عقیدہ کہ کسی بزرگ کی قبر یا درگاہ جنت کا دروازہ ہے، سراسر جہالت ہے۔

تفسیر القرطبی

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ کسی مخصوص جگہ یا دروازے سے گزرنے سے جنت میں داخلہ ہو جائے گا، وہ دراصل شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ کیونکہ جنت میں داخلہ صرف اللہ کی رحمت اور نیک اعمال کے ذریعے ہے۔"

امام قرطبی نے اس عقیدے کو شرک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق جنت میں داخلہ کا دارومدار اللہ کی رحمت اور نیک اعمال پر ہے، نہ کہ کسی دروازے یا مقام پر۔

تفسیر الجلالین

تفسیر جلالین میں ہے: "جنت کے دروازے متقیوں کے لیے کھلے ہیں، اور یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ کوئی انسان اپنی مرضی سے جنت کا دروازہ نہیں کھول سکتا۔"

اس تفسیر کے مطابق جنت کے دروازے صرف متقیوں کے لیے ہیں اور یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ کوئی انسان اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔

تفسیر المیزان - علامہ طباطبائی

علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: "جنتی دروازوں کا تصور ایک خرافاتی عقیدہ ہے جس کی کوئی بنیاد قرآن و سنت میں نہیں۔ یہ لوگوں کو حقیقی اسلام سے دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔"

یہ تفسیر اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ جنتی دروازوں کا عقیدہ محض ایک خرافات ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

📚 کتب احادیث کے مطابق بدعات کا رد

صحیح بخاری کی روایات

صحیح بخاری (حدیث نمبر 2697):
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات ایجاد کرے جو اس میں سے نہ ہو، وہ مردود ہے۔"

یہ حدیث بدعات کی بنیاد ہے۔ جنتی دروازوں کا عقیدہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ اس کی کوئی بنیاد قرآن و سنت میں نہیں۔

صحیح بخاری (حدیث نمبر 7320):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'تمہارے اعمال ہی تمہیں جنت یا دوزخ تک پہنچائیں گے۔' صحابہ نے پوچھا: کیا صرف ہمارے اعمال کی بنا پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، مگر اللہ کی رحمت کے ساتھ۔'

اس حدیث سے واضح ہے کہ جنت کا حصول اعمال اور اللہ کی رحمت پر منحصر ہے، نہ کہ کسی دروازے یا مقام پر۔

صحیح مسلم کی روایات

صحیح مسلم (حدیث نمبر 1018):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'جنت کے آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک کا نام ریان ہے، اس میں سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔'

یہ حدیث بتاتی ہے کہ جنت کے دروازے اعمال کے مطابق ہیں، نہ کہ کسی جگہ یا شخص کے ذریعے۔ روزہ داروں کے لیے ایک خاص دروازہ ہے، نمازیوں کے لیے دوسرا۔

سنن ابی داود

سنن ابی داود (حدیث نمبر 4609):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو مسجد اور پاکیزہ بنایا ہے، اور میری امت کے لیے جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے، وہیں نماز پڑھ لے۔'

اس حدیث سے یہ بھی واضح ہے کہ عبادت کے لیے کسی خاص جگہ کی ضرورت نہیں، جنت کے دروازے بھی کسی خاص جگہ سے منسلک نہیں۔

⚠️ جہالت کے نقصانات

جہالت کا دین پر اثر

جہالت دین کی پاکیزگی کو تباہ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جب لوگ اپنے دین کو صحیح طور پر نہیں جانتے تو وہ بدعات اور خرافات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جہالت کی وجہ سے لوگ قبروں، درگاہوں اور مزاروں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں اور انہیں اللہ کا درجہ دینے لگتے ہیں۔ یہ جہالت ہی ہے جو لوگوں کو شرک کی طرف لے جاتی ہے۔

جہالت کے معاشرتی نقصانات

  • دینی تعلیمات کا زوال: جب لوگ بدعات کو دین سمجھنے لگتے ہیں تو حقیقی اسلامی تعلیمات سے دور ہو جاتے ہیں۔
  • شرک کا فروغ: جہالت کی وجہ سے لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے لگتے ہیں، جو کہ شرک ہے۔
  • مال کا ضیاع: لوگ قبروں اور درگاہوں پر نذرانے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں جو کہ ان کا ضیاع ہے۔
  • معاشرتی تقسیم: بدعات فرقہ واریت کو بڑھاتی ہیں اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہیں۔
  • وقت کا ضیاع: لوگ اپنا قیمتی وقت مزاروں اور درگاہوں پر ضائع کر دیتے ہیں جو کہ دین کا حصہ نہیں۔

جہالت سے بچنے کا طریقہ

جہالت سے بچنے کا واحد راستہ علم حاصل کرنا ہے۔ قرآن و سنت کا مطالعہ کریں، معتبر علماء سے سیکھیں، اور اپنے عقائد کو صحیح طریقے سے سمجھیں۔

جہالت اور بدعات کا تعلق

جہالت ہی بدعات کی جڑ ہے۔ جب لوگ دین کو صحیح طور پر نہیں جانتے تو وہ دین میں نئی چیزیں شامل کرنے لگتے ہیں۔ جنتی دروازوں کا عقیدہ بھی اسی جہالت کا نتیجہ ہے۔ اسلام نے ہمیں علم حاصل کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ہم جہالت اور بدعات سے بچ سکیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔" (سنن ابن ماجہ)

🤔 غور و فکر کے پہلو

کیا ہم صحیح عقائد رکھتے ہیں؟

ہم میں سے ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارے عقائد قرآن و سنت کے مطابق ہیں؟ کیا ہم کسی ایسے عقیدے کو مانتے ہیں جس کی کوئی بنیاد قرآن و حدیث میں نہیں؟ اگر ہاں، تو ہمیں فوراً اسے ترک کر دینا چاہیے۔

بدعات ہمیں کہاں لے جاتی ہیں؟

بدعات ہمیں توحید سے دور لے جاتی ہیں اور شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جاتی ہے۔" (صحیح مسلم)

کیا ہم اپنے دین کو بدعات سے بچا سکتے ہیں؟

جی ہاں! ہم اپنے دین کو بدعات سے بچا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن و سنت کا مطالعہ کریں، معتبر علماء کی رہنمائی حاصل کریں، اور ہر اس عقیدے کو رد کریں جس کی کوئی بنیاد دین میں نہ ہو۔

ہمارا فرض کیا ہے؟

  • تعلیم حاصل کریں: دین کی صحیح تعلیم حاصل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔
  • بدعات کا رد کریں: کسی بھی بدعت کو قبول نہ کریں اور اس کا رد کریں۔
  • توحید کو مضبوط کریں: اللہ کی وحدانیت پر مضبوط ایمان رکھیں۔
  • لوگوں کو آگاہ کریں: لوگوں کو بدعات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں ہر قسم کی بدعت سے بچائے۔ آمین!

بدعات سے بچاؤ کے طریقے

اس بدعت اور دیگر گمراہ کن عقائد سے بچنے کے لیے قرآن و سنت کی رہنمائی کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "پس آپ اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں، سیدھے رہیں اور حد سے تجاوز نہ کریں۔" (سورۃ ہود، آیت 112)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہوگے، گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔" (موطا امام مالک)

بدعت سے بچنے کے لیے عقائد کی تصحیح، قرآن و سنت کا مطالعہ، اور دین کے معتبر علما کی رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، بدعات سے وابستہ اجتماعات اور رسومات سے دور رہنا، اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور خالص توحید پر عمل کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

  1. قرآن و سنت کا مطالعہ کریں: دین کے صحیح احکامات کو خود سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔
  2. معتبر علماء سے رجوع کریں: کسی بھی عقیدے کو قبول کرنے سے پہلے اس کی شرعی حیثیت جانچ لیں۔
  3. بدعات سے دور رہیں: ایسی جگہوں اور اجتماعات سے اجتناب کریں جہاں بدعات کو فروغ دیا جاتا ہو۔
  4. توحید کو مضبوط کریں: اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھیں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔
  5. دوسروں کو آگاہ کریں: اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بدعات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

خلاصہ

جنتی دروازوں کا عقیدہ ایک بدعت ہے جو دین کی پاکیزگی پر حملہ ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف قرآن و سنت کے خلاف ہے بلکہ لوگوں کو شرک اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ تفاسیر، احادیث اور ائمہ کرام کی تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ جنت کے دروازے صرف اللہ کے حکم سے کھلتے ہیں اور اس کا کوئی مادی وجود نہیں۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کو قرآن و سنت کی روشنی میں جانچیں اور ہر اس عقیدے سے بچیں جو اللہ کی وحدانیت کے خلاف ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بدعات سے بچنے اور خالص توحید پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

اسلام نے ہمیں جنت کے حصول کا واضح راستہ بتایا ہے۔ یہ راستہ ایمان، نیک اعمال اور اللہ کی رحمت سے ہو کر گزرتا ہے۔ کسی بھی دروازے، مقام یا شخص کو جنت کا ذریعہ ماننا سراسر گمراہی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں توحید کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہر اس چیز سے بچنا چاہیے جو اللہ کی وحدانیت کے خلاف ہو۔

اللہ ہمیں صحیح عقائد عطا فرمائے، بدعات سے بچائے، اور ہمیں جنت میں داخل ہونے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!